رمضان المبارک اور قرآن مجید (4) - یوسف ثانی

قرآن مجید میں موجود جملہ اوامر و نواہی پر مبنی احکامات کی موضوعاتی درجہ بندی کی اگلی قسط پیش خدمت ہے۔ پچھلی قسط اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے۔

22۔ رشتہ داروں سے سلوک

ماں باپ، رشتے داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا(البقرة:83) مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال تک دودھ پلائیں (البقرة:233) اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو (الانعام:151) اللہ نے جن جن روابط کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے انہیںبرقرار رکھتے ہیں (الرعد:21) جو ان رابطوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے( الرعد:25) والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ (بنی اسرائیل:23) رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق( بنی اسرائیل:26) رشتہ دار، مسکین اورمہاجر فی سبیل اللہ کی مدد نہ کرنے پر صاحبِ فضل لوگ قسم نہ کھا بیٹھیں (النور:22) اپنے گھروں سے کھا ؤ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے، یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوںکے گھروں سے، یا اپنے چچا ؤں کے گھروں سے،یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے، یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے، یا ان کے گھروں سے جن کی کنجیاں تمہاری سپردگی میں ہوں، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے (النور:61) کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھا ؤ یا الگ الگ کھاؤ( نور:61) انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے (عنکبوت:8) رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین و مسافر کواس کا حق دو (الروم:38) ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے (لقمان:14) منہ بولے بیٹوںکو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں (الاحزاب:5) عام مومنین و مہاجرین کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں (الاحزاب:6) ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتا ؤ کرے (الاحقاف:15)۔

23۔ روزہ اور اعتکاف

تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں(البقرة:183) کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے(البقرة:184) ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے (البقرة:184) روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا ہے (البقرة:187) روزہ میںسیاہی شب کی دھاری سے سپیدہ صبح کی دھاری تک راتوں کو کھا ؤ پیو(البقرة:187) جب تم مسجدوں میں معتکف ہو تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو (البقرة:187)۔

24۔ زکوٰة اورصدقات

زکوٰة کے مصارف:

اور زکوٰة ادا کرو (سورة البقرة:83) نماز قائم کرو،زکوٰة دو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو (النور:56) یہ صدقات ( فرض زکوٰة) تو دراصل1۔ فقیروں،2۔ مسکینوں، 3۔ صدقات کے کام پر مامور لوگوں، 4۔ جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو،5۔غلام آزاد کرانے، 6۔ قرضداروں کی مدد کرنے، 7۔ راہِ خدا اور8۔ مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں (سورة التوبة:60) وہ زکوٰة کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں (سورة مو منون:4)۔

اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات:

جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں(البقرة: 3) اللہ کی راہ میں خرچ کرواور احسان کا طریقہ اختیار کرو (البقرة:195) جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو، اُسے راہِ خدا میں خرچ کیاکرو(البقرة:219) جو کچھ مال متاع ہم نے تم کو بخشا ہے، اس میں سے خرچ کرو (البقرة:254) اپنے مال محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں (البقرة:265) جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے، اُس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو۔ دینے کے لیے بُری سے بُری چیز چھانٹنے کی کوشش نہ کرنے لگو (البقرة:267) تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی عزیز چیزیں خدا کی راہ میں خرچ نہ کرو(آلِ عمران:92)۔رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں اورعطا کردہ رزق میں سے خرچ کرتے ہیں (السجدہ:16) جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں(الانفال:3)۔ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو (سورة محمد:38) آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (الحدید:10) جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو (منافقون: 10) جہاں تک تمہارے بس میں ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔ سنو اور اطاعت کرو اور اپنے مال خرچ کرو(التغابن: 16)۔ (صدقہ کا اجر عظیم):جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں، اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں(البقرة:261) اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا (الانفال:60) راہِ خیر میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لیے بھلا ہے (البقرة:272) جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں تقرب کا اور رسولﷺ کی طرف سے رحمت کی دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں (التوبة:99) کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے( الحدید:11) جنہوں نے صدقات دے کر اللہ کو قرض حَسَن دیا ہے، اُن کو یقیناً کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا۔ (الحدید:18) اگر تم اللہ کو قرض دو تو وہ تمہیں کئی گنا بڑھا کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا (تغابن: 17) اللہ کے عطا کردہ مال سے آخرت کا گھر بنانے کی فکرکر اور دُنیا سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر (قصص:77)۔

احسان جتلائے بغیر دینا:

اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کر کے احسان نہیں جتاتے، نہ دُکھ دیتے ہیں (البقرة:262) ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اُس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دُکھ ہو (البقرة:263) اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے۔ نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے نہ آخرت پر(البقرة:264) اللہ کووہ لوگ بھی ناپسند ہیں جو محض لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں (النسائ:38) جو ریاکاری کرتے ہیں اور ضرورت معمولی کی چیزیں لوگوں کو دینے سے گریز کرتے ہیں۔ (الماعون:6-7)۔

صدقہ چھپا کر دینا:

اگر اپنے صدقات عَلانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے۔ لیکن اگر چُھپا کر حاجت مندوں کو دو تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے(البقرة:271) ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے عَلانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں(سورة الرعد:22)۔

مدد کے بہترین مستحق:

خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جواللہ کے کام میں ایسے گھر گئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسبِ معاش کے لیے زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے (البقرة:273) اور ان کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لیے (سورة الذاریات:19) اپنا مال رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور مانگنے والوں پر خرچ کرو(البقرة:177) اپنے والدین، رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں پر مال خرچ کرو (البقرة:215)۔

افضل صدقہ:

جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے( الحدید:10) اور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے ( الحدید:7)۔

غربت میں صدقہ کرنا:

جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوش حال(سورة آلِ عمران:134)۔

25۔ زنا اور تہمتِ زنا

زنا کے قریب نہ پھٹکو۔ وہ بہت بُرا فعل ہے اور بڑا ہی بُرا راستہ(سورة بنی اسرائیل:32) زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو ( النور:2) زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ۔اور زانیہ نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک کے ساتھ۔ اور یہ حرام کردیا گیا ہے اہل ایمان پر( النور:3) اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔( الفرقان:68)۔

تہمتِ زنا:

پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے والے چار گواہ لے کر نہ آئیں تو انہیں80 کوڑے مارواور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو(سورة النور:4) اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھاکر گواہی دے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں بار کہے کہ اس پراللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو۔ عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھاکر شہادت دے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ سچا ہو (سورة النور: 6-8)۔

یہ بھی پڑھیں:   رمضان المبارک کے مہینے میں ہماری شاعری - اے وسیم خٹک

26۔ سلام کرنا

جب کوئی تمہیں سلام کرے تو اس کو بہتر طریقہ کے ساتھ جواب دو یا کم از کم اسی طرح(النساء:86) دوسروں کے گھروں میںداخل نہ ہو جب تک اُن سے اجازت نہ لے لو اوراُن پر سلام نہ بھیج لو (النور:27) جب گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیاکرو (النور:61)۔

27۔ سودخوری

جو لوگ سود کھاتے ہیں، اُن کا حال اُس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چُھو کر با ؤلا کر دیا ہو، لہٰذا جسے یہ نصیحت پہنچے وہ آئندہ کے لیے سُود خوری سے باز آجائے (البقرة:275) خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو(البقرة:278) یہ بڑھتا اور چڑھتا سُود کھانا چھوڑ دو اور اللہ سے ڈرو۔ اللہ اور رسول کا حکم مان لو(آلِ عمران: 130-131) اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، سود لیتے ہیں اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں (النساء:161)مال میں اضافہ سود سے نہیں بلکہ زکوٰة سے ہوتا ہے (سورة الروم:39)۔

28۔ شراب اور جوا

شراب اور جوا،ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے(البقرة:219) یہ شراب اور جُوا اور یہ آستانے اور پانسے، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں(المآئدة:90) شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے (المآئدة:91)۔

29۔ شرک کی بخشش نہیں

یکسو ہوکر اللہ کے بندے بنو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو(سورة الحج:31) میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ( النور:55) تمہارے رب نے تم پر پابندیاں عائد کی ہیں کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو (الانعام:151) اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو( حٰمٓ السجدہ:14) اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبودنہ بنا ؤ( الذاریات:15)۔ وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبُود بناتے ہیں۔ وہ اُس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے (النساء:117) جس نے اللہ کے بجائے اپنا سرپرست شیطان کو بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑ گیا (النساء:119) انہوں نے اپنے علماءاور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے (سورة التوبة:31) یہ لوگ اللہ کے سوا اُن کی پرستش کررہے ہیںجو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع( سورة یونس:18) اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اُس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھیراتے ہیں (سورة یوسف:106) اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کر لیے تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکادیں؟ ( سورة ابراہیم:30) مجھے تو ان ہستیوں کی عبادت سے منع کردیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو(المومن:66)۔ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو (النحل:36) دو خدا نہ بنالو۔خدا تو بس ایک ہی ہے، لہٰذا تم مجھی سے ڈرو (سورة النحل:51) رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتا ہے تاکہ اللہ کے احسان کی ناشکری کرے (سورة مریم:36) جنہوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کرلیا ان کے لیے خوشخبری ہے (الزُمر:17) اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو (سورة الاحقاف:21) اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے(محمد:19)

شرک کی بخشش نہیں:

بس شرک ہی کی بخشش نہیں، اس کے سوا سب کچھ معاف ہوسکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے (النساء:116) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والے پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے (المآئدة:72) اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا بیٹھ ورنہ تو جہنم میں ڈال دیاجائے گا( بنی اسرائیل:39)۔ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا ورنہ ملامت زدہ اور بے یارومددگار بیٹھا رہ جائے گا( بنی اسرائیل:22)۔ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہوجائے گا اور تم خسارے میں رہو گے (الزُمر:65)۔

جھوٹے معبودوں کا احوال:

کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُس کی پرستش کرتے ہو جو نہ نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا؟ (المآئدة:76) اللہ کے احسان کا انکار کرتے ہیں اور اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دینا ہے نہ زمین سے ( النحل:73) آپ کیوں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سُنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ کوئی کام بناسکتی ہیں؟ ( مریم:42) اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ خدا بنا رکھے ہیں کہ وہ ان کے پشتیبان ہوں گے، کوئی پشتیبان نہ ہوگا ( مریم: 81-82) لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبود بنالیے ہیں جو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیداکیے جاتے ہیں۔جو اپنے لیے بھی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ نہ مارسکتے ہیں نہ جِلاسکتے ہیں۔ نہ مرے ہوئے کو پھر اٹھاسکتے ہیں (الفرقان:3)۔

غیر اللہ کو پکارنا:

تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو(الاعراف:194) جو لوگ اللہ کے سوا کچھ شریکوں کو پکاررہے ہیں وہ نرے وہم و گمان کے پیرو ہیں (یونس:66) اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے نہ نقصان(سورة یونس:106) اُسی کو پکارنا برحق ہے۔ رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ ان کی دعا ؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں (سورة الرعد:14) اوروہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہےں۔مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اوران کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا (النحل: 20-21) پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتا ہے جو نہ اس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ (الحج:۲۱) اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو (الشعرائ:213) اپنے رب کی طرف دعوت دو اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو (القصص: 77-78) اللہ ہی حق ہے اور اُسے چھوڑ کر جن دُوسری چیزوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں( سورة لقمان:30)۔ اللہ کوچھوڑ کر جن دُوسروں کو تم پکارتے ہو وہ ایک پرکاہ کے مالک بھی نہیں ہیں( فاطر:13) انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سُن نہیں سکتے اور سُن لیں تو ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے( فاطر:14)۔

مشرکین:

اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے تو اسے پناہ دے دو (التوبہ:6) مشرکین ناپاک ہیں، لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجدِ حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں (التوبہ:28) مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا نہ کروچاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں(سورة التوبة:113) یکسو ہوکر اپنے آپ کو ٹھیک ٹھیک اس دین پر قائم کردے، اور ہرگز ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہو (سورة یونس:105)۔ اُن مشرکین میں سے نہ ہوجا ؤجنہوں نے اپنااپنا دین الگ بنالیا ہے (سورة الروم:32) کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ ہمارے کیے ہوئے احسان کی ناشکری کریں (سورة الروم:34) تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے جو زکوٰة نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں( حٰمٓ السجدہ:6-7)

بُت پرستی، چاند سورج کی پوجا:

مجھے اور میری اولاد کو بُت پرستی سے بچا، پروردگار۔ ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے( ابراہیم:35) پس بتوں کی گندگی سے بچو (الحج:30) سُورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اُس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے (حٰمٓ السجدہ:37)۔

مشرکین کا عذرِ شرک:

ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں (الزُمر:3) کیا اس خدا کو چھوڑ کر ان لوگوں نے دوسروں کو شفیع بنا رکھا ہے؟ (سورة الزُمر:43) اُس سے زیادہ بہکا ہوا کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر اُنہیں پکارے جو قیامت تک جواب نہیں دے سکتے (الاحقاف:5)۔

30۔ شکر اورناشکری

تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ میرا شکر ادا کرو، کُفران نعمت نہ کرو(البقرة:152) اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو (البقرة:185) شکر کرنے والوں کو ہم ان کی جزا ضرور عطا کریں گے(آلِ عمران:145) پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجا لا (الاعراف:144) شکر گزار بنو گے تو اور زیادہ نوازوں گا۔ اگر کُفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے (ابراہیم:7) اس نے تمہیں کان، آنکھیں اورسوچنے والے دل دیے تا کہ تم شکرگزار بنو( النحل:78) اللہ نے تمہیںسننے، دیکھنے کی قوتیں دیں اور سوچنے کو دل دیے مگر تم کم ہی شکرگزار ہوتے ہو (مومنون:78)رب تو لوگوںپر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے (النمل:73) رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکرگزار بنو (الروم:46) جو کوئی شکر کرے اس کا شکر اُس کے اپنے ہی لیے مفید ہے (لقمان:12) میرا شکر کر اوراپنے والدین کا شکر بجالا (لقمان:14) بہت سی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو (سورة لقمان:31) پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے؟ (سورة یٰسین:35)۔

یہ بھی پڑھیں:   گنتی کے چند دن - ام محمد عبداللہ

ناشکری سے بچو:

اللہ کی ناشکری سے بچو (آلِ عمران:123) اللہ کسی ناشکرے بدعمل انسان کو پسند نہیں کرتا(البقرة:277) ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اُس سے محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے(ھود:9) رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتا ہے تاکہ اللہ کے احسان کی ناشکری کرے( النحل:55) خدا پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمہاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمہیں غرق کردے( بنی اسرائیل:69)

ناشکری بھی کفر ہے:

ہم نے اسے راستہ دکھادیا۔ اب خواہ یہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا(الدہر:3) اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا( الزُمر:7) اور اگر تم شکر کرو تو اسے وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے (سورة الزُمر:7)۔ (انسان ناشکرا ہے): حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشُکرا ہے (سورة ابراہیم:34) انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے (بنی اسرائیل:67) اکثر لوگ کفر اور ناشکری کے سوا کوئی دوسرا رویہ اختیار کرنے سے انکار کردیتے ہیں (الفرقان:50) غدار اور ناشکرا ہی اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتاہے (سورة لقمان:32) عمل کرو شکر کے طریقے پر، میرے بندوں میں کم ہی شکرگزار ہیں ( سبا:13) پھر کیوں تم شکرگزار نہیں ہوتے؟ (سورة الواقعہ:70) حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے( العٰدیٰت:6)۔

مصیبت اور مایوسی:

جب ہم اس کو نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اینٹھتا ہے اور پیٹھ موڑ لیتا ہے، اور جب ذرا مصیبت سے دوچار ہوتا ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے(بنی اسرائیل:83)۔

اللہ کی نعمتیں:

اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے (ابراہیم:34) رب اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس پر وہ پہلے پکار رہا تھا (الزُمر:8) اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے (المومن:61) تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا تاکہ تم اُن کی پُشت پر چڑھو اور جب اُن پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو ( الزُخرف: 12-13) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلا ؤ گے؟ (سورة الرحمٰن:13)۔

31۔ شیطان اورشیطانی کام

حقیقت یہ ہے کہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے( یوسف:5) شیطان نے اُن کے بُرے کرتوت انہیں خوشنما بناکر دکھائے (النحل:63) آپ شیطان کی بندگی نہ کریں، شیطان تو رحمٰن کا نافرمان ہے (مریم:44) جو علم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہر شیطانِ سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں (الحج:3) شیطان کی ڈالی ہوئی خرابی ان لوگوں کے لیے کو فتنہ بنادے گی جن کے دل کھوٹے ہیں(الحج:53) شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ وہ تو اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا (النور:21) شیطان کی بندگی نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے( یٰسین:60) ابلیس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا(سورة صٓ:74) میں جہنم کو ابلیس سے اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا جو ابلیس کی پیروی کریں گے ( صٓ:85) اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اُکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو (حٰمٓ السجدہ:36)جو شخص رحمٰن کے ذکر سے تغافل برتتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اُس کا رفیق بن جاتا ہے(الزُخرف:36) یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہِ راست پر آنے سے روکتے ہیں(الزُخرف:37) کاناپھوسی تو ایک شیطانی کام ہے (المجادلہ:10) میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی، ہر اُس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے(الفلق:1-2) اور رات کی تاریکی کے شر سے جبکہ وہ چھا جائے(الفلق:3) اور گروہوں میں پھونکنے والوں یا والیوں کے شر سے(سورة الفلق:4) اور حاسد کے شر سے جبکہ وہ حسد کرے (سورة الفلق:5) اُس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے، جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے (سورة الناس: 4-6)۔

32۔ صبر، مصیبت اور آزمائش

صبر:

قرآنی واقعات میں ہر اُس شخص کے لیے نشانیاں ہیں جو صابر و شاکر ہو (ابراہیم:5) صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (البقرة:153) تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کرو(البقرة:177) تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو(آلِ عمران:120) تم ہر حال میں صبر اور خداترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے (آلِ عمران:186) اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو(سورة الاعراف:128) اذیتوں پر ہم صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کا بھروسا اللہ ہی پر ہوناچاہیے (ابراہیم:12) انہوں نے صبرکیا ہے اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں (سورة العنکبوت:59) بیٹا، نماز قائم کر، نیکی کا حکم دے، بدی سے منع کر اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر(سورة لقمان:17) انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین لاتے رہے (السجدہ:24) ہم نے ایوب ؑ کو صابر پایا، بہترین بندہ، اپنے رب کی طرف بہت رجوع کرنے والا(صٓ:44) جو صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اُولو العزمی کے کاموں میں سے ہے (الشوریٰ:43) اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو (مدثر:7) تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو (الدہر:24) جنہوں نے ایک د وسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کی(البلد:17)

مصیبت کا سبب:

جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو(آلِ عمران:153) اے انسان! تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے (النساء:79) انسان پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے۔ مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے کسی بُرے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا ( یونس:12) لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت کے بعد جب ہم اُن کو رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو فوراً ہی وہ ہماری نشانیوں کے معاملہ میں چالبازیاں شروع کردیتے ہیں(سورة یونس:21) قریب آگیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں(سورةالانبیاء:1) ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کررہے ہیں(الانبیاء:35) ہر مصیبت پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے عطا کردہ رزق میں سے خرچ کرتے ہیں (الحج:35) ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنادیا ہے کہ کیا تم صبر کرتے ہو؟ (سورةالفرقان:20) انسان پر جب مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور جب خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے(المعارج: 20-21) جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہوا اس پر تم دل شکستہ نہ ہو(سورة الحدید:23)۔

33۔ طہارت کی اقسام

پاکی:

اوراپنے کپڑے پاک رکھو۔ اور گندگی سے دور رہو(المدثر: 4-5)۔

غسل:

جنابت کی حالت میں نماز کے قریب نہ جا ؤ، جب تک غسل نہ کر لو(النساء:43)۔

وضو:

جب تم نماز کے لیے اٹھو تو چاہیے کہ (وضو کرتے وقت) اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پا ؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔ اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جا ؤ(المآئدة:6)۔

تیمم:

تم بیمار ہو، یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی شخص رفعِ حاجت کرکے آئے، یا تم نے عورتوں سے لمس (مجامعت ) کیا ہو، اور پھر پانی نہ ملے تو (تیمم کے لیے) پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو (النساء:43) پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو۔مٹی پر ہاتھ مار کر اپنے منہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو(المآئدة:6)۔ (جاری ہے)

Comments

یوسف ثانی

یوسف ثانی

یوسف ثانی پیغام قرآن ڈاٹ کام کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ 2008ء سے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں قرآن و حدیث پر مبنی کتب کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں۔ ان کی کتب "پیغام قرآن، " "پیغام حدیث،" "قرآن جو پیغام،" "اسلامی ضابطہ حیات" اور "اسلامک لائف اسٹائل " کے تا حال پندرہ ایڈیشنز شائع ہوچکے ہیں۔ آپ ایم اے صحافت بھی ہیں اور بطور صحافی خبر رساں ادارے پاکستان پریس انٹرنیشنل اور جنگ لندن سے برسوں وابستہ رہنے کے علاوہ گزشتہ چار دہائیوں سے قومی اخبارات و جرائد میں بھی لکھ رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے کیمیکل ٹیکنا لوجسٹ ہیں۔ کیمیکل ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے بعد 1981ء سے قومی و کثیر القومی آئل اینڈ گیس فیلڈز سے وابستہ ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.