روزہ دار کے دو پر: اخلاص اور اتباع – ڈاکٹر احمد عیسیٰ

ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ

میں روزہ دار پرندہ ہوں، یا پرندہ روزہ دار، میرے دو ’’پر‘‘ ہیں۔ میں آسمان ِ رمضان میں انہیں دو پروں سے اڑتا ہوں۔ یہی دو پر میری بلندئ پرواز کے ضامن ہیں، ان میں سے اگر ایک بھی کھو جائے تو دوسرا کسی کام کا نہیں رہتا۔ یہی میرا نصیب ہے تاکہ میں بلند ہو جاؤں اور اپنی مراد پا لوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ومن أحسن دیناً ممن اسلم وجھہ ﷲ وھو محسن واتبع ملۃ ابراہیم حنیفاً واتخذ اللہ ابراہیم خلیلاً (النساء ۱۲۵) ﴿اس شخص سے بہتر اور کس کا طریق ِ زندگی ہو سکتا ہے، جس نے اللہ کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیااور اپنا رویہ نیک رکھا، اور یکسو ہو کر ابراہیم کے طریقے کی پیروی کی۔﴾

پس اسلام کا خالص رخ اللہ کے لیے ارادے اور عمل کا ہے، اور اس میں احسان اس کے رسول ﷺ کی پیروی اور ان کی سنت کا اتباع ہے۔ جس نے اخلاص کو گم کر دیا وہ منافق بن گیا، اور ایسے ہی بندے لوگوں کے دکھاوے کے لیے عمل کرتے ہیں، اور جس نے اتباع کو چھوڑ دیا وہ جاہل اور گمراہ بن گیا، اس کے برعکس جس نے دونوں اعمال کو جمع کر لیا تو یہی مؤمنین کا طریقہ ہے، جو اچھے اعمال سے خوب آگاہ ہوتے ہیں: الذی خلق الموت والحیاۃ لیبلوکم ایکم احسن عملاً وجو العزیز الغفور (الملک ۲) ﴿جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔﴾

اور کوئی بھی عمل اس وقت تک قبول نہیں ہوتا جب تک وہ خالصتاً اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے، اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے مطابق نہ ہو۔

فضیل بن عیاض کہتے ہیں: وہ سب سے خالص اور سب سے درست عمل ہے۔ پوچھا گیا، اے ابا علی! سب سے خالص اور سب سے درست ہونا کیا ہے؟ فرمایا: کہ عمل جب خالص تو ہو مگر درست نہ ہو تو وہ قبول نہیں ہوتا، اور اسی طرح درست ہو مگر خالص نہ ہو تو بھی قبول نہیں ہوتا، حتیٰ کہ وہ درست بھی ہو اور خالصتاً اللہ کے لیے بھی ہو، پھر آپ نے یہ آیات تلاوت کیں: فمن کان یرجو لقاء ربہ فلیعمل عملاً صالحاً ولا یشرک بعبادۃ ربہ احداً (الکھف، ۱۱۰) ﴿پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔﴾

مشکل اور نادر:

اخلاص کا ’’پر‘‘ بڑا مشکل اور نادر ہے اور رب اور بندے کے درمیان ایک راز ہے۔ جیسا بعض لوگ کہتے ہیں کہ اخلاص سے مراد یہ ہے کہ آپ اپنے عمل کے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی گواہ طلب کریں اور نہ کسی مادّی قوت کو گواہ بنائیں۔

میں عمل شروع کرتا ہوں تو میں ذمہ داری محسوس کرتا ہوں۔ کیا میرا عمل ہر طرح کی ملاوٹ سے پاک ہے؟ اور ملاوٹیں اور آمیزش کئی قسم کی ہوتی ہیں یعنی لوگوں کے دلوں میں اس عمل کی خوشنمائی، یا ان سے مدح کی طلب اور اگر مذمت مل جائے تو عمل چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہونا یا ان سے تعظیم کی طلب رکھنا یا اس کے بدلے ان سے مال، خدمت یا محبت مانگنا یا اپنی ضرورتیں پوری کروانے کا خواہش مند رہنا۔

آپ مشرکین کی جانب نظر دوڑائیں تو آپ کو تکلیف دہ بلندی نظر آئے گی: فمن یرد اللہ أن یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام ومن یرد أن یضلہ یجعل صدرہ ضیقاً حرجاً کأنما یصعد فی السماء کذلک یجعل اللہ الرجس علی الذین لا یؤمنون (الانعام ۱۲۵) ﴿پس (حقیقت یہ ہے کہ) جسے اللہ ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہی میں ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے اس کے سینے کو تنگ کر دیتا ہے اور ایسا بھینچتا ہے (کہ اسلام کا تصور کرتے ہی) اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے۔ اس طرح اللہ (حق سے فرار اور نفرت کی) ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کر دیتا ہے، جو ایمان نہیں لاتے۔﴾

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا ٹھکانا ھاویہ ہوگا: حنفاء ﷲ غیر المشرکین بہ ومن یشرک باللہ فکأنما خر من السماء فتخطفہ الطیر اؤ تھوی بہ الریح فی مکان سحیق (الحج، ۳۱)﴿یکسو ہو کر اللہ کے بندے بنو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا، اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے، یا ہوا اس کو لے جا کر ایسی جگہ پھینک دے گی جہاں اس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے۔﴾

اور اس دلیل کے لیے انسان عمل نہیں چھوڑ دیتا، بلکہ وہ اپنے اعمال کا وزن کرتا ہے، جس طرح (پرواز سے پہلے ایک پرندہ ) اپنے پر کا وزن کرتا ہے اور اس معاملے کو بڑی توجہ دیتا ہے۔

اور فضیل کے الفاظ میں: لوگوں کی خاطر کسی عمل کو ترک کرنا ریا ہے، اور لوگوں کی خاطر کوئی عمل کرنا شرک ہے، اور اخلاص یہ ہے کہ اللہ آپ کو ان دونوں سے محفوظ کر دے۔

محاسبۂ نفس:

اور قبل اس کے کہ میں رمضان میں اخلاص کے پر کے ساتھ داخل ہوں؛ جہاں روزہ، قیام، ذکر، تلاوۃ قرآن، انفاق اور نیکی کے اعمال ہیں، مجھ پر لازم ہے کہ میں ذرا سا توقف کروں تاکہ میں اپنے اخلاص کو خالص کر لوں اور اس راہ پر اپنے آپ کو اس عمل کے لیے رضامند کر لوں:

۱۔ عمل اور اس کی کوتاہیوں میں اپنے عیوب کا مطالعہ کر لوں اور جائزہ لے لوں کہ اس میں شیطان کا حصّہ کتنا ہے اور حظ ِ نفس کا کتنا۔

رسول اللہ ﷺ سے نماز میں بندے کی توجہ کے بارے میں پوچھا گیا، آپ نے فرمایا: ’’یہ چوری ہے، جو شیطان چپکے سے بندے کی نماز میں کر لیتا ہے ‘‘۔ (بخاری کی روایت، الفاظ ابو داود کے ہیں)۔

جب ایک لمحے کی التفات یہ نتیجہ لاتی ہے تو دل کی توجہ اللہ کے سوا کسی اور جانب کیسے ہو سکتی ہے؟ اور یہ بندگی میں شیطان کا سب سے بڑا حصّہ ہو گا، جیسا کہ ابن ِ القیم نے ’’المدارج‘‘ میں فرمایا ہے۔

۲۔ یہ معلوم ہونا کہ اللہ جل جلالہ حقوق ِ عبودیت میں کیا استحقاق رکھتا ہے؟ اس کے ظاہری وباطنی آداب کیا ہیں؟ اور یہ بھی کہ بندہ عاجز اور کمزور ہے کہ اس کے حقوق ادا کر سکے اور وہ اپنے ان (کمزور) اعمال کے ساتھ اللہ سے ملنے پر حیا کرتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں: آدمی کے لیے آفت یہ ہے کہ وہ اپنے نفس سے راضی ہو جائے، اور جو شخص ہمیشہ اپنے نفس کو ملامت نہیں کرتا رہتا، تو وہ مغرور ہے۔

رہا اتباع کا ’’پر‘‘ تو وہ پرسکون انداز میں کام کرتا ہے۔ میں کیسے روزہ رکھوں، کیسے نماز پڑھوں، اور کیسے اعتکاف کروں؟

جنید کا قول ہے: مخلوق پر تمام راستے بند ہیں سوائے اس کے جس نے رسول ﷺ کے نقش ِ قدم کی پیروی کی۔

آگے کی جانب پیش قدمی:

اور میں فضا میں ہوں، میں دیکھ رہا ہوں روزہ دار بڑی تیزی اور سرعت سے آگے بڑھ رہے ہیں، اور مقصد کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں شرائط پوری کر دیں، اور میں دیکھ رہا ہوں کہ کچھ دوسروں کا سفر پیچھے کی جانب ہو رہا ہے۔ ان دو شرطوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے، اور کچھ اور لوگ بھی ہیں جو مقید حالت میں پاؤں چلا رہے ہیں، اور وہ اپنی نشستوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے نہ تو اس راستے میں محنت کی، اور نہ اپنی طلب کو ایک رکھا، اور حدیث شریف میں ہے: ’’جس نے ہمارے حکم میں وہ چیز نکالی جو اس میں نہیں ہے، تو وہ رد کر دی جائے گی‘‘ (اسے بخاری نے روایت کیا)۔

اور یہ اسلام کے اصولوں کی عظیم بنیاد ہے، اور وہ ظاہر میں بھی اعمال کے لیے ایک میزان ہے، جیسا کہ حدیث ’’اعمال کا دارو
مدار نیتوں پر ہے‘‘ اعمال کے باطن کے لیے میزان ہے۔ اور ہر عمل جو رضائے الہی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا جاتا، جو اس کے کرنے والے کو کوئی ثواب حاصل نہ ہو گا، اسی طرح ہر وہ عمل جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم نہ دیا ہو گاتو وہ بھی عمل کرنے والے کو لوٹا دیا جائے گا (قبول نہ ہو گا)۔

جب پرندہ اڑتا ہے، وہ مختلف جماعتیں اور گروہ دیکھتا ہے، جن میں باہم بہت سے اختلافات ہوتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک یہی دعوی کرتا ہے کہ وہ درست راستے پر ہے!۔ ان سب کے سامنے یہ حدیث پیش کرنی چاہیے:

حضرت عرباض بن ساریہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک روز ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایسی نصیحت کی کہ ہمارے دل کانپ اٹھے، اور ہماری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، ہم نے کہا: یا رسول اﷲﷺ، یہ تو کسی رخصت ہونے والے کی تلقین لگتی ہے، آپ ہمیں وصیت فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تمہیں اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اور سمع کی اور اطاعت کی، اگرچہ تمہارے اوپر ایک غلام حاکم بنا دیا جائے، اور جو میرے بعد (زندہ) رہیں گے، تو وہ بہت اختلافات دیکھیں گے، پس تم میری سنت کو تھام لینا، اور راہ رو خلفائے راشدین کے طریقے پر چلنا، اور اسے (اس وصیت کو) ڈاڑھوں سے پکڑ لینا، اور نئی نئی چیزوں سے بچنا، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے‘‘۔ (ابو داود، الترمذی، حسن صحیح)

حق کا راستہ:

اور سنت وہ راستہ ہے جس پر رسول اللہ ﷺ چلے، اس لیے اس راستے کو تھام لینا اور مضبوطی سے اس پر جم جانا، جو رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کے عقائد، اعمال، اور اقوال ہیں، یہی سنت ِ رسول اور سنت ِ خلفائے راشدین کے معنی ہیں،قل اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول فان تولوا فانما علیہ ما حمل و علیکم ما حملتم وان تطیعوہ تھتدوا وما ھلز الرسول الا البلاغ المبین (النور ۵۴) ﴿کہو، اللہ کے مطیع بنو اور رسول ﷺ کے تابع فرمان بن کر رہو۔ لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لوکہ رسول پر جس فرض کا بار رکھا گیا ہے اس کا ذمہ دار وہ ہے، اور تم پر جس فرض کا بار ڈالا گیا ہے اس کے ذمہ دار تم۔ اس کی اطاعت کرو گے تو خود ہی ہدایت پاؤ گے ورنہ رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ صاف صاف حکم پہنچا دے۔﴾

یعنی کتاب اﷲ، اور سنت ِ رسول ﷺ کی پیروی کرو، اور اللہ کا قول ’’اگر تم پھر جاؤ‘‘ یعنی منہ پھیر لو، اور اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہارے پاس آئی ہے ’’تو اس کی ذمہ داری اس پر ہے‘‘ یعنی رسالت کا پیغام پہنچانا اور امانت ادا کرنا، اور’’ جو تمہیں دیا گیا اس کی ذمہ داری تم پر ہے‘‘، یعنی: اسے قبول کرنا، اس کی تعظیم کرنا، اور جو کچھ کہا گیا ہے اسے بجا لانا (تفسیر ابن ِ کثیر)۔

وہب بن منبہ کا قول ہے: اللہ تعالیٰ نے انبیاء بنی اسرائیل میں سے ایک نبی ’’شعیاء‘‘ کو وحی کی کہ آپ بنی اسرائیل میں کھڑے ہوں، اور میں آپ کی زبان پر وحی جاری کروں گا، پس وہ کھڑے ہو گئے، اور کہا: ’’اے آسمان میری بات سنو، اور اے زمین، خاموش ہو جاؤ، بے شک اللہ چاہتا ہے کہ وہ اپنا کام پورا کرے، اور اپنے حکم کی تدبیر کرے، اور اسے نافذ کیا جائے؛ وہ چاہتا ہے کہ اس دیہی علاقے کو صحرا میں بدل دے، اور بنجر سرزمین کو زرعی زمین سے بدل دے، اور صحراؤں میں نہریں جاری کر دے، تنگدستوں پر نعمتوں کی بارش کر دے، اور چرواہوں میں زمینیں بانٹ دے، اور وہ چاہتا ہے کہ امیوں میں ایک ایسا امی بھیجے جو نہ درشت ہو نہ تند خو، جو بازاروں میں شورو غل نہ مچاتا ہو، اور اگر وہ چراغ کے پاس سے گزرتے تو اتنی آہستگی سے گزرے کہ اس کا شعلہ نہ بجھے، اور اگر وہ گنے کی فصل سے یا خشک زمین سے گزرے تو اس کے قدموں کی آواز نہ سنائی دے، وہ اسے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجے، وہ فحش بات نہ کرے، وہ اس (وحی ) سے اندھوں کی آنکھیں کھولے، اور بہروں کے کان کھولے، اور غلافوں میں لپٹے ہوئے دل، وہ ہر اچھے کام سے اس کی مدد کرے، اور اسے بہترین اخلاق عطا کرے، اور سکینت کو اس کا لباس بنائے، اور نیکی اس کا شعار ہو، اور تقویٰ اس کا ضمیر ہو، اور حکمت اس کی گفتگو ہو، اور صدق اور وفا اس کا مزاج ہو، اور درگزر اور بھلائی اس کا خلق ہو، اور حق اس کی شریعت ہو، اور عدل اس کی سیرت ہو، ہدایت اس کی امام ہو، اسلام اس کی ملت ہو اور احمد اس کا نام ہو، اس کے ذریعے گمراہی کے بعد ہدایت عطا کی جائے، اور جہالت کے بعد اس کے ذریعے علم پھیلے، اور گمنامی کے بعد اس کے ذریعے بلندی عطا کی جائے، اور بدی کے بعد اس سے معروف پھیلے، اور قلت کے بعد اس سے فراوانی عطا کی جائے، اور تنگدستی کے بعد اس کے ذریعے فراخی عطا کی جائے، اور اس کے ذریعے گروہوں کو جمع کیا جائے، اور اس کے ذریعے مختلف و متفرق اقوام کے دل جوڑے جائیں، اور اور اس کے ذریعے لوگوں کی بڑی جمعیت کو ہلاکت سے بچایا جائے، اور اس کی امت کو خیر امت بنایا جائے، جو لوگوں کے لیے نکالی جائے، وہ انہیں معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے، وہ موحد اور مومن ہوں، اور جو کچھ رسولؐ لے کر آئے ہیں ان کی اخلاص سے تصدیق کرنے والے ہو۔ (اسے ابن ِ ابی حاتم نے روایت کیا، تفسیر ابن ِ کثیر)

جاری ہے

Comments

Avatar

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.