نواز شریف کا تبدیل ہوتا بیانیہ - محمد ذوالقرنین

28 جولائی 2017ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میاں محمد نواز شریف نے اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے جی ٹی روڈ پر مختلف مقامات پر خطاب کیا اور لوگوں کو بتایا کہ ان کو غلط فیصلے کی وجہ سے وزارت کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا کسی حد تک ان کا یہ بیانیہ مقبول بھی ہوا مگر حال ہی میں نواز شریف نے اپنے اس بیانیے میں تھوڑی بہت تبدیلی کی یہاں پھر یوں کہہ سکتے ہیں کہ اپنے بیانیہ کو ایک اور شکل دینے کی کوشش کی۔ پہلے نواز شریف کا بیانیہ تھا کہ عدالت میں ان کے خلاف ایک کمزور فیصلہ دیا اور وہ عدالت اور عدالتی فیصلہ کو ہدف تنقید بناتے رہے انہوں نے ملک کے لوگوں بالخصوص اپنے ووٹرز کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ عدالت ان کے خلاف ہوگئی اس لیے عدالت نے ان کو بغیر کسی ثبوت کے وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا۔ یہ بیانیہ تقریباً 6 سے 7ماہ تک دہرایا جاتا رہا مگر پچھلے ایک ماہ سے انہوں نے عدالت کے ساتھ ساتھ ملک کی عسکری اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر میاں محمد نواز شریف نے اپنے بیانیہ کو تبدیل کیوں کیا اور فوج اور دوسرے عسکری اداروں پر تنقید کیوں شروع کردی؟ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں پہلی جب عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف کو نا اہل کیا گیا تھا اس وقت لوگوں کو نظر آرہا تھا کہ اس میں فوج کا کوئی کردار نہیں عدالت نے پورے ایک سال تک نواز شریف کا کیس سنا اور اس کے بعد اسے نا اہل کردیا اگر محمد نواز شریف اس وقت فوج کے دوسرے اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے تو شاید لوگ ان کے اس بیانیہ کو پسند نہ کرتے، اس لیے پہلے بیانیہ میں صرف عدالت اور ججوں پر ہی تنقید کرتے رہے۔ دوسری وجہ سپریم کورٹ کی وجہ سے عوامی مفادات کے از خود نوٹسز بھی نواز شریف کے بیانیہ کی تبدیلی بنے سپریم کورٹ نے بہت سے کیسز میں حکومت وقت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کچھ سوشل ایشوز کو بھی اپنے اختیارات کو استعمال کر کے حل کرنے کی کوشش کی۔ قصور میں ہونے والے واقعہ پر عدالتی نوٹس نے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کا عوام میں اعتماد بحال کیا۔ پنجاب میں صاف پانی پراجیکٹ صحت کے حوالے سے اقدامات، سندھ میں پانی کے مسئلے پر واٹر کمیشن کا قیام، خیبر پختونخوا میں پانی اور صحت کے معاملہ پر حکومت کی سخت الفاظ میں تنقید وغیرہ، یہ سب وہ اقدامات ہیں جن سے عوام کے اندر چیف جسٹس اور سپریم کورٹ پر اعتماد بڑا لوگوں نے سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کو اپنا مسیحا سمجھ لیا۔ اسی وجہ سے نواز شریف کا بیانیہ جس میں وہ عدالت اور چیف جسٹس کو حرف تنقید بنا رہے تھے، کو پذیرائی ملنا کم ہوگئی۔ لوگوں کو احساس ہونا شروع ہوگیا کہ نواز شریف اور ان کی حکومت نے ہمارے مسائل حل نہ کیے مگر چیف جسٹس اور سپریم کورٹ ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اس لیے عوام نے عدالت اور چیف جسٹس کے بیانات کو ناگوار سمجھا نواز شریف تقریباً تین دہائیوں سے عوام کے ساتھ منسلک رہے اور ان کو بخوبی علم ہے کہ عوام کس بات کو پسند کرتے ہیں اور کس بات کو نہیں۔ اس لیے نواز شریف نے اپنے پرانے بیانیے کو تبدیل کرتے ہوئے فوج اور فلاحی مخلوق کی بات کرنا شروع کردی۔

پچھلے دنوں نواز شریف نے ساہیوال کے جلسہ میں یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا مطلب ہے کہ پاکستان فوج اور پاکستان کی عمارت کو ووٹ دینا، تو صادق آباد کے جلسہ میں نواز شریف نے فرمایا کہ ان کا مقابلہ آنے والے الیکشن میں عمران خان یا زرداری سے نہیں بلکہ خلائی مخلوق سے ہوگا۔ ان کا اشارہ فوج اور آئی ایس آئی کی طرف تھا۔

ہمارے ملک کی تاریخ رہی ہے کہ عام آدمی نے ہمیشہ فوج کی حمایت کی ہے چاہے وہ ایوب خان کا زمانہ ہو یا پھر ضیاء الحق کا دور، یا پھر مشرف کی ڈکٹیٹر شپ کا دور، عوام نے فوج کے خلاف کبھی بھی بغاوت نہیں کی۔ اس وجہ شاید یہ ہے کہ ملک میں جب بھی کوئی صورت آئی تو فوج نے سب سے بڑھ کر عوام کی خدمت کی زلزلہ ہو یا پھر سیلاب کوئی بھی نا گہانی آفت، حکومت اقدامات سے زیادہ فوج کے انتظامات ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ عوام کے اندر سیاستدانوں سے زیادہ فوج اور دوسرے عسکری اداروں پر ہے۔ جب مشرف نے 1999ء میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تو عوام سڑکوں پر ضرور آئے مگر مٹھائی بانٹنے کے لیے عوام نے مشرف کا اس وقت تک ساتھ دیا جب وہ صدر پاکستان رہے۔ نواز شریف کا نیا بیانیہ ان کی پارٹی اور حکومت کو فائدے سے زیادہ نقصان پہنچا رہا ہے عام آدمی سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے کہ عدالت اور فوج اور اس کی جماعت کا ساتھ نہیں دے رہی تو عوام یقیناً ان کا ساتھ دینے کی بجائے ان کی مخالفت کرے گی۔

یہ بیانیہ ایک طرح سے عمران خان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے جب نواز شریف یہ کہتے ہیں کہ عمران خان کو ووٹ دینے کا مطلب فوج اور عدالت کو ووٹ دینا ہے۔ نواز شریف صاحب کو اپنے بیانیے کو بدلنے کی وجہ سے مگر اب شاید ان کے پاس اور کوئی آپشن بھی نہیں ہے اس بیانیے کے سوا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com