ہائیڈروپونکس - محمد قاسم سرویا

محمد آبان اور محمد شعبان نے اپنے گھر کی چھت پر ایک چھوٹا سا باغیچہ بنایا ہوا ہے۔ اس کی بہتری اور بڑھوتری کے لیے وہ اپنے باباجانی سے مشورے اور رہنمائی لیتے رہتے ہیں۔ آج ان کے ماموں اور خالہ جب کافی دیر کے بعد ان سے ملنے آئے تو کھانا وغیرہ کھانے کے بعد وہ دونوں مہمانوں کو اپنے گھر کی چھت پر لے گئے۔ اوپر ایک نیا اور نرالا جہاں دیکھ کر ماموں اور خالہ تو حیران ہوگئے۔ ہر طرف مٹی اور پلاسٹک کے گملے، پھلوں کے پرانے کریٹ، پلاسٹک کے کین، گھر کے پرانے اور بے کار برتن۔۔۔ الغرض ہر وہ چیز جو پھینک دیے جانے کے قابل تھی، وہ باغیچے کی زینت بنی ہوئی تھی اور ان میں موسمی سبزیاں، پھل دار، پھول دار اور سدا بہار پودے اپنی بہار دِکھا رہے تھے۔

ماموں اور خالہ چھت پر ہر طرف پھیلی ہریالی اور خوب صورتی کو دیکھ کر ششدر بھی تھے اور اپنے بھانجوں کی بامقصد کارکردگی پر خوش بھی۔ لیکن اُس وقت ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب انہوں نے گھی کے پرانے کنستروں اور ٹین ڈبوں کے اندر صرف پانی میں اُگے ہوئے پودے دیکھے، ان میں سلاد، چقندر، سبزمرچیں، دھنیا، پودینہ، ٹماٹر اور پیاز وغیرہ شامل تھے۔

’’بیٹا! یہ کیا؟ صرف پانی میں پودے؟ ‘‘ ماموں نے حیرانی سے پوچھا۔

’’جی ماموں جی! جس طرح ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی کے دوسرے شعبوں میں بہتری پیدا کی ہے اسی طرح زراعت اور نباتات (باٹنی) میں بھی کئی نئی جہتیں متعارف ہو رہی ہیں۔‘‘

’’واہ بھئی! آپ تو بڑے ’’انفارمیٹِو‘‘ ہو۔‘‘ خالہ نے محمد آبان کو تھاپی دیتے ہوئے کہا۔

’’جی شکریہ! لیکن اس میں میرا کمال کم اور میرے باباجانی کا زیادہ ہے۔ وہ ہمیں ہماری ضرورت کے مطابق ہر نئی اور کارآمد چیز کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں اور اس کا عملی تجربہ آپ کے سامنے ہے۔‘‘ محمد آبان نے حقیقت بیان کرتے ہوئے پودوں کی طرف اشارہ کیا۔

’’دراصل جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، زرعی زمینیں کم اورختم ہوتی جا رہی ہیں۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو ایک وقت آئے گا جب فصلیں کاشت کرنے کے لیے ہمارے پاس زمین کی قلت ہو جائے گی اور زمین نہ ہونے کا سیدھا سیدھا مطلب ہے کہ ہم خوراک اور اناج حاصل کرنے کے مسائل سے دوچار ہو جائیں گے۔‘‘ محمد شعبان نے بھی اپنی معلومات پیش کیں۔

’’سائنس دانوں نے اس کا حل بھی ڈھونڈ لیا ہے۔ انہوں نے ایسا طریقہ ایجاد کیا ہے جس میں زمین اور مٹی کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی، صرف غذائی اجزاء اور نمکیات ملے پانی میں پودوں اور فصلوں کو کاشت کر کے مطلوبہ نتائج اور فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔‘‘ محمد آبان نے مزید بتایا۔

’’ ماموں جی! اس نئی ٹیکنالوجی کا نام "ہائیڈروپونکس" ہے۔‘‘ محمد شعبان نے پورے اعتماد سے بتایا۔


محمد آبان اور محمد شعبان نے اپنے ماموں اور خالہ کومزید بہت سی باتوں سے حیران اور خوش کیا اور پھر تھوڑی دیر خوش گپیوں میں وقت گزارنے کے بعد وہ اپنی پڑھائی میں مصروف ہو گئے۔ کیا آپ بھی اپنے دوسروں کو حیران اور خوش کرنا چاہتے ہیں؟ تو پھرکچھ نئی معلومات لے کر کسی ماہر کی سربراہی میں اپنے گھر کے لان میں یا چھت پر یہ کم خرچ بالا نشین تجربہ سرانجام دے سکتے ہیں لیکن آئیے پہلے مزید کچھ نیا علم حاصل کر لیجیے۔

آپ سب کو معلوم ہے کہ تمام پودے فوٹو سینتھسز کے عمل کے ذریعے پروان چڑھتے ہیں۔ اس سارے عمل کے دوران وہ سورج کی روشنی اور پتوں میں موجود ایک مادہ کلوروفل استعمال کر کے، ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی کو گلوگوز (ایک طرح کی شوگر) اور آکسیجن میں بدل دیتے ہیں۔ اس سارے عمل کو کیمیائی طور پر ایسے بھی لکھا جا سکتا ہے۔

6CO2 + 6H2O .....C6H12O6 + 6O2

آپ ذرا غور کریں اس سارے پراسس میں کہیں بھی زمین کا ذکر نہیں ہوا اور یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ پودے زمین اور مٹی کے بغیر بھی اُگائے جا سکتے ہیں۔ دراصل زمین میں پودے کیوں لگائے جاتے ہیں؟ صرف اس لیے کہ وہ زمین سے پانی اور دوسرے غذائی اجزاء (پوٹاشیئم، نائیٹروجن، میگنیشم، کیلشم، سلفر، فاسفورس، آئرن، کاپر اور زنک وغیرہ) آسانی سے حاصل کر سکیں۔ لیکن اگر یہی غذائی اجزاء حاصل کرنے کا کام وہ اپنی جڑوں کے ذریعے ایسے پانی سے حاصل کر لیں جو اس کی تمام غذائی ضروریات کو پورا کر دے تو پھر زمین اور مٹی کی کیا ضرورت ہے؟ یہی وہ خاص نظریہ ہے جو ہائیڈروپونکس جیسی ٹیکنالوجی کو ایجاد اور شروع کرنے کا باعث بنا۔

ہائیڈروپونکس کا مطلب ہے پوڈر یا گاڑھے محلول کی شکل میں نمکیات ملے پانی میں فصلیں اگانا، یا مٹی کے بغیر فصلیں پیدا کرنا، یا یوں سمجھ لیں کہ یہ ایک مصنوعی طریقہ کاشت ہے جس میں ایک خاص مقدار اور معیار کے ساتھ پانی میں کچھ غذائی اجزاء اور نمکیات شامل کیے جاتے ہیں اور وہ جڑوں کے ذریعے پودے کی نشوونما کا باعث بنتے ہیں۔ پودوں کو سہارا دینے اور نم رکھنے کے لیے بجری، موٹی ریت،ناریل کا بُورا، لکڑی کا برادہ اور فوم وغیرہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور مخصوص غذائیت والا پانی ایک چھوٹے پائپ کے ذریعے تھوڑی تھوڑی مقدار میں فراہم کیا جاتا ہے جو کہ پاس ہی ایک ذخیرے (کنٹینر) میں موجود ہوتا ہے۔

اگرہائیڈروپونکس کے لفظی معانی کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے "ہائیڈرو" (مطلب پانی) اور "پونوس" (مطلب لیبر یعنی محنت یا کوئی چیز بنانا)۔

انسانی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ اس طریقہ کار کو ہزاروں سال پہلے بھی استعمال کیا جاتا تھا لیکن موجودہ دور میں یہ ٹیکنالوجی تیز، مضبوط، صحت مند اور فائدہ مند پودے پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ تقریباً سو سال پہلے کیلیفورنیا یونیورسٹی کے استاد ولیم فراڈرک نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ زمین کے بغیر پانی میں نمکیات اور دوسرے اجزاء شامل کرنے سے بھی پودے اگائے جا سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے اس نظریے کو جھٹلانے کی کوشش کی لیکن اس نے نمکیات ملے پانی میں پچیس فٹ اونچی ٹماٹر کی بیلیں اگا کر سب کے خدشات دور کر دیے۔

پاکستان میں راولپنڈی کے قریب بارانی زرعی یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس میں پاکستان کا پہلا ہائیڈروپونکس پلانٹ بہت اچھی طرح اپنی پیداوار دے رہا ہے، جسے ہالینڈ کی مدد سے لگایا گیا اور اس میں لال لال ٹماٹر، شملہ مرچ، سبز اور سرخ مرچ کی فصلیں بڑے پیمانے پر حاصل کی جارہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا کہ جیسے جیسے اس ٹیکنالوجی کو عام زراعت کی طرح استعمال کیا جائے گا تو اس پر اٹھنے والے اخراجات عام اور روایتی زراعت کے برابر بلکہ کم ہو جائیں گے۔ اس ہائیڈروپونکس ٹیکنالوجی سے اب بھی عام زراعت کے مقابلے میں ستّر فیصد سے زائد پیداوار حاصل کی جارہی ہے۔ ایک ماہر کا کہنا ہے کہ اگر ایک عام کسان روایتی طریقہ سے ایک ایکڑ میں سے پانچ ٹن (ایک ٹن =ہزار گلو گرام) ٹماٹر حاصل کر رہا ہے تو وہ ہائیڈروپونکس پلانٹ لگاکر پانچ سو ٹن ٹماٹر حاصل کر سکتا ہے۔

زراعت کے اس جدید شعبے میں مہارت حاصل کرنے کے لیے سبزیوں اور پھلوں کی وافر پیداوارحاصل کر کے اور دوسرے ممالک کو بھیج کر اپنے اور اپنے ملک کے لیے وسیع زرِ مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ بے روزگاری کا رونا نہ روئیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرکے اور مناسب رہنمائی حاصل کرکے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاتے ہوئے خود بھی اچھا روزگار کمائیں اور دوسروں کو بھی بہترین کام کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کریں۔۔۔ لیکن اللہ تعالیٰ انہی کی مدد کرتا ہے، جو ہمت نہیں ہارتے اور محنت کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں۔