مجھ جیسا ہی انجام نہ ہو - محمد اقبال دیوان

سفر در پیش تھا، انگریزی اور اردو دونوں کا۔ مسافر نواز بہتیرے ہیں کہ نہیں۔ اس کا فیصلہ ایئر پورٹ چیک ان کے بعد یا دوران پرواز ہونا تھا۔

اللہ نہ کرے کہ آپ بھولے سے بھی انٹرنیٹ پر کسی سوشل نیٹ ورک پر کہیں کوئی اپنی پسند ظاہر کردیں، یہ تجارتی ادارے کم بخت تالیاں پیٹتے ہوئے پرانے زمانے کے کھسروں کی طرح اپنی آفرز کا ڈھول بجا بجا کر آپ کی ای میل اور فیس بک کے پیج پر تھرکتے رہیں گے۔ اس ایئر لائن کو پہلے بوسۂ اڑان سے یہ یقین آ گیا کہ

جہان اہل وفا کب کا ہوچکا ویران

یہ ایک ہم ہیں کہ مثلِ غبار جیتے ہیں

سو ہم اب بھی اپنی پرانی ایئر لائن سے جڑے ہیں۔ ان دنوں جب ہم نے سفر کیا تھا یہ ریشماں کی طرح ایسی جوان نہ تھی جیسی اب ہوگئی ہے۔ اس نے طے کررکھا ہے کہ پاکستان سے ابن بطوطہ کا اگر کوئی سچا جانشین ہے تو وہ خاکسار ہے۔ سو ہمیں رجھانے کے لیے باقاعدگی سے یاددہانی کراتی ہے کہ کہاں کرایہ سستا ہے۔

نواز شریف کی طرح یہ بھی بہت نظریاتی ایئرلائن ہے۔ جیسے وہ رو رو کر کہتے ہیں ’مینو ہک واری ہور چن لو، پاویں کوٹ ادو دا ای سہی مینوں یا میری اس سکینۂ مظلوم و معصوم نوں وزیر اعظم ضرور لوانا اے۔ کورٹاں تے نیب دی دواں دی اسی کھل کے کُٹ لاواں گے۔ ووٹ کو عزت دو! یہ ایئر لائن بھی کہتی ہے کہ اگر ہم نے ایک سال میں دس ہزار میل کا سفر اس ناہنجار کے ساتھ طے کرلیا تو یہ ہمیں قطر میں سیف الرحمان والی نوکری دلوادے گی۔

پاکستان سے چلتے وقت تو ہمیں اپنی پسندیدہ Airline hub تک آئل سیٹ مل گئی۔ مسئلہ یہ تھا کہ اب یہ نیویارک تک کی سیٹ مختص نہیں کرتے۔ اپنے جیسے تیسے شہزادے کے خط کی بے توقیری پر بہت رنجور ہیں۔ کہتے ہیں فرضی سلمہ کے اختر شیرانی کے نام لو لیٹرز اور جان نثار اختر کے جاوید اختر کی والدہ صفیہ کے نام خطوط (مجموعہ خطوط کا نام ’’زیر لب‘‘) تو چوم چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہو تو ہمارے خطوط کی فارنسیک کرکے ہماری، نانی مریم اور کیلبری فونٹ کی بھد اڑاتے ہو۔ ہمارے ساتھ چونکہ حکومت پاکستان کا ایک ذمہ دار افسر پروٹوکول پر تھا اس کی ایماء پر مینیجر نے کہا ہم نے میڈیکل ایشو کی درخواست ڈال دی ہے قطر پہنچ کر آئل سیٹ مل جائے گی۔

قطر تک ہمیں پاکستانی ہی ملے۔ سوائے سفیان علوی کے۔ ان کا پہلے کبھی ناظم آباد میں خاموش کالونی میں ہمارے گھر کے پاس گھر تھا، اب نہیں۔ بیوی خیر سے مراکش کی ہے لیکن نجت ولادی بالقاسم (Najat Vallaud-Belkacem) فرانس کی سابق وزریر تعلیم کی رشتہ دار نہیں۔ نجت وہ بھیڑیں چرانے والی مراکش لڑکی ہے جو راج مستری باپ کے ساتھ 1982ء میں فرانس آگئی تھی۔ وہاں تعلیم سے فارغ ہوئی تو Boris Vallaud سے شادی ہوگئی۔ کئی دفعہ وزیر رہی ہیں فرانس جیسی مغرور اور خود پسند سوسائٹی میں اسے وزیر تعلیم لگایا گیا تو بہت شہرت پائی کہ دیکھو کیا مملکت ہے چرواہے کی بیٹی کو وزیر تعلیم بنادیا۔ ایک ہمارے اپنے ہیں کہ وزیر اعظم اور صدور کے گھر سے اولاد اور رشتہ داروں کے روپ میں برآمد تو چپ تعزیے کی طرح ہوتے ہیں مگر چوک پر پہنچ کر اپنی جہالت اور کم ظرفی کے نقارے پٹوادیتے ہیں۔

نجت ولادی بالقاسم، بچپن کی تصویر

یہاں کراچی ایئرپورٹ پر ہمیں سفیان کا LIGHT HOPSACK Weave Blazer بہت اچھا لگا تھا۔ رنگت، تراش، فیبرک اور پھر اس کی ان پر سج دھج۔ وہ سمجھے ہم ان کی نشست کے خواہاں ہیں۔ بے چارے احتراماً کھڑے ہوگئے۔ بات چل نکلی، یہاں کسی مقتدر سرکاری کو ادارے کو بریفنگ دینے آئے تھے، جوانسانی شناخت میں سعودی اور ملائیشیا ماڈل اپنانا چاہتا ہے تاکہ ایک دفعہ بات بنے تو اسے شناختی کارڈ تک پھیلا دیا جائے۔ سعودی عرب اور ملائیشیا میں اگر آپ کی نانی کے کزن کی نواسی بھی عمرے پر آئے گی تو اس شناخت جسے Human Identification کہتے ہیں اس کے بارے میں ان کے پاس ریکارڈ ہوگا کہ ساجن ایسے کیا گناہ کرلیے ہیں کہ بار بار ہماری گلی کے پھیرے لگاتے ہو؟ وہ بتارہے تھے کہ جس طرح آپ کی انگلیوں پر پائے جانے والے پرنٹس ایک جیسے نہیں ہوتے وہی عالم ہر انسان کے دونوں کانوں کا بھی ہے۔ دنیا بھر میں دو افراد کے کان تو چھوڑیں ایک فرد کے اپنے دونوں کان بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ وہ ہمیں عورتوں کے سینے کے بارے میں یکساں ساخت کا بتا رہے تھے ۔وہ کہہ رہے تھے لہ وہاں بھی معاملہ یکساں نہیں۔ایک بریسٹ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے جس میں پاکستان کے میٹنگ میں شریک ایک افسر کو بہت دل چسپی تھی کہ کسی طرح شناخت کا یہ مارکر بھی کرائم سے متعلق ڈیٹا بیس کا حصہ بن جائے۔ سفیان میاں کہنے لگے کہ یہ تو بتائیں اس ڈیٹا کو کیسے جمع کریں گے۔ یہ بھی جان لیں کہ پاکستان میں اس کے لیک ہونے کے بہت چانس ہیں۔ وہ کہنے لگے یہی حال کولہوں کی جوڑی اور ان سے پیدا ہونے والے اس دباؤ کا ہے جو نشست سے متعلق ہے۔ اسرائیل کی ایک کمپنی آنکھ سے شناخت کی تکنیک کو ایک قدم آگے لے گئی ہے اب وہ آنکھ کی حرکات سے شناخت کو ممکن بنارہی ہے۔ اس طرح وہ برطانیہ کے اشتراک سے ایک ایسی ٹیکنالوجی لانے کی کوشش کررہے جن کا تعلق نسوں اور رگوں سے ہے کیوں کہ فنگر پرنٹس تو ہیکر کسی نہ کسی طرح بعض مرتبہ انگلی کاٹ کر بھی استعمال کرلیتے ہیں۔ لیکن رگوں اور نسوں کے ساتھ ایک زندہ انسان کی موجودگی ہی اس بات کو یقینی بنائے گی۔ وہ بتائے رہے تھے جنگ اور سیاست سے بہت پرے اسرائیل میں تحقیق کی ایک ایسی دنیا آباد ہے جس کا مسلم ممالک کو کوئی اداراک نہیں۔ اچھا ہوتا افغان جنگ کے بعد پاکستان بھی اس روش کو اپنا لیتا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ دونوں جرنیلوں یعنی ضیاء الحق اور پرویزمشرف نے پاکستان کو دو اہم مواقع پر امریکہ کے ہاتھوں بہت سستا فروخت کیا۔ وہ چاہتے تو سافٹ ٹیکنالوجی کے ایسے ادارے بناسکتے تھے جن کے ذریعے مزید ٹیکنالوجیز کو فروغ دیا جاسکتا تھا۔ بھارت نے پاکستان میں برپا اس عرصۂ حرب و بلا میں اپنی آئی ٹی کو بڑی خاموشی سے ترقی دی۔ اس کا فوکس Human Capital سے جوڑے رکھا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ آئی ٹی ایکسپرٹ ہندوستانی نوجوان ملتے ہیں۔

سفیان علوی دو عدد سپہ سالار جرنیلوں ضیاء الحق اور پرویز مشرف سے ہی نہیں بلکہ بہت کچھ میڈیا سے بھی ایسے ہی نالاں تھے جتنے آج کل مریم اورنگ زیب اور خواجہ سعد رفیق۔ کہہ رہے تھے زینب کے معاملے میں انصاف کم ہوا اور شور زیادہ مچا۔ اس سے پاکستان کا بہت منفی امیج باہر گیا۔ بہتر تھا کسی ایک مجرم کو پکڑا تھا تو اسی کو ہی چوراہے پر فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے بھون ڈالتے۔ جیسا ایران اور چین کرتے ہیں۔ مغرب کی ہمیں بڑی فکر ہے جب کہ انہیں تو ہماری اپنی پرانی جوتیوں جتنی بھی پروا نہیں۔ اس شور کا نقصان دہلی کے مظلومین کو بھی ہوا۔ وہاں مودی سرکار نے متبادل بیانیہ پھیلانا شروع کردیا کہ ہمارے پڑوسی دیش میں بلات کار کی سزا تو موت ہے، اس کا ورودھ (مخالفت) کرنے والی عاصمہ جہانگیر کا بھی دیہانت ہوگیا ہے۔ وہاں کون سا بلات کار کا نوارن (روک تھام ) ہوگیا ہے۔ شانتی رکھیں، نواج سریپھ صاب پھر پردھان منتری بن گئے تو وہ اورہم مل دونوں مل کر اس اپائے کا کچھ آیوجن (بندوبست) کریں گے۔ سفیان علوی صاحب جن کی مہارت اور کام ڈی این اے لیبارٹریز کا ساز و سامان کی تنصیب و تربیت سے متعلق ہے وہ کہہ رہے تھے کہ دہلی میں ہر دس منٹ میں ایک عورت زنا بالجبر کا شکار ہوتی ہے۔ باہر سے سیاحت یا پیشہ ورانہ ضرورت کے تحت آنے والی ہر عورت دہلی کے نام سے کان پکڑتی ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ قتل امریکہ میں ہوتے ہیں گو کہ Honduras کا نام بھی لیا جاتا ہے مگر وہ اس لیے زیادہ لگتے ہیں کہ پورے ملک آبادی نوّے لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ وہاں کا میڈیا تو اس کی چرچا نہیں کرتا۔ آپ کا جاہل میڈیا جس کا کام صرف سنسنی اور مایوسی پھیلانا ہے۔ وہ بریکنگ نیوز میں ایسی خبریں چلاتا ہے۔ تین دن بعد بھول جاتا ہے۔ سرکار کو میڈیا پر خبروں کے ٹائم پر پابندی لگانی چاہیے یا اس کے Content کو بی بی سی، سی این این اور الجزیرہ کی طرح ڈاکیومینٹریز اور تعلیمی نشریات کے انٹرویل دورانیے سے جوڑ دیا جائے۔ ہر وقت کی ہر خبر ہر وقت کا فساد ہے۔ ہم نے کہا یہ کیسے ہوگا؟ بہت آسانی سے، نیوز چینل کے اشتہارات پر ٹیکس بڑھادیں۔اشتہارات کم ہوں گے تو میڈیا ہاؤس کی آمدنی کم ہوگی۔ دیکھیے آپ کے میڈیا مغل کیسے انسان کے بچے بنتے ہیں!

یہ جان کے کہ ہم سرکار کے غیر اہم کارندے رہے ہیں، وہ پوچھتے تھے کہ کیا یہ بریفنگ جو انہوں نے دی ہے کیا وہ جرائم کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت ہوگی؟ ہم نے بتایا کہ جرائم تو ہمارا سپاہی اللہ دتّا بھی پکڑ لیتا ہے اگر اسےآزادی سے کام کرنےدیں تو ورنہ غفلت اور سیاسی مصلحت پسندی تو ایسی ہے کہ ایس ایچ او جوہر آباد کو ایم کیو ایم کی جوانی کے ایام میں نہ تو یہ علم تھا کہ اس تحریک کا چیئرمین، خیر سے اپنوں کے ہی ہاتھوں ہلاک ہونے والا عظیم احمد طارق ہے، وہ موصوف قریشی صاحب اس سے راز سے بھی بے خبر تھے کہ وہ ان کی تھانے کی حدود میں کس جگہ رہتے ہیں؟ اس بات سے وہ البتہ ضرور واقف تھے کہ یوسف پلازہ اور اس سے جڑے صغیر سینٹر نزد سہراب گوٹھ پر کس کس اپارٹمنٹ میں مساج کرنے والیوں کے ڈیرے ہیں؟

ہم نے سفیان میاں کو جتایا کہ جس ملک میں سات ہزار مجرموں کو ایک جنبش قلم سے فوج کا سربراہ جنرل پرویز مشرف رہا کردے، جہاں بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں ڈھائی سو افراد کو زندہ جلائے جانے کے ملزمان ایف آئی آر میں نامزد ہونے کے بعد بستر مرگ سے شادی کی رسومات ادا کریں، جہاں ماڈل ٹاؤن کے ٹی وی پر دیکھے جانے والے ملزمان دندناتے پھریں، اس ڈی این اے کے ذریعے شناخت والے پراجیکٹ میں مال تو بہت کھایا جائے گا مگر کام ککھ بھی نہیں ہوگا۔ اسے بس آپ کسی مخبوط الحواس شخص کے وضو سے زیادہ اہمیت نہ دیں۔ پرواز کی تیاری کا اعلان ہوا تو ہمارا واٹس اپ نمبر لے کر وہ چل دیے۔

قطر کے ہوائی اڈے پر جب ہمیں میڈیکل گراؤنڈ پر سیٹ ملی تو وہ سیٹ دینے والی بی بی کہنے لگی کہ کمال کی بات ہے آپ کے ساتھ جو کورین لڑکی بیٹھی ہے اسے بھی میڈیکل پرابلم ہے۔ اسے الٹیاں بہت آرہی ہیں۔ پاکستان سے جو بھی باہر جاتا ہے اسے کوئی نہ کوئی بیماری ضرور ہوتی ہے۔ ہم نے کہا یہ ہمارے شریف النفس لیڈروں مجھے کیوں نکالا کا مسئلہ ہے، عام پاکستانی تو ایسے ہٹے کٹے ہیں کہ سڑکوں پر ہی بچے کو جنم دے کہ اپنی راہ لگ لیتے ہیں۔

لاؤنج میں ہمارے پاس ایک صاحب آن کر بیٹھ گئے۔ بغیر پوچھے ہی خود سے اپنا نام آنند ترپاٹھی اور اپنی عمر پچاسی برس اور تعلق بھوپال سے بتایا۔ ہم سے پوچھتے تھے کہ ’’اپنی طرف کہ لگتے ہیں کیا اٹاوہ یا بارہ بنکی کے ہیں؟‘‘، ہم نے کہا ’’جی نہیں ہم کراچی کے ہیں‘‘۔ ٹھٹا مار کے ہنسے کہنے لگے ’’ کراچی کے ہیں اور زندہ ہیں؟‘‘ہم نے کہا ’’ترپاٹھی جی! لگتا ہے آپ دہلی کی کسی بھی عورت سے مل کر ایسے ہی ٹھٹول کرکے اس کے بارے میں پہلا جملہ یہی کہتے ہوں گے؟ ’’ارے تو اب تک بالات کار سے بچی ہوئی ہیں؟ ‘‘بہت ہنسے۔ ان کا دوسرا رقیق حملہ ہماری عمر پر تھا۔ کہنے لگے’’ عجب بات ہے آپ کو ہماری عمر میں بھی اکیلے سیر کی اجازت ہے؟‘‘ یاد رہے کہ وہ خود تو پانچ کم نوّے کے تھے۔ ’’تعلیم کہاں کی ہے؟" ہم نے جواب دیا کہا الیکژینڈریا (اسکندریہ) میں ہم اور قلو پطرہ وہاں کی مشہور زمانہ لائبریری میں ایک ہی استاد کے پاس زیر تعلیم تھے۔ کہنے لگے کہ آپ کو نہیں معلوم ہوگا مگر بتائے دیتے ہیں کہ آپ کی کلاس فیلو قلوپطرہ کے نام کا یونانی زبان میں مطلب’’ فخر والد صاحب‘‘ ہوتا ہے۔ ہم نے کہا کاش یہ بات ہمارے ’مجھے کیوں نکالا والے‘ صاحب کو ہوتی تھی تو اپنی رشک قمر کا نام یہی رکھتے ’قلوپطرہ شریف‘۔ ہم نے آپ کی شریمتی جی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ’’پہلی بازی کھیلے تھے اور پہلی بازی ہار گئے۔" دھیمے سے مسکرائے اور کہنے لگے کہ لگتا ہے’’ آپ کو کراچی والی بات کا غصہ ہے‘‘۔

آنند ترپاٹھی جی اور ان کی شریمتی جی دونوں کی سیٹ آئل والی تھی۔ جہاز کے پر تولنے میں ابھی دیر تھی سو ہم نے پوچھ لیا کہ’’ یہ کیسا انتظام ہے کہ دونوں بیچ میں راہداری کھینچ کر بیٹھے ہیں؟" کہنے لگے ویمان (ہوائی جہاز) اڑنے لگتا ہے تو نیند آجاتی ہے۔ پاس بیٹھے ہوں تو ایک دوسرے پر گرتے ہیں۔ ہم ان پر گر پڑیں تو برا مانتی ہیں، سب کے سامنے جھڑکنے لگتی ہیں۔ لگتا ہے ہم اپنی بیوی پر نہیں سونم کپور پر گر پڑے ہیں۔ خود گر پڑیں تو اٹھتی نہیں۔" دونوں بیٹے اور ایک بیٹی امریکہ میں ڈالروں کے مزے لوٹتے ہیں۔ سفر سال میں تین دفعہ ہوتا ہے۔ علیحدہ ریاستوں میں رہتے ہیں۔ یہ تین ماہ ان بچوں میں تقسیم کرلیتے ہیں۔ ہم نے پوچھ لیا کہ ساتھ جو کوئی دوسری بیٹھی ہو تو کیا ہوتا ہے؟۔ کہنے لگے ہم گر جاتے ہیں اور اسے برا لگتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ Old man often falls ہم نے کہا اس میں اولڈ کا لفظ غیر ضروری ہے۔ ہنس دیے۔ ان کے برابر بیٹھی کالی کو دیکھا جو سیٹ اور کپڑوں دونوں سے باہر اُمڈ رہی تھی پھر سوچا کہ نہ ہوئی #metoo والی ہماری طرف کی میشا شفیع۔ گانا گاتے وقت اگر ترپاٹھی جی ذرا زیادہ جھکاؤ دکھاتے تو ان کی اولڈ مین والی وضاحت کے جواب میں تیرے Old man often falls کی پیہن دی سری کہہ کر سوشل میڈیا میں وہ اور ان کی عمر رسیدہ ہم جولیاں لفظوں کی تلوار سونت کر ان ترپاٹھی جی پر ٹوٹ پڑتیں۔

دوران پرواز ہمیں لگا کہ شریمتی ترپاٹھی جی اپنی نشست سے تا دیر غائب ہیں۔ ہم چونکہ لمبی پرواز میں دوران خون درست رکھنے کے لیے اپنی نشست سے اٹھ کر گھومتے پھرتے رہتے ہیں لہٰذا ان کی عدم موجودگی کا نوٹس دیر سے لیا۔ دیکھا کہ مزے سے ترپاٹھی کی گود میں کمبل اوڑھے اپنے پوپلے منہ سے خراٹے لے رہی ہیں۔ یہ پوچھنا کہ امریکن کالی اس لیے وہاں سے اٹھ کے چلی گئی تھی کہ اس پر ترپاٹھی Old man often falls کے کلیے کے حساب سے جاگرے تھے یا اس کی فربہ اندام عریانی کو کسی اور جانثار اور غم گسار کی تلاش تھی۔ یہ سب عبث تھا۔

اس دوران یہ ہوا کہ ہمارے برابر والی نشست پر الٹیاں کرتی کوریا والی لینا آئی۔ کھڑکی کے ساتھ سر ٹیکا اور کمبل اوڑھ کر سو گئی۔ مردانہ وجاہت کا پیکر قطری جوان، ماہر مصطفیٰ دروازے بند ہونے سے ذرا پہلے آیا۔ اس کے بازو کے ٹیٹو کی خوش خطی نے ہماری نگاہ کو مرکوز کرلیا۔ وہ ہماری نشست کے عین مقابل راہداری کے دوسری طرف تھا۔ اس کے بازو پر درج تھا کہ From today until my last day I will not forget you.F.01-9-15

اس کے ٹیٹو دیکھ کرہمیں اداکارہ انجلینا جولی یاد آگئی۔ وحشی نگاہوں والی تکیے جیسے ہونٹوں والی ظالم انجلینا نے اپنے آفرین آفرین بدن کو صادقین کی آرٹ گیلری بنادیا تھا۔ اہل رسائی کے لیے ہر اشارہ وہیں درج تھا۔ بازو پر کہنی کے موڑ پر عربی میں ال عزیمہ لکھا تھا جس کے مطلب ہے صاحبۂ عزم۔ ہمارا اندازہ تھا کہ اس یقین دہانی کو اس جسم دلفریب پر تب جگہ ملی ہوگی جب وہ اپنی بریسٹ کینسر کی سرجری کا فیصلہ کررہی ہوگی۔ گردن کی پشت پر لکھا تھا کہ Know your rights۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اسے ناشتے پر بلایا تو مہاجرین کی سفیرہ کی آنکھیں ناشتے کی میز پر انواع اقسام کے طعام کی کثرت دیکھ کر پتھرا گئیں، فجے کے پاؤے، مزنگ کی مچھلی، فریسکو کی جلیبی، موچی گیٹ کی نہاری اور گرما گرم کلچے، ملتان کے حافظ کا سوہن حلوہ اور لسی کیا نہ تھا۔ بے چاری وہ مسکین اور مجبور تو ایام شہرت و دلبری میں بھی ناشتے پر گیہوں کے دلیے کے چار چمچے اور بغیر چکنائی کے دودھ کا ایک گلاس پی کر جیتی تھی کچھ دیر بعد ایک کیلا اور strawberry puree بھی گھٹکا لیتی تھی۔

یہ انجلینا جولی کو بھی ٹیٹو کندہ کرانے کا بہت ہڑکا ہے۔ پیٹ پر ناف سے ذرا نیچے لاطینی زبان میں نقش کرا رکھا ہے Quod me nutrit me destruit یعنی What nourishes me destroys me (میری غذا ہی میری موت کا سامان ہے)۔

اس کے بائیں بازو پر چھاتی کے قریب ایک ٹیٹو امریکی شاعر تینسی ولیمز کی لائن تھی"A prayer for the wild at heart, kept in cages."۔ ان وحشیوں کے لیے دعا جنہیں پنجروں میں بند رکھا گیا ہے۔ اپنے سابق میاں بلی باب تھرانٹن کا نام اس نے مختلف مقامات پردرج کرارکھا تھا۔ کچھ تو صرف اس کی بے پیرہنی کے عالم میں ہی دیکھے جاسکتے تھے۔ اسی فرسٹریشن کا شکار ہوکر احمد فراز نے کہا تھا کہ

کسے نصیب جو بے پیرہن اسے دیکھے

کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں

ہم نے پیوما سے پوچھا تھا کہ وہ بھی تو بڑی خوش جمال ہے۔ دلفریب و دل نواز ہے۔ صاحبۂ نشیب و فراز ہے۔ اس نے کیوں امریکہ یورپ میں رہتے ہوئے کوئی ٹیٹو نہیں بنوایا؟ تو کہنے لگی کہ ’’کوئی بینٹلے اور لمبورگھنی پر بھی کوئی نقش و نگار بنواتا ہے۔ کبھی تم نے کسی مرسڈیز یا فراری یا رولس رائس یا پراڈو پر جلنے والا کا منہ کالا، یا چشم بد دور لکھا دیکھا ہے‘؟ سچ پوچھو کبھی تمہارے دل میں یہ رکشہ اور ویگن دیکھ کر یہ ارماں جاگے کہ کاش یہ رکشہ یہ پرانی ویگن میری ہوتی۔ یہ سب آخر رکشہ، پرانی بسوں، لرزتی ویگنوں اور بغیر بتی کے ٹرکوں پر لکھا دیکھا ہوگا، حادثے بھی ان کے زیادہ ہوتے ہیں۔ چالان بھی ان ہی کے زیادہ ہوتے ہیں۔ (چشم بدور والے خیالات ماخوذ از: سریش ایم سیموال) ہم نے اعتراض کیا کہ چونکہ یہاں اظہار کی پابندی ہے۔ جسم کا جشن کھل کر نہیں منایا جاتا لہٰذا مہندی اور کاجل اور گلیٹر کی لکیروں پر گزارا کرلیا جاتا ہے۔ ورنہ فتنہ پردازی تو ہماری طرف والیوں کی بھی کم نہیں۔ بعد میں یاد آیا کہ اس ہڑا ہوڑی میں ہم انجلینا جولی کو پرانے رکشہ اور لرزتی ویگن والی تشبیہ پر پیوما کی لترول کرنا بھول گئے تھے۔ آیا کہ اس پرانی بسوں اور لرزتی ویگنوں والی تشبیہ پر پیوما کی کلاس لینا بھول گئے تھے۔

ذکر تھا ہماری نشست کے عین مقابل راہداری کے دوسری طرف بیٹھے قطری ماہر مصطفیٰ کا۔ ایسا لگتا تھا کہ سلمان خان، رہتک روشن، شاہد کپور اور ٖ پاکستان کے شاہد آفریدی کو کسی گرائینڈر میں پیس کر ماہر مصطفیٰ نام کا یہ کباب مردانگی بنادیا ہے۔ چھ فیٹ سے نکلتا قد، متبسم چہرہ، مزاج میں تمکنت اور اور نگاہوں میں دعوت گفتگو۔

اس کے بازو پر درج تھا کہ From today until my last day I will not forget you.F.01-9-15 ہم نے بھی آہستگی سے پوچھ ہی لیا کہ زیادہ بڑا وعدہ نہیں کرلیا۔ ہمارا اشارہ سمجھنے میں اسے دیر لگی۔ سمجھ آگئی تو زور سے ہنسا اور کہنے لگا کہ اب ملکہ کی شادی ایک لبنانی مرد سے ہوگئی ہے۔ ہم چوں کہ اس طرح کی بے وفائیوں کا کئی دفعہ نشانہ بن چکے ہیں لہٰذا ان کی چبھن اور زہریلی جلن کا ہمیں بہ خوبی علم ہے۔ . کہنے لگا کہ ملکہ کی ماں صومالیہ اور باپ قطری تھا۔ کیا حسن تھا۔ ہم نے کہا تصویر واٹس اپ کردو تو جھٹ سے کردی۔ ہم نے پوچھ لیا کہ کیا ہم اس کو کالم یا کہانی میں شامل کرلیں۔ اس نے درخواست کی کہ پورا نام مت لکھنا۔ وہ کون سا آپ کا کالم پڑھے گی۔ یہ تصویر اس کی فیس بک پر بھی ہے سو ہم پر الزام بھی نہیں آئے گا۔ ہم نے کہا ہم تمہارا نام بھی اصل صورت میں استعمال نہیں کریں گے۔ وہ خوش ہوگیا دل جوئی کے لیے پوچھ لیا کہ Does it hurt.۔ ہنس کر کہنے لگا جتنے پیسے اس نے میرے خرچ کرائے تو اتنے میں تو میں مختلف ممالک میں چھ اور امریکہ میں دس لڑکیوں سے عشق کرسکتا تھا اور کچھ ریز گاری (Change) بھی بچ سکتی تھی جس سے میرے پاس جے-ایف-کے ایئرپورٹ پر ٹرالی کے لیے ادا کرنے کو چھ ڈالر بھی بچ جاتے۔ ہم نے کہا تو فکر مت کر چھ ڈالر ہمارے پاس ہیں۔ گھر والوں کے لیے مختلف مسالوں، نمکو، راحت جاں قسم کے افطار کے مشروبات، صوفے و پردے کے کپڑے اور کینیا کی چائے کے بوجھ سے ہمارے سوٹ کیسیز بھی احد چیمہ کے گناہوں جیسے بوجھل ہوگئے ہیں۔ چار سوٹ کیسیز کا بوجھ یہ ٹرالی، آرام سے اٹھالے گی بس تو بیلٹ سے کیس اٹھا کر ٹرالی پر رکھنا۔ وہ مان گیا۔

اس کا ذکر یہاں کچھ دیر کو روک دیتے ہیں۔ اپنی اس نائٹ واچ میں لینا کورین کا باب خدمات وا کرتے ہیں۔ لینا کی ماں کورین، باپ گورا امریکی عیسائی ہے، عمر بائیس سال۔ خود گوام میں پیدا ہوئی اور امریکہ کی ایک آئی وی لیگ یونی ورسٹی میں Refugee and Forced Migration Studies کے گریجویٹ پروگرام کا تقاضا تھا کہ وہ ایک کیمپ میں ان کے مقرر کردہ اشاروں پر کم از کم دو مہاجر کیمپوں میں اپنے تھیسز کے پروجیکٹس بنائے۔ ہمیں بھی وہ کسی زمانے میں برازیل بھیجنا چاہتے تھے، اس طرح کی ریسرچ کو ان کے پروفیسرز لے کے تھنک ٹینکس کے پاس بھاگتے ہیں۔ یونی ورسٹی خود بھی انہیں اس میں مزید بہتری کے لیے امریکی حکومت اور ان تھنک ٹینکس کی مدد سے مذکور پراجیکٹس پر ریویو کے لیے بھیجتی ہے۔ ان کی سفارشات پر ملکوں کو اتھل پتھل کردینے والی پالیسیاں بناتے ہیں۔ یہ داعش کا قیام، عراق، لیبیا کی بربادی کا سامان ایسی ہی کئی اسٹڈیز کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہوگا جن کا آغاز لینا کورین جیسی کسی بی بی نے ہنس ہنس کر کیا ہوگا۔ امریکہ میں خفیہ اداروں کا، حکومت کا، اہم کارپوریشنز کا یونی ورسٹی سے براہ راست تعلق ہوتا۔ ان سب کا آپس میں بہت گہرا تال میل رہتا ہے۔

لینا بتا رہی تھی کہ دنیا میں اس وقت سات کروڑ مہاجرین ہیں۔ تین چوتھائی یورپ جتنی آبادی سمجھ لیں۔ ہم نے سلک کا پاجامہ اور کرشڈ کاٹن کا بلاؤز دیکھ کر پوچھ لیا کہ سری لنکا سے آتی ہو کہ تھائی لینڈ سے؟ کہنے لگی تھائی لینڈ کا پروگرام تھا۔ میانمار میں روہنگیا مہاجرین کے کیمپوں کا دورہ کرنا تھا وہاں سے کلکتہ اور وہاں سے بنگلہ دیش جانا تھا مگر مجھے میانمار میں داخلے کی اجازت نہ ملی تو انہوں نے پہلے سوڈان اور بعد میں سری لنکا دوڑا دیا۔

ہم نے پوچھ لیا کہ کیا وجہ ہے کہ تھائی لینڈ والوں نے اسے برما میں داخلے کی اجازت نہیں دی؟ وہ کہنے لگی میرا پروفیسر کہہ رہا تھا تھائی لینڈ، روہینگیا مسلمانوں کے اس مسئلے کو قالین کے نیچے دبا کر رکھنا چاہتا ہے۔ ان کی جنوبی علاقوں میں رہائش پذیر پانچ فیصد آبادی میں مسلمان ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ پرائی آگ ان کے وطن میں بھڑک اٹھے۔ جب یہ مسئلہ اپنے زوروں پر تھا اس کی روک تھام میں سب سے اہم کردار تھائی لینڈ کا تھا۔ اس نے برما کی فوج کے سربراہ اور وزیر دفاع کو بلا کر کان کھینچے کہ اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی تو یہاں سے مسلمان وہاں آن کر حملے کریں گے۔ اس میں انڈونیشیا اور ملائیشیا کے مسلمان بھی حصہ دار ہوں گے۔ سال میں جو ایک کروڑ سیاح ہمارے ہاں آتا ہے وہ اس بدامنی کی وجہ سے دوڑ جائے گا تو باز آجائیں۔ یہ دھمکی بہت کارگر ہوئی۔ قتل و غارت گری یکسر تھم گئی۔ یہ سن کر ہم نے او آئی سی (منتظمہ التعاون الاسلامی) اسلامی ممالک کی تنظیم پر چار حرف لعنت کے بھیجے۔

لینا کہہ رہی تھی کہ سری لنکا مہاجرین کے بارے میں بہت تنگ نظر ہے۔ وہ مہاجرین کے حوالے سے کسی بین الاقوامی معاہدے کا ممبر نہیں۔ ہماری نیند اس نے یہ کہہ کر اڑا دی کہ سری لنکا کے مہاجرین میں ان کے بھارت سے لوٹ کر آنے والے اپنے تامل تو سمجھ آتے ہیں مگر پشاور اور پنجاب کے مہاجر جن کا شمار ان مہاجرین کا کل 75 کے قریب ہے وہ وہاں کیسے پہنچے ہیں، یہ بھی بہت غور طلب معاملہ ہے۔

ہم نے بہت آہستگی سے اسے کاشف عباسی کی طرح سیاست کی دلدل میں گھسیٹا کہ دنیا بھر کے جو ہتھیار ساز اور ہتھیار فروخت ادارے، افواج اور خفیہ ایجنسیاں ہی دراصل اس عظیم انسانی المیے کی ذمہ دار ہیں جو مہاجرین کو جنم دیتا ہے۔ ہم نے حلب، شام میں ایک ماہ گزارا ہے کیا پر امن علاقہ تھا۔ ہماری ہم مکتب پچیس برس کی کندہ ابراہیم ہمیں رات گئے دیار باقر اور قلعے کے ساتھ ڈھابوں میں قہوہ اور شیشہ پلانے لے جاتی تھی۔ کیا باکردار اور خوش حال لوگ تھے۔ اب ہم ترکی میں انہیں دیکھتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے۔ پاکستانیوں کو چاہیے کہ ان شامی دوشیزاؤں سے ترکی جاکر شادی کریں، تہذیب، دین، عربی، کردار اور حسن منتشر گھرانے میں ایک دفعہ پھر سے انٹری مار لیں گے۔

لینا جو محض بائیس برس کی تھی ہمیں کہنے لگی ہمارے پروفیسر ہم سے صرف مسئلے کے انسانی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہیں۔ آپ کا سوال میرے نزدیک سیاسی ہے۔ ہمیں اچھا نہ لگا کہ اسے کہتے کہ یہ جو ان کی سیاست اور تجارت ہے یہی تو انسانی مسئلوں کو جنم دے رہی ہے۔

لینا نہ ترکی گئی، نہ برما مگرپہلے اسے اس کے اساتذہ نے کینیا میں Kakuma Refugee Camp بھیج دیا۔ وہ کہنے لگی میں بہت خوش ہوئی وہاں اکثر حلیمہ عدن آتی ہے، صومالیہ کی یہ مہاجر یہاں اس کیمپ میں پیدا ہوئی تھی۔ حلیمہ دنیا کی پہلی سپر ماڈل ہے جو حجاب پہن کر ماڈلنگ کرتی ہے۔

حلیمہ عدن

اس کے لباس اور پاکیزگی کا پاکستان کی چند خواتین ماڈلز کا موازنہ کریں تو لگتا ہے کہ پاکستانی ماڈلز تو پلے بوائے میگزین کے درمیانی صحفات سے اسمگل کی گئی ہیں۔ کوکوما کیمپ کے بعد لینا کو یوگنڈا بھیج دیا گیا جہاں جنوبی سوڈان سے دس لاکھ مہاجرین یوگنڈا پہنچے ہیں۔ جنوبی سوڈان کو مغربی استعمار نے اس لیے تقسیم کردیا تھا کہ سعودی عرب سے نکالے جانے کے بعد اسامہ بن لادن یہاں قیام پذیر تھا جہاں سے وہ افغانستان آیا۔ سوڈان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی اسلامی مملکت تھا۔ یہاں کے عیسائیوں کو سن 2011 میں ایک نیا ملک بنا کردے دیا گیا جو جلد ہی قبائلی خانہ جنگی کا شکار ہوگیا۔ اس خانہ جنگی میں اب تک تین لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ وہ بتارہی تھی کہ یوگنڈا سے زیادہ بہتر مہاجرین کے لیے کوئی اور ملک نہیں۔ ہم نے سوچا کہ اب یہ راز دروں ہم کس کو بتائیں مصطفیٰ کمال کو، فاروق بھائی کو کہ چار نمبر پر پولیس فائرنگ میں بچ جانے والے ہمارے محبوب بہادر آباد والے عامر خان کو کہ آؤ یوگنڈا چلیں، اسی مہینے چلیں، سارے کے سارے چلیں، چلو ابھی چلیں!

ہم نے سمجھایا کہ مہاجرین تو پاکستان میں بھی بہت ہیں، ہندوستان سے آنے والے اب اگلی ہجرت کے لیے امریکہ جانے کی سوچتے ہیں۔ افغانیوں اور سواتیوں نے کراچی کو دنیا میں پختونوں کا سب سے بڑا شہر بنادیا ہے۔ منظور پشتین بھی نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد اب کراچی میں جنم لیتے ہیں۔ چوہدری برادران نے گجرات سے اتنے منڈے بارسلونا بھجوا دیے ہیں کہ اگر آپ تمیزدار ہوں امریکی پاسپورٹ رکھتے ہوں تو کھانا اور ٹیکسی کا کرایہ چوہدری شجاعت کی جیب سے ادا کرتے ہیں۔ ہارون پٹیل کے ساتھ یہ سب کچھ ہوچکا ہے۔ وہاں انہوں نے لٹل گجرات آباد کرلیا ہے۔ گجرات کی لڑکیاں اب شادی بیاہ پر مہندی کی رسم میں لاچا پہن کر فلیمنکو ناچتی ہیں۔ مہندی کی اس محفل رقص و سردو میں دولہا والوں کو بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی وہ اس لیے فلیمنکو ناچ میں کبھی کبھار ایسے لمحات بھی آتے ہیں کہ رقاصہ کو زمین سے ٹانگ ہوا میں بہت اوپر تک اچھالنا ہوتی ہے۔ لاچے کی وجہ سے یہ اسٹیپ ایک پیچیدہ مرحلہ بن جاتا ہے۔ دوسروں کو چھوڑیں۔ سندھی جو سن ستّر سے پہلے کراچی کو پردیس کہتے تھے۔ اب خود کینیڈا میں جاکر پناہ گیر ہوگئے ہیں۔ یہ تو ٹروڈو اچھا ہے جو انہیں مکڑ نہیں کہتا۔

ہم نے لینا کو دعوت دی کہ وہ پاکستان آئے۔ کہنے لگی میرا کالا بوائے فرینڈ چارلی منع کرتا ہے۔ کہتا ہے کہ پاکستانی کورینز کو پسند نہیں کرتے انہیں صرف چینی اچھے لگتے ہیں۔ ہم تپ گئے اس کو سمجھایا کہ اس کا چارلی، چارلی کم اور چیپلن (چارلی چیپلن دنیا کا مشہور ترین کامیڈین اداکار) زیادہ ہے (چیپلن بمعنی کم درجے کا مولوی ہے) وہ الفاظ کی رعایت سے بہت ہنسی۔ پوچھنے لگی کہ ہم نے اسے چیپلن کیوں کہا۔ جواب دیا کہ ہمارے مولوی بھی تیرے چارلی جیسی اروچک (بے وقوفی) بہین دی سری قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ چینی ہم کو اچھے بہت لگتے ہیں اتنے بھی اچھے نہیں لگتے جتنے مشرف دور کے جنرل سعید الظفر ریلوے والوں کو لگتے تھے۔ ان کے دور زریں میں ریلوے نے مال پکڑنے کے چکر میں ایسے ریلوے انجن منگالیے کہ جو پلیٹ فارموں سے زیادہ چوڑے تھے ہمارے شریف برادران تو کھل کر کہتے ہیں کہ چین میں رشوت لینے والا جہنمی ہے اسی لیے وہ اسے سب کے سامنے سر پر گولی مار کر جہنم رسید کرتے ہیں مگر وہاں رشوت دینے والا جہنمی نہیں۔ نندی پور سے اورنج ٹرین تک کمیشن کی رقم جہاں کہو پہنچائیں گے۔ آپ کو اپنا کمیشن نائیجیریا کی کسی حسینہ کے ہاتوں مملکت کرغزستان میں کوچ کور جیسے دور افتادہ مقام پر درکار ہے تو وہ بھی وہاں پہنچ جائے گا۔ چینی، چینیوٹی اور میمن اچھی طرح جانتے ہیں کہ دھندے سے بڑا کوئی دھرم نہیں۔ ہماری طرف کی تو فکر نہ کر ہمارے والے پختون اور سندھی ایک دوسرے کو دین اور چہرے سے نہیں اردو زبان سے پہچانتے ہیں انہیں کیا پتہ کہ تو کورین ہے کہ سی پیک پر لڑھکتی ہوئی آئی کوئی چینی ہے۔ ہمارا نمبر لے لیا۔ واٹس ایپ کرے گی۔ فی الحال یو این میں مہاجرین کے ادارے میں نوکری پکڑ نے کے چکر میں ہے۔

اس دوران لینا کو پھر سے منہ بھر کر قے آئی اور وہ تھیلی میں قے کر ٹوائلیٹ کی طرف دوڑ گئی۔ واپس آئی تو ہمارے سوال سے پہلے ہی کہنے لگی وہ میرا چارلی اور تمہاری طرف کا چیپلن میرے پاس یوگنڈا آیا تھا۔ یہ الٹیاں اس کی وجہ سے آرہی ہیں۔ تب ہم نے کہا مولوی اروچک ہی نہیں عجلت پسند بھی ہوتے ہیں تجھے گریجویشن کرلینے دیتا۔

ہمارے عزیز طلعت پٹیل ہمیں لینے آئے تھے۔ وہ ماہر مصطفیٰ کو دیکھ کر حیران ہوگئے اور ہم سے پوچھنے لگے کہ یہ ہر دفعہ ہمیں ایئر پورٹ پراتنے Drop-Dead حسیں لوگ کیسے مل جاتے ہیں؟ ایسا ہی سوال ہمیں صدر مشرف کے بعد پرتگال اور برازیل کا فالو اپ دورہ کرنے والے ساتھیوں کے استقبال کو آنے والے ایک سفارت کار نے بھی کیا تھا۔ وہ جہاز سے ہمارے ساتھ برآمد ہوتی ہوئی لیلیٰ کو اگلے دن ہوٹل کی لابی میں ہمارا انتظار کرتا دیکھ کر دم بہ خود ہوگئے۔ وہ کہتے تھے لیلیٰ حسین ہے اور کمال یہ ہے کہ انگریزی کا ایک لفظ وہ نہیں بولتی اور تم پرتگالی زبان کے لفظ بونیتا یعنی خوبصورت کے کچھ اور نہیں آتا تو ہم نے انہیں مصحفی کا شعر سنایا کہ

میرے سلیقے سے نبھ گئی میری محبت میں

تمام عمر تغافل سے میں نے کام لیا

ہم نے اس پوری واردات پر ایک باب اپنی کتاب ’جسے رات لے اڑی ہوا ‘میں لکھا ہے جس کا عنوان ہے ’جی میں آتا ہے کہ پی جائیں یہ دریا لوگو‘

ہارون پٹیل کو گلہ تھا کہ ہر دفعہ ان کی پرواز میں ان ہندوستانی ادھیڑ عمر خواتین اور بوڑھوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ جو چلتا پھرتا ہلدی رام کا اشتہار ہوتے ہیں۔ مسالوں کی چبھتی ہوئی بو سے بھبھکتے ہوئے۔ ہلدی رام کا بتادیں کہ ہندوستان کے یہ مارواڑی بھجیا بیرن سال بھر میں ساٹھ کروڑ ڈالر کا کاروبار کرتے ہیں جو پاکستان کے لگ بھگ چھ ہزار کروڑ روپے بن جاتے ہیں۔ کبھی موقع ملے تو اس خاندان پر لکھی گئی پوترا کمار کی کتاب ’دی بھجیا بیرنز‘ پڑھیے گا۔ تب آپ کو میمن گجراتیوں کا یہ مقولہ جو فلم رئیس میں شاہ رخ خان نے بولا ہے سمجھ میں آئے گا کہ ’کوئی دھندہ چھوٹا نہیں ہوتا اور دھندے سے بڑا کوئی دھرم نہیں ہوتا‘۔ ماں نے انہیں بیکانیر میں سمجھایا تھا کہ پسی ہوئی ہلدی پر پسائی سے پہلے کیوڑہ چھڑک لینا۔ اس کی خوشبو اسے انوکھی اہمیت عطا کرے گی۔ سالن لپیٹیں مارے گا تو اور مسالے بھی بک جائیں گے۔

ہارون گلہ مند اور دل گرفتہ تھے کہ پچھلی دفعہ جب وہ ہمارے پاس سے امریکہ لوٹے تو امارات ایئرلائن کی پرواز میں ان کھوکھا سواریوں کی بہتات تھی۔ دو بڑی بیاں جو مانڈوہ راجھستان اور بلاس پور، ہماچل پردیش کی تھیں انہوں نے ان کی نشست کے پیچھے، اپنی منڈلی کا شبھ آرم (آغاز) یہ کہہ کر کیا کہ وقت بدلے تو میرے کو نیند نہیں آتی۔ ابتدا میں دونوں نے انگریزی کا سہارا لیا مگر چونکہ ہارون میاں اداکارہ میرا کی انگریزی کے دیوانے تھے اس وجہ سے ان مہیلاؤں کی انگریزی کا انہوں نے زیادہ برا نہ مانا۔ وہ بتا رہے تھے کہ جن دنوں دنیا بھر میں کولا وار (پیپسی اور کوکا کولا کی) جنگ جاری تھی پاکستان میں اداکارہ میرا اور ریما کے درمیان دونوں میں شہرت و مقبولیت کے حساب سے نمبر ون کون ہے؟ اس بات پر جنگ چھڑ گئی۔ کسی میڈیا والے نے میرا سے کہہ دیا کہ ریما خود کو نمبر ون سمجھتی ہے۔ بس کیا تھا وہ بھڑک اٹھی اور انگریزی میں کہنے لگی Forget her she is son of b---h ۔ ہارون میاں کو میرا کا یہ جوک بھی بہت شاہکار لگتا تھا جو انہیں میرا کے گرو گھنٹال گجراتی مہیش بھٹ کے کسی رشتہ دار نے سنایا تھا۔ دروغ بر گردن راوی کہ کسی میڈیا والے نے پوچھا تھا ’میرا جی صبح اٹھ کر سب سے پہلا کام کیا کرتی ہیں؟‘ تو فرمانے لگیں’’اپنے گھر جاتی ہوں‘‘۔

ہارون پٹیل کی اس رات امارات کی فلائٹ میں ہم سفر ہندوستانی مہیلاؤں کی بیٹیوں کے ہاں ولادت متوقع تھی۔ وہ بطور نانی اماں دنیا میں نو وارد ہونے والے امریکنوں کی خدمت اور دیکھ بھال کے لیے امریکہ جارہی تھیں۔ ساری رات وہ ان لڑکیوں کے حمل، ان سمیت اپنی سابقہ زچگیوں کی الجھن بیان کرتی رہیں۔ ایک کو عرق النساء تھا دوسری کو کمر کا درد جس کا الزام بلاس پور والی مہیلا لمحات رفاقت میں میاں کی حد سے بڑی ہوئی جارحیت کو دیتی تھی۔ ہر ہندوستانی عورت کی طرح ان دونوں کی ساس بھی سابقہ جنم کی Werewolf (ایک ایسی دیومالائی مخلوق جو کبھی بھیڑیا تو کبھی انسان ہوتی ہے) تھی۔ جس نے انسان بننے کے باوجود اپنی بھیڑیے کی جون نہیں بدلی۔ اس کے مظالم کے شکووں کی بھی بہ آواز بلند بھرمار تھی۔ دونوں مانڈوے اور بلاس پور کے دکھڑے فل والیم پر بیان کرتی رہیں۔

اب یہ ایئر لائنز اتنی کمینی اور خصیص ہوگئی ہیں کہ آپ سے سیٹ کے انتخاب کی رقم بھی دھروا لیتی ہیں۔ ہندوستانی اور پاکستانیوں سے یہ مشرق وسطیٰ، تھائی ایرویز اور ترکی کی ایئر لائنز ایسا برتاؤ کرتی ہیں جیسا رینجر اور پولیس ایم کیو ایم والوں سے کرتی ہے۔ آنکھ پر چڑھانے کے لیے تو کپڑے کا چشمہ Eye Mask دے دیتی ہے مگر کان میں ٹھونسنے کے لیے Ear Plugs نہیں دیتیں۔ سو یہ عمر رسیدہ خواتین کی بے محل گفتگو کا زہر ساری رات ہارون پٹیل کے کانوں میں گھولتا رہا۔

ہارون پٹیل جن کا گہرا سمبندھ امریکہ کی گجراتی پٹیل مافیا سے ہے۔ ان سے مودی جی کی بھی جان جاتی ہے۔ انہوں نے گجراتیوں کی حسین نوجوان عورتوں کو ساڑھی کو برتتے دیکھا ہے۔ کم کم اشک بلبل جتنے بلاؤز، جم اور یوگا کے پالے ہوئے جسمانی زاویے، بہتے بہتے رنگوں کے اشارے کے منتظر تلکنے کے لیے بے تاب ریشم اور شفون کی قیمتی ساڑھیاں اور پھر نو رات ڑی (گجراتیوں کا موسم خزاں کا مشہور تہوار جس میں رقص و سرور کا طوفان نو راتوں تک جاری رہتا ہے) میں ان کا ہلکورے لے لے کر تھرکنا۔ وہ کہہ رہے تھے جہاز میں جو ساڑھیاں دکھائی دیتی ہیں ان کو تو میچنگ کے حساب سے کفن پکارنا بھی گناہ تصور کیا جاسکتا ہے۔ ہارون پٹیل کہتے ہیں کہ یہ ساڑھیاں قیامت کے دن ان ہندوستانی عورتوں کے گلے میں ایناکونڈا بن کر لپٹی ہوں گی اور اللہ میاں سے گلہ کرتی ہوں گی کہ اس کروپ (بدصورت) مہیلا نے دھرتی پر ہمارے ساتھ ایسا برا سلوک کیا تھا کہ ہم کو امریکہ تک گھسیٹ کر لے گئی تھی۔

Comments

اقبال دیوان

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان صوبائی سیکریٹری کے طور پر ریٹائر ہوئے اور سندھ سول سروسز اکیڈمی کے بانی ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔ آپ پانچ کتابوں کے مصنف ہیں اور آپ کے افسانے ادبی جرائد میں بھی شائع ہوتے ہیں۔ مطالعہ، مصوری اور سفر کے شوقین ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */