اقبال اور سوروکین، محبت فاتح عالم - محمد اسماعیل ولی

اقبال انیسویں صدی کے دوسرے حصے میں پنجاب میں پیدا ہوئے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں اپنی رسمی تعلیم مکمل کی اور یورپ سے اپنے آبائی وطن واپس آ گئے۔ اقبال کا طبعی میلان شاعری کی طرف تھا۔ رسمی تعلیم فلاسفی میں مکمل کی۔ ساتھ مذہب کا گہرا مطالعہ کیا، اس لیے اس کی شاعری میں مذہب اور فلسفہ کا اثر صاف نظر آتا ہے اور ایک مسلمان فلسفی شاعر کے طور پر مشہور ہوئے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید اقبال کو عہد نبوی میں پیدا ہونا تھا کیونکہ ان کے افکار دور حاضر سے مطابقت نہیں رکھتے کیونکہ اقبال مذہب کی بات کرتے ہیں، خدا کی بات کرتے ہیں، خودی کی بات کرتے ہیں، خود شناسی کی بات کرتے ہیں جو عصر حاضر میں قصہ پارینہ بن چکے ہیں اور اپنی عملی افادیت کھو چکے ہیں۔ نیا دور ڈپلومیسی کا ہے، الفاظ کو توڑ مروڑ کر اپنا کام نکالنے کا ہے، جس کا ایک ہی اصول کارآمد ہے۔ زندگی کا مرکز بے اصولی کو بناؤ، اس کے بغیر فائدہ حاصل کرنا مشکل ہے۔

تاہم معدودے چند کے لیے اقبال کی شاعری منفرد اس لیے ہے کہ انہوں نے اردو اور فارسی شاعری کا رخ ایک نئے سمت کی طرف موڑ دیا۔ وہ شاعری جو "محبوب" کے ایک تل کے لیے سمرقند و بخارا نچھاور کرنے کے لیے وقف تھی، ایسے روحانی حقائق کی طرف موڑ دی جس کی مسلمانوں کی تاریخ میں کوئی مثال ڈھونڈنا بہت مشکل ہے۔

اقبال کی شاعری خدا، انسان، شیطان، پیغمبر کے علاوہ ان کرداروں کے گرد گھومتی ہے جنہوں نے تاریخ کے دھارے کو بدلنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور انسانی ثقافتوں پر ان کے اثرات اب بھی محسوس کیے جاتے ہیں اور اس سلسلے میں اقبال کسی تعصب کا شکار نہیں۔ اقبال بیسویں صدی کے ان مفکرین میں سے ہیں جن کے سامنے وحی اور عقل (مذہب/سائنس اور فلاسفی) کے مسائل کو حل کرنا تھا۔ اور یہی مسئلہ پترم سوروکین (Pitirim Sorokin) کو درپیش تھا۔ سوروکین ایک روسی نژاد امریکی ماہر سماجیات تھے اور امریکہ کی علمی تاریخ میں ان کی حیثیت ابن خلدون کی سی ہے۔ سوروکین نے ہارورڈ یونیورسٹی میں سماجیات کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ ساری انسانی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ انسانوں میں تین قسم کی صلاحیتیں موجود ہیں اور انسانوں کی معاشرتی تاریخ ان صلاحیتوں کو تین مختلف صورتوں میں دہراتی رہی ہے۔

حسی صلاحیت، یعنی انسان دیکھتا ہے، سنتا ہے، سونگتا ہے، چھوتا ہے اور ذائقہ لیتا ہے اور اپنے ماحول کے بارے میں نتائج اخذ کرتا ہے۔ سوروکین کے مطابق دنیا میں کئی "حسی" ادوار گزر چکے ہیں۔ ان ادوار کی بنیادی خصوصیت "حسی" حقائق کی برتری کو تسلیم کرنا ہے۔ ہم ایک حسی دور میں رہ رہے ہیں جس کا آغاز سولہویں صدی سے ہوا۔ سوروکین کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حس ماحول سے معنی اخذ کرنے کا ایک آلہ ہے۔ غلطی اس وقت واقع ہو جاتی ہے جب ہم اسی ایک آلے سے سارے حقائق کو معلوم کرنے کی کوشش کریں اور یہی تصور انسانوں کو انتہا پسندی کی طرف مائل کرتا ہے۔

پھر ہر حس کا الگ دائرہ کار ہے۔ ہم کانوں کے ذریعے آوازوں کو سنتے ہیں اور مختلف آوازوں میں فرق کرتے ہیں۔ آنکھوں کے ذریعے دیکھتے ہیں اور اشیا کے رنگ، جسامت، تعداد اور ترتیب کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ زبان کے ذریعے مختلف ذائقوں کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔ ناک کے ذریعے بدبو اور خوشبو کی اقسام کو سمجھتے ہیں اور چھونے کے ذریعے کسی سطح کی سختی یا نرمی کے بارے میں جانتے ہیں۔ انسانی زندگی کو معنی خیز بنانے کے لیے پانچوں حس ضروری ہیں۔ اس بات کی اہمیت کو صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کی ایک حس متاثر ہوگئی ہو۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ میں آنکھوں کے ذریعے سنتا ہوں، کانوں کے ذریعے دیکھتا ہوں، چھونے کے ذریعے ذائقہ معلوم کرتا ہوں تو دوسرے لوگ اس کو پاگل کہیں گے۔

حسی /سائنسی دور پر سوروکین کا اعتراض اسی نوعیت کا ہے کہ اگر صرف "حس" کو حقیقت ماپنے کا پیمانہ تسلیم کیا جائے تو انسانوں کی زبانیں اور ثقافتیں ادھوری رہ جائیں گی۔ کیونکہ زبانوں اور ثقافتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ "حس" کے علاوہ دوسرے "آلے" بھی موجود ہیں اور یہاں سے اچھے، برے کی بحث شروع ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر حس کے مقابلے میں وجدان ہے اور اس کے لیے کم و بیش ہر زبان و ثقافت میں الفاظ موجود ہیں اور اس کی حقیقت کا تجربہ ہم روزانہ کرتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر نو مولود بچوں اور بچیوں میں حواس کام نہیں کرتے بلکہ وجدان کام کرتا ہے۔ اکثر حیوانوں کے بچے وجدانی طور پر تیرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہن میں ایک سوفٹ ویئر موجود ہے جو پہلے سے طے شدہ/ ترتیب یافتہ ساخت کے مطابق کام کرتا ہے۔ جس کا تعلق حواس سے نہیں ہوتا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہ سوفٹ ویئر حواس کو رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہماری تن آسانی اور فلسفہ اقبال - طلحہ زبیر بن ضیا

انسانوں میں بعض افراد ایسے پیدا ہوئے۔ جن میں وجدان کا سوفٹ ویئر دوسرے انسانوں کی نسبت زیادہ حساس اور زیادہ مضبوط اور "دوربین" ہوتا ہے۔ ان افراد نے یہ کہا کہ حسی حقائق کے علاوہ دوسرے حقائق بھی ہیں اور جب یہ "حقائق" منظم طور پر معاشروں میں رائج ہوئے تو مذاہب کہلائے۔

سوروکین کے مطابق دنیا کی تاریخ میں کئی ادوار ایسے گزرے ہیں جن کو ہم حسی انتہا پسندی کے مقابلے میں "نظریاتی" انتہا پسندی کہہ سکتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال ہمارے ہاں طالبان کی انتہا پسندی ہے۔ تیسرے وہ ادوار ہیں جن کا تعلق "حس" اور "وجدان" کے امتزاج سے ہے اور سوروکین کے مطابق یہ بہترین ادوار ہیں۔ اس امتزاج کی کچھ تاریخی مثالیں یہ ہیں: اسلام کا اولین دور، یورپ میں شارلمان کا دور وغیرہ۔

مرد و عورت کا میلان ایک فطری عمل ہے۔ اگر انہیں حس پر چھوڑ دیا جائے تو انتشار پھیل جائے گا۔ اگر جنس کو بے جا طو پر دبایا جائے گا تو نفسیاتی اور معاشرتی مسائل پیدا ہوں گے۔ اس کا مذہبی حل شادی ہے جو اعتدال کا راسستہ ہے اور اعتدال کا راستہ درمیان سے گزرتا ہے یعنی یہ جسم و روح کو ملانے کا راستہ ہے۔ اگر نصف حصہ روح ہے تو نصف حصہ جسم ہے۔ جس طرح لفظ جسم ہے، معنی کی مثال روح کی ہے۔ الفاظ کو ہم سنتے ہیں یا بولتے ہیں یا دیکھتے ہیں لیکن معنی کو نہیں دیکھ سکتے۔ معنی دماغ میں بھی نہیں ہوتے۔ اگر دماغ میں ہوتے تو ہم لوگوں کی نیتوں کو آسانی سے دیکھ سکتے۔

سوروکین کی تصانیف درج ذیل ہیں:

  • معاشرتی اور ثقافتی حرکیات

مثال کے طور پر انسان اونچ / نیچ یا دائیں / بائیں کے الفاظ مختلف مثبت اور منفی معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح "بڑے" اور "چھوٹے" لوگوں کے درمیان "فاصلوں" کے ذریعے معنی کا تعین ہوتا ہے اور اسی طرح معاشرتی تہوں کی بات ہوتی ہے۔ ان میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔

  • محبت کی طاقت

محبت خاص کر بے غرض محبت ایک ایسی طاقت ہے جس کے سامنے سارے ہتھیار بیکار ہو جاتے ہیں۔ انسانی زندگی میں جس عنصر کی کمی ہے وہ محبت ہے۔ اگر ہم عصر حاضر کے معاشروں پر نظر دوڑائیں تو نفرت کا عنصر غالب نظر آتا ہے جس کی بناء پر گروہ بندی کی سیاست ہر معاشرے میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ خواہ یہ گروہ بندی مغرب میں "دائیں" یا "بائيں" کے نام سے ہوں یا ہماے ہاں مذہبی گروہ بندی کے نام پر ہو۔ یہ گروہ بندیاں صرف اور صرف مادی فائدے حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ اس لیے سوروکین بے غرض محبت کو ایک اصول کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اسی اصول کو انبیا و صوفیا نے اپنی زندگیوں میں عملی طور پر نافذ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تعلیمات ابھی تک انسانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔

  • ہمارے دور کا بحران

سوروکین سے پہلے سپنگلر نے بھی مغرب کے زوال پر اسی کو اپنے افکار کا موضوع بنایا تھا۔ یعنی انسانی معاشرے مختلف بحرانوں کا شکار رہے ہیں اور ان بحرانوں کی وجہ حسی اور وجدانی ثقافتوں کے مابین اختلافات ہیں۔ ان بحرانوں سے نکلنا بھی ایک فطری عمل ہے، جس طرح انسانی جسم ایک "خود کار" نظام کے تحت کام کرتا ہے اور اسی نظام کے تحت ایک دن کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اسی طرح معاشرے ایک دور سے دوسرے دور میں تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ قران پاک میں بھی اسی اصول کا ذکر موجود ہے۔

  • سماجیات انقلاب
یہ بھی پڑھیں:   ہماری تن آسانی اور فلسفہ اقبال - طلحہ زبیر بن ضیا

انقلاب روس کا ایک جذباتی مطالعہ ہے اور وہ اس انقلاب کے عینی گواہ تھے۔

  • دور حاضر کے سماجی نظریات
  • جدید تاریخی اور معاشرتی فلسفے
  • انسان کی تعمیر نو

عنوان کے الفاظ واضح ہیں۔ انسان کی تخریب کو تعمیر نو کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں "ایثار" کو ایک مرکزی علاج کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور ایک ماخذ سے سوروکین کے یہ الفاظ بھی پڑھنے کو ملے “Only if God saves humanity from revolution and wars, has mankind any chance of overcoming its difficulties.

  • طاقت اور اخلاق
  • بے غرض محبت
  • امریکہ اور روس
  • بھوک ایک انسانی عنصر

سوروکین کے کچھ اقوال زرّیں

"نفرت سے نفرت، تشدد سے تشدد، جنگ سے جنگ، اور محبت سے محبت پیدا ہوتی ہے۔"

"صرف اور صرف بے پناہ محبت انسانوں کے درمیان موجود چپقلشوں کو شکست دے سکتی ہے اور دنیا سے انسان کو ختم کرنے کے عمل کو روک سکتی ہے۔ محبت کے بغیر، کوئی ہتھیار، کوئی جنگ، کوئی ڈپلومیسی، نہ بد معاش پولیس، نہ سکول کی تعلیم، نہ معاشی یا سیاسی حربے اور نہ ہائیڈروجن بم آنے والی "قیامت" کو روک سکتا ہے۔ "

محبت ایک طاقت ہے بشرطیکہ خلوص اور حکمت کے ساتھ استعمال کی جائے۔ محبت وہ عظیم قدر ہے جو انسانی اخلاقیات کی بنیاد ہے۔ یہ اقوال ہمیں اس سمندر کی طرف لے جاتے ہیں جو سوروکین کی تصانیف میں موجزن ہیں اور یوہی سمندر ہے جو اقبال کی شاعری کے پس منظر میں موجود ہے۔ میں یہاں کچھ اشعار کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں جو سورو کن اور اقبال کے افکار میں مشترک اقدار کی طرف اشارہ کرتے ہیں

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

سر آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی

گرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی

مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر

فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر

بہ آدمی نرسیدی خدا چہ می جوئی

ز خود گریختہ ای آشنا چہ می جوئی

آدمیت احترام آدمی

باخبر شو از مقام آدمی

یہی مقصودِ فطرت ہے یہی رمزِ مسلمانی

اخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی

محبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نے

کیا ہے اپنے بختِ خُفتہ کو بیدار قوموں نے

سوروکین اور اقبال میں جو قدر مشترک ہے وہ "محبت کی فراوانی" کا راستہ ہے۔ اگر انسان بے غرض محبت کا راستہ اختیار کریں گے تو ان کے بیشتر مسائل حل ہو جائیں گے۔ انسانوں نے محبت کا راستہ چھوڑ کر نفرت کا راستہ اختیار کیا ہے اور اس نفرت کی ایک صورت نہیں ہے، ہر معاشرے میں اس کی صورت مختلف ہے۔ کہیں طبقاتی صورت میں ہے، کہیں مذہبی گروہ بندیوں کی صورت میں ہے، کہیں معاشی دہشت گردی کی صورت میں ہے، کہیں جنسی انتہا پسندی کی صورت میں ہے اور کہیں منافقت، جھوٹ، بے اعتمادی، یا ملاوٹ کی شکل میں۔

معاشرے میں انحطاط کیوں ہے؟ اس کی بنیادی وجہ "محبت" کا نہ ہونا ہے اور محبت نہ ہونے کی وجہ مادہ پرستی کا غلبہ ہے۔ مادہ پرستی کی وجہ وہ تعلیم ہے جس کی بنیاد حس پرستی پر ہے۔ جب تک حس پرستی کی بنیاد پرستی کو وجدان پرستی کے ذریعے اعتدال کے راستے پر نہ ڈالا جائے، یہ صورت حال بر قرار رہے گی۔ اس لیے مولانا روم فرماتے ہیں

علم را گر من زنی یارے بود

علم را بر تن زنی مارے بود

علم کا استعمال اگر روح سازی اور ذہن سازی کے لیے کیا جائے تو دوست بن جاتا ہے۔ اسی آلے کو اگر تن سازی اور جسم پروری کے لیے استعمال کیا جائے تو سانپ بن جاتا ہے۔ یہی سانپ ہمیں کھا رہا ہے لیکن احساس زیاں نہ ہونے کی بنا پر ہمیں محسوس ہی نہیں ہو رہا ہے کہ انسانیت کس تکلیف میں ہے۔

Comments

اسماعیل ولی

بالائی چترال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اسماعیل ولی کی ایم-اے سے لے کر پی ایچ ڈی تک تمام ڈگریاں انگریزی زبان و ادب میں ہے۔ ان کا تحقیقی مقالہ ولیم شیکسپیئر کے ایک طربیے پر ہے جبکہ ایم فل مقالہ میتھیو آرنلڈ کی شاعری پر تھا۔ سرکاری ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور میں درس و تدریس کر رہے ہیں۔ اسلام، فلسفہ، مغربی ثقافت، نفسیات اور تصوف کا مطالعہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • بس ایسی تحقیقی,مخلص,فیاضانہ تحریریں پڑھ کر نشاۃ ثانیہ کا خواب ,خواب نہیں حقیقت بنتا دکھائی دیتا ہے