امریکی صدر کا ایران جوہری معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا بھی اعلان کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے ایران نیوکلیئر ڈیل سے الگ ہونے کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی انہوں نے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے ایٹمی تعاون کرنے والی ریاست پر بھی پابندیاں لگائیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران دہشت گرد ملک ہے جو دنیا بھرمیں دہشت گردی میں ملوث ہے وہ شام ، یمن میں کارروائیاں کر رہا ہے جب کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کےحصول سے روکنا ہوگا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ یک طرفہ تھا، یہ معاہدہ ہونا ہی نہیں چاہئیے تھا اور یہ معاہدہ امریکا کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ایرانی حکومت کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے میں ناکام رہا، حقیقت میں ڈیل کے تحت ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت مل گئی اور ایران نے پابندیوں کے بعد بھی میزائل بنانا جاری رکھے جب کہ ڈیل کے بعد ایران نے بجٹ میں 40 فیصد اضافہ کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایرانی عوام کے ساتھ ہے، ایران نے جوہری ہتھیار بنانا بند نہ کیے تو مزید سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے اور اگر اس معاہدے کو جاری رکھا تو ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی جب کہ ہمارے پاس ثبوت ہے کہ ایران کا وعدہ جھوٹا تھا۔

امریکا کی معاہدے سے علیحدگی تشویش ناک ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ ایرانی جوہری معاہدے کا عالمی امن و سلامتی پر مثبت اثر ہوا، امریکا کی ایرانی جوہری معاہدے سے علیحدگی تشویش ناک ہے، معاہدہ جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے اہم کامیابی تھا، امریکا کے علاوہ بھی معاہدے پر عمل درآمد کیا جاسکتا ہے، ایرانی جوہری معاہدے کے دیگر فریق اپنے عہد کی پاسداری کریں۔

ایران سے جوہری معاہدہ جاری رہے گا، یورپی یونین

دوسری جانب یورپی یونین نے ٹرمپ کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے، یورپی یونین نے ایرانی جوہری معاہدہ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے جوہری پروگرام کو توسیع نہیں دی۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ فیڈریکا مغرینی نے کہا ہے کہ ایران نے ایٹمی معاہدے پر عمل کیا، ایران سے معاہدے کے ثمرات مل رہے ہیں، امید ہے دیگر ممالک معاہدے پر عمل جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کے لیے متحد ہے، ایران سے اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ ایٹمی معاہدے کا حصہ تھا۔

یورپی ممالک جوہری ڈیل توڑنے کے خلاف ہیں، فرانسیسی صدر

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے ٹرمپ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یورپی ممالک جوہری ڈیل توڑنے کے خلاف ہیں۔

فیصلہ افسوس ناک ہے، جرمنی، برطانیہ

جرمنی اور برطانیہ نے بھی امریکی فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے کہا ہے کہ جوہری ڈیل سے متعلق امریکی فیصلہ افسوس ناک ہے۔

ایرانی جوہری معاہدہ توڑنا ٹرمپ کی سنجیدہ غلطی ہے، اوباما

اپنے دور صدارت میں ایران سے معاہدہ کرنے والے سابق امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ ایرانی جوہری معاہدے سے علیحدگی گمراہ کن ہے، ایرانی جوہری معاہدہ توڑنا ٹرمپ کی سنجیدہ غلطی ہے۔

ٹرمپ کے اقدام کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ تباہ کن معاہدے سے نکلنے کے بے باک اقدام پر ٹرمپ کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی قوتوں نے ایران پر سخت عالمی پابندیاں عائد کی تھیں تاہم 2015 میں ایک معاہدے کے تحت ایران نے جوہری پروگرام کو شفاف اور محدود رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی جس پر پابندیوں میں نرمی کردی گئی تھی ۔ ایران سے ہونے والے عالمی جوہری معاہدے پر امریکا، برطانیہ، چین، جرمنی، فرانس اور روس نے دستخط کیے تھے۔