رمضان، راہِ آخرت! - نبیل جلہوم

ترجمہ: میمونہ حمزہ

اخلاق کے ساتھ:

رمضان میں ہم اپنی زبان پر گرفت رکھتے ہیں۔ پس اسے دعا، ذکر، تسبیح یا تلاوت ِ قرآن ہی کے لیے حرکت دیتے ہیں۔ پھر آپ مشاہدہ کرتے ہے کہ اگر کسی کی زبان سے کوئی برا کلمہ یا غیبت نکل گئی، وہ فوراً ہی استغفار اور توبہ شروع کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ گالیاں دینے، برا بھلا کہنے یا فضول گوئی کے خلاف زیادہ طاقت حاصل کر لیتا ہے اور وہ لوگوں میں پہلے سے بڑھ کر رحیم بن جاتا ہے اور مسکراتے چہرے اور محبت بکھیرتے ہوئے راستے سے تکلیف دہ چیزیں ہٹا دیتا ہے اور ضروریات پوری کرنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھتا ہے اور وہ پوری دنیا کے لیے ایک روشن چراغ بن کر بلند اخلاق کی کرنیں بکھیرتا ہے اور مہذب، اعلیٰ اور خوبصورت الفاظ کا چناؤ کرتا ہے۔

محاسن ِ اخلاق کے بڑے ستارے اس کی زینت بڑھاتے ہیں اور اس کی تربیت کرتے ہیں: تاکہ رمضان کے بعد بھی اس کو فائدہ دیتے رہیں۔

قرآن کے ساتھ:

ہم سارا دن اسے پڑھتے رہتے ہیں؛ پس قرآن ہم سے اور ہم اس سے جڑ جاتے ہیں، اور ساتھ چمٹے رہتے ہیں، ہم اس کے اور اپنے درمیان شدید محبت اور الفت محسوس کرتے ہیں اور اس سے انس اور رفاقت کا احساس قوی ہو جاتا ہے۔

اور سچی بات تو یہ ہے رمضان میں قران کے ساتھ زندگی کا اپنا ہی ایک رنگ ہے، جس میں روح صاف ہو جاتی ہے، اور ایسا جمال ہے جس کے بعد کوئی جمال نہیں۔

اور ایسا کیوں نہ ہو؟ کہ یہی وہ مہینہ ہے جس میں وہ نازل ہوا اورہمارے لیے ہدایت اور رحمت اور دستور بنا، جو ہمارے راستے کو روشن کرتا ہے اور ہر تنگی کو دورکرتا ہے اور ہماری امت کو تنگی سے سعادت اور سرور کی جانب لے جاتا ہے۔ پس وہ ہمارے لیے قانون ِ حیات بھی ہے اور راستے کا نور بھی۔ وہ درست راستے کی جانب رہنمائی بھی کرتا ہے، اور باعمل مؤمنین کو خوشخبری بھی دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ان ھذا القرآن یھدی للتی ھی اقوم ویبشر المؤمنین الذین یعملون الصالحات ان لھم اجراً کبیرا (الاسراء ۹) ﴿حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے۔﴾

زھد کے ساتھ:

اس رمضان میں کچھ فرصت نکال کر زھد سیکھیے۔ اس طرح کہ کھانے پینے میں اسراف نہ برتیے اور اس تھوڑے ہی کو اپنے لیے کافی سمجھیں، تاکہ روزے اور قیام میں آسانی رہے۔ اور کھانا کھاتے ہوئے اپنے صومالی بھائیوں کی بھوک کو محسوس کر لیجئے، جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں، اور وہ اپنی بھوک مٹانے کا کوئی راستہ نہیں پاتے۔

اللہ سے ان کے لیے دعا کیجیے کہ انہیں اپنی جناب سے کھانا کھلائیں، اور انہیں اپنی طرف سے پانی پلائیں، اور ان پر رحمت کے بادل نازل ہوں، اور ان کے معاملات اسی کے سپرد ہوں۔

پھر دیکھیے، اور غور کیجیے۔ آپ کو کتنی نعمتیں اور خوشحالی ملی ہے، اور اللہ الواسع العظیم کی جانب سے وسعت ملی ہے۔ اور خوب جان لیجئے کہ جو شخص مسلمانوں کے معاملات کی پروا نہیں کرتا، وہ ان میں سے نہیں ہے، پس اپنی دعاؤ ں کے وافر حصّے میں انہیں نہ بھول جائیں۔ اگر آپ ان کے لیے کوئی تحفہ بھیج سکیں، تو وہ ان کے لیے مدد اور بھوک دور کرنے کا ذریعہ اور تنگی میں آسانی ہو گی۔

صبر کے ساتھ:

پس ہمارا کھانے اور شہوات سے رک جانا، اور زبان کو بے ہودہ گوئی سے بچانا، بلاشبہ ہم میں تحمل، برداشت اور صبر پیدا کرتا ہے۔ جو ہمارے لیے دنیا کی آزمائشوں، اور تھکاوٹوں میں بھی زاد ِ راہ بنتا ہے، اور ہم سیکھتے ہیں کہ ہر آزمائش سزا نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ساتھ یا اس کے اندر ہمیں کئی نعمتیں ملتی ہیں، اور یہ کہ صبر ایمان کا حصہ ہے، اور یہ اعلیٰ اخلاق اور احسان کی دلیل ہے۔ پس روزہ بھی ظاہری طور پر رکنا اور محروم رہنا ہے، سوائے اس کے کہ اس کے اندر اللہ کی رضا اور وافر احسان ہے، اور اس عظیم دروازے سے کامیابی حاصل کر کے جنت میں داخل ہونا ہے جس کا نام ریان ہے۔

راتوں کے قیام کے ساتھ:

تراویح اللہ کی طرف سے رمضان کا خاص تحفہ ہے۔ جو اپنے بندوں کے لیے انتہائی کریم، رحیم، مہربان اور سخی ہے۔ اللہ نے اسے رمضان کے ساتھ ممیز کیا ہے۔ وہ اس کے سامنے قیام کرتا ہے۔ پھر تہجد کا وقت آجاتا ہے، اور پھر اس پیارے مہینے کی آخری دس راتوں میں؛ ایمانی و روحانی اور ربانی ہر طرح سے بہت بڑی مشق ہوتی ہے۔ سحر کی گھڑیوں میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا کیا لطف ہے۔ اور آنسوؤں کے ان قطروں کا کیا کہنا، جو اللہ کی خشیت سے بہتے ہیں۔

سوچوں اور احساسات میں:

پس رمضان ہمیں لوگوں کے ساتھ رقیق القلب بنا دیتا ہے؛ وہ ان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لیے پوری محنت لگواتا ہے، پس وہ ان کی محبت حاصل کرتے ہیں، ان کے تعلقات دوسرے لوگوں سے قائم ہو جاتے ہیں، اور رمضان کے ساتھ بہت خوبصورت احساسات اور تصوران پیدا ہوتے ہیں۔

رمضان لوگوں کا بہت بڑا محسن ہے، جو احسان سے بڑھ کر اللہ کی رضا کا طالب بناتا ہے، اور عفو اور غفرانکا، اسی سے وہ نفس کی تربیت کرتا ہے، اور اسی سے اس کی روح اور احساسات بیدار ہوتے ہیں، رمضان اس درخت کی مانند ہے، جس پر لوگ پتھر پھینکتے ہیں اور وہ جواباً ان پر خوبصورت پھل گراتا ہے۔

Comments

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.