کیسے جیتے ہوں گے وہ؟ - فہد احمد

چھوٹے چھوٹے معصوم بچے ہاتھوں میں سوئی گھسی ہوئی اور خون جسم میں منتقل ہوتا ہوا آپ نے مختلف اسپتالوں میں تو ضرور دیکھا ہوگا۔ ان معصوم بچوں کے جسموں میں مہینے میں دو سے تین بار تسلسل کے ساتھ خون منتقل کیا جا سکتا ہے اور وہ لمحہ ان کے لیے بڑا ہی درد ناک ہوتا ہے کیونکہ ان کی نسیں بھی بہت مشکل سے ملتی ہیں جس میں انجکشن کی سوئی لگائی جاتی ہے۔

یہ وہ بچے ہوتے ہیں جنہیں تھیلیسیمیا میجر کا مہلک مرض لاحق ہوتا ہے اور وہ مصنوعی خون کے سہارے جی رہے ہوتے ہیں اور جسم میں آئرن کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ والدین سے اولاد میں منتقل ہونے والا خطرناک مرض ہے۔اس میں مبتلا بچوں کی زندگی کا دارومدار جسم میں خون کی منتقلی پر ہوتا ہے۔جن بچوں کو تھیلیسیمیا میجر ہوتا ہے ان کے والدین کے لیے ہر گھڑی آزمائش اور صبر کا لمحہ ہوتا ہے۔

یہ خون کی ایک جینیاتی بیماری ہے، جس میں خون کے خلیے جسمانی ضرورتوں کے مطابق آکسیجن کی مناسب مقدار سپلائی کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ جس کی وجہ سے خون کی مقدار جسمانی ضرورتوں کو پورا نہیں کر پاتی کیونکہ Bone Marow نارمل طریقے سے خون کے سرخ خلیے تیار کر نے کے قابل نہیں ہوتا، اس وجہ سے دل اور دیگر جسمانی اعضاء خون کی کمی کے با عث کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ تھیلیسیمیا کے مریض میں خون کے سرخ خلیے کم تعداد میں بنتے ہیں۔ ہیمو گلوبین کی مقدار ضرورت سے کم ہوتی ہے۔ ہیمو گلوبین خون کے سرخ خلیوں میں فولادی پروٹین ہے۔ یہ جسم کے تمام حصوں کو آکسیجن مہیا کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک فاضل گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پھیپھڑوں تک پہنچاتی ہے۔ جہاں سے وہ سانس کے ذریعے اسے جسم سے باہر نکال دیتے ہیں۔ تھیلیسیمیا کا مریض پوری زندگی اس بیماری کا شکار رہتا ہے۔ یہ بیماری مرد و عورت دونوں کو متاثر کرتی ہے۔

ہمارے ملک میں یہ مرض بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے شادی سے پہلے لازمی تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ کرانے کا قانون نافذ ہو چکا ہے۔ مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قانون کو پاؤں تلے روندنے کے بجائے اس کے نفاذ اور عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسل اس مہلک بیماری سے محفوظ رہ سکے۔ اس وقت پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ سے زائد افراد اس سے متاثر ہیں اور ان میں ہر سال 6 سے 8 ہزار مریضوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔

اس بیماری کی دو قسمیں ہیں، تھیلسیمیا مائنر، دوسری تھیلیسیمیا میجر۔ روزمرہ کی زندگی میں عموماً تھیلیسیمیا میجر کا ذکر زیادہ ہوتا ہے۔ یہ دونوں قسم کی بیماریاں نسل در نسل چلتی ہیں اور والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ بیماری ایک شخص سے دوسرے شخص کو (بغیر ازدواجی تعلقات کے) نہیں لگ سکتی۔ تھیلیسیمیا کی دونوں قسمیں صرف اور صرف والدین سے ہی بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔اگر والدین میں سے صرف والد یا والدہ تھیلیسیمیا مائنر ہو تو بچوں میں صرف تھیلیسیمیا مائنر کی منتقلی ہوتی ہے۔ یہ چانس ہر حمل میں 50 فیصد ہے۔ ایسی شادی کے نتیجے میں ان بچوں میں سے کچھ کو تو تھیلیسیمیا مائنر ہو سکتا ہے جبکہ کچھ بچے نارمل رہتے ہیں۔ ان نارمل بچوں میں تھیلیسیمیا مائنر یا میجر منتقل نہیں ہوگا۔ تھیلیسیمیا چاہے مائنر ہو یا میجر، یہ پیدائش کے وقت موجود ہوتا ہے مگر یہ پیدائش کے بعد کسی حالت میں بھی نہیں لگ سکتا۔ اہم بات یہ ہے کہ تھیلیسیمیا مائنر تا زندگی مائنر ہی رہتا ہے اور تھیلیسیمیا میجر ہمیشہ میجر ہی رہتا ہے۔ یہ ایک دوسرے میں کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔ جن لوگوں کو تھیلسیمیا مائنر ہوتا ہے، بظاہر تو وہ لوگ بذاتِ خود تندرست ہوتے ہیں، لیکن یہ مرض ان کی آئندہ نسلوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کو کیریئر کہا جاتا ہے۔ تھیلیسیمیا مائنر اکثر و بیشتر بیماری کی علامت ظاہر نہیں کرتا۔ ایسے افراد عام طور پر بالکل تندرست نظر آتے ہیں، اور ان کو اس مرض کے شکار ہونے کا احساس نہیں ہوتا اور پھر بے خبری ہی صورتِ حال کو بے حد خطرناک بنا دیتی ہے کیونکہ اگر دو تھیلیسیمیا مائنر افراد بے خبری میں آپس میں شادی کر لیں تو ان کو نہایت تلخ تجربہ ہوتا ہے اور نومولود کو تھیلیسیمیا میجر ہوجاتا ہے۔ اس لیے اس با ت کا ادراک انتہائی ضروری ہے کہ ظاہری صحت تھیلیسیمیا سے پاک ہونے کی قطعی ضمانت نہیں ہے۔ اس مرض سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ دو تھیلیسیمیا مائنر سے متاثرہ افراد آپس میں شادی نہ کریں۔ یہ عمل معاشرے کو تھیلیسیمیا میجر سے پاک کر سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تیزی سے پھیلتے اس مرض کو قابو کرنے کے لیے بہتر سے بہتر اقدامات کیے جائیں اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو محفوظ بنانے کے لیے شادی سے پہلے تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ ضرور کروایا جائے۔