مرد ہی تو وفادار ہوتے ہیں - روبینہ فیصل

انسان کی ذات کی ڈارک سائیڈز میں الجھے رہیں تو یہ زمین رات کی طرح سیاہ ہی رہے، کبھی اس پر سورج نہ اترے۔ مگر جس رب نے رات کی تاریکی بنائی ہے اور انسان کی ذات میں اندھیرا رکھا ہے، اسی رب نے انہی انسانوں میں، اندھیری راتوں میں ٹمٹمانے والے جگنو بھی رکھے ہیں۔ انسان کو مایوس کن حالات کا سامنا کرنا پڑے تو اس کی جبلّت میں دو رد عمل رکھ دیے گئے ہیں: فلائٹ یا فائٹ، یعنی یا تو انسان راہِ فرار اختیار کر لے اور یا پھر حالات کے آگے ڈٹ جائے۔ زیادہ آسان اور استعمال ہو نے والا طریقہ فلائٹ یعنی راہِ فرار کا ہے، کمزور انسان اسی کو اپناتے ہیں۔ مضبوط انسان فائٹ کرتے ہیں یعنی حالات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے قبول کرتے ہیں اور اس کے مطابق اپنی اور اپنے اردگرد کے لوگوں کی زندگی آسان بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ فلائٹ والے کمزور اور خود غرض ہو تے ہیں، انہیں صرف اپنی فکر ہو تی ہے، اپنی خوشی، اپنی صحت اور اپنی زندگی کی، وہ اس کی خاطر کچھ بھی کر جا تے ہیں، انسانی جسموں اور روحوں کو روند دیتے ہیں۔

آج میں آپ کو ایسے انسان کی کہانی سناتی ہوں، جو زندگی کے مشکل ترین حالات سے وفاداری اور گریس کے ساتھ لڑ رہا ہے۔ ایسے لوگ نہ سیلفی کلچر کے ذریعے فیس بک یا ان باکس میں دوسروں کو اپنی ٹریجڈی کی کہانیاں سنا کر ہمدردیاں بٹورتے ہیں اور نہ ہی مصیبت پر ساتھی کا ساتھ چھوڑ کر اپنی خوشیوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ یہ سچے لوگ دنیا میں بہت کم ہیں، اگر ان لوگوں کو نظر انداز کیا جائے یا ان کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے تو دنیا میں کھوکھلا پن بڑھتا جائے گا، گہرائی اور قربانی ختم ہی ہو جائے گی۔ وفا کے ایسے نایاب پرندوں کو سنبھال کے رکھنا اور ان کی قدر کرنا ہمارا فرض ہے کیونکہ ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی زندگی پر ٹوٹا ہوا اعتبار واپس جڑتا ہے۔

میں نے جب اعجاز رانا سے پو چھا بھائی، صفیہ اب کیسی ہے؟

کہنے لگے: ویسی ہی ہے۔ پہلے پلکیں ہلا لیتی تھی، اب ان کی حرکت بھی معدوم ہو تی جا رہی ہے۔

میں جب بھی ان سے صفیہ کا اور بچوں کا حال پوچھتی ہوں، تو ان کے جواب میں شامل حیرت بھی مجھ تک پہنچتی ہے جیسے کہہ رہے ہوں جب سارا شہر خاموش ہے تو آپ کو کیا فکر پڑی رہتی ہے؟ میں جانتی ہوں، یہ انسانی امیدیں، اب انسان نے انسان سے لگانا چھوڑ دی ہیں، اس بستی کو نہ جانے کب حیوانی بستی کہا جانے لگے کیونکہ عام انسان کے کرنے کی چیزوں کو فرشتوں سے جوڑ دیا جاتا ہے اور جو انسان کر رہے ہیں وہ جانوروں کے خصائل ہیں۔ تو میں ایک عام انسان کا فرض نبھاتی ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی فرشتوں کے رواج ہیں جو میں دنیا میں اٹھا لائی ہوں۔ بڑی حیرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

میں بات کر رہی تھی اعجاز رانا کی اور شاعرہ صفیہ مریم کی۔ کچھ سال پہلے اس حسین جوڑے کو شاید ٹورنٹو شہر کی نظر کھا گئی۔ لمبے قد کاٹھ کے، دونوں میں سے کون زیادہ پیارا تھا؟ کسی سے یہ فیصلہ نہ ہوتا تھا۔ جب اندر صفیہ کو اپنی شاعری پڑھنا ہوتی تھی، وہ ڈسٹرب نہ ہو، اعجاز بھائی بچوں کو باہر ہی مصروف رکھتے۔ خوبصورت جوڑا، چار گول مٹول سے بیٹے۔ مجھے نظرِ بد پر کچھ ایسا یقین نہیں تھا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے، جو کچھ ان کے ساتھ ہوا، میرا اعتقاد بھی متزلزل ہوا۔ کوئی چھ سال پہلے جب صفیہ مریم پنی امی کی موت کے بعد پاکستان سے آئی تو اس کی ایک انگلی اور پھر ہاتھ بے جان ہو نے لگا۔ اپنے بولنے کے دنوں میں، وہ اپنے دوستوں سے بولتی تھی کہ میری کتاب چھپ جائے تو مجھے سکون آجائے گا۔ اچھے لوگوں نے اس کی مدد کی، اس کی شاعری کی کتاب چھپ گئی، لیکن اس سے پہلے مفلوجیت، انگلی سے ہوتے ہوئے پورے جسم میں پھیل چکی تھی۔

جب اعجاز بھائی نے مجھے فون کر کے کہا، روبینہ! صفیہ کی کتاب آگئی ہے۔ تو مجھے سمجھ نہ آئے کہ خوش ہو یا اداس؟ کیونکہ اس سے پہلے میں اور فیصل اسے ہسپتال میں دیکھ کر آچکے تھے، اس کا سارا دھڑ مفلوج ہو چکا تھا، مگر کم بخت آنکھیں متحرک تھیں اور مجھے دیکھتے ہی آنسوؤں سے بھر گئیں۔

LATERAL SCLEROSIS (ALS) AMYOTROPHIC جیسی انوکھی بیماری اسے دبوچ چکی تھی، اس بیماری کی اذیت پسندی یہ ہے کہ، سارے اعصاب کو مفلوج کر کے، سننے، سمجھنے کی صلاحیت کو برقرار رکھتی ہے۔

اس دن عید تھی اور اعجاز بھائی کی عید ہسپتال میں ہو رہی تھی، انہوں نے صفیہ کے ناخنوں پر لال رنگ کی نیل پالش لگا رکھی تھی، وہ مجھے آنکھوں کے اشارے سے دکھانے لگی۔ میں نے اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرنی شروع کر دیں، یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اس کی آنے والی کتاب کی باتیں اور اس سے وعدہ کیا کہ کتاب کی رونمائی کی تقریب کروائیں گے۔ اس کے آنسو اس کی گالوں سے پھسلنے لگے۔ میں نے اسے کہا تم بہت چالاکو ہو، حساسیت کے ساتھ، اس دنیا میں گزربسر مشکل تھی، دیکھو تم نے کمال سمجھداری کا ثبوت دی ا اور آرام سے سب بلاؤں سے بچ کر اور سکون سے اعجاز بھائی سے خدمت کروا رہی ہو۔ وہ کھلکھلا کر ہنس دی اور فخر سے اپنے محبوب شوہر کو دیکھنے لگی۔ اسے ہنسا کر میں نے اپنے آنسو نگلے اور اعجاز بھائی کو دیکھا جو آنکھوں میں سچائی، شرافت، محبت اور وفا لیے کسی چٹان کی طرح کھڑے تھے۔ آج ا س بات کو گزرے بھی چار سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے۔ اب تو صفیہ کی آنکھیں بھی رفتہ رفتہ ساتھ چھوڑ رہی ہیں۔ مگر مجھے دیکھتے ہی وہ آج بھی چمکتی ہیں۔ میں نے اعجاز بھائی سے پو چھا "آپ کو لوگ دوسری شادی کا نہیں کہتے؟"

کینڈا میں اکیلے، چار لڑکوں کو سنبھالنا اور وہ کوئی افسر بھی نہیں، پاکستان میں وکیل تھے مگر یہاں odd جاب ہی کرتے ہیں، ایسی مشکل جاب، گھر، بچے اور صفیہ، سب کو سنبھالنا۔ وہ صفیہ کو مستقل، ہسپتال بھی چھوڑ سکتے ہیں، مگر وہ اسے گھر لاتے ہیں۔ جب ہم ان کے گھر جاتے ہیں تو وہ مہمان نوازی میں کو ئی کسر نہیں چھوڑتے۔ میرے بچوں کے دل بڑے نازک ہیں، وہ گھبرا جاتے ہیں، میں نے اپنے بچوں کو کہا تم لوگ دیکھ نہیں سکتے، ان بچوں کو دیکھو، جو سب برداشت کر رہے ہیں اور ہمت سے ڈٹے ہو ئے ہیں۔ زندگی، صفیہ کے شوہر اور بچوں کو دوسری چوائس بھی آفر کرتی ہے۔ وہ صفیہ کو مستقل ہسپتال چھوڑ کر اپنے لیے سٹریس فری زندگی کا دروازہ کھول سکتے ہیں۔ مگر وہ وفا کی اس شمع کو ہاتھوں میں تھامے ہوئے ہیں، جو آج کی کالی دنیا میں تقریباً بجھ چکی ہے۔

"روبینہ! آپ سوچ بھی نہیں سکتیں کہ مجھے کئی رشتے آرہے ہیں، خاندان سے اور باہر سے، مگر آپ جانتی ہیں نا کہ میں نے صفیہ سے محبت کی شادی کی تھی اور اس سے وعدہ کیا تھا کہ اس کی جگہ، کوئی اور کبھی بھی، کسی بھی مجبوری کا بھیس بدلے، کوئی بھی عورت میری زندگی میں نہیں آسکتی۔" ان کی سبز آنکھوں میں روشنی تھی۔

"آپ کی زندگی بے رنگ ہو گئی ہے۔ خود پر خوشیوں کے دروازے بند نہ کریں، بچوں کو بھی ماں کی ضرورت ہوگی۔" میں نے روایتی فقرے کہے۔

"خوشیوں کے دروازے ایک ہی انسان کے ساتھ کھلتے ہیں، ہم انسان ہیں، جانور نہیں جو ساتھی بدلتے رہیں اور بچوں کی ماں کوئی اور عورت نہیں بن سکتی۔ اس دنیا کے رازوں سے مجھ سے زیادہ آپ واقف ہیں اور صفیہ میرے ساتھ کسی کو برداشت نہیں کر سکتی۔ مر کر بھی نہیں، تو میں اسے اس امتحان میں کیوں ڈالوں؟ اپنے آرام کے لیے؟"

اس محبت، وفا اور سچائی کی چٹان کے آگے میں نے دل ہی دل میں سر جھکایا۔

کون کہتا ہے کہ مرد بے وفا ہوتے ہیں۔ مرد ہی تو وفادار ہوتے ہیں، جو بے وفا ہوتے ہیں وہ مرد کب ہو تے ہیں؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */