نیکی کا معیار - عظمیٰ ظفر

مؤذن کی آواز نے وقت ختم ہونے والا ہے کا اعلان کیا تو عبیر نے جلدی جلدی چائے ختم کی۔ "آج کا پہلا روزہ سب کو بہت مبارک ہو، اب مزمل نظر نہیں آئے گا" عبیر نے شرارت سے کہا۔

"کیوں مزمل کہاں جا رہا ہے؟" دادو نے چشمے کے پیچھے جھانکتی آنکھوں سے دیکھا۔ مزمل نے بھی حیرت سے اسے دیکھا۔

"دادو! وہ رمضان میں شیطان قید کر دیے جاتے ہیں نا؟" عبیر نے ہنستے ہنستے کہا۔

"ہوں ہوں!" بابا کی ہوں سے عبیر سیدھی ہوگئی۔

"تم کو تو بعد میں بتاتا ہوں،" جاتے جاتے مزمل نے اس کی چُٹیا کھینچی۔ "شیطان کہا مجھے؟" بابا اور مزمل مسجد جانے کی تیاری کرنے لگے۔

"عبیر! بھائی کو اس طرح نہیں کہتے۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور شیطان کو راندۂ درگاہ کیا، ملعون قرار دیا، پھر ہم کیوں شیطان سے انسان کو ملائیں؟" دادو نے خفگی سے کہا۔

"سوری دادو! مذاق کر رہی تھی۔" عبیر شرمندہ ہوگئی۔

"چلو اب بھائی سے سوری کرنا، نماز کی تیاری کرو اور دیکھو امی کا ہاتھ بٹایا کرو۔"

"جی دادو! اب جاؤں نیند بھی آرہی ہے۔ نماز پڑھ کر مزے سے سوؤں گی۔ اسکول کی چھٹیاں جو ہیں۔"

دادو نے اس کو مزید سمجھانے کے بجائے جانے دیا۔

"اماں! آپ کا قرآن یہاں رکھ دیا ہے بڑے حرفوں والا۔" نماز سے فارغ ہو کر روبینہ بیگم نے اپنی ساس کو بتایا۔

"ٹھیک ہے۔ شکریہ بیٹا، اللہ تمہیں خوش رکھے۔ ویسے روبینہ بیٹی! میں سوچ رہی ہوں کہ الگ الگ تلاوت کرنے کے بجائے اس سال تینوں ملکر ایک جگہ بیٹھ کر قرآن پڑھیں۔ اب عبیر کو بھی وقت ملے گا گھر پہ رہنے کا،" دادو نے اپنا عندیہ ظاہر کیا۔ "اس طرح ایک دوسرے کے غلط تلفظ کی ادائیگی بھی درست کرتے جائیں گے اور تمہاری تو قرات بھی بہت اچھی ہے سننے میں دل بھی لگے گا۔" دادو نے دل سے بہو بیگم کی تعریف کی۔

"اماں! آپ کی بات تو درست ہے مگر عبیر کو کون سمجھائے گا؟ اپنی ہی کرتی ہے وہ لڑکی تو۔" روبینہ مایوسی سے گویا ہوئیں۔ "عمرے پر جانے کے بعد پتہ نہیں یہ آپ کو کتنا تنگ کرے گی؟"

"بیٹا! تم گھر کی فکر مت کرو، نسرین سنبھال لے گی۔" انہوں نے دوسری بہو کا ذکر کیا۔ "اور جہاں تک عبیر کو سمجھانے کی بات ہے وہ تم مجھ پہ چھوڑ دو۔ میں بعد میں سمجھاؤں گی اسے تم جانے کی تیاریاں شروع کردو۔:

پہلے رمضان کی شروعات کے ساتھ ہی گویا وقت کو پر لگ گئے۔ ایک عشرہ گزر بھی گیا۔ بہو، بیٹا شروع رمضان میں عمرے کی سعادت پہ چلے گئے تھے۔

"دادو! دادو!" عبیر آواز لگاتی ہوئی ان کے کمرے میں آگئی۔ فٹنگ والی کرتی پر ٹائٹ پاجامہ پہنے ہوئے دوپٹہ ندارد۔ دادو نے اسے دیکھا اور نظریں نیچے کرلیں، "کیا ہوا؟ بولو!"

"دادو! آپ نے ٹی وی کا ریموٹ دیکھا ہے؟" انہوں نے نفی میں سر ہلا دیا۔ "مزمل چھپا کر کھیلنے چلا گیا ہے موٹو!" عبیر نے ان کے کمرے کی تلاشی لی۔ "ہر وقت تنگ کرتا ہے مجھے، اپنے سیل فون پہ تو کوڈ لگا لیتا ہے اور میں ٹی وی بھی نہ دیکھوں؟ رمضان ٹرانسمیشن بھی اسٹارٹ ہوگئی ہوگی۔ روزہ کھلنے میں تو بہت وقت ہے۔ کیا کروں؟ میں چچی کے پاس جا رہی ہوں ان کے کمرے میں سکون سے دیکھوں گی۔ آپ بھی چلیں دادو نیچے۔" عبیر شاید سانس لینی رکی تھی۔ مگر دادو کی خاموشی نے اسے سوچنے پر مجبور کردیا۔ "کیا ہوا دادو آپ کچھ بول کیوں نہیں رہیں، ناراض ہیں کیا؟"

"عبیر بچے! میں تم سے ناراض نہیں ہوں مگر مجھے یہ لباس پسند نہیں آیا۔ روزے کے کچھ تقاضے صرف باطنی نہیں ظاہری بھی ہوتے ہیں۔ ایسے چُست لباس میں تم گھر میں بنا دوپٹے کے گھوم رہی ہو جبکہ بھائی اور چچا موجود ہوتے ہیں۔ دوسرا تم روزہ رکھ کر بھی ٹی وی کے آگے وقت گزارتی ہو سارا دن؟ کیا یہ مہینہ ایسا ہے جس میں لعو و لہب میں وقت گزارا جائے؟ عبادت بھی ایسی کے دل و دماغ دنیا، اورٹی وی، موبائل میں لگا رہے؟"

عبیر کھسیانی سی ہو گئی۔

"آؤ میرے پاس بیٹھو۔" دادو نے اسے دوسرا دوپٹہ دیا اور اپنے پاس بٹھا لیا۔

"نہیں دادو میں ڈرامے تو نہیں دیکھتی۔ رمضان کے پروگرامز تو بہت معلوماتی اور نیکی کے ہوتے ہیں۔ ان کے تو پاسز بھی مشکل سے ملتے ہیں۔" عبیر نے بہت اہم اطلاع انہیں دی۔

"بیٹا! روزہ صرف چند عبادات کرنے کے بعد وقت گزاری کا نام نہیں۔ ہر طرح کی نفسانی خواہشات اور لذتوں کو روکنے کا نام ہے۔ یہ جو نیا طریقہ شروع ہوا ہے رمضان کو برباد کرنے کا، اس نے تو پوری قوم کی سوچ بدل دی ہے یہ عبادت نہیں ہے میرے بچے، یہ تو وقت گزاری بلکہ وقت کا ضیاع ہے۔ تمہیں کیا لگتا ہے وہاں جو عورتیں لڑکیاں سج دھج کر ٹی وی پہ آنے کے شوق میں سحری اور دوپہر سے آتی ہوں گی کتنوں کی نماز اور قرآن چھوٹ جاتا ہوگا؟ بے پردگی الگ، تحائف کے نام پر چھینا جھپٹی ہوتی ہے. سچ جھوٹ کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ اور تو اور مذاق کتنا بنتا ہے ان کا۔ تمہارا کیا خیال ہے؟" دادو نے عبیر سے پوچھا۔

"مگر دادو دین کے حوالے سے اچھی باتیں بھی تو ہوتی ہیں اور لوگوں کی مدد بھی کتنا کرتے ہیں۔ پھر شبِ قدر میں کتنی اچھی دعا کرواتے ہیں؟" عبیر کو کچھ اختلاف ہورہا تھا۔

"لوگوں کی مدد اس طرح خود نمائی کرکے ہوتی ہے بھلا؟ کسی کی مدد تو ایسے کی جاتی ہے کہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو۔ پورے سال کہاں ہوتے ہیں ایسے ہمدرد؟ شرم کا مقام تو یہی بات ہے کہ ایسے نادار سفید پوش اور مفلس لوگوں کو دنیا کے سامنے لاکر انہیں رلایا جائے پھر ان کی مدد ہو۔ دادو بہت جذباتی ہو گئی تھیں۔ اور تم نے دعاؤں کی بھی خوب کہی۔ سارا سال جو لوگ ٹی وی پہ بیہودہ پروگرام کریں رمضانوں میں مبلغ بن جائیں دین کے ساتھ کھلواڑ کریں۔ اس سے بڑے دکھ کی اور کیا بات ہوگی؟ اللہ ان کو بھی ہدایت دے۔ میرے بچے! نفلی عبادات و مناجات یہ تو خالص بندے اور ربِ رحیم کے درمیان تنہائی کا معاملہ ہے۔ اپنی زبان میں ٹوٹی پھوٹی دعا مانگنا رب کو پسند ہے نا کہ مخلوط محفلوں میں دعا کرائی جائے، پوری دنیا کو دکھا دکھا کے۔ طاق راتوں کا تو ہر لمحہ قیمتی ہے اُسے ٹی وی کے آگے گزارنا کون سی عقلمندی ہے بھلا، بتاؤ؟"

"دادو آپ صحیح کہہ رہی ہیں،" عبیر مائل ہورہی تھی۔ "امی بابا عمرے پر گئے ہیں اس لیے بھی مجھے بوریت ہوتی ہے۔ دادو اسکول بھی بند ہے۔ کیا کروں؟ روزے میں عبیر کا بچپنا اس کی باتوں سے جھلکا۔"

"ایک بات بتاؤ جب تمہارے امی بابا جا رہے تھے عمرے پر تو تمہارا بھی بہت دل چاہ رہا تھا عمرہ پر جانے کا؟"

"جی دادو! خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ دیکھنے کا، وہاں جانے کا بہت دل چاہتا ہے۔" عبیر نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔

"تو عبیر بیٹا تم اگر فجر کی نماز کے بعد تلاوت کرو، اذکار میں مصروف رہو اور اشراق کی نماز ادا کرو تو اس نفل نماز کے بدلے اللہ تعالیٰ عمرے کا ثواب عطا کرتے ہیں۔"

پھر دادو نے اسے روزہ کی اہیمت افادیت اور روزے کی حفاظت کیسے کرنی ہے کہ بارے میں سمجھایا اور کہا کہ "تم گھر کے کاموں اپنی امی اور چچی کی مدد کیا کرو، یہ بھی نیکی ہے۔ کچھ سمجھ آیا کہ نہیں؟ میری باتیں سر سے تو نہیں گزر گئیں؟" دادو نے محبت سے اس کے ماتھے کو چوما۔

"جی جی دادو! سمجھ آگیا۔ ٹی وی وقت کا ضیاع اور عبادت نیکی ہے۔: عبیر نے ان کی گود میں سر رکھ لیا۔ "اور سونا بھی عبادت ہے نا دادو؟" روزے میں عبیر شرارت سے کہنے لگی۔

"ہاں! اگر فضولیات سے بچنے کے لیے سونا ہے تو سوجاؤ مگر وہ سب سے کم اجر ملنے والی نیکی ہوگی۔ میں تمہاری چالاکی سمجھ گئی ہوں، اس لیے آج افطاری تم بناؤ گی۔ انہوں نے گود سے اس کا سر اٹھایا۔ چلو شاباش جو سمجھایا ہے اس پر عمل بھی کرنا" اور عبیر بھی عمل کی نیت لے کر وہاں سے اُٹھ گئی۔

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.