کچھ نظر فکر ادھر بھی - عبدالباسط ذوالفقار

میں نے اخبار کھولا ہی تھا کہ میری نظر موٹی سرخیوں کے درمیان کی ایک چونکا دینے والی خبر پر رک گئی۔ اور مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا وہ خبر ایک گھناؤنی سازش کی تھی جس کا انکشاف گزشتہ روز ہوا۔ خبر تھی 70 تعلیمی اداروں میں قومی اداروں کے خلاف برین واشنگ کا انکشاف۔ 23 سرکاری اور 47 نجی ادارے، جو اس کھیل کا حصہ ہیں۔ اس گھناؤنی سازش پر گزشتہ عرصہ سے کام ہو رہا ہے۔ غیر ملکی ایجنسییوں اور این جی اوز کے تعاون اور ایک دو سیاسی جماعتوں کی ماتحتی میں یہ لاوا پک رہا ہے۔

طلبا کو جھوٹی اور من گھڑت ویڈیوز دکھا کر ملکی سلامتی کے خلاف محاذ آرائی کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ انہیں جھوٹی ویڈیوز کے ذریعے دکھایا جاتا ہے کہ دیکھو قومی سلامتی کے ادارے ظلم کر رہے ہیں۔ خبر عام نہیں کہ پڑھ لی صرف نظر کیا اور گزر گئے، بلکہ فکر مندی کی ہے۔ وہ طلبا جو معاشرے میں سفیر کا کردار ادا کرتے ہیں اور ملکی طبقات کے درمیان ہم آہنگی کا زریعہ بنتے ہیں انہیں کیا سکھایا جا رہا ہے؟ انہیں کس سمت بڑھایا جا رہا ہے؟ تعلیمی ادارے کسی بھی ملک کے وہ رہنما تربیت گاہیں ہوتی ہیں جنہیں آئندہ قیادت کی تربیت کا اہم فریضہ سر انجام دینا ہوتا ہے۔ اور انہی تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ طلبا کی ذہن سازی کچھ اس نہج پر کریں کہ وہ طلبا اپنے معاشرے میں امن و استحکام کو حاصل کرنے کے لیے روز و شب محنت کریں۔ خود میں امن و سلامتی کے پرچار کا مثالی جذبہ پیدا کریں تا کہ زندگیاں سنوارنے کے اعلیٰ اہداف تک کو حاصل کرنے کا جذبہ پروان چڑھتا چلا جائے۔

یہی وہ تعلیمی ادارے ہیں جو اپنی تمام تر کاوشوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عظیم قومی خدمت سرانجام دیتے رہے ہیں۔ لیکن اخباری خبر کا جائزہ لیا جائے تو جس فریضے کی ادائیگی کھل کر سامنے آتی ہے وہ ہمارے لیے فکر کی بات ہے۔ اور مقتدر اداروں کی نہ صرف کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ ہمارے اپنے کردار پر دھبا ہیں۔ سوچ و بچار کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو محب وطن بنانے کے لیے اچھی تعلیم و تربیت کی فراہمی لیے جن اداروں پر اعتماد کرتے ہیں وہی ہماری آنکھوں میں دھول جونک کر ہمارے ہی بچوں کو غیروں کا مہرہ بنانے کی محنت کیے جا رہے ہیں۔ اور ہم مطمئن ہیں کہ ہمارے نوجوان اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بجا طور پر ہمیں انہی اداروں پر فخر تھا کہ یہ نوجوان نسل کی تربیت کر رہے ہیں۔ جہالت کے سامنے بند باندھ کر منفی سوچوں کے خاتمے کا سبب بن رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جامعہ ملیہ سے "جامعی" تک کا سفر -حبیب الرحمن

ہم جانتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کا فرض ہے وہ نونہالان قوم کو بہتر معیار زندگی فراہم کرنے کے ساتھ، ان کی اس طور پر ذہن سازی کریں کہ طلبا معاصر سماجی معاشرتی مسائل کا مقابلہ کرتے ہوئے ملکی سلامتی کے لیے فخر کا باعث بنیں۔ نہ کہ خطرے کا باعث۔ آنکھیں کھولنے اور جاگنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ کوئی پہلی خبر نہیں اس سے پہلے بھی کئی سنسنی خیز خبریں انہی تعلمی اداروں سے متعلق آتی رہی ہیں۔ کارروائی ہوئی؟ اگر ہاں، تو کیا ہوئی ہمارے سامنے ہے۔ گزشتہ دنوں تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی بازگشت سنائی دی تھی۔ ویسے تو ملک بھر میں منشیات کے استعمال کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 76 لاکھ پاکستانی مرد و زن نشے کی لت میں گرفتار ہیں۔ اور ان 76 لاکھ افراد میں سے بڑی تعداد 24 سال سے کم عمر افراد کی ہے۔ اور ان میں بڑھتی ہوئی تعداد سکول کالج کے لڑکے لڑکیوں کی ہے۔ غیر سرکاری ادارے ساسی کی رپورٹ کے مطابق سرکاری تعلیمی اداروں کے بچے بالعموم اور نجی تعلیمی اداروں کے بچے بالخصوص، کسی نہ کسی صورت میں نشے کے عادی ہیں۔ سوچ رہا ہوں کہاں ہیں وہ ملکی مسیحا جو قوم کی بہتری کے نام پر دینی تعیلمی اداروں کے خلاف تو اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ دہشتگردی کے اڈے قرار دے کر حرف غلط قرار دے دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت جب سامنے آتی ہے تو کیوں مہر بہ لب بیٹھ جاتے ہیں؟ کیا اس بارے کچھ ارشاد فرمائیں گے؟

وہ جو دامن سے آگ ڈھانپتے ہیں اور دینی تعلیمی اداروں کو تو جہالت کی یونیورسٹیاں، دہشتگردی کے مراکز کہلوا کر دنیاوی تعلیمی اداروں کو ایسا پاک، صاف، شفاف بنا کر پیش کرتے ہیں جیسے ان تعلیمی اداروں کے دامن پر فرشتے نماز پڑھیں۔ کوئی بتائے تو سلامتی کے لیے کون سے ادارے خطرہ ہیں؟ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ دینی تعلیمی ادارے دودھ سے دھلے ہیں۔ نہیں! اگر کوئی ادارہ کسی بھی ملک مخالف سرگرمی کا حصہ ہے بھرپور کارروائی کی جائے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو براہ کرم خوامخواہ کا پروپیگینڈے سے اجتناب برتیں۔ وہ ادارے بھی آپ ہی کے ادارے ہیں۔ ان میں پڑھنے والے بھی اتنے ہی محترم ہیں جتنے محترم آپ کے لیے عصری اداروں کے طلبا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   طلبہ سیاست، چند ناخوشگوار مشاہدات - محمد عامر خاکوانی

سوال یہ ہے کہ کیا کارروائی عمل میں لائی جائے گی یا یہ انکشاف بھی داخل دفتر کیا جائے گا؟ ملکی سلامتی کے اداروں کو چاہیے کہ اس خبر کا بھرپور ایکشن لیں اور ہر ہر سطح پر اس کی تحقیق کر کے دشمنوں کے ہاتھ بکنے والے لوگوں کو، جماعتوں کو، اور تمام شریک کاروں کو بے نقاب کریں۔

Comments

عبدالباسط ذوالفقار

عبدالباسط ذوالفقار

عبد الباسط ذوالفقار ضلع مانسہرہ کے رہائشی ہیں۔ سماجی موضوعات پر لکھی گئی ان کی تحاریر مختلف اخبارات، رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.