اور نظر لگ گئی - نورین تبسم

پسِ تحریر

یہ بلاگ الیکشن 2013 سے پہلے کا ہے۔ یہ بلاگ گھر کے لان میں بیٹھ کر صبح کے ملگجے اندھیرے میں تقریباً ایک سے دو گھنٹے میں اُس شام (7 مئی 2013) کے بعد آنے والی صبح لکھا جب کپتان عمران خان 11 مئی 2013 کے عام انتخابات سے محض چار روز پہلے ایک جلسے کے دوران شدید زخمی ہو گئے تھے۔

رات کو لکھنے کا ذرا سا بھی خیال نہ تھا۔ بس اس حادثے کے حوالے سے کچھ عجیب سا احساس تھا اور پھر نمازِ فجر کے بعد میری سوچ لفظوں کی روانی میں بہتی چلی گئی اور میں ایک جذب کے عالم میں لکھتی رہی اور اسی روز (8مئی 2013) دن دو بجے یہ بلاگ پوسٹ کر دیا۔ غور کریں اس بلاگ میں عمران خان کی زندگی کے برسوں کے سفر کی جھلک کے علاوہ خوابوں کی باتیں ہی ہیں۔ وہ بھی جو میری آنکھ نے اپنے محدود زاویے کے اندر رہتے ہوئے دیکھے۔

اور نظر لگ گئی – تحریر: 7 مئی 2013ء

یہ 31 سال پرانی کہانی ہے۔ 82ء کا پاک بھارت میچ تھا۔ جس میں ایک مغرور کھلاڑی نے اپنی جادوئی بالنگ سے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ یکے بعد دیگرے وکٹیں یوں گریں جیسے ہمارے جانبازوں نے 65ء کی جنگ میں دُشمن کے جہاز مار گرائے تھے۔ وہ لمحہ تو ہواؤں کا منظر تھا جو اُس راستے کے مسافروں کے ذہن میں ایک فخر کی صورت ٹھہر گیا اور تباہ ہونے والوں کا آخری لمحہ نہ ماننے والی حیرت پر ختم ہو گیا۔ لیکن کھیل کا یہ منظر بہت سی آنکھوں کے دل پر ثبت ہو گیا۔

بچے ہر چمکتی چیز سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ وہ تو آگ اور انگارے کے فرق سے بھی ناآشنا ہیں اور لڑکیاں تو ویسے ہی کانچ کی گڑیا ہوتی ہیں۔ آگ کی تپش سے پگھلنے لگتی ہیں، اپنا آپ چھپاتی، آگ کے رنگوں سے وجود میں پھیلتی قوس ِقزح کے سحر میں خود کو گم کر لیتی ہیں۔ تو ایسی ہی ایک 15 سالہ لڑکی کی آنکھوں میں وہ لمحہ خواب کی صورت ٹھہر گیا۔ وہ اس یونانی شہزادے کی اسیر ہو گئی۔ لفظوں کے سہارے اس کے قریب رہتی۔ جانتی تھی ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی لیکن وہ خوش تھی بچی تھی نا؟ اُس کھلاڑی کا ہر انداز نرالا تھا۔ اس کی بے نیازی، اکھڑ پن، اس کے جھگڑے، اس کے اسکینڈل، وہ ہمیشہ اپنی ذات میں گم ملتا، زمانے سے بے پروا، اور تو اور اُسے ہمسفر کے طور پر بھی کوئی جچتا نہ تھا۔ وہ اس دنیا کا نہ تھا، اس کی اپنی الگ کائنات تھی۔ اپنے ملک میں وہ صرف تھوڑے وقت کے لیے آتا، مہینوں باہر کے بڑے ملکوں میں رہتا۔ کیا کیا قصے اس کے بارے میں سننے کو نہ ملتے؟ وہ پھر بھی ہیرو تھا کوئی بات اس کی شخصیت میں دراڑ نہ ڈال سکی۔

اسی دوران 87ء کا ورلڈ کپ آگیا۔ اس کا سیمی فائنل ہمارے ملک میں اور کپتان کے شہر لاہور میں دُنیا کی سب سے تگڑی ٹیم سے ہوا۔ اب وہ کپتان تھا فیصلے کرنے والا، لیکن وہ دن ہمارا نہ تھا ہم میچ ہار گئے۔آنکھوں نے پہلی بار اُس کا اُترا چہرہ دیکھا۔ دل ڈوب گیا۔ وہ تو پیدا ہی دلوں کو فتح کرنے ہوا تھا۔ یہ کیا ہو گیا؟ کیا اُس کی کہانی ختم ہو گئی؟ اس میں کوئی شک نہیں ہر بلندی کے بعد پستی کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ اُس نے اس ورلڈ کپ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں نے اب کرکٹ نہیں کھیلنی۔ وہ آزاد منش تھا۔ پابندیاں اس کے پاؤں کی زنجیر، رشتے راہ کی رُکاوٹ۔ وہ اپنی زندگی جینا چاہتا تھا۔ گھر والوں کا بھی لاڈلا تھا چار بہنوں کا بھائی جو ہوا۔ جو چاہتا مل جاتا اسی لیے اُس کی بے جا ضدوں پر سبھی خاموش رہے، ورنہ اپنے بیٹے کے سر پر سہرا دیکھنے کی خواہش کس کی نہیں ہوتی؟ وہ بڑبولا بھی بہت تھا۔ پہلے سے ہی کہہ دیا تھا کہ ورلڈ کپ کے بعد نہیں کھیلنا۔ ظاہر ہے کھیلنے والے پہلے سے ہار کی بات نہیں کرتے۔ تو یہ اُس کے خواب کی پہلی ہار تھی، اُس نے میدان چھوڑ دینا تھا۔ دیکھنے والوں نے اس کا بُجھا چہرہ دیکھا تو شاید "منو بھائی" تھے جنہوں نے اپنا معرکتہ آرا کالم "بھریا میلہ" کے عنوان سے لکھا۔ لفظ یاد نہیں لیکن مفہوم یوں تھا کہ ہر کسی کے مقدر میں سجا ہوا میلہ چھوڑنا نہیں، کبھی سب لٹا کر خالی ہاتھ جانا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وائٹ ہاؤس جانے والے پاکستانی صحافی کون تھے؟ معوذ اسعد صدیقی

وقت بڑا مرہم ہے، ہمارے اس وقت کے حکمران خواہ اُن کے مسلکِ اقتدار سے ہر ایک کو کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو، ایک شفیق اور انسان دوست آدمی تھے۔ جناب ضیاءالحق صاحب نے اُس جوان کو بلایا، شاید تھپکیاں دی ہوں گی، کیا کہا ہوگا اور وہ شہزادہ جس نے اپنے ماں باپ کی بات بھی اب تک نہیں مانی تھی اُس مہربان لہجے پر پگھل گیا اور دوبارہ سے میدان میں کود پڑا۔ کہنے سُننے والوں نے بہت تنقید کی۔ بڑھتی عمر کو خامی قرار دیا۔۔۔ لیکن وہ قول کا پکا تھا مان لیا تو انکار نہیں۔ اسی دوران اُس کی لااُبالی زندگی میں تکلیف کا پہلا کنکر گرا، جان سے پیاری ماں کو روگ لگ گیا۔

اب اسے پتہ چلا دکھ کیا ہوتا ہے؟

آنکھیں کھلیں تو دوسرے لوگ نظر آئے غریب لوگ، بھوکے لوگ، پیاسے لوگ۔ وہ ایک کھاتے پیتے گھرانے کا فرد تھا جس نے خواب میں بھی ایسے لوگ نہ دیکھے تھے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو روٹی نہ ملنے پر بریڈ کھانے کا مشورہ دیتے تھے۔ وہ شہزادہ تھا اور شہزادوں کے ملک میں رہنا پسند کرتا تھا۔ ماں کی بیماری سامنے آئی تو وہ سب چھوڑ چھاڑ ننھا بچہ بن گیا۔ جانے اُس نے کتنے آنسو بہائے ہوں گے جب روپیہ پیسہ اُس کی ماں کی جان نہ بچا سکا؟

ماں کے جانے کے بعد وہ بڑا ہو گیا، حقیقت سے آگہی ہوئی۔ یہ تو ایک اور ہی دنیا تھی۔۔۔ اس کی رنگا رنگ مصنوعی زندگی سے ہٹ کر اصلی زندگی والی۔۔۔جہاں مریض کبھی تو غربت کی وجہ سے سسک سسک کر مر جاتے تھے تو کبھی صاحب حیثیت علاج کے جدید ذرائع کی عدم دستیابی کے باعث جان کی بازی ہار بیٹھتے۔ ماں کا صدمہ اپنے لوگوں کے لیے ایک جدید ہسپتال بنانے کے خواب میں بدل گیا۔ وہ عجیب شخص تھا ہمیشہ خواب ہی دیکھے۔ پہلے معاشرے کی روایتی قدروں سے بغاوت کے خواب اور اب اُمید کی نئی کرنیں اجاگر کرنے کے خواب۔ وہ کمال شخص تھا ایک ہی پل میں شہزادے کا لباس اتار کر بھکاری بن گیا۔ اپنی خوبصورت نیلی جینز اور پشاوری پہنے کشکول اُٹھایا اور دُنیا کے بازار میں نکل پڑا۔

'شمع محفل' اب انہیں محفلوں میں جانے کس حوصلے سے پیسے مانگنے لگ گیا۔ کسی کی پروا پہلے تھی، نہ اب۔ اس کی نیت خالص تھی اور اللہ نیت دیکھتا ہے۔ عمل کو سنوارنا اور قبول کرنا اللہ کا کام ہے۔ نیت کی وجہ سے اس کی جھولی بھرتی گئی۔ وقت آگے بڑھا 92ء کا ورلڈ کپ آگیا۔ پھر وہی اس کے بلند وبانگ دعوے۔۔۔ان ہونی کو پانے کا عزم!

اپنے ٹوٹے بازو اورعمر کی چالیسویں سیڑھی سے دو قدم کے فاصلے پر ہونے کے باوجود۔۔۔ معصوم بچے کی طرح وہی کھلونا پانے کی ضد، جو پہلے کہیں کھو گیا تھا۔ بس ایک فرق تھا پہلے ذات کی تکمیل کا خواہش مند تھا، اپنے ہنر کی معراج چاہتا تھا اور اب جذبوں کی شدتاور محبتوں کا قرض اُسے چاند کا تمنائی بنا رہا تھا۔

وہ اپنے اُسی روپ، سج دھج کو لیے میدان میں اُترا۔ 10 برس پہلے جس نے نظروں کو میسمرائز کیا تھا۔ جب دلوں کا شہزادہ تھا اور اب دل اور دماغ بھی اس کے خوابوں کی تعبیر کے لیے دعا گو تھے۔ اللہ کے فضل سے نیت کا پھل ملا۔ اُس نے سب کھلاڑیوں کو ایک لڑی میں پرو کر خوبصورت کرسٹل ٹرافی اُن کے ہاتھوں میں تھما دی۔ اُس کی آنکھیں اپنے خواب کی تعبیر ملنے پر جگمگا رہی تھیں۔

اُس کے پاؤں میں پہیے تھے۔ وہ رُکا نہیں ایک خواب پورا ہوا تو دوسرے کی تکمیل کے لیے کوشاں ہو گیا۔ اب اُس کے سامنے ایک قوم تھی جس کو سربلند کرنا تھا۔ وہ نادان تھا، نہیں جانتا تھا جو نظام صدیوں سے جاری ہے اُسے فرد ِواحد کا خواب نہیں بدل سکتا۔ وہ نہ مانا وہ بڑا ہو گیا تھا لیکن اس کے اندر کا ضدی بچہ بڑا نہ ہوا وہ اپنی خواہشات کی تکمیل چاہتا تھا۔ ٹھوکریں کھاتا اپنے راستے چلتا گیا۔ ساتھی ملتے گئے، بچھڑتے گئے۔ ایک الہڑ شہزادی ذرا دیر کو ہمسفر بنی لیکن اُس کی محبت بھی اس کی راہ الگ نہ کر سکی اور راستے جدا ہو گئے۔ رفتہ رفتہ خوابوں کو حقیقت کا روپ ملتا گیا۔ وہ پیدائشی لیڈر تھا، ثابت قدمی سےچلتا گیا تو کارواں بنتا گیا۔ وہ شرمیلا لڑکا جو بڑا ہو کر بھی نظریں ملاتے ہوئے جھجھکتا تھا اب آنکھ ملا کر دھاڑنے لگا۔ جس کو صرف حکم دینا آتا تھا اب دھیما پن در آیا۔ وہ دلیل سے بات کرتا۔ وہ کھلاڑی ہی نہیں شکاری بھی تھا۔ پہاڑوں، جنگلوں سے عشق تھا۔ راستوں اور درندوں سے بے خوفی اُس کے لہجے میں در آئی اور وہ بڑے بڑے بُتوں کو للکارنے لگا۔ پہلے سب اُس کے کمال سے مسحور تھے اب اُس کی سوچ کے اسیر ہو گئے۔ کچی عمروں کے خواب پہلے بھی اُس کے ہمسفر تھے اور اب بھی اُس کے ہمراہ تھے۔ کسی نے اُس کی اس خوبی کو خامی بھی قرار دیا کہ جوان بچے تو صرف وقتی چمک دیکھتے ہیں، اصل بازی بڑے کھیلتے ہیں۔ وہ بے پروا سب کی سنتا لیکن کرتا اپنی مرضی تھا۔ اپنوں کو ناراض کیا، دلوں کوتوڑا لیکن مقصد سے پیچھے نہ ہٹا۔

یہ بھی پڑھیں:   نئے پاکستان میں عوام کا احتساب - آصف خان

وہ لڑکی اس کے سنگ سفر کرتی رہی۔ اب ایک ماں کی طرح اُس کے لیے دعا کرتی اپنے بچوں کی آنکھوں میں اسے اپنی چمک نظر آتی۔ وہ دل میں ہنستی کہ اُس کا جادو اب بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔ پہلے اگر لڑکیاں اُس کی شخصیت کے طلسم میں تھیں تو اب لڑکے لڑکیاں اور بڑے بھی اُس کے گرویدہ تھے اور طُرہ یہ کہ جو مخالف تھے اُن کے پاس بھی اُس کی کشش سے فرار کے راستے مسدود تھے۔ 'بلّا' اُس کی پہچان تھا اور بلّا ہر امیر غریب بڑا چھوٹا زندگی میں ایک بار ضرور اُٹھاتا ہے اور جو اُٹھا لے وہ اس کے فریب سے باہر نہیں نکلتا۔ اُس کا قول وفعل روزِ روشن کی طرح عیاں تھا جس سے انکار کی کوئی وجہ نہ تھی۔اس لیے اس کی ماضی کی زندگی کو ہی ہدف بنایا جاتا۔ باقاعدہ ثبوت پیش ہوتے اور آخر میں منہ کی کھانا پڑتی۔

وہ لڑکی جو ماں بھی تھی اور ماؤں کے دل بہت چھوٹے اور اُن کی محبت بہت گہری ہوتی ہے جسے وہ اپنی نظروں سے بھی چھپانا چاہتی ہیں۔ وہ بچوں کے معاملے میں بہت حساس ہوتی ہیں۔ حقیقت کی دُنیا میں رہ کر بھی ڈراؤنے خوابوں سے جان نہیں چھڑا پاتیں۔ ایسے ہی کسی خواب سے ڈر کر وہ اس چہرے کو نظر بھر کر نہ دیکھتی جو سب کا پیارا تھا وہ سوچ جو قوم کو نیا عزم دے رہی تھی وہ راستہ جو ملک کے نظام کی تبدیلی کا تھا۔ ماؤں کی باتیں بچوں کے لیے لایعنی اور طفلانہ ہوتی ہیں لیکن ان کے خواب سچے ہوتے ہیں۔ چاہے بند آنکھوں سے دیکھیں یا کھلی آنکھوں سے۔ایسے ہی بھیانک خواب کی تعبیر یوں سامنے آئی کہ اُس چہرے کو نظر لگ گئی۔ کوئی بات نہیں اللہ کی مرضی اللہ کی حکمت۔ ہم نہیں جانتے اس میں کیا بھلائی ہے۔ اللہ نہ صرف ہمیں بلکہ اس اعتماد کے پیکر کو کیا سبق دینا چاہ رہا ہے جو اُس کی آئندہ زندگی میں مددگار ہو۔ ہم نہیں جان سکتے۔ ہم صرف اللہ کا شُکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے چھوٹی آزمائش دے کر بڑی آزمائش سے بچا لیا۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں اور آج صبح پہلے الفاظ جو اُس کے بدلے لہجے سے ملے یہی تھے 'اب آپ نے سب کرنا ہے۔ آپ نے ملک کو بدلنا ہے۔' شاید یہی بات اللہ اس کے دل میں ڈالنا چاہ رہا تھا کہ انسان فقط ایک کردار ہوتے ہیں آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ زندگی کا ڈرامہ چلتا رہتا ہے بس اپنا کردار نبھاؤ اور گھر جاؤ۔ اللہ پاک اُس کو مکمل ذہنی اور جسمانی صحت کے ساتھ بہت جلد اپنے قدموں پر کھڑا کرے کیونکہ قوم کو ابھی اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے لیے اُس کے عزم اور حوصلے کی توانائی درکار ہے۔

آخری بات!

خوابوں کی تعبیر انہی کا مقدر ہے جو خواب دیکھتے ہیں بے خواب آنکھیں نہ خوابوں کی لذت سے آشنا ہوتی ہیں اور نہ ان کی تعبیروں سے واقف۔ خواب دیکھنے والے خوابوں کی طرح ان کی تعبیروں پر بھی یقین رکھتے ہیں بلکہ ان کا پھل سہارنے کا حوصلہ بھی۔ یہی ان کا ارادہ ہے جو گرنے کے بعد سنبھلنے اور پلٹنے کے بعد جھپٹنے کا فن سکھاتا ہے۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.