آزاد مملکت کے پابند اصول - منیب الحسن رضا

حیات انسانی کی تکمیل کے لیے اشیا کی ہم آہنگی لازمی شرط ہو تی ہے۔ اگر چیزوں کے درمیان توازن نہیں ہوگا تو نامکمل ہو نے سے قبل اس کا احساس ہی جان لیوا ہوگا۔ ادب کے سا تھ بھی ایسا ہی معاملہ درپیش ہے۔ اگر ادب کے اجزائے ترکیبی میں کسی شے کی مقدار زیادہ ہو تو ادب شاید نعرہ بن کر رہ جائے۔ حا لیہ ادوار میں بھی ادب اور نعرے کے درمیان بہت ہی مبہم سی لکیر دکھا ئی دیتی ہے۔

نجانے کس نے کہا تھا کہ اچھا ادب نظریاتی وابستگی سے بالاتر ہوتا ہے۔ جملہ معترضہ درمیان میں نہ آتا تو بات کہاں سے کہاں نکل جاتی۔ کشمیریوں پر ہو نے والے مظالم اور بھارت کی چیرہ دستیوں سے کون واقف نہیں؟ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان چیرہ دستیوں کو ادب کے قالب میں ڈھال کر بیان کیا جا سکتا ہے؟ کشمیر کی تزویراتی گہرائی کا سبق پڑھے تو مدت ہوئی، اب بھارت کی تازہ ہندوتوا کی لہر کو کشمیر کے حالات سے جوڑ کر بیان کرنا بہرحال خاصے کا کام تھا، جس کا بیڑا ارون دھتی رائے نے اٹھایا اور اپنی مدت سے انتظار کی جانے والی تخلیق کو تحقیق سے جوڑتے ہوئے ایک ایسی خیالی مملکت کا خاکہ کھینچنے کی کوشش کی ہے جو افلاطون کی مملکت سے مختلف ہے مگر اس کا تانا بانا خیالوں میں کہیں نہ کہیں انتشار پسند حکومت سے ملتا ہے کیونکہ مودی کا ہندوستان بہرحا ل گا ندھی اور واجپئی کے ہندوستان سے جدا ہے۔

رائے کے ناول میں جہاں گجرات کا للا ہندوستان کا حکمران بنتا ہے، وہیں ایک انوکھا قبرستان اور گیسٹ ہاؤس بھی فکشن کے روایتی قاری کے لیے اچنھبے کا باعث ہے۔ تیسری جنس کا معاشرہ شاید خدا بھی تخلیق نہیں کر پایا، اسی لیے ارون دھتی را ئے نے ان کا اپنا گھر اور ایک نظا م بنانے کی کوشش کی ہے کیونکہ شا ید بھارت میں مقبوضہ کشمیر کے باسی ایک تیسرے اور مسترد کردہ سما ج کے طو ر پر جانے جاتے ہیں، جس کی وجہ ان کی پاکستان کی طرف بڑھتی وابستگی یا آزادی کی طلب ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت جنگ کی دھمکی کیوں دے رہا ہے؟ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ریاستی حراستی مرکز کا اس سے بہتر نقشہ کھینچنا شاید ممکن نہ ہو جو شیراز سینما میں بنے مرکز کا سماں اس ناول میں نظر آتا ہے۔ گویا کشمیر کا لہو رنگ دریا فکشن کے بیانیے کے ساتھ ٹھاٹیں مارتا اپنی پوری آب و تاب دکھلا رہا ہے۔ ٹالسٹائی نے لکھا تھا کہ ہر خوشیوں بھرے گھر کی کہانی یکساں ہوتی ہے، مگر دکھ ہر گھر کے مختلف ہوتے ہیں۔ کشمیر میں مو جود تقریباً ہر گھر کا دکھ الگ نظر آ تا ہے کیونکہ کہیں سے کوئی غائب ہے تو کہیں کوئی زیادتی کا نشانہ بنا ہے۔

یہ اساطیری روایت بالکل درست نظر آتی ہے کہ جب شہر میں قتل عام ہو رہا تھا تو لوگ اپنی جان بچانے کے لیے جلاد بن گئے تھے،۔ کشمیر کے لوگ بھی قابض فوجیوں سے دوستی جان بچانے کے لیے نہیں کرتے، بلکہ انہیں شبہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ کہیں اگلا نمبر ان کا نہ ہو، جس کی وجہ سے ہم وطنوں کی مخا لفت کا بھی سامنا رہتا ہے۔

بے پناہ شادمانی کی مملکت میں کرداروں کا حیرت کدہ بھی ہے اور مغربی ادب کی ایک پر اسرار حویلی بھی، جس میں مو جود بھول بھلیاں قاری کو لمحہ بہ لمحہ جکڑے رکھتی ہیں۔ اگر فکشن نظریات کی ترسیل کا ذریعہ ہوتا تو دنیا بھر میں کسی بھی مخصوص نظریے کا پھیلاؤ بہت آسانی سے ممکن ہوتا، کیونکہ دنیا میں جہاں جہاں ظلم و ستم ہوگا، وہا ں کشمیر اور اس سے جڑے مظالم لوگوں کو محض اس ناول کی وجہ سے یاد آئیں گے کہ اس ناول نے الفاظ کے معنی تک بدل ڈالے ہیں۔

مستنصر حسین تارڑ نے ایک انٹرویو میں جہاں یہ کہہ کر بہت سے خوشہ چینوں کو ایک نیا موقع فراہم کیا کہ اس ناول کو کسی پاکستانی ادیب کو لکھنا چاہیے تھا، وہیں یہ بحث بھی چھیڑ دی کہ کیا اچھا ادب نظریاتی وابستگی سے بالاتر ہوتا ہے جس کا فیصلہ ہونا تو ہنوز باقی ہے مگر یہ ناول ایک سنجیدہ مطالعے کا تقاضہ کرتا ہے۔