رویّے اہم ہیں - رومانہ گوندل

کہا جاتا ہے کہ انسا ن خطا کا پتلا ہے، شاید اس لیے کہ ہر انسا ن ہی کوئی نہ کوئی غلطی کر جاتا ہے، کیونکہ کچھ فطری کمزوریاں اور انسانی خواہشات ہیں جن کی وجہ سے کبھی ارادتاً اور کبھی غیر ارادی طور پر غلطیاں کر بیٹھتا ہے اور ایسی غلطیاں سبھی سے ہو جاتی ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم انسان غلطی کرنے کے بعد ساری توجہ اس کو چھپانے اور جواز ڈھونڈنے پر رکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایک سوچ ایسی جنم لے چکی ہے کہ معتبر وہ ہے جو غلطیاں نہیں کرتا اور یہ تو ناممکن ہے کہ انسان کوئی غلطی نہ کرے۔ اس لیے ہم سب اپنی غلطیوں کو چھپانے اور جواز ڈھونڈنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں اپنے مقام پہ کھڑا تو اسی طر ح رہا جا سکتا ہے۔ لیکن یہاں ہم ایک چیز بھول گئے ہیں کہ غلطی سے زیادہ اہم غلطی کے بعد کا رویّہ ہے۔ کیونکہ مقام کا فیصلہ تو یہ رویّہ ہی کر تا ہے۔۔ـ ہم معتبر ٹھہریں گے یا دھتکار دیے جائیں گے اس کا فیصلہ اسی سے ہوگا۔

آغازِ انسانیت دیکھیں تو دو کردار سا منے آتے ہیں آدم اور عزازیل۔ آدم انسان تھے لیکن عزازیل انسان تھا نہ فرشتہ، وہ جنات میں سے تھا لیکن اپنی عبادت کی وجہ سے فرشتوں کے ساتھ بیٹھتا تھا۔ جب آدم کی تخلیق ہوئی تو فرشتوں کو حکم ملا کہ آدم کو سجدہ کریں۔ سب نے سجدہ کیا سوائے عزازیل کے۔ اس نے جواز پیش کیا کہ میں آگ سے بنا ہوں اس لیے مٹی سے بنے انسان سے بہتر ہوں۔ یہ تکبّر تھا جس کی وجہ سے وہ دھتکار دیا گیا۔سجدہ نہ کرنا اس کی غلطی تھی لیکن اس کے متکبّرانہ رویے نے اسے عزازیل سے ابلیس بنا دیا اور وہ قیامت کے لیے دھتکار دیا گیا۔ دوسرا کردار آدمؑ تھے۔ انہیں پیدا کر کے جنت میں بھیجا گیا جہاں ہر نعمت تھی لیکن ایک پابندی لگائی گئی کہ ایک درخت سے دور رہنا ہے، اس کا پھل نہیں کھانا۔ شیطان نے بہکا دیا اور اس درخت کا پھل آدم نے چکھ لیا۔ غلطی ہوگئی لیکن احساس ہوتے ہی توبہ کرلی، ساڑھے تین سو سال روتے رہے اور اس عاجزی سے انہیں اعلیٰ مقام مل گیا، معافی بھی مل گئی اور حضر ت آدمؑ پیغمبر بن گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟ - ڈاکٹر محمد عقیل

یہ دو کردار دراصل دو راستے ہیں جن کی منزلیں بالکل مختلف ہیں۔ لیکن آج کے انسان نے آدم کی اولاد ہو کر راستہ ابلیس کا چن لیا ہے۔ غلطیاں قبول کرنا اور اصلاح کرنا تو عادات کا حصہ بنا ہی نہیں، چاہے ماں باپ ہوں یا استاد جن پہ نئی نسل کی تربیت کی ذمہ داری ہے سب غلطی کو اپنے حصے میں ڈالنے سے ڈرتے ہیں اور اس طرح بچے بھی کبھی اتنے بہادر نہیں بنتے کہ وہ اپنے قصور مان سکیں۔ گھروں سے ملکی سطح تک یہی حال ہے کہ ہر آنے والی حکومت یہی بتاتی ہے کہ ان سے پہلے کیا غلطیاں ہوئی ہیں، کبھی یہ نہیں بتایا کہ ہم سے کیا غلط ہوا؟ اس طرح معاشرے میں سب ہی اپنی غلطی قبول کر کے راستہ بدلنے کے بجائے جواز پیش کرنے میں لگے ہیں۔

یاد رکھیں کہ اپنی غلطیاں قبول کرنا مضبوط لوگوں کا کام ہے اور مضبوط لوگ ہی اعلیٰ مقام تک پہنچتے ہیں۔ جب حضرت آدمؑ نے خود کو مضبوط ثابت کر دیا تو وہ پیغمبر بن گئے۔ فرشتوں سے سجدہ ان کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔ ذرا سوچیے کہ غلطی کر کے معافی مانگنے والا، غلطی نہ کرنے والے سے افضل ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ حضرت آدمؑ سے بھول شیطان کے بہکانے سے ہوئی تھی لیکن جب احساس ہوا تو شیطان کو الزام نہیں دیا بلکہ اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہرایا اور فرمایا کہ میں نے اپنی جان پہ ظلم کیا ہے۔ ان کے برعکس شیطان نے خود تکبّر میں آ کے غلطی کی لیکن تسلیم نہیں کی اور دوسروں کو الزام دیے۔ اپنی غلطی کا الزام دوسروں کو دینا شیطان کا رویّہ ہے۔ اس لیے غلطی ہو جائے تو مان کر معافی مانگ لیں، بڑے بڑے مقام اسی سے ملتے ہیں اور دوسروں کو معا ف کر دیں، گھر، رشتے اور معاشرے اسی سے خوبصورت بنتے ہیں۔