ایک چھلی والے کا ایمان - اسریٰ غوری

یہ سڑک کے کنارے کھڑا سترہ اٹھارہ برس کا چھلی والا تھا۔ ہم نے گاڑی روکی اور ایک چھلی بنانے کا کہہ کر شیشہ اوپر کرنے ہی لگے تھے کہ اس کی دو ہم لڑکوں (ایک پینٹ بابو تھا اور دوسرا اس جیسا ہی مگر اس سے ذرا بڑا اور شاید ہندو، جو اس کی باتوں سے لگا) کے ساتھ ہونے والی گفتگو کان میں پڑی تو ہاتھ وہیں رک گئے۔ گفتگو کیا تھی، ایمان کے لیول تھے جو جس میں جتنے اندر تھے اتنے ہی باہر چھلک رہے تھے۔

آپ بھی سنیے۔

چھلی والا : یار اک آدمی آیا تھا چھلی لینے، وہ آدمی بھی عجیب تھا۔ کہنے لگا کہ ہم تو سورج کو اللہ مانتے ہیں۔ ابے میں نے کہا اچھا تو ایسا کر ذرا دو منٹ سورج کو دیکھتا رہ، پھر بتانا۔ بولا کیا پاگل ہوگیا ہے؟ میں کب دیکھ سکتا ہوں؟ اور اگر کوشش بھی کروں گا تو اندھا ہوجاؤں گا۔ابے میں نے بولا بھائی جو تجھے نقصان پہنچائے وہ تیرا خدا کیسے ہوسکتا ہے؟ خدا کوئی کسی کو نقصان پہچاتا ہے کیا؟

ہندو بولا : بھگوان تو فائدہ ہی دیتا ہے۔

چھلی والا : ابے بھائی اللہ تو ایک ہی ہے اور دین بھی، بس ایک ہی اسلام ہے نا؟ مگر اب ہر کسی نے بھگوان بنا لیا، کسی نے سورج کو خدا اور رہی سہی کسر ان فلموں نے پوری کر دی۔ جس کو دیکھا وہی ناچ ناچ کر ان کو ہی اپنا بھگوان بنا رہا ہے۔

کافی دیر سے خاموش پینٹ والا بابو (جو شاید کسی کالج یا یونیورسٹی میں تھا) بولا ہاں! مگر اب یہ بھی ہے کہ اللہ کوئی نہیں، دین مذہب کچھ بھی نہیں، یہ سب انسانوں نے بنائے ہیں۔ تو جس کا دل کیا اسلام بنا لیا، جس کا دل کیا کچھ اور بنا لیا۔

چھلی والے کو تو جیسے کرنٹ سا لگا۔ بات درمیان سے کاٹ کر جذباتی سا ہوکر بولا ابے کیا پاگل ہوگیا ہے بھائی! دین کیسے کچھ نہیں؟ دین تو اللہ نے بنایا، اللہ تو ایک ہی ہے، اللہ کے بغیر یہ سب کیسے بن گیا؟ یہ سب بکواس کرتے ہیں بھائی!

یہ کہتے کہتے وہ ہماری لیے تیار کی گئی گرم گرم چھلی کو اسی کے اتارے پرتوں میں لپیٹ کر دینے آگیا تھا اور نجانے کیوں ہماری آنکھیں نم ہونے لگی تھیں۔

ہم ایک ٹک اسی پھٹی قمیض، میلے بالوں اور کالے ہاتھوں والے ان پڑھ مگر اہل علم چھلی والے کو دیکھتے رہے۔ رشک کرتے رہے، اور دل ہی دل میں کہتے رہے

تیرے پاس سوٹ ہے نہ بوٹ، تیرے پاس ڈگری ہے نہ دفتر، تیرے پاس بنگلہ ہے نہ گاڑی مگر تجھے مبارک ہو کہ تیرے پاس ایمان کی، ایقان کی کیا ہی دولت ہے۔

راستے بھر نجانے کیوں نم آنکھوں سے بس یہی سوچتے رہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہماری نئی سوکالڈ پڑھی لکھی، "ویل ایجوکیٹڈ" نسل سے سب سے بڑی دولت، سب سے بڑا خزانہ (ایمان) ہی چھینا جارہا ہے۔ ہمیں اس خزانے کے چھن جانے کا احساس بھی ہے کہ نہیں؟

رب کے ہونے کا احساس؟ کیسی ٹھنڈی پھوار، جھلساتی دھوپ میں کیسی طمانیت تھی اس چھلی والے کے چہرے پر، جو دہکتے کوئلوں کی انگیٹھی کے سامنے بھری دوپہر میں کھڑا تھا۔ اپنے میلے سے کپڑوں میں اپنے رب کے ہونے کے دلائل دیتا ہوا۔ مجھے وہ ساری دنیا کے عالم فاضلوں سے بڑھ کر عالم لگ رہا تھا اور یقیناً اپنے رب کی بارگاہ میں وہ رب اس کے میلے کچیلے سے وجود پر ہی کیسا ناز کر رہا ہوگا مگر .... مگر دوسری جانب میری اس ماڈرن نسل سے رب کے "رب" ہونے کا یقین، اس کے رب کا تعارف ہی چھینا جا رہا ہے۔ کیسا نقصان جس کی کوئی تلافی بھی ممکن نہیں اور اس سے بڑھ کر دکھ یہ کہ اس نقصان کا کسی کو احساس بھی نہیں۔

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.