رمضان اور مجاہدہ نفس - حافظ محمد زبیر

رمضان میں جو نیکی کرنے کا ارادہ ہو، ضروری ہے کہ اس نیکی کی پریکٹس رمضان سے پہلے شروع کر دی جائے ورنہ تو اگر رمضان کے آغاز میں نیکی کرنا شروع کی تو غالب گمان ہے کہ رمضان میں وہ نیکی اچھی طرح نہ ہو پائے گی۔ اگر آپ حافظ قرآن ہیں اور آپ کا ارادہ ہے کہ رمضان میں تراویح، تہجد یا نوافل میں قرآن مجید نکالیں تو رمضان سے کم از کم ایک ماہ پہلے یہ کام شروع کریں گے تو رمضان میں اس نیکی کو انجوائے کریں گے ورنہ تو نیکی ایک بوجھ بن جائے گی۔

اگر رمضان میں روزے کی عبادت کا حظ اور لطف اٹھانا چاہتے ہیں تو شعبان میں نفلی روزے رکھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے روایات میں ملتا ہے کہ آپ رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان کے مہینے میں رکھتے تھے۔ تو رمضان میں تہجد پڑھںا چاہتے ہیں تو رمضان سے ایک ماہ پہلے تہجد کے لیے بیدار ہونا شروع کر دیں۔ ورنہ تو پہلے روزے پر سحری بھی فوت ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ رمضان کو صحیح معنوں میں نیکی کا مہینہ وہی لوگ بنا پاتے ہیں جو رمضان سے پہلے رمضان کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔

عید کو وہی لوگ انجوائے کرتے ہیں جو عید سے ایک ماہ پہلے عید کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ جو عید کی رات اپنے اور بچوں کے کپڑے خریدنے نکلے گا، وہ اپنی اور بچوں کی عید خراب ہی کرے گا، الا ما شاء اللہ۔

میں نے اپنے دس پارے دہرا لیے ہیں اور امید ہے کہ رمضان سے پہلے دو مرتبہ قرآن مجید مکمل ہو جائے گا۔ آپ حفاظ اور قراء بھی دہرائی کا آغاز کر دیں اور اس طرح سے کریں کہ ایک منزل مکمل ہونے کے بعد ایک دن میں منزل نکالیں، اس سے منزل میں صحیح پختگی حاصل ہو گی۔

احمد جاوید صاحب نے ایک مجلس میں بتایا کہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے خلیفہ ڈاکٹر عبد الحئی صاحب سے ان کے کسی مرید نے پوچھا کہ حضرت تہجد پڑھنے کو دل کرتا ہے لیکن نفس پر بڑا بھاری گزرتا ہے، کچھ ایسا تجویز کر دیں کہ تہجد پڑھنا آسان ہو جائے۔ تو حضرت نے جواب میں کہا کہ میں چالیس سال سے تہجد پڑھ رہا ہوں لیکن آج بھی اٹھتے وقت نفس کو مشقت ہوتی ہے۔ بہت بڑی بات ہے بھائی، بہت بڑی بات ہے کہ نیکی کی اصل مجاہدہ نفس ہے۔

نیکی نفس کو اچھی لگنے لگے یا نفس کو نیکی میں لطف اور حظ محسوس ہو تو یہ کبھی کبھار ہوتا ہے، ہر بار نہیں اور جب ہو تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ ورنہ تو نیکی کا کرنا ہمیشہ نفس پر بھاری گزرتا ہے جیسا کہ گناہ سے بچنا نفس پر بھاری ہے۔ تو اپنے نفس کے ساتھ لڑ کر صدقہ کریں، اپنے نفس سے لڑ کر تہجد پڑھیں، اپنے نفس سے لڑ کر قرآن مجید کی تلاوت کو اپنا معمول بنائیں، اپنے نفس سے لڑ کر نفلی روزے رکھیں، اپنے نفس سے لڑ کر معصیت اور گناہ سے بچیں۔ زندگی تمام کی تمام مجاہدہ نفس ہی تو ہے۔

مجاہدہ نفس پر عمل کیے بغیر اصلاح نفس کا وہم ایک وہم ہی تو ہے۔ شمائل ترمذی کی روایت کے مطابق اماں حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چٹائی ایک مرتبہ رات سونے سے پہلے دوہری کر دی تو آپ نے صبح بیدار ہو کر کہا کہ آئندہ ایسا نہ کرنا کہ نرم بستر کی وجہ سے آج رات مجھے تہجد کے لیے اٹھنے میں مشقت ہوئی ہے۔ تو نیکی کرنی ہے تو مجاہدہ نفس کے لیے تیار رہو اور گناہ سے بچنا ہے تو مجاہدہ نفس کے لیے تیار رہو۔ اس کے بغیر تو پھر نیکی کی خواہش محض ایک خواہش ہی تو ہے اور برائی سے بچنے کی آرزو محض ایک آرزو ہی تو ہے۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.