گہری کھائی کے کنارے – ڈاکٹر سید نوح

ترجمہ: میمونہ حمزہ

آج تمام دنیا گہری کھائی کے کنارے کھڑی ہے، بلکہ انسانیت اپنی قبر آپ کھود رہی ہے اور اپنی خواہش سے مرنے کا اہتمام کر رہی ہے؛ جہاں ہر پانچ افراد میں سے تقریباً چار کافر ہیں، اور دنیا کا خمس آپ ہیں اے مسلمان بھائیو، اور ایسے حال میں ہیں کہ کوئی آپ سے حسد نہیں کر سکتا اور دنیا کا اسی فیصد حصہ آپ کے اموال، اوطان (جمع وطن) کی لوٹ کھسوٹ اور مقدس مقامات کے انہدام، اور لوگوں کو اپنا غلام بنانے میں لگا ہوا ہے، وہ عزتوں پر حملے اور ہر مقدس چیز کو ڈھا دینے میں لگے ہوئے ہیں، وہ خون بہا رہے ہیں اور دین میں فتنے پیدا کر رہے ہیں، اور جن لوگوں میں ان جیسا بننے کی صلاحیت ہے انہیں بھی اپنے اندر شامل کرتے چلے جا رہے ہیں، اور زمین شر اور فساد سے لرز رہی ہے۔

اگر ہم سب اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرتے تو دنیا کا چہرہ بدل جاتا، اور مسلمانوں کی آج بہت بڑی شان ہوتی!

آج انسان جو کچھ کر رہے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں، بلکہ وہ اپنے انجام کی طرف بگٹٹ بھاگے جلے جا رہے ہیں۔ اللہ عزوجل فزماتا ہے: وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم (الشوری ۳۰) ﴿تم لوگوں پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے۔﴾

اور سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے: ظھر الفساد فی البر والبحر (الروم ۴۱) ﴿خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے۔ ﴾

مسلمان اس فضا میں کیا کریں؟ اور اگر وہ اسی حال میں زندگی گزارتے رہے تو وہ مزید نقصان اٹھائیں گے، بڑی قساوت بھری زندگی گزاریں گے اور خسارے اور تباہی میں مریں گے ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرھم یوم القیامۃ اعمی۰ قال ربّ لم حشرتنی اعمی وقد کنت بصیراً۰ قال کذلک اتتک آیاتنا فنسیتھا وکذلک الیوم تنسی (طہ ۱۲۴۔ ۱۲۶) ﴿اور جو میرے ذکر (درس ِ نصیحت) سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے، وہ کہے گا ’’پروردگار، میں دنیا میں تو آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اٹھایا‘‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، ’’ہاں، اسی طرح تو ہماری آیات کو، جبکہ وہ تیرے پاس آئیں تھی، تو نے بھلا دیا تھا۔ اسی طرح آج تو بھلایا جا رہا ہے‘‘۔﴾

ہم تو یہی کہتے ہیں: اس معاملے میں ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل مدد فرمائے تاکہ یہ امت اپنے بہترین ہونے کی طرف پلٹ آئے اور تاکہ وہ اپنی ذات کی جانب پلٹ آئے، اور تاکہ اپنی قدرو قیمت کی جانب پلٹ آئے، کیونکہ یہ بہتریں امت ہے، جسے لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے، لیکن یہ سب محض اچھی امیدوں سے نہ ہوگا بلکہ ہمیں لازماً اس تجربے کی جانب آنا ہوگا، جو رسول اللہ ﷺ نے عملاً کیا، جب انہوں نے تنہا اس دین کا علم تھاما، حالانکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ کفر ہر جانب چھایا ہوا ہے اور وہ پوری زمین پر اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے، دوسری جانب محمد ﷺ ہیں، اور وہ لوگ بھی قلیل التعداد ہیں جنہیں حنیف کہا جاتا ہے۔

تصور کیجیے رسول ﷺ پکارتے ہیں قبل اس کے کہ ان کی جانب وحی کی جائے، تو وہ غار ِ حرا کی تنہائی میں چلے جاتے، تاکہ عبادت، غور و فکر اور دعا کے لیے سب سے الگ ہو کر سوچیں، تاکہ وہ انسانیت کو اپنے ہاتھوں ان سب مصائب سے چھٹکارا دلا دیں، اور وہ فرماتے ہیں: اے رب، انسانیت آج زوال پزیر ہے، اور تو بندوں کا رب ہے، اور تو ارحم الراحمین ہے، انسانیت کو اس سب سے چھٹکارا دے دیں، اور میرے ہاتھوں انہیں اس سے نکال دیں۔

اور اس زمانے میں مشرکین محمد ﷺ کو دیکھ رہے تھے اور وہ کہا کرتے تھے: یہ شخص اپنے رب سے عشق کرتا ہے۔ یہ شخص کسی ضرورت کے سبب ہی لوگوں سے الگ ہوا ہے، حتیٰ کہ ان کی یہ تکلیف لوگوں کو اللہ کی جانب دعوت دینے سے ختم ہو گئی، اور وہ اپنی مقدور بھر کوشش صرف کرنے لگے، تاکہ اللہ کا کلمہ زمین پر ایک مرتبہ پھر غالب آجائے، کیونکہ اب حال یہ ہو چکا تھا کہ توحید پرست لوگ انگلیوں پر گنے جاتے تھے۔

تو کون ہے اے انسان؟

اور ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس انسان کی قیمت کس طرح بلند کی، جب انہوں نے حدیث میں فرمایا: ’’جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو تخلیق کیا تو فرشتوں نے پوچھا: یا رب، کیا تو نے آسمان سے بھی بڑی کوئی مخلوق پیدا کی ہے؟ اس نے فرمایا: ہاں، زمینیں، اورجب اللہ تعالیٰ نے زمینوں کو تخلیق کیا تو فرشتوں نے پوچھا: یا رب، کیا تو نے آسمان سے بھی بڑی کوئی مخلوق پیدا کی ہے؟ اس نے فرمایا: ہاں، پہاڑ، اورجب اللہ تعالیٰ نے پہاڑو ں کو تخلیق کیا تو فرشتوں نے پوچھا: یا رب، کیا تو نے پہاڑوں سے بھی بڑی کوئی مخلوق پیدا کی ہے؟ اس نے فرمایا: ہاں، لوہا، جب اللہ تعالیٰ نے لوہے کو تخلیق کیا تو فرشتوں نے پوچھا: یا رب، کیا تو نے لوہے سے بھی بڑی کوئی مخلوق پیدا کی ہے؟ اس نے فرمایا: ہاں، آگ، جب اللہ تعالیٰ نے آگ کو تخلیق کیا تو فرشتوں نے پوچھا: یا رب، کیا تو نے آگ سے بھی بڑی کوئی مخلوق پیدا کی ہے؟ اس نے فرمایا: ہاں، پانی، جب اللہ تعالیٰ نے پانی کو تخلیق کیا تو فرشتوں نے پوچھا: یا رب، کیا تو نے پانی سے بھی بڑی کوئی مخلوق پیدا کی ہے؟ اس نے فرمایا: ہاں، ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے ہوا کو تخلیق کیا تو فرشتوں نے پوچھا: یا رب، کیا تو نے ہواسے بھی بڑی کوئی مخلوق پیدا کی ہے؟ اس نے فرمایا: ہاں، انسان‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا مسلمان دوبارہ عروج حاصل کر سکتے ہیں؟ پروفیسر جمیل چودھری

لہٰذا تم زمین کی پشت پر سب سے بلند مخلوق ہو، اور جب تم اللہ کے سامنے اپنا سر تسلیم ِ خم کر دیتے ہو، تو تم اور بلند، اور بلند ہو جاتے ہو۔

اسی طرح ایک اور مرتبہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپﷺ اپنے اصحاب سے پوچھتے ہیں: ’’مجھے اس درخت کے بارے میں بتاؤ جو مسلمان کی مانند ہے، نہ اس کا پھل کم ہوتا ہے، اور نہ اس کے پتے جھڑتے ہیں‘‘ پس لوگ اس درخت کو تلاش کرنے لگے، بعض لوگوں نے خیال کیا کہ وہ بیری کا درخت ہے، اور کسی نے فلاں سمجھا اور کسی نے فلاں، اور وہ سب بھول گئے اور اس جانب ان کی نظر ہی نہ گئی کہ وہ کھجور کا درخت ہے، پس کھجور ہی وہ درخت ہے جس کی کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی۔

اور جب انہیں رسول اللہﷺ نے بتایا، تو وہ اس کے معنی اور مراد سمجھ گئے، اور وہ یہی ہے کہ اے مسلمانوں تم ایک بہت نادر چیز ہو، لیکن تم اپنی قیمت سے واقف نہیں ہو، اور نہ اپنی منزلت جانتے ہو۔ اللہ عزوجل نے زمین و آسمان کوخاص طور پر تمہاری خدمت کے لیے پیدا کیا ہے اے مسلمان، کیوں؟ کیونکہ تم اللہ کی جانب پکارتے ہو، اور زمین میں اس کے حق کو عدل اور انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک قائم کرتے ہو۔ نبی ﷺ نے اس بات کو سمجھا، پھر انہوں نے اس کا انطباق اپنی ذات پر کیا، اور باقی سب کو بھی تطبیق کی دعوت دی۔

اس معاملے میں جلد بازی کی ضرورت نہیں، ایک شخص یہاں سے آتا ہے، دوسرا وہاں سے، وہ انہیں دوسروں سے جوڑ دیتے ہیں، اور توحید کا سبق مضبوط اور راسخ کرواتے ہیں، ایمان کو دلوں میں راسخ کرواتے ہیں، انہیں رزائل سے نفرت دلاتے ہیں اور فضائل سے محبت کرواتے ہیں، یہاں تک کہ ایک جمعیت تیار ہو جاتی ہے، رسول اللہ ﷺ انہیں لیکر مکہ سے مدینہ کیجانب ہجرت کرتے ہیں، یہ کوئی بڑی تعداد نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ ۵۰۰ نفوس ہیں، اور پھر لوگ بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں، اور مدینہ میں بھی اہل ِ ایمان کی تقریباً اتنی ہی تعداد ان کا استقبال کرتی ہے، حتیٰ کہ ہمارے رب کے اچھے کلمات مکمل ہو جاتے ہیں۔

تو پھر ان کے پاس پہلی چیز ’’امید‘‘ تھی، اور اللہ تعالیٰ نے اس امید کے ساتھ انہیں احکامات دیے، اور ان احکامات پر عمل کرنا تھا، لیکن اس عمل کے بھی کچھ خصائص تھے، جن میں سب سے پہلی چیز حکمت ہے۔ اور اس کے ۲۱ برس بعدرسول اللہ ﷺ کی دعوت کے جواب میں مکہ فتح ہوا، بغیراس کے کہ قابل ِ ذکر خون خرابہ ہوا ہو، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے کفر کا نظام تلپٹ کر دیا، اور اس کی جگہ صرف اور صرف اسلام کا نظام قائم کر دیا۔۔ آپ کی بعثت کے ۲۱ برس بعد ہجرت کے آٹھویں سال مکہ فتح ہو گیا، رسول اللہ ﷺ نے اسے پہلے ہی روز فتح کیوں نہ کر لیا؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ ایک حکیم انسان تھے، کیونکہ آپﷺ جانتے تھے کہ اسے محض فتح کر لینے سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا، بلکہ سب کو ساتھ ملانا ضروری ہے، انہوں نے اسے کیسے فتح کر لیا، جبکہ ابھی ان کے سامنے اتنی مشکلات تھیں جن کا تصور بھی نہ کیا جا سکتا تھا؟ یہود نہ صرف مدینہ میں موجود تھے، بلکہ مدینہ کے اطراف اور یمن میں بھی موجود تھے، اور باہر نصاری بھی موجود تھے۔۔ اس لیے منصوبہ بندی بڑی ضروری تھی، اور تدبیر کا بڑا حصہ تھا، اور لازم تھا کہ تیاری کی جائے۔۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے منصوبہ بندی کی، اور اس پر عمل درآمد کیا، اور معاملات کو فطری انداز میں آگے بڑھایا، اور ایک ایک کر کے چیزیں آگے آتی چلی گئیں، اور جب آپ آٹھویں سال تک پہنچے، آپ نے خود کو فتح مکہ کے لیے عملاً کوشش کرتے ہوئے پایا۔

یہ بھی پڑھیں:   امت مسلمہ کے مسائل اور مذہب کارڈ - عمار مظہر

صحیح تربیت

آپ ان احکام پر کس طرح عمل کر رہے ہیں، جن کا آپ کو نبی اکرم ﷺ نے پابند بنایا؟ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ (النحل ۱۲۵) ﴿اے نبی ﷺ، اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو، حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ﴾۔۔

آپ اسے کس حد تک انجام دیتے ہیں؟ ولتکن منکم امۃ یدعون الز الخیز ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر (آل ِ عمران ۱۰۴)﴿تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی ہونے چاہیییں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں۔﴾

کیا آپ نے اسلام اپنی اولاد کے ذہنوں اور دلوں میں انڈیل دیا ہے؟ کیا آپ اپنی اولاد کا اسی قدر خیال رکھتے ہیں جس قدر ان کا حق ہے؟ کیا آپ نے چینلز کو اپنی اولاد کی تربیت سونپ دی ہے! یا سڑکوں پر پھرنے والے بدکردار لوگوں کے ذمے اپنی اولاد کی تربیت لگا دی ہے؟ کیا آپ نے اپنی اولاد کو ان راستوں پر تنہا چھوڑ دیا ہے، جس کے لیے اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی کہ وہ ان کی عقل پختہ کریں گے!

اور آپ کہتے ہیں: کافی ہے کہ ہم کھاتے پیتے ہیں؟ یہ کھانا بھی برا ہے اور پینا بھی، کیونکہ جانور بھی کھاتے اور پیتے ہیں، اور انسان کو محض کھانے پینے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا، کھانا پینا تو صرف اس مقصد اور ھدف تک پہنچنے کی ایک ضرورت ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنا جائزہ لیں، کیونکہ عمل ہمارے نزدیک ایک ایسا معاملہ بن کر رہ گیا ہے جس کی کوئی اصل نہ ہو، اور سمجھ بوجھ بھی ایک سرسری چیز بن کر رہ گئی ہے۔۔ لوگ جمعہ کو مسجد میں جاتے ہیں، اور خطبہ سنتے ہوئے انہیں ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ انگاروں پر بیٹھے ہوں۔۔ کب تلک؟؟ امت کو سمجھ بھی آجائے تو وہ عمل نہیں کرتی، اور اگر عمل کرے بھی تو احسن عمل نہیں کرتی، اور اگر تطبیق عمدہ کر بھی لے تو حسن ِ اخلاص پیش نہیں کرتی!

اسی لیے ’’بن جوریون‘‘ نے کہا تھا: ہم نے ’’حکومت ِ اسرائیل‘‘ کا منصوبہ افشا بھی کر دیا مگر ہمیں کچھ فکر لاحق نہ ہوئی، کیوں؟ کیونکہ عرب مطالعہ نہیں کرتے، اور اگر وہ پڑھ بھی لیں انہیں سمجھ نہیں آتا، اور اگر سمجھ جائیں تو بھی علم نہیں رکھتے، اور اگر عمل بھی کر لیں تو احسن ِ عمل نہیں کرتے، اور اچھا بھی کر لیں تو اخلاص نہیں برتتے۔

یا سبحان اللہ! کفار سمجھ بوجھ رہے ہیں اور حفظ کر رہے ہیں، اور رسول اللہ ﷺ حسن ِ عمل کا نمونہ تھے، جو پائیدار اور بہت اچھی طرح عمل کرتے! اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں جو مشغول رہتے ہیں اور پیہم جدو جہد کرتے رہتے ہیں فرماتا ہے: والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا وان اللہ لمع المحسنین (العنکبوت ۶۹) ﴿جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقیناً اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے۔﴾

ہم لوگوں کو ہدایت دینے اور رہنمائی کرنے کے کس مقام پر ہیں؟ میں یہ نہیں کہتا کہ دور دراز کا سفر کریں، ہم میں سے تقریباً ہر ایک کی بیوی ہے، تین بچے ہیں، اور اگر آپ ان چار کے ساتھ احسان کر دیں، تو دنیا کا چہرہ بدل جائے گا، اور مسلمانوں کی آج ایک نئی شان ہو جائے گی! اور کسی میں اتنی طاقت نہ ہو گی کہ وہ قانون کی طاقت، یا ہماری حرمتوں کو پامال کر کے یا ہمارا خون بہا کر اس میں تبدیلی پیدا کر سکے!

آج انسانیت نقصان میں ہے، اور گونگے بننے کے سوا کوئی چارہ نہیں، پس اپنی قیمت پہچانو، اور اپنی برتری اور فضیلت سے آگاہ ہو جاؤ، ہمارے لیے تو فقط یہی کافی ہے کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا ہے: تم سب اللہ کے ہاں سب سے بہتر اور سب سے محترم ہو۔

Comments

Avatar

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.