رمضان المبارک اور قرآن مجید (3) - یوسف ثانی

پچھلی قسط

قرآن مجید میں موجود جملہ اوامر و نواہی پر مبنی احکامات کی موضوعاتی درجہ بندی کی اگلی قسط پیش خدمت ہے۔

10۔ تقویٰ اور پرہیزگاری

ظالموں کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی۔ تم اُن سے نہیں بلکہ مجھ سے ڈرو (البقرة:150) نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے (البقرة:189) اللہ سے ڈرتے رہو(البقرة:194) اللہ انہی لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حُدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں(البقرة:194) اللہ کی نافرمانی سے بچو (البقرة:203) نیکی، تقویٰ اور بھلائی کے خلاف کاموں میں اللہ کی قسمیں نہ کھا یا کرو (البقرة:224) اللہ کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہ کرو (البقرة:229) اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے (آلِ عمران:102) جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں(آلِ عمران:198) خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو (النساء:131) اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم اُن پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے (الاعراف:96) اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو (الاعراف:99) اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے(سورة التوبة:7) اگر تم مومن ہو تو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو(سورة التوبة:13) بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو( التوبة:109) اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو(سورة التوبة:119) تقویٰ کا رویہ اختیار کرنے والے مومنوں کے لیے کسی خوف اوررنج کا موقع نہیں ہے (یونس:62) اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجرمارا نہیں جاتا(یوسف:90) ہم ان لوگوں کو بچالیں گے جو متقی تھے (سورة مریم:72) تم پرہیز گاروں کو خوشخبری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کو ڈرا دو ( مریم:97) جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈریں اور جن کو حساب کی گھڑی کا کھٹکا لگا ہوا ہو (الانبیاء:49) تم اللہ سے ڈرو (الشعرائ:126) اللہ پر بھروسہ رکھو ( النمل:79)۔ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے (سورة الاحزاب:39) مومنو! اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو (الاحزاب:70) جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ (فاطر:18) جو مطیع فرمان ہے، رات کی گھڑیوں میں کھڑا رہتا اور سجدے کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت سے امید لگاتا ہے (الزُمر:9) جو لوگ اپنے رب سے ڈر کر رہے ان کے لیے بلند عمارتیں ہیں (الزُمر:20) سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو (المومن:13) اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا (محمد:36) متقی لوگ راتوں کو کم ہی سوتے تھے اوررات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے ( الذاریات:17-18) تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے (سورة الحجرات:13) اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا ؤ( الحدید:28) آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو(المجادلہ:9) اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اُس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے(سورة الحشر:18) جو اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا، اللہ اس کےلیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا(الطلاق: 3) جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں(سورة الملک:12) جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ (سورة المعارج: 27) تم نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو۔ جو شخص ڈرتا ہے وہ نصیحت قبول کرلے گا۔ (سورة الاعلیٰ: 12)۔

11۔ تکبر اورعاجزی

اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے(النساء:36) اِتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلنے والوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو (الانفال:47) ہم حد سے گزرجانے والوںکے دلوں پر ٹھپّہ لگا دیتے ہیں ( یونس:47) زمین میں اکڑ کر نہ چلو، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو، نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو (بنی اسرائیل:37) بعض اور لوگ ایسے ہیںجو کسی علم اور ہدایت اور روشنی بخشنے والی کتاب کے بغیر گردن اکڑائے ہوئے، خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہِ خدا سے بھٹکادیں (سورة الحج:8-9) بشارت دے دو، عاجزانہ روش اختیار کرنے والوں کو ( الحج:34) انہوں نے تکبر کیا اور بڑی سرکشی کی( المو منون:46) رحمٰن کے بندے زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام (الفرقان:63) زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا (القصص:39) پُھول نہ جا، اللہ پھولنے والوںکو پسند نہیں کرتا (القصص:76) جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں (القصص:83) انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا (العنکبوت:39) اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اس طرح رُخ پھیر لیتا ہے، گویا کہ اس نے انہیں سنا ہی نہیں (لقمان:7) لوگوںسے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خودپسند شخص کو پسند نہیں کرتا (لقمان:18) اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز ذرا پست رکھ(لقمان:19) یہ آیات سُناکر جب نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے (سورة السجدہ:15) اللہ ہرمتکبر و جبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے (المومن:35) جو لوگ گھمنڈ میںآکرمیری عبادت سے منہ موڑتے ہیں وہ ذلیل ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے (المومن:60) جو اللہ کی آیات کو سُنتا ہے پھر پُورے غرور کے ساتھ اپنے کفر پر اَڑا رہتا ہے ایسے شخص کے لیے دردناک عذاب ہے(الجاثیہ:8) اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو(سورة الدُخان:19) جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں (الاحقاف:20) اپنی روش پر اڑگئے اور بڑا تکبر کیا (سورة نوح:7)۔

12۔ توبہ اور معافی

تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو (البقرة:54) مگر توبہ اُن لوگوں کے لیے نہیں ہے جو بُرے کام کیے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے اُس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کی(النساء:18) جو لوگ بُرے عمل کریں پھر توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں تو یقیناً اس توبہ و ایمان کے بعد تیرا رب درگزر اور رحم فرمانے والا ہے (الاعراف:153) اب اگر تم لوگ توبہ کرلو تو تمہارے ہی لیے بہتر ہے (سورة التوبة:3) اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں تو انہیں چھوڑ دو(سورة التوبة:5) پس اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں ( التوبة:11) اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اُن کی خیرات کو قبولیت عطا فرماتا ہے (التوبة:104) تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آ ؤ تووہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامانِ زندگی دے گا اور ہر صاحبِ فضل کو اُس کا فضل عطا کرے گا(سورة ھود:3) اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اُس کی طرف پلٹو (ھود:52) البتہ جن لوگوں نے جہالت کی بنا پر بُرا عمل کیا اور پھر توبہ کرکے اپنے عمل کی اصلاح کرلی تو یقیناً توبہ و اصلاح کے بعد تیرا رب ان کے لیے غفور اور رحیم ہے (سورة النحل:119) جو توبہ کرلے، اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھا چلتا رہے اس کے لیے میں بہت درگزرکرنے والا ہوں (طٰہٰ:82) جس نے آج توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہوگا(القصص:66) اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور بُرائیوں سے درگزر فرماتا ہے( الشوریٰ:25) اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ(التحریم:8) معافی مانگو اپنے قصور کے لیے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی (محمد:19) اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے(نوح:10)۔

13۔ جنت اورجہنم

جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور اپنے رب ہی کے ہوکر رہے تو یقیناً وہ جنتی لوگ ہیں (ھود:23) خدا ترس انسانوں کے لیے جنت کا وعدہ کیاگیا ہے ( الرعد:35) جو کوئی جلدی حاصل ہونے والے فائدوں کا خواہشمند ہو، اسے ہم یہیں دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں۔ پھر اس کی قسمت میں جہنم لکھ دیتے ہیں (اسرائیل:18) جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے، اُن کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اورکچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے (الکھف: 100-101) جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے، یہ خیال رکھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنالیں؟ ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لیے جہنم تیار کررکھی ہے (الکھف:102) مومنین جنہوںنے نیک عمل کیے، ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے (الکھف:107) توبہ کرکے ایمان لانے اور نیک عمل اختیار کرنے والے جنت میں داخل ہوں گے (مریم:60) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، اللہ انہیں جنتوں میں داخل کرے گا (الحج:23) وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہان کے جائیں گے ( الزُمر:71) جو لوگ رب کی نافرمانی سے پرہیزکرتے تھے انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا(الزُمر:73) جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخی ہوں گے(التغابن: 10) بچا ؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے (تحریم:6) دوزخی کہیں گے:ہم نماز پڑھنے والوں میںسے نہ تھے (مدثر:43) مومن مردوں اور عورتوں پر ستم توڑا اورپھر تائب نہ ہوئے یقیناً ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے (البروج: 10) اورجو نصیحت سے گریز کرے گا وہ بڑی آگ میںجائے گا، پھر نہ اس میں مرے گا نہ جیے گا ( الاعلیٰ: 13)۔

یہ بھی پڑھیں:   حب رسول کے تقاضے - رانااعجاز حسین چوہان

14۔ جہاد اورشہادت

اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو (البقرة:190) مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں، تم بھی نہ لڑو(البقرة:191) جو تم پر دست درازی کرے، تم بھی اُسی طرح اس پر دست درازی کرو(البقرة:194) مسلمانو! اللہ کی راہ میں جنگ کرو (البقرة:244) اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں اُن سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے۔ انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی اورباطل کے آگے سرنگوں نہیں ہوئے(آلِ عمران:146) جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انہیں مُردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں (آلِ عمران:169) صبر سے کام لو اور باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھا ؤ۔ حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ امید ہے کہ فلاح پا ؤ گے (آلِ عمران:200) مقابلہ کے لیے ہر وقت تیار رہو۔ پھر جیسا موقع ہو الگ الگ نکلو یا اکٹھے ہو کر(النساء:71) آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں (النساء:75) شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں (النساء:76) لہٰذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہو جائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے اُن پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے (النساء:90) جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو دوست دشمن میں تمیز کرو(النساء:94) جب تم لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو (الانفال:15) ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے (الانفال:39) جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو (الانفال:45) کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو عَلانیہ اس کے آگے پھینک دو(الانفال:58) زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو (الانفال:60) نکلو، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل۔ جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ (التوبہ:41) اللہ کی راہ میں جہاد کروجیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے (الحج:77) جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا (محمد:4) اگر تم نے حکمِ جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا (سورة الفتح:16) جہادکرنے اور میری رضا جوئی کی خاطر نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوںکو دوست نہ بنا ؤ۔(الممتحنہ:1) اُن لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتا ؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی (الممتحنہ:8) اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے(سورة الصف:10)۔

15۔ چوری کی سزا

چور، خواہ عورت ہو یا مرد، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو(سورة المآئدة:38) اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے ( سورة المومن:19)۔

16۔ حج اور عمرہ

میرے اس گھر کو طواف، اعتکاف، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو(البقرة:125) جو شخص بیت اللہ کا حج یا عُمرہ کرے، وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لے(البقرة:158) جب حج اور عُمرے کی نیت کرو، تو اُسے پورا کرو(البقرة:196) حج میںاپنے سر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے(البقرة:196) اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر رکھو(البقرة:196) دورانِ حج کوئی شہوانی فعل، بدعملی، یالڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو (البقرة:197) حج کے ساتھ رب کا فضل (رزق) بھی تلاش کرتے جا ؤ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں (البقرة:198) اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے (آلِ عمران:97) احرام کی حالت میں شکار کو اپنے لیے حلال نہ کرلو(المآئدة:1) احرام کی حالت میں شکار نہ مارو۔ اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کرگزرے گا تو جو جانور اس نے مارا ہو اُسی کے ہم پلّہ ایک جانور اُسے مویشیوں میں سے نذر دینا ہوگایا نہیں تو اس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا، یا اُس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے(المآئدة:95) احرام کی حالت میںسمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلا ل جبکہ خشکی کا شکار حرام کیا گیا ہے (المآئدة:96) یہ جو تمہاری زبانیں جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ چیز حلال ہے اور وہ حرام، تو اس طرح کے حکم لگاکر اللہ پر جھوٹ نہ باندھو(سورة النحل:116) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو، اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو (الحج:26) اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کعبہ کا طواف کریں (سورة الحج:29)۔

17۔ حرام اور حلال

کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا(الاعراف:32) تیرے رب کا دیا ہوا رزقِ حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے( طٰہٰ:131) تم کیوں اُس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے؟(التحریم:1) جو پاک چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کر لو اور حد سے تجاوز نہ کرو( المآئدة:87) اُن چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں، پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رُکیں اور جو فرمان الٰہی ہو اُسے مانیں (المآئدة:93) اللہ نے جو کچھ حلال اور پاک رزق تم کو بخشا ہے اسے کھا ؤ اورا للہ کے احسان کا شکر ادا کرو (النحل:114) کھا ؤ ہمارا دیا ہوا پاک رزق اور اسے کھاکر سرکشی نہ کرو (طٰہٰ:81) کھا ؤ پاک چیزیں اورصالح عمل کرو (المومنون:51) یہ بھی تمہارے لیے ناجائز ہے کہ پانسوں کے ذریعے سے اپنی قسمت معلوم کرو (المآئدة:3)۔ حلال کھانا:

حلال اور پاک چیزیں کھا ؤ اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر نہ چلو(البقرة:168) جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بے تکلف کھا ؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو (البقرة:172) تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں(المآئدة:4) شکاری جانورجس شکار کو تمہارے لیے پکڑ رکھیں اسے تم اللہ کا نام لے کر کھا سکتے ہو (المآئدة:4) اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال اور تمہارا کھانا ان کے لیے(المآئدة:5) کھا ؤ اُن چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں۔ یہ آٹھ نر و مادہ ہیں: دو بھیڑ کی قسم سے،دو بکری کی قسم سے، دو اُونٹ کی قسم سے اور دو گائے کی قسم سے (الانعام: 142، 144)جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اُس کا گوشت کھا ؤ(الانعام:118) کھا ؤ وہ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو بخشی ہیں (سورة الاعراف:160) سمندرکو مسخر کررکھا ہے تاکہ تم اس سے تروتازہ گوشت لے کر کھا ؤ اور اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو(سورة النحل:14) تمہارے لیے مویشی جانور حلال کیے گئے، ماسوا ان چیزوں کے جو تمہیں بتائی جاچکی ہیں(سورة الحج:30)۔ حرام کھانا:

یہ بھی پڑھیں:   ناروے کا ابابیل - راجہ کاشف علی خان

مُردار نہ کھا ؤ، خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو (البقرة:173) کوئی ایسی چیز نہ کھا ؤ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو(البقرة:173) آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقہ سے نہ کھا ؤ(البقرة:188) تم پر حرام کیا گیا مُردار، خون، سور کا گوشت، وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، وہ جو گلا گُھٹ کر، یا چوٹ کھا کر، یا بلندی سے گر کر، یا ٹکر کھا کر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو، سوائے اُس کے جسے تم نے زندہ پا کر ذبح کر لیا۔ اور وہ جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو(المآئدة:3) جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھا ؤ(الانعام:121) حرام ہے خواہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا سُور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے، یا فسق ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو (الانعام:145)اللہ نے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے، وہ ہے مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیاگیا ہو(سورة النحل:115)۔ مجبورا" حرام کھانا:

جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر ان میں سے کوئی حرام چیز کھا لے، بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلان ہو تو بے شک اللہ معاف کرنے والا(المآئدة:3) قانون الٰہی کی خلاف ورزی کی خواہش کے بغیر اور حد ضرورت سے تجاوز نہ کرکے اگر کوئی حرام چیزوں کو کھالے تو یقیناً اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے( النحل:115)۔

18۔ حق و باطل اور سیدھا راستہ

درحقیقت ان کی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے (النساء:155) وہ صرف اللہ ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے(سورة یونس:35) منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے(سورة الرعد:35) یک سُو ہوکر ابراہیم ؑکے طریقے پرچلو۔ (سورة النحل:123) سلامتی ہے اس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے(طٰہٰ:47) اور وہ سب باطل ہیں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں (الحج:62) کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کُفران کرتے ہیں(العنکبوت:67) تم زمین میں غیرحق پر مگن تھے اور پھر اس پر اتراتے تھے(سورة المومن:75) حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے(المدثر:45) کسی بدعمل یا منکر حق کی بات نہ مانو( الدہر:24) ہر اس چیز میں جو اللہ نے زمین اور آسمانوں میں پیدا کی ہے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غلط روی سے بچنا چاہتے ہیں(سورة یونس:6)۔

19۔ حیا اور فحاشی

اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جا ؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چُھپی(الانعام:151) میرے رب نے یہ چیزیں حرام کی ہیں: بے شرمی کے کام، خواہ کھلے ہوں یا چھپے۔گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی کو شریک کرو(الاعراف:33) فحش کام کرتے ہو؟عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی(جنسی) خواہش پوری کرتے ہو؟ (الاعراف: 80-81) لغویات سے دور رہتے ہیں (سورة المومنون:3) مومنین کے گروہ میں فحش پھیلانے والے دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں(سورة النور:19)اور کسی لغو چیز پران کا گزر ہوجائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں(الفرقان:72) جو بڑے گناہوں اوربے حیائی سے پرہیز کرتے ہیں اوراگر غصہ آ جائے تو درگزر کر جاتے ہیں(الشوریٰ:37)۔

20۔ دنیا اور آخرت

تم دنیا اور آخرت دونوںکی فکر کرو (البقرة:220) جو شخص محض ثوابِ دنیا کا طالب ہو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کے پاس ثوابِ دُنیا بھی ہے اور ثوابِ آخرت بھی(النساء:134) جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں، اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہوگا (سورة یونس:7-8) لوگو! تمہاری یہ بغاوت تمہارے ہی خلاف پڑرہی ہے۔ دنیا کی زندگی کے مزے چند روزہ ہیں (سورة یونس:23) جو لوگ بس اس دنیا کی زندگی اور اس کی خوش نمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کار گزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں (سورة ھود:15) جس کسی نے آخرت کی پیشی کا انکار کیا، اس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے (الاعراف:147) کیا تم نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا؟ (سورة التوبة:38) فی الواقع سخت گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا (سورة یونس:45)آخرت کا گھر اُن کے لیے زیادہ بہتر ہے جنہوںنے تقویٰ کی روش اختیار کی (یوسف:109) اور جو آخرت کا خواہشمند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے، اور ہو وہ مومن،تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی( بنی اسرائیل:19) جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اُ س کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا ( الکھف:105) جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے (سورة الکھف:110) ہر اس شخص کو چھانٹ لیں گے جو رحمٰن کے مقابلے میں زیادہ سرکش بنا ہوا تھا (سورة مریم:69) تاکہ ہرمتنفس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے( طٰہٰ:15) قریب آگیا ہے لوگوںکے حساب کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں (الانبیاء:1) آخرت کو نہ ماننے والوں کےلیے اُن کے کرتوتوں کو خوشنما بنا دیا گیاہے، اس لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں (النمل:4) لوگو! بچو اپنے رب کے غضب سے اور ڈرو قیامت کے دن سے۔( لقمان:33) جو اللہ اور یومِ آخر کا امیدوار ہواور کثرت سے اللہ کو یاد کرے( الاحزاب:21) یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے (لقمان:33) اورروزِ جزا کو جھوٹ قرار دیتے تھے (المدثر:46) تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز یعنی دنیا سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو(قیامہ: 20-21) اُس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔ (الدہر:7)۔

21۔ رزق اوراللہ کا فضل

جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دُوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو۔ ہاں! اللہ سے اس کے فضل کی دُعا مانگتے رہو (النساء:32) زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسانہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو(سورة ھود:6)تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکرگزار بنو(سورة النحل:14) اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں سکون حاصل کرو اوردن کو اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ شاید کہ تم شکرگزار بنو (القصص:73) اللہ سے رزق مانگو، اُسی کی بندگی کرو اور اُس کا شکر ادا کرو (العنکبوت:17) رب جسے چاہتا ہے، کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلا عطا کرتا ہے۔ (سبا:36) تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکرگزار بنو (فاطر:12) اور جو کچھ ہم نے اُنہیں رزق دیا ہے اس میں سے کھلے اور چُھپے خرچ کرتے ہیں۔(فاطر:29) اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو(سورة یٰسین:47) ہم نے جو کچھ بھی رزق انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں (سورة الشوریٰ:38) تم اس کا فضل تلاش کرو اور شکر گزار ہو(سورة الجاثیہ:12) اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پُھول نہ جاؤ (الحدید:23) تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا، اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا(سورة النبا: 9-11) کیا یہ دُوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا؟ (النسائ:54) رات کو سونا اور دن کواللہ کا فضل کو تلاش کرنا ہے (الروم:23)۔

(جاری ہے)

Comments

یوسف ثانی

یوسف ثانی

یوسف ثانی پیغام قرآن ڈاٹ کام کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ 2008ء سے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں قرآن و حدیث پر مبنی کتب کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں۔ ان کی کتب "پیغام قرآن، " "پیغام حدیث،" "قرآن جو پیغام،" "اسلامی ضابطہ حیات" اور "اسلامک لائف اسٹائل " کے تا حال پندرہ ایڈیشنز شائع ہوچکے ہیں۔ آپ ایم اے صحافت بھی ہیں اور بطور صحافی خبر رساں ادارے پاکستان پریس انٹرنیشنل اور جنگ لندن سے برسوں وابستہ رہنے کے علاوہ گزشتہ چار دہائیوں سے قومی اخبارات و جرائد میں بھی لکھ رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے کیمیکل ٹیکنا لوجسٹ ہیں۔ کیمیکل ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے بعد 1981ء سے قومی و کثیر القومی آئل اینڈ گیس فیلڈز سے وابستہ ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.