محاسبہ - ام محمد سلمان

یہ شاید دو تین سال پہلے کی بات ہے۔ میری جیٹھانی کی پھوپی زاد بہن ان سے ملنے کے لیے آئی ہوئی تھی۔ یہ رمضان کا تیسرا عشرہ تھا شاید۔ اس کے حلیے کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ کس کسمپرسی میں زندگی گزار رہی ہے۔ اپنے شوہر کی دوسری بیوی ہے، تین بیٹیاں بھی ہیں، جو شادی کی عمر کو پہنچ چکیں، ماں فیکٹری میں کام کرتی ہے، بیٹیاں بھی گھر میں کچھ نہ کچھ کر لیتی ہیں۔ وہ بیچاری دکھوں کی ماری چپکے چپکے میری جیٹھانی کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی۔

"بس کیا بتاؤں باجی! اللہ کا شکر احسان ہے جس حال میں بھی رکھے۔ شوہر کئی کئی دن تک گھر نہیں آتا، نہ ہی خرچ دیتا ہے۔ اس کی خاندانی بیگم اسے ہم سے ملنے نہیں دیتی۔ میری بچیاں ہر چیز کے لیے ترستی ہیں۔ اس کی بڑی بیگم کے گھر میں ہر چیز کی فراوانی ہے اور یہاں وہ مکان کا کرایہ تک نہیں دیتا۔ ہم چاروں ماں بیٹیاں مل کر جو کچھ کماتی ہیں اس میں گھر کا کرایہ، گیس بجلی کے بل، پھر ایک چھوٹی سی کمیٹی بھی ڈال رکھی ہے، ہاں باجی بچیوں کی شادی بیاہ کے لیے بھی تو کچھ جوڑنا ہے ناں؟

"پھر انہی میں سے جیسے تیسے کر کے کچھ پیسے بچاتی ہوں تاکہ ان کے افطار کے لیے کچھ بندوبست کر لوں۔ ہائے! میری بچیاں شربت بناتی ہیں تو اس میں روح افزا بھی ذرا سا ڈالتی ہیں تاکہ روح افزا کی بوتل پورا رمضان چل جائے۔"

وہ اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھی مگر میرا ذہن اسی ایک نکتے پر اٹک گیا تھا روح افزا کی بوتل.... روح افزا کی بوتل....! اف میرے خدا! اپنے بچے یاد آئے۔ ایک کو جام شیریں پسند ہے تو دوسرے کو کوئس۔ روزانہ دونوں کی پسند کا شربت بنانا ہوتا ہے۔ کبھی شربت کو جی نہ چاہے تو دودھ دہی کی لسی... اور یہاں ایک بوتل پر پورا رمضان؟

ذرا ہم لوگ سحر و افطار میں اپنے گھروں کے سجے ہوئے دسترخوانوں کا جائزہ لیں، اتنا کچھ ہوتے ہوئے بھی کبھی ڈھنگ سے پروردگار کا شکر ادا نہیں کرتے۔ پکوڑوں میں مرچیں زیادہ تھیں، شربت ٹھنڈا نہیں تھا، چنا چاٹ میں کھٹاس کم رہ گئی، سموسوں میں گھی کتنا بھرا ہوا ہے، دہی بھلوں میں ذائقہ نہیں۔ جب اتنی چیزیں پے در پے کھائیں گے تو ذائقہ کیا محسوس ہوگا بھلا؟ رب کا شکر ادا کرنا چاہیے ہمیں کہ اتنی نعمتیں کھلاتا پلاتا ہے۔

پھر کہنے لگی "ٹھیلے والے سے کسی دن پکوڑے تو کبھی سموسے لے لیتے ہیں۔ گھر میں بنانے میں بہت خرچہ ہوتا ہے ناں۔ اتنا گھی تیل اور باقی سامان سب مہنگا پڑتا ہے۔ وہ بیچارہ ٹھیلے والا آجاتا ہے ہم جیسے غریبوں کے لیے۔ بس اللہ کا بڑا شکر احسان ہے کبھی بھوکا نہیں سلاتا۔"

پھر وہ ایک تھیلا کھول کر دکھانے لگی جس میں سیکنڈ ہینڈ کپڑے تھے۔ تین سوٹ، تینوں بیٹیوں کے لیے جو اس نے بچت بازار سے خریدے تھے۔ یہ دیکھنا باجی اچھے ہیں ناں؟ سو سو (100) روپے میں لیے ہیں میں نے۔ 300 میں تینوں بچیوں کے سوٹ آگئے۔ اب لے کے جاؤں گی تو خوش ہو جائیں گی بچیاں۔ یہ بڑی والی کے لیے لیا ہے، اس پر تو یہ رنگ اچھا لگے گا مگر چھوٹی ذرا دبتے رنگ کی ہے تو ہو سکتا ہے وہ ذرا منہ بنائے۔ پر میری بچیاں بڑی صبر والی ہیں باجی! اللہ أن کے نصیب اچھے کرے، آگے کسی چیز کو نہ ترسیں۔ کہتے کہتے ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ہونٹ پھر بھی مسکرا رہے تھے۔ آنسوؤں کا بھرم بھی تو رکھنا تھا شاید۔

میں اس کی باتیں سن رہی تھی پر میرا دل اندر ہی اندر رو رہا تھا۔ اس غریب کی بیٹیاں عید پر پرانے کپڑے پہنیں گی وہ بھی لوگوں کی اترن؟ یہ بات شاید پڑھنے میں آپ کو اتنی درد بھری نہ لگے جو درد میں اس وقت محسوس کررہی تھی۔ میرے اللہ! ہمارا یہ حال ہے، کیوں اتنے بے خبر رہتے ہیں ہم اپنوں سے؟ خیر ہم دونوں سے جو ہو سکا ہم نے ان کے لیے کیا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے وہ باپ کہاں چلا گیا....؟ جو دوسری بیوی اور بچوں کو بھول گیا۔ لوگ اپنی پہلی خاندانی بیگم کی موجودگی میں شادی تو کر لیتے ہیں پر دوسری بیوی کو اس کے جائز حقوق سے کیوں محروم رکھتے ہیں...؟ اللہ کا ڈر خوف نہیں ہے؟ کس لیے شادی کی تھی؟ جس "ملکہ عالیہ" کے خوف سے دوسری بیوی کے مجرم بنتے ہیں وہ قبر میں ساتھ جائے گی کیا؟ قبر میں عذاب دینے والے فرشتوں اور سانپ بچھوؤں سے بچا لے گی...؟ کوئی ہے جواب؟ اپنی ناانصافیوں کا وبال خود ہی بھگتنا ہے۔ کوئی کسی کے ساتھ نہیں جاتا قبر میں۔

آج ہی اپنے محلے میں ایک جنازہ اٹھا ہے۔ دو دن پہلے تک برہان انکل گلی میں چلتے پھرتے تھے، آج انہیں سفید کفن میں لپٹے میت کے روپ میں دیکھا ہے۔ ہم لوگ جیتے ایسے ہیں جیسے کبھی مرنا نہیں اور مر ایسے جاتے ہیں جیسے کبھی جیے ہی نہ تھے۔ سچ کہا کسی نے

زندگی جس کا بڑا نام سنا کرتے تھے

ایک کمزور سی ہچکی کے سوا کچھ بھی نہیں

پھر ایک سوال ان بیویوں سے بھی ہے جو شوہر پر دباؤ ڈال کر اسے دوسری بیوی کے ساتھ ناانصافی پر مجبور کرتی ہیں۔ یہ مرد چاہے کتنے بھی طاقتور اور عقل مند ہوں مگر اکثر عورتوں کے ہاتھ میں کھلونا بن جاتے ہیں۔ کبھی خاندان اور خاندانی بیگم کے دباؤ میں آکر دوسری بیوی کی حق تلفی کرتے ہیں اور کبھی دوسری بیوی پر ایسے لٹّو ہوتے ہیں کہ پہلی کو بھول جاتے ہیں۔ پھر قصور بھی عورت کا بتایا جاتا ہے کہ وہ سوتن برداشت نہیں کرتی۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ آج کے مرد میں وہ صلاحیت ہے ہی نہیں جو ایک سے زیادہ بیویوں کے عدل و انصاف کے ساتھ حقوق پورے کرسکے۔

یہاں ایک بات اپنی ان بہنوں سے بھی کہنا چاہوں گی جو شوہر کی محبت کی دعوے دار ہو کر اس کی دوسری بیوی کو قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہیں کہ اگر واقعی حقیقتاً اپنے شوہر سے محبت کرتی ہیں اور اس کی خیر خواہ ہیں تو اس بیچارے کو رشتوں میں توازن رکھنے دیں۔ اسے مجرم بننے پر مجبور نہ کریں۔ یہ کیسی محبت اور ملکیت کا احساس ہے جو شوہر کو ذلیل و رسوا کر کے رکھ دیتا ہے؟ کبھی ماں، بیٹے پر حقِ ملکیت جتا کر بیوی کو اس کے جائز حقوق سے محروم کر دیتی ہے اور کبھی بیوی شوہر کو اپنی زلفوں کا اسیر کر کے اس کی ماں بہنوں اور دیگر رشتوں سے الگ کر دیتی ہے۔ یہی حال ایک سے زیادہ بیویوں میں ہوتا ہے۔ ہر ایک شوہر کو اپنی طرف کھینچنے میں لگی ہوتی ہے اس سے قطع نظر کہ اس کھینچاتانی میں نقصان کس کا ہورہا ہے؟ آج مل بانٹ کر کھانے کا جذبہ کیوں نہیں رہا ہم میں...؟ کیونکہ دنیا سے دل لگا لیا ہے۔ اسی کو سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ آخرت کا تصور دھندلا ہو گیا ہے۔ جزا و سزا پر سے یقین ہٹ گیا ہے۔ اس دنیا کی خاطر جس کی اہمیت اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں۔ ذرا سوچیے آج ہم جس دنیا کے حصول کی خاطر آپس کی خانہ جنگی کا شکار ہیں اللہ کے نزدیک اس کی اہمیت تو دیکھیے۔

آج ہماری خواہشیں کیا ہیں...؟ سب سے اچھا لباس میرا ہو، سب سے اچھا گھر میرا ہو، خاوند صرف میرا ہو، میرے بچے ایک سے بڑھ کر ایک ہوں، دنیا میں بڑا نام ہو مگر....؟ مگر کیا فائدہ؟ انجام کیا ہے اس کا؟ آپ ساری دنیا بھی حاصل کر لیں مگر قیامت کے دن ناکام ہو گئے تو یہ ساری دنیا بھی اپنے فدیہ میں دینا چاہیں تو قبول نہ ہوگی...

ذرا سوچیں تو سہی، یہ دنیا جس کو اللہ نے مچھر کا پر کہا ہے تو کیا کوئی بندہ مچھر کا پر خریدے گا....؟ اس کے حصول کے لیے اپنی توانائیاں لگائے گا؟ نہیں ناں۔ کوئی ایسا نہیں کرے گا۔ کوئی کرے گا تو لوگ اسے پاگل کہیں گے۔ بس یہی ہمارے یقین کی کمزوری ہے۔ اس بات کو سمجھ لینا چاہیے۔ کسی کی حق تلفی نہ کریں اس حقیر دنیا کی لذات کی خاطر... یہ تو مچھر کا پر ہے۔ جیسے مچھر کا پر ہاتھ میں آتے ہی مسلا جاتا ہے اس کا کوئی وجود نہیں رہتا، کوئی قیمت نہیں رہتی۔ بالکل یہ دنیا بھی ایسے ہی ہے۔ موت کے ساتھ ہی سب کچھ جدا ہوجائے گا۔ صرف انسان کے اعمال ہیں جو ساتھ جائیں گے، اچھے اعمال کا اچھا بدلہ اور برے اعمال کا برا!

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ یہ لوگوں کے ساتھ صلہ رحمی اور غم خواری کا مہینہ ہے۔ اپنے رشتوں کا جائزہ لیجیے ایک بار۔ کہیں کسی کا دل تو نہیں دکھا رکھا؟ کسی کی حق تلفی تو نہیں کر رکھی؟ کوئی ہماری مدد کا محتاج تو نہیں؟ کسی کے گھر میں سحری و افطاری کا سامان موجود ہے یا نہیں؟ کوئی بیمار، دوا کے پیسوں کے لیے تو نہیں ترس رہا؟ کوئی غریب لوگوں کو عید کی تیاریاں کرتے دیکھ کر ٹھنڈی آنہیں تو نہیں بھر رہا؟ کسی سفید پوش کے بچے معصوم خواہشوں کے لیے تو نہیں مچل رہے؟ صرف نمازیں پڑھ کر، روزے رکھ کر، سحر و افطار میں اچھے اچھے پکوان کھا کر ہم جنت میں نہیں چلے جائیں گے۔

یاد رکھیے! حقوق العباد کا معاملہ بہت سخت ہے۔ ہمارے مال میں دوسروں کا بھی حصہ ہے، اسے خوش دلی سے ادا کرنا چاہیے۔ اپنے بگڑے رشتوں کو سنوار لیجیے۔ اپنی عبادات کا جائزہ لے لیجیے، نماز روزے کے احکامات سیکھ لیجیے۔ ایک بار اپنا محاسبہ کر لیجیے ایسا نہ ہو کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بددعا کے مستحق بن جائیں کہ " ہلاک ہوجائے وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور پھر بھی اپنی بخشش نہ کروا سکا۔" (بخاری، طبرانی، حاکم)

Comments

ام محمد سلمان

کراچی میں مقیم اُمِّ محمد سلمان نے زندگی کے نشیب و فراز سے جو سبق سیکھے، ایک امانت کے طور پر دوسروں کو سونپنے کے لیے قلم کو بہترین ساتھی پایا۔ اُن کا مقصد ایسی تحاریر لکھنا ہے جو لوگوں کو اللہ سے قریب کریں اور ان کی دنیا و آخرت کی فلاح کا سبب بنیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.