گیری نے جھوٹ کیوں بولا؟ - تصور حسین خیال

میں صبح ۸ بجے جب معمول کی شفٹ کے لیے موٹل پہنچا تو پریا مجھے میرے متعلقہ کاموں کے بارے بتانے لگی۔ پریا موٹل مینیجر ہے اور استقبالیہ سے ملحقہ خاص طور پہ بنائے گئے دو بیڈ روم اپارٹمنٹ میں رہتی ہے۔ وہ ہمیشہ شفٹ تبدیل کرتے ہوئے نظریں نیچی کیے اپنی بات اسی جملے سے شروع کرتی ہے۔ ’’ویسے تو کچھ خاص نہیں ہے ‘‘ بس یہ یہ دیکھ لینا۔ اس دن کی خاص بات ایک گیسٹ تھا جسے کل پہنچنا تھا لیکن ابھی تک آ نہیں سکا تھا۔ گیری مل جون کے چار دن موٹل میں رکنے کا کرایہ پہلے ہی آن لائن ادا کیا جا چکا تھا اس لیے پریا کو یقین تھا کہ وہ ضرور آئے گا۔ پریا نے اپنی بات مجھے یہ بتاتے ہوئے ختم کی کہ سسٹم میں چیک ان کر دیا ہے۔ کمرے کی چابی بنا کے رکھ دی ہے بس جب وہ پہنچے تو صرف چابی دے دینا۔

میں نے ساری ہدایات ذہن نشین کیں، کچھ کو لکھا اور اپنے روز مرّہ فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہو گیا۔ تقریباً دوپہر کے وقت ایک ضعیف العمر شخص موٹل کی لابی میں داخل ہوا۔ اسے ایک خاتون نے بغل کے نیچے سے ہاتھ ڈال کے سہارا دے رکھا تھا۔ شکل سے ہی وہ کافی بیمار لگ رہا تھا۔ چند رسمی کلمات کے بعد وہ خاتون بولی کہ ہماری ریزرویشن ہے۔ میں نے نام پوچھا تو وہ وہی گیری جون تھا جس کے بارے مجھے پریا صبح بتا چکی تھی۔ میرے کمپیوٹر میں نام دیکھنے کے دوران ہی وہ خاتون بولی کہ ہمیں کل پہنچنا تھا مگر کل طبیعت بگڑنے کی وجہ سے ہاسپیٹل لے جانا پڑا جس کی وجہ سے نہیں آ سکے۔ اس کا اشارہ گیری کی طرف تھا جسے کھڑے ہونے میں کافی دقّت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ میں نے مزید وقت ضائع کیے بنا خاتون کو چابی تھمائی اور کمرے کا رستہ سمجھا دیا۔ خاتون گیری کو سہارا دیے احتیاط سے دھیرے دھیرے چلتے کمرے کی طرف چل پڑی۔

موٹل میں چونکہ مریض بھی آ کے ٹھہرتے ہیں اس لیے حیرانی کی کوئی بات نہیں تھی۔ عموماً متعلقہ ڈاکٹر کی مقامی شہر میں عدم دستیابی لوگوں کو دوسرے شہر کا سفر کرنے پہ بھی مجبور کرتی ہے جس کی وجہ سے لوگ عارضی رہائش کے لیے موٹلز کا رخ کرتے ہیں جو ہوٹلز کے مقابلے میں جیب پہ بھاری نہیں پڑتے۔ غالباً یہ دوسرے دن کی بات ہے جب استقبالیہ پہ بیٹھے ہوئے میری نظر سامنے لگی ٹی وی سکرین پہ پڑی جس پہ بلڈنگ کے اندرون و اطراف میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کے لائیو مناظر تھے۔ اس میں ایک کیمرہ موٹل کی اوپری منزل کی طرف جاتی ہوئی سیڑھیوں کا منظر دکھا رہا تھا۔ ان سیڑھیوں کی ریلنگ پہ ہاتھ رکھے، سر جھکائے مجھے گیری کھڑا نظر آیا۔ اس کے دائیں ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھا اور وہ اسی ہاتھ سے ریلینگ کو پکڑے سیڑھیاں چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ ہر سیڑھی کے بعد ہانپتا، رکتا، ریلینگ اور شاپنگ بیگ کو ایک ہی ہاتھ سے سنبھالتا اور پھر پوری ہمّت جمع کر کے انتہائی تکلیف سے پاؤں اٹھا کے اگلی سیڑھی پہ رکھ پاتا۔ یہ منظر اتنا بتانے کے لیے کافی تھا کہ اسے مدد کی اشد ضرورت ہے۔ میں کرسی سے اٹھنے ہی والا تھا کہ اوپر سے آتی ہوئی ایک لڑکی نے اس ضرورت کو بھانپتے ہوئے گیری کے ہاتھ سے بیگ لیا اور اسے کمر ےتک پہنچنے میں مدد کی۔

گیری اکیلا تھا۔ یہ پہلی سوچ تھی جو میرے ذہن میں ابھری۔ اس حالت میں اسے اکیلا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ خاتون جو کوئی بھی تھی اسے کمرے میں چھوڑ کے واپس چلی گئی تھی۔ جانے وہ کیا لگتی تھی اس کی؟ بیماری کے باعث اس درجہ کمزوری کی حالت میں کسی نہ کسی کو تو اس کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔ ہمارے موٹل میں روم سروس کی سہولت بالکل بھی نہیں تھی۔ گیسٹ کو اپنے پانی تک کا خود انتظام کرنا ہوتا ہے۔ گیری کے معاملے میں تو یہ انتہائی کٹھن تھا۔ کھانا، پینا، دوائیاں، کپڑے، اٹھنا بیٹھنا یہ سب اسے اپنے اس ہانپتے، کانپتےوجود اور ختم ہوتی ہمّت کے ساتھ تن تنہا کرنے تھے۔ بالکل اکیلے۔

مجھ پہ حاوی فکر سے بھرپور وہ سوچیں دوسرے معاملات کی مصروفیت میں کہیں دب سی گئیں۔ یہاں زندگی ایسی ہی ہے۔ آپ کسی کے لیے سوچنے بیٹھیں تو اپنی پروا بلکنے لگتی ہے۔ اسے چپ کروانے کے لیے توجہ اور وقت کی خوراک دینی پڑتی ہے۔ اگلے دو دن تک میں بھول ہی گیا کہ موٹل میں ایک ایسا گیسٹ بھی ہے جو اپنے لرزتے ہاتھوں سے ایک ہلکا سا بیگ اٹھانے کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔ صبح کے قریباً دس بجے ہوں گے جب موٹل کے فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف کوئی خاتون تھی۔ جس نے اس کمرہ نمبر سے بات کرنے کے لیے کہا جس میں گیری ٹھہرا ہوا تھا۔ میں نے کال ٹرانسفر کرنے کے بعد آج کی چیک آؤٹ لسٹ دیکھی تو گیری کا کمرہ اس لسٹ میں موجود تھا۔ گیری کو آج کمرہ ۱۱ بجے تک خالی کرنا تھا۔ اس کا مطلب آج اسے کوئی لینے کے لیے آئے گا کیوں کہ اکیلے تو اسے کمرے سے نکلتے اس دن کے بعد میں نے نہیں دیکھا تھا۔ کال اٹیند نہ ہونے کی بنا پہ واپس آ گئی۔ خاتون کو بتایا کہ کال ریسیو نہیں کی گئی تو جواب میں پوچھا گیا ’’ کیا وہ چلا گیا؟‘‘ میں یہ کہتے کہتے رکا کہ جس میں دو قدم اٹھانے کی سکت نہیں وہ اکیلا کہاں جا سکتا ہے؟ مگر میں یہ کہ نہیں سکتا تھا، اس لیے بولا ’’ہو سکتا ہے‘‘۔ خاتون بولی میں جیمی ہوں گیری کی بیٹی۔ میں نے بتایا کہ آج آخری دن ہے۔ کیا اسے لینے آپ آ رہی ہیں؟ نہیں، خاتون نے برجستہ جواب دیا، وہ مزید کچھ دن رکے گا تو میں فون پہ ادائیگی کر دوں گی۔ میں نے کہا کہ فون پہ مشکل ہے۔ آپ کو خود آنا پڑے گا۔ جیمی بولی او کے، میں ایک گھنٹے تک آ جاؤں گی۔ میں نے یہ بتانا ضروری سمجھا کہ ۱۱بجے چیک آؤٹ کا وقت ہے تو آپ جتنا جلدی ہو سکے آ جائیے گا۔ مجھے اگر گیری نظر آیا تو میں آپ کی بات کروا دوں گا۔ جیمی نے او کے کہ کے فون بند کر دیا۔

گیری کا احساس اپنی جگہ مگر نوکری کے تقاضے الگ تھے۔ مجھے ۱۲ بجے تک کمرہ خالی کروانا تھا۔ میں اوپر گیا۔ گیری کے دروازے پہ دستک دی۔ اندر سے کوئی آواز نہیں آئی۔ تیسری دستک تک کوئی جواب نہ ملنے پر میں دروازہ کھول کے اندر چلا گیا۔ گیری بیڈ کے کنارے پہ بیٹھا تھا۔ شاید میری دستک کے جواب میں وہ اتنی دیر تک صرف بیڈ کے کونے تک ہی پہنچ پایا تھا۔ میں نے حال پوچھا اور بتایا کہ جیمی کا فون آیا تھا اور ساتھ ہی فون ملا کے گیری کو دے دیا۔ گیری کہہ رہا تھا میری پاس نیڈلز نہیں ہیں۔ غالباً جواب میں کہا گیا ہوگا کہ فارمیسی سے لے آؤ تو گیری بولا فارمیسی یہا ں سے دو میل کے فاصلے پہ ہے۔ شاید بیٹی نے اصرار کیا ہوگا کہ خود جا کے لے آؤ تو گیری پھر رستے کی طوالت بتانے لگا۔ بیٹی کو سفر کم لگ رہا تھا۔ باپ میں دروازے تک جانے کی ہمّت نہیں تھی۔ بات کرتے کرتے فون والا ہاتھ بار بار نیچے ڈھلک جاتا تھا اور ایسا ظاہر ہے جسمانی کمزوری کی وجہ سے ہو رہا تھا۔ گیری کا فون کو بار بار بڑی مشکل سے کان تک لانے کی کوشش بیٹی کے بولنے کی رفتار کے سامنے سست پڑ رہی تھی۔ آدھی باتیں کانوں کی بجائے اس کے گال سن رہے تھے۔ بات ختم ہوئی تو میں نیچے آ گیا لیکن یہ سوچ بھی میرے ساتھ ساتھ سیڑھیاں اتری کہ جو ایک فون نہیں پکڑ سکتا اسے اپنی بیٹی دو میل پیدل چل کے اپنی دوائیاں لانے کے لیے کہ رہی ہے۔ کیا بیٹیاں ایسی بھی ہوتی ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   شوگر کے مریضوں کے لیے دارچینی کا استعمال مفید قرار

میری مروّت گیری کو کمرہ خالی کرنے کا کہنے سے روک رہی تھی۔ میں بار بار جیمی کو فون کر رہا تھا۔ جو کبھی ۲۰ منٹ کا کہتی اور کبھی ٹریفک میں پھنسے ہونے کا بہانا کرتی۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ نہیں آئے گی اس کا نہ آنا مجھے ایک مشکل امتحان میں ڈال سکتا تھا۔ تقریباً ۳ بجے میں نے جیمی کو پھر فون ملایا تو اس کا فون بند ملا۔ اب تو واضح ہو گیا کہ وہ نہیں آئے گی۔ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا کہ میں گیری کو سارے معاملے سے آگاہ کرتا اور اسی سے اپنی بیٹی سے رابطہ کرنے کے لیے کہتا۔ میں نے اس کے کمرے کا فون ملایا۔ کوئی جواب نہ ملنے پر میں خود اس کے کمرے کی جانب چل پڑا۔ اوپر پہنچ کے میں نے دستک دی، کوئی جواب نہ ملا تو میں نے دروازے کو ماسٹر کی سے کھولا۔ دروازہ کھلتے ہی کمرے کے ٹی وی کے شور میں گیری کی کراہ بھری آواز سنائی دی ’’ہیلپ!"

میں نے تیزی سے دروازہ کھولا اور تقریباً بھاگتا ہوا گیری کے بیڈ کی طرف بڑا۔ گیری بستر پر کمرے کے فون کا ریسیور ہاتھ میں پکڑے نمبر پنچ کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ اس کے جسم پہ ایک بھی کپڑا نہیں تھا۔ گیری کی بمشکل سنائی پڑنے والی آواز ابھری مجھے سٹروک ہوا ہے۔ پلیز ایمبولنس کو بلاؤ۔ سٹروک کا سن کے میرے اپنے اوسان خطا ہونے لگے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ پہلے گیری کو سنبھالوں یا 911 کو کال کروں۔ ایڈریس یاد نہ ہونے کی وجہ سے میں نے پریا کو فون کر کے ساری صورت حال بتائی اور ایمبولینس بلانے کے لیے کہا۔ میں گیری کی طرف واپس پلٹا۔ وہ کمرے میں پڑی پانی کی خالی بوتلوں کو بار بار منہ سے لگا رہا تھا۔ میں نے پوچھا پانی چاہیے؟ اُس کی ہاں میں نے دروازے تک پہنچتے پہنچتے سنی۔ بھاگتے ہوئے نیچے لابی تک پہنچا اور پانی کی بوتل اٹھائی اور واپس پلٹا۔ بوتل گیری کو تھمانے کے بعد احساس ہوا کہ اسے مشکل ہو گی تو میں نے خود بوتل اُس کے منہ کے ساتھ لگائی اور اسے پانی پینے میں مدد کی۔وہ بار بار اپنے سر کے دائیں طرف ہاتھ لگا کے بتا رہا تھا کہ مجھے یہاں کچھ محسوس نہیں ہو رہا۔ میں نے حوصلہ دیا کہ ایمبولینس بس پہنچنے ہی والی ہے۔ پانی پی کے گیری بیڈ پہ لیٹ گیا۔ تب مجھے کمرے کی حالت پہ غور کرنے کا موقع ملا۔ کمرے کے فرش پہ جا بجا چیونگ جیلی بکھری پڑی تھی جو جوتوں کے ساتھ چپکتی تھی۔ سینک پہ تین چار قسم کے ماؤتھ واش کی آدھی استعمال شدہ بوتلیں کھلی پڑی تھیں۔ سائیڈ ٹیبل پہ اور دوسرے بیڈ پہ دوائیوں کی شیشیاں اور کپڑے پھیلے ہوئے تھے۔ میں اندازہ لگا سکتا تھا کہ جس کے جسم کو طاقت ور خوراک کی ضرورت تھی وہ کرسپ، جوسز اور کینڈیز پہ گزارہ کر رہا تھا۔ اسے ہوش میں رکھنے کے لیے میں اس سے گاہے بگاہے کوئی بات کر لیتا تھا۔ اچانک اسے خیال آیا کہ اس کے جسم پہ کپڑے نہیں ہیں۔ پلیز مجھے کچھ پہنا دو۔ اس نے مجھ سے التجائیہ لہجے میں کہا۔ مجھے اپنے کچھ عرصہ پہلے کینسر کی وجہ سے وفات پانے والے والد کا خیال آیا۔ آخری دنوں میں نقاہت نے انہیں اپنے حوائج ضروریہ کے قابل بھی نہیں چھوڑا تھا۔ میں نے اپنے چھوٹے بھائیوں سے گزارش کی کہ میں سب کر لوں گا مگر اپنے باپ کو بنا کپڑوں کے نہیں دیکھ سکتا۔ ایک بیٹے کے لیے دنیا میں اس سے کٹھن امتحان شاید ہی کوئی ہوتا ہو کہ جس میں اپنے باپ کو اتنا مجبور دیکھے کہ اپنے کپڑے بھی خود نہ بدل سکے۔ وہ باپ کہ جس نے آپ کو مضبوط ہونا سکھایا ہو۔ جو آپ کے پہلے قدم کا سہارا رہا ہو۔ جس نے مشکلوں سے لڑنے کے گر بتائے ہوں۔ اس باپ کے قدموں کو کمزور پڑتا اولاد نہیں دیکھ سکتی۔ میرے لیے بھی مشکل تھا۔ میری با ہمّت ماں اور بھائیوں کا شکریہ کہ انہوں نے مجھے اس امتحان سے نہیں گزرنے دیا۔ لیکن گیری کا تو کوئی اپنا اس کے پاس نہیں تھا۔ آج مجھے ہی کرنا تھا۔ اس کا پاجامہ اس کے ٹخنوں کے پاس اٹکا ہوا تھا۔ میں نے ہاتھ لگایا تو وہ گیلا تھا۔ اس کی بے بسی، لاچارگی کا احساس مجھے تب ہوا جب میں نے سوچا کہ کیسے ایک کمرے میں بے یارومددگار اس نے تکلیف کے پیش نظر اپنے کپڑے اتار پھینکے ہوں گے۔ اس نے مدد مدد پکارا تو ہوگا مگر گلے سے بمشکل نکلتی آوازکو ٹی وی کے شور اور بند کمرے سے باہر کون سنتا؟ یہ تو محض اتفاق تھا کہ میں اپنی مجبوری کے تحت اس کے کمرے میں گیا۔ ورنہ چار دن تک تو کسی کو خبر بھی نہ ہوتی کہ اس کمرے کے اندر کوئی انسان اتنا بے بس ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   انا مارچ کی بھینٹ چڑھتا کشمیر! شیخ خالد زاہد

گیری دنیا کی سپر پاور کہلائے جانے والے ملک، دنیا کی مہنگی ترین فلم انڈسٹری ہالی ووڈ کی اسٹیٹ کے ایک پوش علاقے، دنیا کی ترقّی یافتہ اور مہذب سمجھی جانے والی قوم کے بیچ، ایک غیر معروف موٹل کے اس کمرے میں لاچارگی، مجبوری اور بے بسی کی تصویر بنے لیٹا تھا کہ جس کا کرایہ ختم ہوئے تین گھنٹے سے زائد کا وقت گزر چکا تھا۔ میں نے اس کے کپڑوں میں سے ایک خشک پاجامہ نکال کے بڑی مشکل سے پہنایا کہ اس میں ہمّت نہیں تھی۔

اتنے میں میڈیکل ایمرجنسی کا سٹاف کمرے میں داخل ہوا۔ گیری اپنے ہوش و حواس میں تھا۔ تین لوگوں کی ٹیم میں سے دو ضروری بنیادی ٹیسٹ کرنے کی مشین سیٹ کرنے لگے اور ایک نے گیری کی دماغی حالت جانچنے کے لیے کچھ سوال کرنا شروع کیے۔ اس کا نام، آج کی تاریخ اور سال۔ اسے تاریخ یاد نہیں تھی مگر سال یاد تھا۔ مجھے بھی یہ اندازہ لگانے میں کوئی دقّت نہ ہوئی کہ اس کا دماغ ٹھیک کام کر رہا ہے۔ گیری کے وائٹلز سب ٹھیک تھے۔ سٹاف کے پوچھنے پہ گیری نے بتایا کہ اس کے بائیں ہاتھ میں ایک بار پہلے بھی سٹروک ہو چکا ہے۔ تب مجھے علم ہو کہ گیری اس دن سیڑھیاں چڑھتے دوسرا ہاتھ استعمال کیوں نہیں کر رہا تھا۔ گیری بتا رہا تھا کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں ٹیومر تھا۔ اسے ہائی بلڈ پریشر بھی ہے اور اور شوگر کنٹرول کے لیے اسے انسولین لینی پڑتی ہے۔ آخری بار انسولین کب لی تھی؟ میڈیکل اٹینڈینٹ نے گیری سے پوچھا تو اس نے کہا کہ تین دن سے میں نے انسولین نہیں لی کیوں کہ میرے پاس سوئیاں نہیں ہیں۔ شاید یہی سوئیاں تھیں جن کو لینے کے لیے اس کی بیٹی اسے دو میل پیدل چل کے فارمیسی جانے کا مشورہ دے رہی تھی۔ سٹروک کی کوئی علامت نہیں تھی اور اتنا تو گیری کے ساتھ کچھ دیر رکنے میں مجھے بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ سٹروک نہیں تھا۔ بائیں کان کے پاس خون کے نشان تھے۔ میں نے سٹاف کو بتایا کہ میں نے یہ صبح بھی دیکھے تھے۔ گیری نے تفصیل بتائی کہ آج ہی صبح وہ واش روم میں گرا ہے اور اس کا سر ٹوائلٹ سیٹ سے ٹکرایا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ سب شوگر کی زیادتی کی وجہ سے ہوا ہے۔ کیوں کہ تین دن سے گیری نے انسولین نہیں لی تھی۔ آخر فیصلہ کیا گیا کہ اسے ہاسپیٹل لے جایا جائے۔ اس کی دوائیاں، فون، کچھ نقدی، آئی پیڈ سب اکٹھا کر ایک پلاسٹک بیگ میں ڈالا گیا اور گیری کو اٹھا کے ایمبولینس تک لایا گیا۔ جو اسے لے کے ہسپتال روانہ ہو گئی۔

میں نے ضروری سمجھا جیمی کو اطلاع کر دینی چاہیے۔ اس کا فون تھوڑی دیر پہلے بند تھا مگر اب ملایا تو بیل جا رہی تھی۔ میں نے اسے بتایا کہ گیری کو لگا کہ اسے سٹروک ہوا ہے تو ہم نے ایمبولنس کال کی تھی۔ میرا چونکہ تعلق ایک ایسے ملک سے ہے جس کے بارے میں مجھے انگلینڈ میں ایک بار ایک گورے نے کہا تھا کہ پاکستانی قوم بہت جذباتی پاگل ہے۔ دوسرے محلّے کی تکلیف کو اپنے گھر کا مسئلہ سمجھ بیٹھتے ہیں اور بلاوجہ پریشان ہوتے ہیں۔ جب کہ ہمارے ساتھ والے گھر میں کچھ ہو جائے ہم کبھی اتنا سنجیدہ نہیں لیتے۔ تو ایسی قوم سے تعلق کے پیش نظر میں جیمی سے انتہائی جذباتی ردّعمل کی توقّع کر رہا تھا۔ کیوں کہ یہاں بات کسی دوسرے کے باپ کی نہیں بلکہ اس کے اپنے سگے باپ کی تھی۔ مگر مجھے تب انتہائی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب جیمی نے جواب میں انتائی سرد اور سپاٹ قسم کے لہجے میں صرف اتنا پوچھا ’’ کیا وہ اسے ہسپتال لے جائیں گے؟‘‘۔ مجھے لگا وہ صرف یہی سننا چاہ رہی تھی یا اس کی خواہش تھی کہ اسے ہسپتال لے جائیں۔ میں نے اپنے تئیں تمام تفصیل بتا کے فون بند کر دیا۔ مجھے جیمی کے ردّعمل سے انتہائی رنج ہوا تھا۔ میں غیر تھا۔ جتنا دکھ گیری کو اس حال میں دیکھ کے مجھے ہوا اس کی اپنی بیٹی اس درجہ تکلیف کی ایکٹنگ بھی نہ کر پائی تھی۔ مجھے پورا یقین تھا اگر میں اسے گیری کے مر جانے کی خبر بھی دیتا تو میرے سامنے نہ سہی مگر فون رکھنے کی بعد وہ یہ ضرور کہتی ’’تھینک گاڈ، ہی از نو مور‘‘۔

ہم ان معاشروں کی ترقی کی مثالیں دیتے ہیں۔ کوئی شک نہیں۔ ان کے ہاں رائج نظام ہم سے صدیوں آگے ہے۔ چاند کی مٹی پہ اپنے قدموں کے نشاں چھوڑ کے آنے والی یہ قوم ہماری جیسی قوموں سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں کہ جن کے لوگ چاند تو دور کی بات وقت پہ ہسپتال تک نہیں پہنچ پاتے اور رستے میں ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ مگر اس سب ترقی اور مادہ پرستی کی دوڑ جو قیمت ان لوگوں نے چکائی ہے کاش اس قدر خمیازہ ہمیں نہ بھگتنا پڑے اور وہ قیمت ہے رشتوں کی۔ اولاد ماں باپ کی نہیں، بھائی بہن اور بہنوں کو بھائیوں کی فکر نہیں۔ زندگی اپنے نفس تک محدود ہے اور اسی کی پروا میں شام سے دن اور دنوں سے شام کی گنتی میں گزرتی جا رہی ہے۔ ہمارے ہاں تو ایسے مریض کو ایک پل تنہا نہیں چھوڑا جاتا مگر یہ کیسا خون تھا، یہ کیسی بیٹی تھی جس نے موت کے دن گنتے ہوئے باپ کو ایک موٹل کے کمرے میں لا کے چھوڑ دیا تھا؟ میں ایک ایک واقعہ پہ غور کرنے لگا۔ گیری کو سٹروک تھا ہی نہیں۔ سٹروک کی علامات کی اسے اچھی طرح خبر تھی کیوں کہ اسے پہلے بھی ایک بار ہو چکا تھا۔ اس نے سٹروک کا جھوٹ بولا تھا۔ مگر گیری کو جھوٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ گیری تو جانتا تھا مگر اب مجھے بھی اس سوال کا جواب سمجھ آ رہا تھا۔ گیری کی دو ضروریات تھیں۔ ایک رہنے کے لیے چھت اور دوسرا خیال رکھنے کے لیے کوئی وجود۔ دونوں ضروریات یا تو بیٹی پورا کر سکتی تھی یا پھر ہسپتال۔ گیری کو سٹروک کا جھوٹ اس لیے بولنا پڑا کیوں کہ اسے یقین تھا کہ جو بھی ہو بیٹی کبھی نہیں آئے گی اور جو بھی ہو ایمبولینس تو آہی جائے گی۔

گیری کا باقی سامان ہمارے موٹل کے لانڈری روم میں پچھلے دو ہفتے سے ابھی تک کسی ایسے کا منتظر ہے جو صرف یہ کہ کے لے جا ئے "یہ میرے باپ کا ہے"۔