اپنا اپنا سچ - مفتی منیب الرحمٰن

چوہدری شجاعت حسین صاحب وضع دار آدمی ہیں، اپنے مخالفین کے بارے میں بات کرتے وقت مغلوب الغضب نہیں ہوتے، توازن قائم رکھتے ہیں، ہمیں تو فیض یاب ہونے کا موقع نہیں ملا لیکن سنا ہے کہ ان کا دسترخوان ہمیشہ کشادہ رہتا ہے اور یہ روش انہوں نے اپنے والدین سے وراثت میں پائی اور اسے جاری رکھا، یہ ان کی شخصیت کاایک مثبت پہلو ہے۔ حال ہی میں انہوں نے اپنی سیاسی آب بیتی ’’سچ یہ ہے‘‘ کے عنوان سے لکھی ہے یا کسی صاحبِ قلم سے لکھوائی ہے۔ ہمیں یہ کتاب پڑھنے کا موقع نہیں ملا، البتہ بعض کالم نگاروں کے توسّط سے اس کے کچھ مندرجات نظر سے گزرے ہیں۔ ممکن ہے کہ چوہدری صاحب نے اس کتاب میں صرف سچ بیان کیا ہو، مگرنہایت احترام کے ساتھ گزارش ہے کہ پورا سچ بیان نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر ایک کا ’’اپنا اپنا سچ ‘‘ ہوتا ہے، یعنی چنیدہ صداقت، خود احتسابی اور کامل سچ بولنا ہر ایک کے لیے دشوار امر ہے، اس لیے کوئی جتنا بھی سچ بولے، خواہ جزوی ہی سہی، اس کی تحسین کی جانی چاہیے، کیونکہ بشری کمزوریوں سے ہم میں سے کوئی بھی مبرّا نہیں ہوتا۔ اپنی نظر میں ہر ایک پارسا ہوتا ہے، مگر اپنے بارے میں پورا سچ بولنا پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (1): ’’وہ تمہیں خوب جانتا ہے جب اُس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا (اور )جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں جنین ( تخلیقی مراحل میں) تھے، سو تم اپنی پارسائی بیان نہ کرو، وہ متقین کو خوب جانتا ہے، (النجم:32)‘‘، (2)’’کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی بیان کرتے ہیں، بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے پاکیزہ بنادیتا ہے، (النساء:49)‘‘۔

الغرض چوہدری صاحب نے شاہی جماعت المعروف مسلم لیگ ق بنانے کی پوری تاریخ بیان نہیں کی کہ شاہِ زَمَن کی پہلی نظر انتخاب سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر پر پڑی اور اُن کی قیادت میں ’’ہم خیال گروپ‘‘ تشکیل پایا، لیکن جب منصوبہ سازوں نے دیکھا کہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی، کیونکہ میاں محمد اظہر میں جوڑ توڑ اور قیادت کی مطلوبہ صلاحیت نہیں تھی، اس لیے ترجیحِ ثانی کے طور پر نظر انتخاب جناب چوہدری شجاعت حسین پر پڑی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری تاریخ کے تینوں پاپولر لیڈربالترتیب جنابِ ذوالفقار علی بھٹو، جنابِ نواز شریف اور جنابِ عمران خان مقتدر اداروں ہی کا انتخاب ہیں اور انہی کی آغوش میں ان کی نشوونما ہوئی، لیکن ضروری نہیں ہے کہ قیادت کے جو اشجار شاہی گملے میں کھلے ہوں، ان کی سرشت اور خمیر میں قائد بننے کا جوہر بھی موجود ہو، لیکن مذکورہ بالا تینوں حضرات کی جبلّت میں چونکہ قدرت نے قیادت کی صلاحیت ودیعت کر رکھی تھی، اس لیے آگے چل کروہ خود اعتمادی کے ساتھ پاپولر لیڈر بن گئے، ہماری مراد مطلقاً قیادت ہے، ہم اس وقت قیادتِ صالحہ یا سَیِّئَہْ کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے۔

چوہدری شجاعت حسین میں سیاسی دانش اور شعور تو یقینی تھا، مستقل بالذات قائد بننے کی صلاحیت شاید نہیں تھی، تاہم اُن میں ایک اور صلاحیت بدرجۂ اتم موجود تھی، یعنی قابلِ انتخاب لوگوں کی شناخت اور اُن کو اپنے اردگرد جمع کرنا۔ سو چوہدری صاحب کی نشاندہی پر جنابِ جنرل ضمیر جعفری نے بیک وقت چھڑی اور گاجر کا استعمال کیا اور مناسب تعداد میں قابلِ انتخاب گھوڑوں کو جمع کر کے چوہدری صاحب کے اصطبل میں لاباندھا۔ لیکن کافی تگ و دو اور مقتدرہ کی غیبی نصرت کے باوجود 2002 کے انتخابات میں مسلم لیگ ق وفاق میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرسکی، سو جنرل پرویز مشرف صاحب کو خود میدانِ عمل میں اترنا پڑا اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے بطن سے قومی اسمبلی کے بیس منتخب اراکین پر مشتمل ایک پیٹریاٹ گروپ کشید کیا، سپاہِ صحابہ کے سربراہ اعظم طارق کو جیل سے ہیلی کاپٹر میں اسمبلی پہنچایا گیا، لیکن اس کے باوجود وزارتِ عظمیٰ کے شاہی امیدوار جناب میر ظفر اللہ خان جمالی تین سو بیالیس ارکان پر مشتمل قومی اسمبلی میں بمشکل ایک ووٹ کی اکثریت سے وزیر اعظم منتخب ہوپائے۔ پھرآگے چل کر اپنی کسی غلطی یاخود کو حقیقی وزیرِ اعظم گمان کرنے کی بنا پر وہ بھی معتوب ٹھہرے، اُن سے زبردستی استعفیٰ لیا گیا، پھر چوہدری شجاعت حسین صاحب پینتالیس دن کے لیے عبوری وزیر اعظم بنے، سو اب پاکستان کے وزرائے اعظم کی فہرست میں ان کا نام بھی شامل ہے۔ چوہدری صاحب نے اسی عارضی نعمت پر اکتفا کیا اور بحیثیت وزیرِ اعظم حلف اٹھاتے وقت ہی شوکت عزیز صاحب کے مستقل وزیر اعظم بننے کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ اُنہیں محفوظ حلقۂ انتخاب بھی فراہم کیا۔ یہ سچ چونکہ تلخ ہے، اس لیے شریف النفس چوہدری صاحب نے اس کا ذکر پوری تفصیلات کے ساتھ بیان نہیں کیا، سرسری ذکر کے ساتھ اس کو بائی پاس کرگئے۔

ہم (راقم الحروف، مفتی محمد تقی عثمانی اور مولانا محمد حنیف جالندھری) اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں کہ چوہدری برادران اپنے خاندانی پسِ منظر اور ذہنی نہاد کے باعث جنرل پرویز مشرف صاحب کے’’ تحفظِ حقوقِ نسواں بل‘‘ کے حق میں نہیں تھے، انہوں نے اس کو روکنے کے لیے کافی تگ ودوبھی کی، دو مرتبہ چوہدری پرویز الٰہی صاحب نے اپنا جہاز کراچی بھیج کر راقم اور مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کو بلایا، پوری رات حکومت کی قانونی ٹیم وزیرِ قانون چوہدری محمد وصی ظفر، اٹارنی جنرل جنابِ مخدوم علی خان اور سیکرٹری قانون کے ساتھ مذاکرات ہوئے، صبح صادق کے وقت ایک تحریری معاہدہ طے پایا۔ لیکن صدر پرویز مشرف نے ہمہ مقتدر ہونے کے زعم میں رعونت کے ساتھ اس معاہدے کو ویٹو کردیا اور پیپلز پارٹی، اے این پی، ایم کیو ایم اور دیگر لبرل سیکولر پارٹیوں کی مدد سے ’’تحفظِ حقوقِ نسواں ایکٹ‘‘ کو پارلیمنٹ سے پاس کرادیا۔ چوہدری شجاعت حسین صاحب نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ اگر کوئی ثابت کردے کہ یہ ایکٹ قرآن وسنت کے خلاف ہے تو ہم 31 دسمبر2006 تک اسے واپس لے لیں گے یا قرآن وسنت کے مطابق ڈھال لیں گے ورنہ استعفیٰ دے دیں گے، چنانچہ ایک بار پھر چوہدری شجاعت حسین نے قانونی ٹیم کے ساتھ علماء کی خصوصی نشست منعقد کرائی، لیکن آمرِ وقت ٹس سے مس نہ ہوئے۔ سو قرآن وسنت عزیز ترین ہی سہی، لیکن جب کرسی اقتدار اور قانونِ شریعت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو چوہدری برادران اپنے دل کا ساتھ نہ دے سکے، عقل سے کام لیا اورکرسیٔ اقتدار کو ترجیح دی۔ یہی صورتِ حال لال مسجد آپریشن کے موقع پر پیش آئی، چوہدری صاحب نے ’’سچ یہ ہے‘‘ میں اُس کی داستان کسی حد تک بیان کی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ’’تحفظِ حقوقِ نسواں ایکٹ‘‘ کے وقت اِس امتحان میں صرف چوہدری برادران ہی سرخرو نہ ہوسکے، بلکہ نفاذِ شریعت کے نام پر برسرِ اقتدار آنے والی متحدہ مجلس عمل بھی سرخرو نہ ہوسکی، ’’تحفظ نسواں بل‘‘ واپس نہ لیے جانے کی صورت میں اعلان کے باوجود اسمبلیوں سے مستعفی نہ ہوسکے اور یہی ضُعف انہوں نے سترہویں ترمیم کی منظوری کے وقت دکھایااور جنرل پرویز مشرف کے محض زبانی اعلان پر کہ وہ 31دسمبر 2004تک وردی اتاردیں گے، انہوں نے نہایت سادگی کے ساتھ اس پر یقین کرلیااور جنرل صاحب کی وعدہ شکنی کے باوجود اقتدار سے وابستہ رہے، کیونکہ دو صوبوں کی حکومت اور پارلیمنٹ کی رکنیت سے دستبردار ہونا آسان کام نہیں تھا، نہ ہی اب دینی قوتوں میں کوئی موثر تحریک چلانے کا دم خم ہے، کیونکہ اقتدار کی آسائشیں انسان کو عزیمت سے محروم کردیتی ہیں۔

2012میں مسلم لیگ ق نے اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری سے اتحاد کیا اور چوہدری پرویز الٰہی ڈپٹی وزیر اعظم بنے، حالانکہ نہ تو آئین میں ایسا کوئی عہدہ ہے اور نہ ہی رولز آف بزنس میں اس عہدے کے حوالے سے کوئی اختیارات ہیں، لیکن چوہدری پرویز الٰہی صاحب کو اپنی نفسیاتی تسکین مقصود تھی اور اس معاملے میں جناب آصف علی زرداری بڑے کشادہ دل واقع ہوئے ہیں، سو انہوں نے انہیں محروم نہیں کیا۔ اس دوران لاہور سے اسلام آباد کی ایک فلائٹ میں راقم الحروف، چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری اعتزاز احسن آمنے سامنے نشستوں پر بیٹھے تھے، بے تکلّف گپ شپ ہورہی تھی، میں نے چوہدری شجاعت حسین صاحب سے کہا: اگر کوئی ایسا کمپیوٹر ایجاد ہو کہ ا سکینرآپ کے دل پہ رکھیں اور دل کی بات اسکرین پر نمودار ہوجائے، تو مجھے یقین ہے کہ یہی لکھا ہوا آئے گاکہ اس معاہدے کو آپ نے برضا ورغبت نہیں، بلکہ دل پر بھاری پتھر رکھ کر قبول کیا ہے، کیونکہ چوہدری پرویز الٰہی ہر قیمت پر اقتدار سے وابستہ ہونا چاہتے تھے، الیکشن میں ناکامی کا دکھ زیادہ دیر برداشت کرنا اُن کے لیے ممکن نہ تھا اور آپ اپنے چچا زاد بھائی کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔ چوہدری شجاعت حسین صاحب نے کہا: آپ ٹھیک کہتے ہیں، ہم نے کئی لوگوں سے مشورہ کیا، ہمارے لوگ ہمیں چھوڑ کر دوسری پارٹیوں میں شامل ہورہے تھے، سو ہمیں اپنے لوگوں کو کسی حد تک سنبھالے رکھنا تھا، اس لیے یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا، لیکن شایداُس وقت اصل مسئلہ چوہدری مونس الٰہی کو بچانے اور پنجاب بنک کے بھی مسائل تھے۔ اس پر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا: اگرچہ آپ ہمارے اتحادی بن چکے ہیں، لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے ووٹروں میں ’’شریکا ‘‘ہے، شریکا پنجاب کے دیہی معاشرے میں چچازاد یامخالف فریق کو کہتے ہیں، ان میں عموماً مخالفت رہتی ہے۔ چوہدری اعتزاز احسن نے کہا: چاہے پارٹی سطح پر ہم اتحاد بھی کرلیں، لیکن پیپلز پارٹی کا ووٹر مسلم لیگ کو ووٹ نہیں دے گا یاتو گھر بیٹھا رہے گایا کسی اورجماعت کو دیدے گااور یہی روش مسلم لیگ کا ووٹراختیار کرے گا۔ چنانچہ 2013کے انتخابی نتائج نے چوہدری اعتزاز احسن کے اس تجزیے کو درست ثابت کیا، اسی طرح 2015کے ضمنی انتخاب میں جنابِ سراج الحق جب سینیٹر منتخب ہوئے اوردِیر سے اُن کی خالی نشست پرپی ٹی آئی نے جماعت کی حمایت کا اعلان کیا، لیکن پی ٹی آئی ووٹر نے جماعت اسلامی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا اور غیر متوقع طور پر اے این پی کا امیدوار جیت گیا، جماعت کے ذمے داران نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے ہمیں دھوکا دیا۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں