علم، طبی قانون اور کارپوریٹ سرمایہ - محمد دین جوہر

گزشتہ دنوں میڈیکل اسٹور مالکان نے چند روزہ ہڑتال کی جس کا فوری باعث ادویات کی ترسیل و فروخت کے بارے میں بنائے گئے نئے اور سخت قانون کا اجرا تھا۔ ”عطائیوں“ کو میڈیکل پریکٹس سے ممانعت کا سختی سے نفاذ بھی اس ہڑتال کی ایک اہم وجہ بنی۔ دوائیوں کو ذخیرہ کرنے اور ترسیل کا نیا قانون یوٹوپیائی شرائط کا حامل ہے۔ یہ امر بحث طلب نہیں کہ جدید ریاست ”مختارِ مطلق“ (sovereign) اور ”قادر“ (omnipotent) ہونے کی وجہ سے ہر نوعیت کی قانون سازی کر سکتی ہے، بھلے وہ قانون یوٹوپیائی اور افسانوی ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن ہر قانون کی طرح، مذکورہ قانون سازی میں یہ بنیادی مفروضہ بھی کارفرما ہے کہ جدید ریاست عالمِ کل (omniscient) بھی ہے۔ قانون سازی میں ہر جدید ریاست کے تین پہلو یعنی اس کا sovereign، omnipotent اور omniscient ہونا بنیادی اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی باعث جدید قانون سازی میں معاشرے کی انسانی اور تاریخی صورت حال اور ضروریات غیراہم جبکہ عالمگیر سیاسی اور معاشی نظام کا دباؤ اور ریاست کی اپنی ترجیحات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ قانون جتنا افسانوی اور معاشرے کے معروضی حالات سے غیرمتعلق ہو گا، اتنا ہی سیاسی طاقت کی شدتِ موجودگی میں اضافے اور معاشرے میں distortion کا باعث ہو گا۔ سیاسی طاقت کی شدتِ موجودگی کے بغیر کارپوریٹ سرمائے کے مقاصد کا مکمل حصول ممکن نہیں ہوتا۔

مذکورہ قانون میں مفروضہ یہ ہےکہ کمپاؤنڈر اس قدر ”سائنسی علم“ اور اطلاقی وسائل نہیں رکھتے جو درست تشخیص پر دوا تجویز کرنے کے لیے لازمی ہے۔ لہٰذا ممانعتی قانون سازی اور اس کا نفاذ ضروری ہے تاکہ مریض کی صحت اور زندگی کا تحفظ عمل میں لایا جا سکے۔ ڈاکٹر اور کمپاؤنڈر میں ”سائنسی علم“ کی حد فاصل اس ڈگری سے پیدا ہوتی ہے جو ذہانت اور سرمائے کے توام سے ممکن ہوئی ہے اور ریاست سے استناد یافتہ ہے۔ قانون سازی کا جواز ”سائنسی علم“ کی حتمیت اور ”ریاستی ذمہ داری“ کا موہوم سیاسی تصور ہے، لیکن اس قانون کے نفاذ کا واحد مقصد کارپوریٹ سرمائے کی توسیع ہے۔ انسانی صحت کی نگہداشت یا عدل کے تقاضوں کا اس قانون سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پاکستان جیسے استعماری جدیدیت سے متوارث معاشروں میں ریاست اور معاشرے کا باہمی تعلق دیگریت پر قائم ہے، جہاں معاشرہ، ریاست کی شکار گاہ ہے۔ ایسے معاشروں میں ریاستی قانون سازی ترقی پسند سرمائے کی بجائے استحصالی سرمائے کے فروغ کے لیے عمل میں لائی جاتی ہے۔ نیم ترقی یافتہ معاشروں کا ایک اہم ترین پہلو کارپوریٹ سرمائے کی ادھوری فتح ہے کیونکہ پورے معاشرے پر سیاسی طاقت کی حاکمیت آئینی طور پر تو قائم ہوتی ہے، لیکن قانون بن کر اور نافذ ہو کر مکمل نہیں ہوئی ہوتی۔ ایسے معاشروں میں کئی وسیع حصے یا ایسی بہت ساری spaces باقی ہوتی ہیں جہاں قانون اپنی پورائی میں نافذ نہیں ہوا ہوتا اور یہ امر استحصالی اور کارپوریٹ سرمائے کی پیشرفت میں بڑی رکاوٹ ہے۔ کمپاونڈر اسی space میں کام کرتے ہیں، جو ریاستی قانون کی نیم یا عدم نفاذی کی وجہ سے کارپوریٹ سرمائے کی گرفت سے باہر رہ جاتے ہیں۔ اگر ریاستی قانون سے غیر کارپوریٹ کام اور افعال کو ”غیر قانونی“ قرار دے کر ختم کر دیا جائے، تو معاشرے کے مزید حصوں کو کارپوریٹ سرمائے کی گرفت میں لانا ممکن ہو جاتا ہے۔ کمپاؤنڈروں کی موجودگی سے عام مریض جدید طب کی ”سائنسی“ رسومیات کا لحاظ کیے بغیر، اور اس کی پوری قیمت دیے بغیر کارپوریٹ فارماسوٹیکل صنعت سے فائدہ اٹھاتا ہے، اور یہ امر جدید ریاست اور کارپوریٹ سرمائے کے لیے ناقابل قبول ہے۔ کارپوریٹ سرمائے کی پیش رفت کے لیے معاشرے کو مکمل طور پر قانونی نیٹ میں لانا ضروری ہوتا ہے۔

فزکس سائنس ہے کیونکہ وہ مادے کی فنا و تخلیق اور اس کی میکانیات پر قادر ہے۔ لیکن حیاتیات اور طب ابھی نیم سائنس ہے کیونکہ وہ حیات کی فنا تک اس کی غیرمعمولی اور کرشماتی manipulation پر قادر ہے۔ چابی گھمانے سے اصولِ طبیعیات پر بنی ہوئی گاڑی چل پڑتی ہے، لیکن دوا دینے سے اکثر اوقات مرض مر جاتا ہے اور بعض اوقات مریض۔ بائیو انجنئرنگ، کیمیکل لیبارٹری اور تحقیقی منہج کی حد تک جدید طب یقیناً سائنس ہے، لیکن یہ سائنسی ہونا علم کی حد تک ہے، اور انسانی صحت سے غیرمتعلق ہے۔ مزید یہ کہ سرجری بنیادی طور پر انجنئرنگ اور repair work ہے جس کا صحت سے تعلق سلبی، بالواسطہ اور فرضی ہے، ایجابی نہیں۔ اس کا واحد مقصد جراثیم کی طرح ”سائنسی ادراک“ میں آئے ہوئے حیات کے لیے ممکنہ ساختیاتی خطرے کو ختم کرنا ہے۔ جدید طب کے انسانی صحت کے ساتھ تلازمات قطعی غیرسائنسی ہیں کیونکہ یہ سرے سے اس کا موضوع اور سروکار نہیں ہے۔ جدید طب کا موضوع اور ہدف بیماری ہے۔ جدید طب کے ”سائنسی ادراک“ میں معلومیت (knowability) صرف بیماری کو حاصل ہے اور وہی اس کا ہدف ہے۔ جدید طب میں بیماری حیاتیاتی افعال اور ساختوں میں ”سائنسی“ abnormality کا نام ہے جبکہ normality قطعی فرضی ہے۔ جدید طبی ادراک اور عمل میں انسانی صحت ایک ”نامعلوم“ ہے۔ جدید طب بیماری کا ”سائنسی“ علم رکھتی ہے، لیکن مریض صحت کا تجربی اقتضا رکھتا ہے۔ جدید طب کے لیبارٹری تجربے اور مریض کے نفسی تجربے میں کوئی پُل نہیں ہے۔ جدید طب کا براہ راست تعلق حیاتیاتی علم اور سرمائے سے ہے، صحت سے نہیں ہے۔ مریض کا اقتضائے صحت اور تصورِ صحت طبی سائنس کے لیے محض توہم پرستی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں مریض کے جو حقوق فرض کیے گئے ہیں، وہ جدید طب کی انہی مشکلات کا نتیجہ ہیں۔

برصغیر اور مسلم دنیا میں طب سے متعلق قوانین استعماری دور سے یادگار ہیں جن کا مقصد قانون سازی کے ذریعے مقامی علوم اور ثقافتی تجربے کو ختم کرنا تھا۔ جدید ریاست کو اس میں مکمل کامیابی حاصل ہوئی ہے کیونکہ درآمد شدہ یا خانہ زاد سائنسی علوم کی سب سے بڑی خالق، تاجر اور گاہک خود جدید ریاست ہی ہے۔ آج کی دنیا میں ”علم کیا ہے؟“ کی تعریف میں ریاست حتمی طور پر دخیل ہے، اور قانون سازی کا بنیادی ترین مقصد ہر ایسے علم اور عمل کا خاتمہ ہے جو طاقت کا معاون نہ ہو اور سرمائے میں اضافے کا ذریعہ نہ بن سکے۔ جدید ریاست کے تعریف کردہ علم سے مراد صرف سائنسی علم ہے، اور جدید ریاست کی ذمہ داری سائنسی علم کے لیے ذہانت، انتظامی وسائل اور سرمایہ فراہم کرنا اور پھر اس علم کو طاقت اور سرمائے کی پیداوار میں استعمال کرنا ہے۔ مذکورہ قانون کا مقصد بھی استحصالی سرمائے کو تقویت دینا، عامۃ الناس کی صحت کی آڑ میں سیاسی طاقت کی شدتِ موجودگی کو دوچند کرنا، اور غریب آدمی تک کم قیمت میں ادویات کی ترسیل کو روکنا ہے۔ خود ریاست کے بنا کردہ نظامِ صحت پر اس کے اپنے بنائے ہوئے کسی قانون کا نفاذ بھی ناقابل تصور ہے۔ موجودہ سنگین صورت حال میں میڈیکل سٹور مالکان کی ہڑتال ایک نہایت ہی مستحسن قدم ہے۔ اگرچہ اس سے مریضوں کے لیے وقتی طور پر سخت مشکلات پیدا ہوئی ہیں، لیکن اس ہڑتال سے آخرکار فائدہ عوام ہی کو پہنچے گا۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • حضرت کے یک بعدی نظری تعمق کی داد دئیے بنا آگے کا تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔ آپ نے جس استدلال اور جس زاویے سے طب کی "بنیاد شکنی" کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ گو کہ اس میں کلام کی گنجائش بہت کم ہے کہ ادویہ کے کاروباری اداروں نے صحت کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے اور اس کی بہت روشن مثالیں ہیں لیکن کسی مثال کو یوں "منور" کرنا جناب کی نظر کرم گسترکے علاوہ ممکن نہیں۔ فرصت ملی تو اس پر عرض کرنے کی کوشش کریں گے کہ آپ نے اپنا مقدمہ کیسے "خراب" کیا ہے