آئندہ انتخابات اور امیدواروں کا چناؤ - سعید الرحمٰن قریشی

الیکشن کا اکھاڑا سج چکا ہے، کہیں جلسے جلوس ہیں تو جانبِ آخر اشتہارات اور وعدے وعیدیں، کسی طرف ایک دوسرے کی کردار کشی اور بلند بانگ دعوے تو دوسری طرف الزام تراشیاں اور سابقہ کارکردگی کے اعداد و شمار۔ غرض ملک بھر میں الیکشن کا بخار سر چڑھنے کو ہے۔ کیا شہر اور کیا گاؤں، کیا قریہ اور کیا دیہات، سب ہی اس کی لپیٹ میں نظر آتے ہیں۔ اندازوں اور پیشن گوئیوں کا بازار بھی گرم ہے، کوئی درباروں پر چادر چڑھا رہا ہے تو کوئی کسی پیر صاحب سے دعائیں لے رہا ہے۔

جن گندی بستیوں اور تنگ گلیوں کی طرف ملک کو سدھارنے والے لیڈران دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے, اب ان ہی گلیوں میں قائدین کا اک ہجوم ہے. حلقے میں پانچ سال کے دوران فوت ہونے والوں کی لسٹ منگوا کر ہر ایک کے گھر جا کر پھر تعزیت کرنا اور ہمدردی سمیٹنا شروع کر دیا گیا ہے۔ جن غریبوں سے سیدھے منہ سلام کرنا روا نہ تھا، اب بڑے بڑے محل نشیں اور فراعنۂ وقت ووٹ کا کشکول تھامے ان غریب خانوں کی چوکھٹ پر کھڑے نظر آتے ہیں۔

امیدواروں کی تعلیمی قابلیت بھی دیکھنے سننے سے تعلق رکھتی ہے، بعض قوم کے ہونہار سپوت تو نشاناتِ ابہام سے ہی کام چلایا کرتے ہیں۔ اخلاقی اقدار کی حالت تو سب سے پتلی ہے، کسی پر قتل کا کیس ہے تو کسی پر زنا کا، کسی پر دھوکہ دہی کا کیس ہے تو کسی پر جھوٹ بولنے کا، کسی پر چوری کا کیس ہے تو کوئی راہزنی کی سزا بھگت کے آیا ہے۔ باقی رہی "مالی خرد برد اور کرپشن" تو یہ ان کے ہاں "معمولی حیثیت رکھتی ہے۔

ان حالات میں امیدواروں کے انتخاب کے لیے مسلمانوں کی کیا ذمہ داری ہونی چاہیے؟ کیا ان کی سوچ وہی ہونی چاہیے جو عام ہے؟ جس ڈگر پر زمانہ چل رہا ہے؟ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کہنا، تعلقات اور شخصی تعلقات کی بنا پر ووٹ دینا یا پھر سوچ بچار کر کے ایک قابل بندہ کو آگے پہنچانا شیوۂ مسلمانی ہونا چاہیے؟ یہ ایک سوال ہے جو ہر عاقل، بالغ بندے کی عقل و فکر پر دستک دے گا اگر اس کا ضمیر زندہ ہے۔

اس ضمن میں یاد رکھیے کہ عہدہ کی طلب کرنا شریعتِ مطہرہ میں ایک قبیح اور شنیع عمل ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کو سخت ناپسند فرمایا اور حدیث شریف کی کتاب "مسلم شریف" میں ایک مکمل باب محدثین کرام نے قائم کیا جس کا نام ہی "باب نہی عن طلب الامارۃ" یعنی عہدہ طلب کرنے سے روکنے کے بیان میں ہے لیکن چونکہ ہمارا قومی نظام ہی جمہوری روایات کا پاسداری کرتا آیا ہے اور اس نظام کے مفاسد میں من جملہ یہ بھی شامل ہے کہ بندہ کو امیدواری کے لیے خود جو پیش کرنا پڑتا ہے اس لیے بہتر بات یہ ہے کہ جب تک لوگوں کا اصرار نہ ہو اپنے آپ کو امیدواری کے لیے پیش نہ کرے۔

حرفِ آخر یہ کہ نیک لوگوں کی نشانی اتباعِ شریعت ہے، سیرت نبوی صل اللہ علیہ وسلم پڑهیں اور اپنے اپنے امیدواروں کا قد اس پیمانے پر ناپ لیں۔ اگر آپ اپنے امیدوار کو اس پیمانے پر پورا اترتا دیکھتے ہیں تو اسے ہی منتخب کیجیے کہ یہی آپ کا دینی شرعی اور اخلاقی فریضہ ہے۔