عبدالرحمٰن الخازنی کا نام ہی کیوں؟ - غلام نبی مدنی

عبدالرحمٰن الخازنی سلجوق دور حکومت میں ترکمانستان کے علاقے مرو میں پانچویں صدی ہجری کے آخر میں پیدا ہوئے۔مستند تاریخ پیدائش محفوظ نہیں،تاہم تاریخ وفات 550ھ/1155ء بتائی جاتی ہے۔آپ کی کنیت ابوالفتح تھی۔آپ کے والداصلاً رومی تھے۔سلجوقی اور بیزنطینی جنگ کے دوران مسلمانوں کے قیدی بن گئے۔ جس کے بعد انہوں نے اسلام قبول کرکے اپنا نام منصور رکھا اور مسلمانوں کے ساتھ رہنا پسند کیا۔کہاجاتا ہے ان کے والد شاہی مکتبہ کےخازن خاص علی المروزی کے زیر کفالت رہے۔جہاں انہوں نے شادی کی،شادی سے ان کے ہاں عبدالرحمٰن الخازنی پیداہوئے۔ عبدالرحمٰن الخازنی کے والدبچپن میں فوت ہوگئے،جس کے بعد عبدالرحمٰن اپنی والدہ اور علی المروزی کے زیرسایہ پرورش پاتے رہے۔علی المروزی نے عبدالرحمٰن کی تعلیم وتربیت کا خوب خیال رکھا،انہیں شاہی مکتبہ لے کر جاتے جہاں سے عبدالرحمٰن الخازنی کو فلسفہ اور دیگر علوم کے مطالعہ کا شوق پیدا ہوا۔علی المروزی خازن شاہی مکتبہ کے اس خاص خیال کی وجہ سے لوگ آپ کو عبدالرحمٰن الخازنی کے نام کے ساتھ پکارنے لگے۔بعض لوگ آپ کو خازن المعارف کے لقب سے بھی پکارتے تھے۔

عبدالرحمٰن الخازنی زمانہ طالب علمی ہی سے لائق تھے۔مرو شہر کے بڑے بڑے اہل علم سے فیض حاصل کیا۔ریاضیات،فلکیات،فلسفہ اور علوم طبعیات میں مہارت حاصل کی۔بعدازاں دیگر شہروں کی طرف بھی تحصیل علم کے لیے رخ کیا۔ یہ دورابن سينا، البيروني، ابن الهيثم، الفردوسي، ناصر خسرو،غزالي، طوسي ا ورعمر الخيام جیسے بلند پایہ ماہر اہل علم کا تھا۔چنانچہ آپ نے ان مشہور علماء کرام کی فکرسے اپنی فکر کو پروان چڑھایا۔عمروالخیام سے فیض بھی حاصل کیا۔بعدازاں آپ عراق کے شہر سنجار چلے گئے۔جہاں ایک تعلیم اورتجربہ گاہ قائم کی۔9سال کے طویل تجربے کے بعد آپ نے علم فلکیات پر ایک ضخیم کتاب "الزيج المعتبر السنجري" کے نام سے لکھی،جو آج بھی ماہرین فلکیات کے ہاں بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔لیکن اس کتاب سے زیادہ آپ کی شہرت کا اصل سبب علوم طبیعات اور دیگر سائنسی علوم پر مشتمل شاندار کتاب "میزان الحکمۃ" بنی۔

اس کتاب میں آپ نے اپنے علم اور تجربات کی روشنی میں میکانیات،علم مائعات اوراجرام فلکی پر مشتمل بے پناہ سائنسی تجربات کا خزانہ دیا۔ عبدالرحمٰن الخازنی وہ پہلا مسلمان سائنسدان ہے جس نے287قبل مسیح کے مشہور یونانی ریاضی دان ارشمیدس کے قانون کہ "کسی ٹھوس شے کو کسی مائع کے اندر پورے طور پر ڈبو دیا جائے تو اس شے کے وزن میں کمی آجاتی ہے اور یہ کمی اس شے کے مساوی الحجم مائع کے وزن کے برابر ہوتی ہے " کو نامکمل قانون بتاتے ہوئے کہا کہ" مائع چیزوں کے ساتھ ساتھ ہوا میں بھی کثافت،وزن اور درجہ حرات ہوتاہے"۔آپ ہی نے پہلی بار تجربہ کرکے یہ بتایا کہ ہوا میں موجود Objects زمین کو ٹچ نہیں کرتے۔

دنیا کی بددیانتی دیکھیے کہ دنیا بھر میں سائنسی کتابوں میں ٹورشیلی نامی اٹالین سائنسدان کے بارے کہا جاتاہے کہ یہ پہلا شخص تھا جس نے ہوا کی قدروکثافت کے بارے بحث کی اور تجربات کیے۔ حالاں کہ دنیا میں سب سے پہلے یہ کارنامہ مسلم سائنسدان عبدالرحمان الخازنی نے سرانجام دیا۔آپ نے اپنی لیبارٹری میں تجربات کرکےدیگربہت سارے طبعیاتی مواد کی کثافت کے بارے سائنسی انکشافات بھی کیے۔ پہلی بار دنیا میں واٹر یونٹ کو سینٹی میٹر میں بتایا۔جسے علوم طبیعات کے تمام سائنسدان آج تک استعمال کررہے ہیں۔عبدالرحمان الخازنی دنیا کے پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے 22 کے قریب سولڈ،لیکوئڈ او رگیس میٹریلز کو دریافت کرکے نتائج پیش کیے،جنہیں آج بھی سائنسدان سائنسی تجربات میں سامنے رکھتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ آپ نے ہوا اور مائع چیزوں میں اجسام کی کثافت اور وزن کی پہچان کے لیے سائنسی آلات بھی ایجاد کیے۔جن کی بنیاد پر جدید ماڈرن سائنسی دور کے آلات ایجاد کیے گئے۔اس کے علاوہ آپ نے وقت کی قدر وپیمائش کے حوالے سے بھی سائنسی تجربات کیے۔

عبدالرحمٰن الخازنی کی سائنسی خدمات کا اندازہ یقینا ان کی کتاب "میزان الحکمۃ "سے اچھی طرح لگایا جاسکتاہے،جوآج بھی دنیا بھر کے سائنسدانوں کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ کتاب پہلی بار مشترکہ ہندوستان سے 1940 میں شائع ہوئی۔اس سے قبل انیسویں صدی کے آخر میں روس، جرمنی اور دیگر ملکوں سے انگریز سائنسدانوں نے اس کتاب کے کچھ حصےمختلف زبانوں میں ترجمہ کرکے شائع کیے۔بعدازاں یہ کتاب 1947میں بیروت سے بھی شائع ہوئی۔عبدالرحمٰن الخازنی کے مسلک کے بارے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ اہل تشیع مسلک سےتعلق رکھتے،جب کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ملحد تھے اور اسلام کے احکامات پر اعتراضات کرتے رہے۔لیکن یہ قطعی بے بنیاد باتیں ہے۔کیوں کہ اولاً تو ان باتوں کا کوئی مستند ثبوت نہیں۔ ثانیاً سلجوق شاہی لائبریری میں اہل السنت والجماعت کے لوگوں کو رکھا جاتاتھا،جہاں ان کی پرورش لائبریری کےخازن کے پاس ہوئی۔ سلجوق بادشاہ آپ کی خدمات کے معترف تھے۔آپ کا نہایت ادب کرتے۔سلجوق بادشاہ معز الدين سنجر کی خواہش تھی کہ آپ قصر شاہی میں رہیں، مگر آپ نے بوجوہ انکارکردیا۔پھر سلجوق بادشاہ کے لیے عبدالرحمٰن الخازنی نے خصوصی آلات بھی تیار کرکے بھیجے۔ظاہر سی بات ہے سلجوق بادشاہ سنّی تھے، بھلا کیسے اہل تشیع کو یا ملحد کو جب کے اس دوران باہم اختلافات بھی عروج پر تھے، یہ آفر کرسکتے تھے؟ یہ من گھڑت باتیں صرف اور صر ف مستشرقین کے پھیلائی ہوئی ہیں تاکہ مسلمان سائنسدانوں کی عظمت کو گھٹایا جاسکے اور مسلمانوں کے دلوں میں ان سے نفرت پیدا کی جاسکے۔

بہرحال عبدالرحمٰن الخازنی کی سائنسی خدمات کی وجہ سے دنیا ئے فزکس میں آپ کو مرجع مانا جاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کو اب عبدالرحمٰن الخازنی کے نام سے موسوم کرنے کے لیے قوم اسمبلی میں کیپٹن (ر) صفدر اور دیگر اراکین اسمبلی کی جانب سے ایک قرارداد پاس کروائی گئی ہے۔اس سے قبل دسمبر2016 میں قائد اعظم یونیورسٹی سے ملحق نیشنل فزکس سنٹر کو ڈاکٹرعبدالسلام قادیانی کے نام کے ساتھ موسوم کردیا گیا تھا۔جس پر پورے پاکستان میں احتجاج کیا گیا کہ ایک اسلامی ملک میں ختم نبوت ﷺکے منکر کے نام پر کیسے ایک یونیورسٹی کے شعبے کو موسوم کیا جاسکتاہے؟ ڈاکٹر عبدالسلام کو اگرچہ نوبیل انعام دیا گیا، مگر تاریخی حقیقت یہ ہے کہ یہ نوبیل انعام انہیں مخصوص ایجنڈے کے تحت دیا گیا جس کا اقرار ان کی زندگی کے حالات کو سامنے رکھ کر لگایا جاسکتاہے کہ کس طرح انہوں نے نوبیل انعام کے لیے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ روابط قائم کیے اور پاکستان مخالف خدمات ان کے لیے سرانجام دیں۔

غور طلب بات یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان میں سائنسی خدمات کے لیے کیا کارنامے سرانجام دیے؟وہ تو ملک کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے گئے۔ حالاں کہ جس وقت انہوں نے ملک کو چھوڑا اس وقت ملک کو ان کی ضرورت تھی۔کچھ لوگ اس کی بے تکی وجہ بیان کرتے ہیں کہ دراصل ان کو قادیانی ہونے کی وجہ سے تھریٹ کا سامنا تھا۔اس لیے وہ ملک میں نہیں رہ سکتے تھے۔حالاں کہ آج بھی پاکستان میں پونے دولاکھ سے زائد رجسٹرڈ قادیانی رہ رہے ہیں۔اچھی اچھی ملازمتیں کررہے ہیں۔ان میں سے کسی کو آج تک قادیانی ہونے کی وجہ تھریٹ کیا گیا اور نہ ہی ان پر کوئی حملہ کیا گیا۔حیرت ہے پھربھی لوگ بے جا ڈاکٹر عبدالسلام کے ملک چھوڑنے کا دفاع کرتے ہیں۔اگر مان بھی لیا جائے کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان کو اس لیے خیرآباد کہا کہ ان کی جان کو خطر ات لاحق تھے،سوال یہ ہے کہ پھر انہوں نے بیرون ملک جاکر پاکستان کے لیے کیا خدمات سرانجام دیں؟کونسا ایسا کارنامہ کیا جس سے ملک کو فائدہ پہنچاہو؟کون نہیں جانتا کہ پاکستان چھوڑنے کے بعد ڈاکٹر عبدالسلام قادیانیت کے مبلغ بن گئے اور اپنی سای زندگی قادیانیت کی تبلیغ کی نذرکردی۔کیا نوبیل انعام نے پاکستان کو سائنسی میدان میں کوئی فائد پہنچایا؟ہرگز نہیں!کون نہیں جانتا کہ نوبیل انعام فلسطینیوں کے چار قاتل وزیراعظموں کو دیا گیا۔کون نہیں جانتا کہ نوبیل انعام کے بے شمار مسلمان حقدار ہوسکتے تھے،مگر نوبیل انعام مسلمان دشمنی کی وجہ سے مسلمانوں کو نہیں دیا جاتا۔جنہیں دیا گیا تو وہ مسلمان نہیں بلکہ مسلمانوں کے روپ میں اسلام اور مسلمانوں کے دشمن تھے۔جس کی ایک مثال ڈاکٹر عبدالسلام ہیں کہ جو عقیدہ ختم نبوت کے واضح مخالف اورمنکرتھے۔

بہرحال، قوم اسمبلی کی جانب سے اچھا فیصلہ کیا گیا جو داغ سیاست دانوں نے لگایا، اسے اسمبلی نے اب صاف کردیا ہے۔اگرچہ کچھ لوگ کیپٹن (ر) صفدر کی قرارداد پر اعتراض کررہے ہیں کہ انہوں نے جس شعبہ فزکس کے نام تبدیلی کی قرارداد پاس کروائی وہ وہ نہیں جس کا نام نواز شریف نے تبدیل کیا تھا،بلکہ یہ دو الگ الگ شعبے ہیں۔لیکن بہرحال اگر اس سے نواز شریف کے تبدیل کیے گئے نام والے شعبے پر اثر نہیں ہوگا تو ضرور کیپٹن صفدر کو ایک اور قراردادپاس کروانی چاہیے ورنہ موجودہ پاس کی گئی قرارداد میں مزید وضاحت کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ مقتدر حلقوں کو قومی اسمبلی کے قرارداد پر اب فوری عمل کرناچاہیے بلکہ اس عمل کو دیگریونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں تک پھیلانا چاہیے کہ مسلم سائنسدانوں اور اسلامی تاریخ کے عظیم رہنماؤں کے نام پر اداروں اور شعبوں کے نام رکھے جائیں تاکہ ہماری نسل نو اپنے آبا و اجداد اور اسلاف کی تاریخ یاد کرکے ان کی طرح عالم اسلام اور ملک پاکستان کے لیے کارہائے نمایاں سرانجام دے سکے۔

Comments

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، ایم اے اسلامیات اور ماس کمیونیکیشن میں گریجوایٹ ہیں۔ 2011 سے قومی اخبارات میں معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کے لیے خصوصی بلاگ اور رپورٹ بھی لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.