بابل کی رانیاں - ربیعہ فاطمہ بخاری

آج ایک گروپ میں ایک پوسٹ نظر سے گزری اور اس کو پڑھ کر یقین مانیں میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے،دل تکلیف اور دکھ کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب گیااور میرے لیے اس سب کو تخیل میں دیکھنا یا کس اور کے لیے سوچنا ہی اذیت کی انتہا تھی۔ کہانی ایک نوبیاہتا لڑکی کی ہے کہ جو شادی کے کچھ ماہ بعد ہی ماں بننے کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ آخری ایام چل رہے ہیں اور غالباً کچھ ہی دن ہیں کہ اللہ پاک کرم نوازی فرما دے گا۔ اُس خاتون کو اس کی ساس نے حکم دیا کہ تمہیں نو ماہ میں نے سنبھالا ہے، میرے بیٹے نے کھلایا پلایا ہے، تمہاری ماں نےتمہارےلیے کیا کیا ہے؟ اب جاؤ اپنی ماں کے گھر اور وہیں بچہ پیدا کرو۔ اب وہی تمہارے اخراجات اٹھائیں اور تم سوا مہینے بعد بچہ لے کر اپنے گھر واپس آ جانا۔ اُس خاتون کی غیرت ابھی اپنی ساس کی طرح مردہ نہیں ہوئی تھی، اُس نے انکار کر دیا کہ یہ مرحلہ طے کروانا سراسر میرے شوہر کی ذمہ داری ہے، مجھے سنبھالنا،میرے بچے کی پیدائش کے اخراجات اٹھانااور میری خوراک اور دوائی وغیرہ یہ سب اسی کی ذمہ داری ہے کیونکہ میں شکم میں اُسی کا بچہ لیے ہوئے ہوں۔ ساس نے اس بات پر اس کے ساتھ خوب جھگڑا کیا۔ یہ حق پر تھی، خوب دفاع کیا اور ساس کے ساتھ تلخ کلامی کے باوجود وہ گھر سے نہیں گئی۔ اگلی صبح جب وہ سو کر اٹھی تو اس کے گھر (سسرال) میں ہر چیز تالے میں تھی۔ فریج میں رتی بھر کوئی چیز نہیں تھی جو وہ کھاپاتی اور اس نے آنکھوں میں بے بسی کے آنسو لیے گروپ میں پوسٹ کی کہ ایسی صورتِحال میں اسے کیا کرنا چاہیے؟

مجھے یہ معاشرہ اور اس کے بنے دسم و رواج کے حامی و داعی لوگ یہ تو بتائیں کہ ایک ماں نے ایک بچی پیدا کی اس کو پالا پوسا اسے پڑھایا جوان کیا اور جب وہ اس قابل ہوئی کی گھرکو سنبھال سکتی یا گھر کے معاملات میں ماں باپ کا ہاتھ بٹاتی یا اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے گھر چلانے میں ماں باپ کا بازو بنتی، اُس وقت اسے اٹھا کر آپ کے بیٹے کے حوالے کر دیااور آپ "ہینگ لگی نہ پھٹکری" اس کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ اس سے بڑھ کر ایک بیٹی کے ماں باپ اپنی بیٹی کے لیے یا آپ کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ پھر خالی بیٹی ہی رخصت نہیں کی بلکہ ٹرکوں میں بھر کر جہیز بھی دیا۔ آپ کے بیٹوں بیٹیوں، بہوؤں، دامادوں تک کے لیے تحفے ساتھ لائی۔ اچھی ماں کی تربیت کا حق ادا کرنے کے لیے آتے ہی اس گھر کا حصہ بن گئی، گھر کے کام کاج سنبھال لیے اور آپ کے بیٹے کے معاملات کو سنبھال لیا۔ اب آپ کو مزید کیا چاہیے؟ لیکن نہیں … ہمارا معاشرہ ایک بیٹی کے ماں باپ کے لیے ایک مسلسل دوزخ اور مذبح خانہ ہے جہاں انہیں ساری زندگی قطرہ قطرہ جلنا اور عضو عضو ذبح ہونا پڑتا ہے۔

بیٹی کو بیاہنا چاہا تو جہیز کی ننگی تلوار سروں پر لٹک رہی ہے اور لاکھوں روپے خرچ کرکے جہیز دیں تو اس کو بنظرِ غائر ماپا اور تولا جاتا ہے کہ کتنے برتن دیے؟ فریج ہے کہ نہیں؟ واشنگ مشین ہے تو ڈرائیر کیوں نہیں؟ ساس کو سونے کے جھمکے پہنائے ہیں تو وہ ہلکے تو نہیں؟ نندوں، دیوروں، نندوئیوں کو تحائف دیے ہیں تو وہ غیر معیاری تو نہیں ا اور معیاری ہوں گے بھی تو ان میں سے ہزار مین میخ نکال کر لڑکی کو اور اس کے والدین کو ذلیل کرنے کے سو عذر تراشے جاتے ہیں۔ اور ولیمے کے اگلے دن پنجاب میں مکلاوے کی رسم ہوتی ہے اور بیٹی کو جب شوہر سمیت سسرال والے میکے سے لینے جاتے ہیں تو دس لوگ جائیں یا پندرہ ہر ایک کو تحائف اور نقدی دے کر بھیجا جاتا ہے، وہ جہیز کے ساتھ آئے ہوئے تحائف کے علاوہ ہیں۔ اس مرحلے سے اللہ اللہ کر کے نمٹ کر فارغ ہوئے کہ اگلا مرحلہ شروع ہو گیا۔ بیٹی حاملہ ہو گئی تو حمل کے ساتویں مہینے اسے میکے بھیج دیا جاتا ہے وہاں اس کی خوراک، دوائی، چیک اپ یہاں تک کہ اس کی ڈلیوری کے اخراجات اٹھا ئیں اور بیٹی کو سوا مہینے کے بعد گھر بھیجتے ہوئے ڈھیروں ڈھیر تحائف دے کر بھیجیں۔ یہ تحائف تو نانا نانی خوشی سے دیتے ہیں لیکن ساتھ ساس سسر نند اور دیور کے لیے بھی تحائف دیں کچھ عرصے بعد ساس یا سسر میں سے خدانخواستہ کوئی فوت ہو جائے تو بیٹی کو سونے کے جھمکے دیں اور سارے خاندان کو کپڑے! پھر عیدیں، شب براتیں اور جانے کیا کیا؟ یعنی کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں؟

میں خود پنجاب کی باسی تو ضرور ہوں لیکن پنجابی فیملی سے تعلق نہیں رکھتی تو بہت سی رسموں اور رواجوں کو ٹھیک سے نہیں جانتی لیکن اتنا ضرور اپنے مشاہدے سے دیکھا ہے کہ شادی بیاہ کے دوران اور بعد میں بھی جو رسم و رواج ہوتے ہیں وہ میری نظر میں تو بس بیٹی والوں کو تنگ کرنے کے لیے ہوتے ہیں کہ چاہے کسی ماں باپ کی سات بیٹیاں ہیں انہیں سب کی رسمیں پوری کرنی ہوتی ہیں، چاہے نوبت فاقوں تک آ جائے لیکن رسمیں نبھانا ضروری ہے۔ اس سب میں دلچسپ بات یہ ہے کہ چاہے بیٹیوں کے ماں باپ ان رسومات کی ادائیگی سے خود جتنا مرضی عاجز آ جائیں لیکن وہ اپنی بہو کے ماں باپ کو کبھی ان رسموں کو ادا کرنے سے منع نہیں کریں گے، نہ ہی ان کا احساس کریں گے۔ یہی ہمارے معاشرے کا چلن ہے۔یہ زہر تباہ کن حد تک ہمارے معاشرے میں سرایت کر گیا ہے اور اس کا تدارک کرنا صرف اور صرف بیٹوں کے ماں باپ کے اختیار میں ہے کہ وہ اپنی بہو کے ماں باپ کے درد کو بھی ویسے ہی سمجھیں جیسے وہ اپنی بیٹی کے معالات نبھاتے ہوئے اذیت محسوس کرتے ہیں اور ہر بیٹے کے ماں باپ بارش کا پہلا قطرہ بننے کی کوشش کرتے ہوئے ان رسم و رواج کو اپنے گھر سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کریں۔

ایک آخری التجاکہ اگر آپ کا بیٹا اس قابل نہیں کہ وہ بیوی کے ڈلیوری کےاور دیگر اخراجات اٹھا سکے تو براہ کرم اپنے نکمے اور نکھٹو بیٹے کو اپنے پلو سے باندھ کر رکھیں اور کسی دوسرے کی بیٹی کو اپنے گھر میں لا کر ذلیل مت کریں۔

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • آپ اس سٹوری میں پیش کی گئی لڑکی کے ساتھ ہونے والے واقع سے افسردہ ہیں، اس پر کچھ باتیں ایسی ہیں جن نام کھلے لفظوں میں لینا شائد جھے بھی پسند نہیں کوشش کروں کا کہ اشارہ سے ہی سمجھ لیا جائے۔

    ایسا ہے کہ اگر میں لاہور کا ذکر کروں تو شائد کوئی یہ کہہ سے کہ ہم بھی لاہور میں رہتے ہیں ہم نے تو ایسا نہیں دیکھا تو میں ایسا لکھ دیتا ہوں، ہمارے ہاں بھی رواج کے مطابق پہلا بچہ کی ولادت لڑکی کے والدین کے گھر ہوتی ہے جس پر ساتویں مہینہ لڑکی کے والدین اسے خود آ کر لے جاتے ہیں اور اس پر خرچہ بھی وہی کرتے ہیں، اگر لڑکی کے والدین اس قابل نہ ہوں تو پھر بھی پہلا بچہ کی ولادت لڑکی کے والدین کے ہاں ہی ہوتی ہے اور خرچہ لڑکے والے کرتے ہیں۔ یہ رواج بھی شائد اس لئے ہے کہ لڑکی آخری ایام میں خاوند سے دور یا علیحدہ اپنے والدین کے گھر رہے گی تو سکون سے رہے گی۔ اور یہ اس وجہ سے بہت اچھا ہے لڑکی کے لئے۔

    اس لڑکی کو چاہئے تھا کہ جب اس کی ساس نے اس سے اس مسئلہ پر بات کی تو وہاں یہ اس وقت خاموش رہی اور اپنے خاوند سے اس پر بات کرتی، پھر وہ اپنے والدین سے اس پر بات کرتی، شائد لڑکی نہیں جانتی ہو اور جب وہ اپنے والدین سے اس پر بات کرتی تو وہ اس پر راضی ہو جاتے، یا اسے سمجھاتے یا اس کی ساس سے مل کر اس مسئلہ پر بات کرتے، لڑکی کو ساس سے اسطرح الجھنا نہیں چاہئے تھا، ایسے رشتے نازک ہوتے ہیں اور آپس میں بات کرنے سے مسائل سملجھ جاتے ہیں۔
    =============

    ہمارے ایک دوست یوسف ثانی نام سے یہاں بھی لکھتے ہیں انہوں نے حال ہی میں اپنی بیٹی کی شادی کی ہے اور اس پر بیٹی کو تحفہ میں بہت نفیس باتیں تاکیداً بتائی اور سکھائی ہیں اگر آپ اس کا مطالعہ بھی کریں تو آپ کے لئے بہت بہتر ہو گا۔

    ڈاکٹرعائشہ کو ہماری طرف سے اصل تحفہ براہ راست ان الفاظ میں واٹس ایپ کیا گیا:
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم:
    جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں (النسا۔ ۳۴)
    اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو اور سابق دورِ جاہلیت کی سی سَج دھج نہ دکھاتی پھرو(احزاب:۳۳)۔
    عورت پر سب سے بڑا حق اس کے شوہر کا ہے اور مرد پر سب سے بڑا حق اس کی ماں کا ہے (مستدرک حاکم)۔
    اگر میں کسی مخلوق کے لیے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ عورت کا اس حال میں انتقال ہو کہ اس کا شوہر اس سے خوش ہو تو وہ جنت میں جائے گی (ترمذی)
    شوہر کی موجود گی میں اُس کی اجازت کے بغیر کسی عورت کا نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں۔ جب خاوند اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ انکار کردے اورخاوند اس پر غصہ ہوکر سوجائے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ جہنم میں عورتوں کی کثرت کا سبب شوہر کا کفر کرنا اوراُن کا احسان نہ ماننا ہے- بخاری

    سسرال میں اپنی ڈاکٹری کی تعلیم، ذاتی جائیداد یا برائے نام دینی تعلیم کا تکبر کبھی نہ کرنا۔ ماں باپ سے صرف رسمی تعلق رکھنا۔ اب تمہاری جنت یا جہنم تمہارے شوہر کی خوشی یا ناراضگی میں ہوگی۔ میڈیکل پریکٹس جاری رکھنا یا نہ رکھنے کا فیصلہ اپنی ذاتی مرضی سے نہیں بلکہ شوہر کی مرضی سے کرنا۔ ہمیشہ شوہر یا ساس سسر کے ساتھ ہی ڈرائیوکرنا، اکیلے کبھی ڈرائیو نہ کرنا۔ نہ پوچھے بغیر گھر سے باہر نکلنا اور نہ ہی پوچھے بغیرکسی کو بھی سسرال میں انوائٹ کرنا۔ شوہرکو اس کے اپنے جاب سے متعلق فیصلہ، اسے خود کرنے دینا۔ تم اپنی طرف سے کوئی بھی اصرار نہ کرنا۔ کبھی بھی اور کسی حال میں بھی میکہ اکیلی نہ آنا۔ شوہر، ساس یا سسر کے ساتھ ہی آنا۔ حتی الامکان میکہ میں رات نہ گذارنا۔ حدیث ہے کہ:جو چپ رہا وہ نجات پاگیا۔ سو ہر معاملہ یا مسئلہ میں چپ ہی رہنا۔ شوہر یا ساس سسر کو بولنے، فیصلہ کرنے دینا۔ شوہر، ساس سسرکے مقابلہ میں اپنے ذاتی ساز و سامان سے کبھی محبت نہ کرنا۔ لوگ اہم ہوتے ہیں، چیزیں نہیں۔ چیزوں کے خراب ہونے، ٹوٹنے پر افسردہ نہ ہونا۔ نہ ہی انہیں اس طرح سینت کر چھپا کر رکھنا کہ سسرال والے کنجوس یا لالچی سمجھیں۔ اپنی چیزیں سب کو استعمال کرنے دینا اور وہاں کی چیزیں پوچھ کر استعمال کرنا۔ اپنا موبائل فون کبھی بھی پاس ورڈ سے پروٹیکٹ کرکے نہ رکھنا۔ اپنے موبائل کو شوہر یا ساس سسر کی دسترس سے دور نہ رکھنا۔ شوہراگر گھرپر ہو توان کمنگ موبائل کال اسے ہی اٹھانے دینا۔ اسے میری آخری نصیحت یا آخری وصیت سمجھ کر عمل کرنا تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو رہو۔ اللہ تمہارا حافظ و ناصر ہو۔ آمین!
    یوسف ثانی