خلائی مخلوق اور رسوائی کا سامان - محمد ذیشان اعوان

جب جب سیاستدان اپنے منشور پر عمل نہیں کرتے، اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں، ذاتی مفاد کو ملکی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں، کرپشن کا بازار گرم کرتے ہیں، سب اس پر آواز اٹھاتے ہیں، چیختے اور چلاتے ہیں کہ انہیں لوٹنے، کرپشن کرنے یا بدمعاشی کرنے کا اختیار کس کے ووٹ نے کب اور کیسے دیا؟ سیاستدانوں کو زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ بدنام زیادہ ہیں، آسان ہدف ہیں اور سب کچھ کرتے نظر آتے ہیں۔

ان کا احتساب ضرور ہونا چاہیے اور بلاتفریق ہونا چاہیے۔ لیکن ہمارے ملک میں ایک اور مخلوق بھی ہے جو نظر نہیں آتی۔ جو چاہتی ہے فیصلے صادر کردیتی ہے، پھر یہ چلتی بنتی ہے لیکن نتائج قوم کو سود سمیت بھگتنے پڑتے ہیں۔ یہ اسی مخلوق کی بات ہورہی ہے جسے آج خلائی کے نام سے یاد کیا جارہا ورنہ سمجھ نہیں آتی کہ بندہ کیا سوچے کہ اس کے نام زیادہ ہیں یا کام۔ ملک کے لیے ان کے رت جگوں، قربانیوں اور دشمن سے ہر دم نمٹنے کی صلاحیتوں اور عزائم سے انکار نہیں لیکن ذاتی خواہشات، ماورائے آئین، سب پر حکمرانی کی پالیسی پر نہ صرف تنقید ہونی چاہیے بلکہ اس کے آگے زور آور بند بھی باندھنا چاہیے۔

یہ مخلوق نظر تو نہیں آتی لیکن کچھ نشانیاں ہوتی ہیں جیسے سابق آرمی چیف کے خلاف بیان کے بعد آصف زرداری کے لیے جینا مشکل ہوا تو ان کے ساتھیوں پر بھی کرپشن کے مقدمات کھول دیے گئے۔ اب جب ایک پھر سے ان سے محبت کا رشتہ قائم ہوچکا ہے اور مل کر آگے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے تو ایسے میں نیب سندھ میں کھلے مقدمات کو بند الماریوں میں ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہے جس کا انکشاف کامران خان نے دنیا نیوز پر اپنے پروگرام میں کیا اور بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں نیب نے فریال تالپور کے شوہر منور تالپور کے خلاف ناجائز اثاثوں کا کیس بند کردیا ہے۔ آصف زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی کے خلاف آمدنی سے زیادہ جائیدادوں کی تحقیقات دفتر داخل کردی گئی ہیں۔وزیر داخلہ سہیل انور سیال کے خلاف کرپشن تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی ختم کرکے بند کرد ی گئی ہیں۔ وزیر بلدیات جام خان شورو کے فرنٹ مین رمضان سولنگی کی گرفتاری کے باوجود انہیں کسی تحقیقات میں شامل نہیں کیا گیا ہے، ان کے خلاف جو انکوائریاں اور شکایتیں موجود تھیں وہ بھی بند کردی گئی ہیں۔ وزیر قانون ضیا الحسن لنجار کے خلاف بھی آمدن سے زائد اثاثے بنانےکا کیس بند کردیا گیا ہے۔ سابق وزیر گیان چند چنداسرانی کے خلاف بھی آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا کیس ختم کردیا گیا ہے۔سابق وزیر مکیش چاولہ کے خلاف سی سی ٹی وی کیمروں کی خریداری میں اربوں روپے کی کرپشن کا کیس بند کردیا گیا ہے۔ سابق وزیر بہبود آبادی علی مردان شاہ کے خلاف بھی نیب کی تحقیقات بغیر کسی نیتجے کے بند کردی گئی ہیں۔ گھوٹگی کے مہر برداران کے خلاف زمینوں پر قبضے کا کمزور کیس بنایا گیا جسے نیب نے خود ہی ختم کردیا ہے۔صوبائی وزیر اکرام دھاریجو کے خلاف کرپشن کی تحقیقات بھی بند کردی گئی ہیں۔ڈاکٹر ستارراجپر پر بھی آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام تھا جس کی تحقیقات اب بند کر دی گئی ہیں۔سابق وزیرتعلیم پیر مظہرالحق کے خلاف 13 ہزار ٹیچرز کی بھرتیوں کے لیے پانچ ارب روپے کی کرپشن کا کیس بھی ختم ہوگیا ہے۔ نیب کہتی ہے کہ انہوں نے سرکاری خزانے کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ فریال تالپور کے خلاف کرپشن، کک بیک کی تمام شکایات غلط ثابت ہوئی ہیں۔ کوئی الزام ثابت نہیں ہوا ہے، ان کے خلاف کوئی انکوائری نہیں ہورہی ہے۔ سب ہی واقف ہیں منظور قادر کاکانے سندھ بلڈنگ پر کیسے راج کیا، اربوں روپے بٹورے۔ کم از کم 30 ارب روپے کی کرپشن کرکے کینیڈا چلا گیا اور نیب نے آج تک کوئی ریفرنس فائل نہیں کیا۔ کاکا کے خلاف و ہ ریفرنسز بنانے کی اطلاعات ہیں جن میں وہ براہ راست ملوث نہیں ہے۔ جب اس سے تحقیقات نہیں ہوں گی تو اس نے کس کس سے پیسے لیے اور کس کس کو دیے۔ اس سب پر پردہ ڈال چکا ہے۔

کیا مہذب زمانوں میں آگے بڑھنے کا یہی انداز ہے؟ سکیورٹی معاملات پر بات چیت کی خبر کو آپ ڈان لیکس کا نام دے کر ہنگامہ کھڑا کرلیتے ہیں لیکن کیا عوامی رائے کا احترام نہیں ہونا چاہیے؟ کسی کے بھی قابل قبول یا مسترد ہونے کا فیصلہ کرنا آپ کا کام نہیں، آپ وہ کام کریں جو آپ کا اپنا ہے۔ عوام کے مسترد شدہ لوگوں کو دوبارہ پاک بنانے کی کوشش ایسے ہی مہلک ہے جیسے ووٹ لینے والوں کو اصل ووٹ سے محروم کرنا گناہ ہے۔ عوام نوازشریف کو کروڑ ووٹ دیں یا ایک بھی نہ دیں مگر آپ مداخلت نہ کریں، اپنی مرضی کی حکومتیں بنانے اور توڑنے کی کوششیں ترک کردیں۔ یہ ہر جائز و ناجائز کے لیے ڈنڈے کا استعمال اچھی چیز نہیں، اس سے ادارےکو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ ہاں اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نام نہ لیا جائے نہ سرگوشیوں میں اور نہ ہی جلسوں میں تو ایک ہی راست ہے کہ آپ سیاسی نظام، سوچنے والوں کے دماغ اور خبروں کی نوک پلک درست کرنے کے بجائے اپنے اعمال درست کریں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com