اعتدال و توازن - مفتی منیب الرحمٰن

میں نے شعبان المعظم کی پندرہویں شب کے بارے میں متوازن انداز میں دو کالمز لکھے اور ان میں یہ ثابت کیا کہ اس شب کی فضیلت کسی نہ کسی درجے میں احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے اور اس سلسلے میں مسلکِ اہلحدیث کے ممتاز عالم شیخ عبدالرحمٰن مبارک پوری اور مسلکِ دیوبند کے ممتاز عالم علامہ مفتی محمد شفیع صاحب کے حوالہ جات درج کیے ہیں۔ میں نے اپنے ہم مسلک حضرات کو بھی متوجہ کیا کہ توازن واعتدال کو قائم رکھیں، نفلی عبادات پر فرائض کی قضا کو ترجیح دیں اور اپنے اکابر سے اس کے حوالہ جات دیے ہیں۔ ہمارے ہاں اعتدال وتوازن اور تحمل وبردباری کا درس تو بہت دیا جاتا ہے، لیکن یہ گوہرِ مقصود تقریری مقابلوں یا تحریری مضامین سے ہرگز حاصل نہیں ہوگا، بلکہ عملی مثالوں سے حاصل ہوگا۔ بعض حضرات ضروری سمجھتے ہیں کہ ہر سال میلاد النبی ﷺ اورشبِ براءت کے موقع پر بدعت کی یاد دہانی کرائی جائے، جب ایک درجے میں فضیلت ثابت ہے اور آپ اپنا امتیاز بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ازراہِ کرم یہ کہہ دیں کہ اعتدال میں رہیں۔ محدّثین اور فقہائے کرام کے نزدیک فضائلِ اعمال میں ضعیف احادیث معتبر ہوتی ہیں، قرآن کی نصوصِ صریحہ قطعیہ اور احادیثِ صحیحہ کا مطالبہ حسبِ مراتب عقائد، فرائض اور واجبات وسُنَن کے لیے کیا جانا چاہیے۔ اصول یہ ہے کہ جس درجے کا دعویٰ ہو، اُسی درجے کی دلیل طلب کی جائے، اگر دعویٰ فضائلِ اعمال کا ہے یا فضائلِ شب کا ہے، تو اس کے لیے ضعیف احادیث بھی کافی ہیں۔ اسی طرح میں نے میلاد النبی ﷺ پر جو مضامین لکھے ہیں، اُن میں میں نے اس حدیثِ مبارک کا حوالہ دیا ہے:

’’حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:’’رسول اللہ ﷺ سے پیر کے روزے کی بابت پوچھاگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اس دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن میری بعثت(اعلانِ نبوت) ہوئی یا مجھ پر (پہلی بار)وحی نازل ہوئی، (صحیح مسلم:2745)‘‘۔

علامہ وحید الزماں نے اس کی شرح میں لکھا: ’’اِس حدیث(یعنی رسول اللہ ﷺکا پیرکا روزہ رکھنے) سے ایک جماعتِ علماء نے آپ کی ولادت کی خوشی یعنی مجلسِ میلاد کرنے کا جواز ثابت کیا ہے اورحق یہ ہے کہ اگر اس مجلس میں آپ کی ولادت کے مقاصد، دنیا کی رہنمائی کے لیے آپ کی ضرورت اور امورِ رسالت کی حقیقت کو بالکل صحیح طریقہ پر اس لیے بیان کیا جائے کہ لوگوں میں اِس حقیقت کا چرچا ہو اور سننے والے یہ ارادہ کرکے سُنیں کہ ہم اپنی زندگیاں اُسوۂ رسول کے مطابق گزاریں اور ایسی مجالس میں کوئی بدعت نہ ہو، تومبارک ہیں ایسی مجلسیں اور حق کے طالب ہیں ان میں حصہ لینے والے، بہرحال یہ ضرور ہے کہ یہ مجلسیں عہدِ صحابہ میں نہ تھیں، (لغات الحدیث، جلد:3، ص:119)‘‘۔ اس کو میں علمی دیانت سے تعبیر کروں گا کہ جتنا حدیث سے ثابت ہے، اُسے انہوں نے تسلیم کیا، بدعت کا فتویٰ نہیں لگایا، مجالسِ میلاد میں مقاصدِ ولادتِ نبوت، ضرورتِ نبوت اور امورِ رسالت کو احسن طریقے سے بیان کرنے کا مشورہ دیا تاکہ ان امور کا چرچا ہو اور لوگ اسوۂ رسول کی اتباع کریں، اس سے کسے اختلاف ہوسکتا ہے۔

اسی طرح میلاد النبی ﷺ کے بارے میں مسلّمہ بزرگ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کا موقف باحوالہ لکھا تھا:

’’اور مَشرَب (مسلک)فقیر کا یہ ہے کہ محفلِ مَولِد میں شریک ہوتا ہوں، بلکہ ذریعۂ برکات سمجھ کر ہر سال منعقد کرتا ہوں اور قیام میں لطف و لذت پاتا ہوں، (فیصلہ ہفت مسئلہ:05)‘‘۔ ۔ ۔ وہ مزید لکھتے ہیں: ’’ہمارے علماء مَولِد شریف میں بہت تنازع کرتے ہیں، تاہم علماء جواز کی طرف بھی گئے ہیں، جب صورت جواز کی موجود ہے، پھر کیوں ایسا تشدُّد کرتے ہیں اور ہمارے واسطے اِتَّباعِ حرمین کافی ہے، البتہ قیام کے وقت تولُّد کااعتقاد نہ کرنا چاہیے، اگر احتمالِ تشریف آوری کیا جاوے، مُضائقہ (حرج) نہیں، کیونکہ عالم خَلق مقید بہ زمان ومکان ہے، لیکن عالَم اَمر دونوں سے پاک ہے، پس قدم رنجا فرمانا ذاتِ بابرکات کا بعید نہیں ‘‘۔ ۔ ۔ وہ مزید لکھتے ہیں: ’’مولِد شریف تمام اہلِ حرمین کرتے ہیں، اسی قدر ہمارے واسطے حجت کافی ہے اور حضرتِ رسالت پناہ کا ذکر کیسے مذموم ہوسکتا ہے؟، البتہ جو زیادتیاں لوگوں نے اختراع کی ہیں، نہ چاہیئیں اور قیام کے بارے میں کچھ نہیں کہتا، ہاں مجھ کو ایک کیفیت قیام میں حاصل ہوتی ہے‘‘۔ ۔ ۔ وہ مزید لکھتے ہیں: ’’اگر کسی عمل میں غیر مشروع عوارض (ناجائز خارجی امور) لاحق ہوں، تو اُن عوارض کو دور کرنا چاہیے، نہ یہ کہ اصل عمل کا انکار کردیا جائے، ایسے امور سے انکار کرنا خیرِ کثیر سے بازرکھنا ہے، جیسے قیام ِمولِد شریف، اگر آنحضرت ﷺکا نام آنے پرکوئی شخص تعظیماً قیام کرتاہے، تو اس میں کیا خرابی ہے؟، جب کوئی آتاہے تولوگ اس کی تعظیم کے واسطے کھڑے ہوجاتے ہیں، اگر سردارِ عالَم وعالمیاں(رُوحِی فِدَاہُ)کے اسمِ گرامی کی تعظیم کی گئی تو کیا گناہ ہوا، (شمائمِ امدادیہ:47,50,68)‘‘۔

اسی طرح میں نے شیخ عبداللہ بن محمد بن عبدالوہاب کی تصنیف’’ مختصر سیرۃ الرسول ‘‘کے حوالے سے لکھاتھا:

’’ثُوَیبہ ابولہب کی باندی تھی، جب نبیِ کریم ﷺ کی ولادت ہوئی، تواس نے اپنے آقا کو بھتیجے کی ولادت کی خوشخبری سنائی، اس خوشی میں ابولہب نے انگلی کے اشارے سے اُسے آزادکردیا، بعدمیں ثُوَیبہ نے آپ ﷺکو دودھ بھی پلایا۔ ابولہب کی وفات کے بعد کسی نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھاکہ تمہارے ساتھ کیاسلوک ہوا؟، اس نے بتایا: تم سے جدا ہونے کے بعد عذاب میں مبتلاہوں، مگرہرپیرکے دن انگلی سے ٹھنڈک ملتی ہے۔ پس مقامِ غور ہے کہ جب ابولہب جیسے دشمنِ رسول کافرکو ولادتِ محمد بن عبداللہ کی خوشی منانے پر جہنم میں راحت مل سکتی ہے، تو ایک مسلمان کومحمد رّسول اللہﷺکی ولادت کی خوشی منانے پر بے پایاں اجرکیوں نہیں ملے گا؟ یہ عبارت کاخلاصہ ہے‘‘۔ امام محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی قدرے اختصار کے ساتھ اسی واقعہ کو بیان کیا ہے، (صحیح بخاری: 5101)‘‘۔

الغرض اگر دوریوں کو قربتوں میں تبدیل کرنا اور فاصلوں کو سمٹانا مقصود ہے، تو اعتدال اور تحمّل کے موضوع پرخوبصورت تقریریں کرنے، مضامین لکھنے اور ٹیلی ویژن پر دل نوازمباحثے کرنے سے کام نہیں چلے گا، بلکہ عمل سے ثابت کرنا ہوگا اور اختلاف کو حدود میں رکھنا ہوگا۔ صریح کفر کے ارتکاب کے قطعی ثبوت کے بغیر مسلمانوں کو اسلام سے خارج کرنے سے بہتر غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کرنا ہے، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا:’’اللہ کی قسم! تمہارے ذریعے اللہ تعالیٰ کسی ایک (خوش نصیب)کوہدایت نصیب فرمائے، یہ (سعادت) سرخ اونٹوں کے (قیمتی) ریوڑ سے بہتر ہے، (صحیح البخاری:3009)‘‘۔ سو آپ ﷺ نے انہیں قتال سے پہلے دعوتِ اسلام پیش کرنے کا حکم فرمایا۔

اسی طرح بدعت کی کوئی متفقہ تعریف کرنا ہوگی، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہر کوئی مَن پسند تعریف کرے اور دوسرے پر اس کا اطلاق کرے، کیونکہ عہدِ رسالت مآب ﷺ کے بعد فروغِ دین کے لیے بہت سے امور اختیار کیے گئے ہیں، جو آپ ﷺ کے عہدِ مبارک میں نہ تھے، لیکن دین کی عظیم تر حکمت کے تحت انہیں پوری امت نے قبول کیا : ’’جیسے مُصحف کی صورت میں ایک لغت پرقرآن کی تدوین، مُصحفِ مُقدّس میں سورتوں کے نام، قرآنِ کریم پر اعراب لگانا، رموزو اوقاف، رکوع نمبر لگانا، تیس پاروں میں تقسیم اور اُن کے نام رکھنا، تجوید وقرأت کے اصول، احادیثِ مبارکہ کی تدوین اور اُن کی ثقاہت کو قائم رکھنے کے لیے معاون علوم، دینی مدارس وجامعات کا قیام، عالی شان مساجد، اُن کے میناراور گنبد، مَطاف اور مَسعٰی کی توسیع وتعمیر، حدودِ منٰی سے باہر حجاج کا قیام، منیٰ میں سرکاری دفاتر اوراسپتال کا قیام، ختمِ بخاری، تقسیمِ اسناد ودستار فضیلت کے جلسے، مقابلہ حسنِ قرأت، رمضان میں شبینوں کا اہتمام، مقررہ تاریخوں اور مقامات پر دعوتی وتبلیغی اجتماعات، میلاد النبی ﷺ وسیرت النبی ﷺ کے اجتماعات، دینی اداروں اور دینی تحریکات کے لیے سلور جوبلی، گولڈن جوبلی، پلاٹینیم جوبلی اور ڈائمنڈ جوبلی یعنی پچیس سالہ، پچاس سالہ، پچھتر سالہ اور صد سالہ جشن کی تقریبات کا انعقاد، دعوتی وتبلیغی مقاصد کے لیے سہ روزہ، ، ہفت روزہ، چالیس روزہ اور اس سے زائد مدت کے لیے قافلوں اور جماعتوں کی تشکیل، الغرض بے شمار ایسے امور ہیں جن پر سب کے ہاں کسی اعتراض کے بغیر عمل ہورہا ہے اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کام دنیاوی مقاصد کے لیے ہیں۔ یہ سب کام دینی مقاصد اور حصولِ اجر کی نیت سے ہوتے ہیں، ان کے لیے عوام سے مالی وسائل بھی طلب کیے جاتے ہیں، اگر یہ دینی مقاصد کی خاطر نہیں ہیں تو اِن پر انسانی اور مالی وسائل کا خرچ اسراف کے زمرے میں آئے گا۔

نیز اسلام کی ایک تعلیم یہ بھی ہے کہ مسلمان کے بارے میں حُسنِ ظن رکھا جائے۔ ثبوت و شواہد کے بغیر بدگمانی نہ کی جائے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے مومنو!بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، (الحجرات:12) اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’(بد)گمانی سے بچو، بے شک (بد)گمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے، (صحیح البخاری:5143)‘‘۔ اہل اللہ کا قول ہے: ’’مومنوں کے بارے میں اچھا گمان رکھو‘‘۔

تمام مکاتبِ فکر کے مدارس میں علمِ معانی پڑھایا جاتا ہے، اس میں ایک بحث اسنادِ حقیقی اور اسنادِ مجازی کی ہے، کیونکہ قرآن کریم میں دونوں طرح کی اسناد استعمال کی گئی ہیں۔ اس کو سمجھانے کے لیے درسیات کی کتاب ’’مختصر المعانی‘‘ میں ایک مثال دی گئی ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: ’’موسمِ بہار نے سبزہ اگایا‘‘۔ اس میں اگانے (اِنْبَات)کی نسبت موسمِ بہار کی طرف کی گئی ہے، علامہ تفتازانی نے لکھا ہے: اگر مومن یہ کلمہ کہے تو توحید ہوگی، کیونکہ اُس کا مومن ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ حقیقی سبزہ اگانے والا اللہ تعالیٰ کو مانتاہے اور موسمِ بہار کی طرف نسبت مَجازی ہے، لیکن اگر یہی کلمہ کوئی کافر کہے تو یہ کفر ہوگا، کیونکہ اس کا کفر اس بات کی دلیل ہے کہ وہ موسمِ بہار ہی کو حقیقت میں اگانے والا یا نباتات کو حیات دینے والا سمجھتا ہے۔ توعاجزانہ سوال ہے کہ شرک وبدعت کے فتوے لگاتے وقت اس حسن ظن سے کام کیوں نہیں لیا جاتا۔ البتہ جہاں کفرِ صریح ہو، جس کی کوئی تاویل نہ کی جاسکتی ہو، تو اس کا حکم بیان ہونا چاہیے، ہمارے علماء نے لکھا: اگر کسی کلمۂ کفر کی سو تاویلات وتوجیہات ہوں اور ننانوے وجوہ کفر کی ہوں اور ایک وجہ اسلام کی ہو، تومفتی پر واجب ہے کہ مسلمان کو کفر سے بچانے کے لیے برسبیلِ تنزّل اس ایک تاویلِ اسلام کو ترجیح دے۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.