سورۃ الماعون،،، عقیدہ اور اخلاق - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 18-شعبان- 1439 کا خطبہ جمعہ " سورت الماعون،،، عقیدہ اور اخلاق" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے فرمایا: قرآن کریم سے ہر شخص کو زندگی کے ہر گوشے کے لیے رہنمائی مل سکتی ہے، یہاں سے ہر کوئی اپنے دکھوں کا مداوا لے کر جاتا ہے، قرآن کریم کے انہی جواہر پاروں میں سورت الماعون منفرد حیثیت رکھتی ہے، اس سورت کی ابتدا میں عقائد اور اخلاقیات کے مضبوط تعلق کو واضح کیا گیا کہ جزا سزا کا منکر بد عمل ہوتا ہے اور بد عملی بد اعتقادی کی علامت ہے۔ بد عملی کی وجہ سے پیدا ہونے والی سنگ دلی کا نبوی علاج یتیموں اور مساکین سے اچھے برتاؤ میں پنہاں ہے۔ تیسری آیت میں رفاہ عامہ کے کاموں کی محض خود کو ترغیب نہیں بلکہ دوسروں کو بھی ترغیب دلانے کا اشارہ ہے اس لیے تمام لوگ اپنے معاشرے کے کمزور لوگوں کو خود کفیل بنانے میں کردار ادا کریں۔ چوتھی اور پانچویں آیت میں ایسے نماز پڑھنے والوں کی سرزنش ہے جو نماز کی روح سے آشنا نہیں؛ ان لوگوں کی نماز کا ان کی زندگی پر کوئی اثر نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ غریبوں کا خیال نہ رکھنے والے عام طور پر بے نمازی ہوتے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ نماز، روزہ، زکاۃ اور حج ہر ایک عبادت کے اخلاقی اور معاشرتی اثرات بھی ہیں بلکہ یہ اثرات ان عبادات کے اہداف میں شامل ہیں ، پھر چھٹی آیت میں ریاکاروں کے متعلق بتلایا کہ ان کی عبادات ریاکاری کی وجہ سے گناہ میں تبدیل ہو جاتی ہیں انہیں اس کی سزا ملے گی، اور کامیابی کی بڑی کنجی یہ ہے کہ انسان ریاکاری سے بچ کر ہر عبادت صرف اللہ کے لیے خالص کرے، ساتویں آیت میں یہ بتلایا گیا کہ روزمرہ استعمال کی چیزیں ایک دوسرے کو دینے سے روکنا اچھی بات نہیں، جو روکتے ہیں وہ فرائض میں لازمی طور پر کوتاہی کا شکار ہوتے ہیں، پھر سب سے آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔

خطبہ کی عربی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، وہی تکالیف کو دور کرنے والا ہے، میں اسی کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں اور شکر بجا لاتا ہوں کہ وہی نعمتیں بہانے والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اللہ تعالی نے لوگوں کو ایسا دین دیا جو انہیں اعلی اخلاقی اقدار پر استوار کرتا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے پوری امت کو انتہائی اعلی صفات کی جانب گامزن فرمایا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور ہر جگہ پیش رو بننے والے صحابہ کرام پر رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]

اللہ تعالی نے اپنی معزز کتاب انسانیت کی رہنمائی کے لیے نازل فرمائی، اس کتاب کی سورتیں نور اور آیات واضح تعلیمات ہیں، یہ ایسا چشمہ ہدایت ہے جس میں کمی نہیں آتی، یہ ایسا دریا ہے جو کبھی خشک یا گدلا نہیں ہو گا، ہر انسان قرآن مجید میں اپنا مطلوب پا لیتا ہے اسی لیے پریشان شخص قرآن کریم پر توجہ کر کے پریشانی کا حل تلاش کر لیتا ہے، اور دکھوں سے چور انسان اپنا مداوا ڈھونڈ لیتا ہے۔

قرآن کریم کے جواہر پاروں اور قیمتی موتیوں میں سورت الماعون بھی شامل ہے: {أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ (1) فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ (2) وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ (3) فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ (4) الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (5) الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ (6) وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ} کیا آپ نے اسے دیکھا ہے جو دین کو جھٹلاتا ہے؟ [1] وہی ہے جو یتیم کو دھکے مارتا ہے [2] مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا [3] پس تباہی ہے ایسے نماز پڑھنے والوں کے لیے [4] جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں [5]جو ریاکاری کرتے ہیں [6] اور عام برتنے کی چیزیں دینے سے گریز کرتے ہیں۔[الماعون: 1 - 7] یہ سورت اپنی ساخت کے اعتبار سے انتہائی عظیم سورت ہے، اس سورت نے نظریات اور اخلاقیات کے مابین مضبوط تعلق واضح کیا ہے کہ:

جو دین کو جھٹلائے وہی اللہ تعالی سے ملنے والے ثواب ، عذاب اور حساب کتاب کو جھٹلاتا ہے، اس کے دل میں آخرت پر ایمان نہیں ہوتا ، اور یہی نظریاتی خرابی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے، اور بد کرداری بد اعتقادی کی علامت ہے۔

یہ کیوں کہا کہ وہ دین کو جھٹلاتا ہے؟ اس لیے کہ وہ اپنی زندگی میں کبھی بھی دین کے تقاضوں کی بنیاد پر حرکت میں نہیں آیا! گویا کہ اس نے زبان سے اقرار تو کر لیا، دل سے تصدیق بھی کر دی لیکن پھر بھی اس نے اپنے آپ اور اپنے رویے کو دینی مفاہیم، اقدار اور اخلاقیات پر استوار کرنے کی کوشش نہیں کی، ایمانی کام کرنے کی کاوش نہیں کی اور قرآن کے منہج پر نہیں چلا، حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایمان زبان سے اقرار، دل سے تصدیق اور بدن سے عمل کرنے کا نام ہے۔

جس شخص کا حساب اور جزا سزا کے بارے میں ایمان کمزور ہو وہی دین کو جھٹلاتا ہے، اس کا دل سخت اور خشک ہے، وہی یتیم کو دھکے دیتا ہے، اسے ذلیل اور رسوا کرتا ہے، وہ اپنے کمزور ایمان کی وجہ سے یہ نہیں کر سکتا کہ یتیم کی زندگی کو بہتر بنا دے، اور بد کرداری سے بچ جائے۔

ایسی دین داری کا کیا فائدہ جس کے اثرات کردار اور رویّے پر رونما نہ ہوں؟ ایسے ایمان کا کیا معنی جس کے باعث دل میں دوسروں کا احساس ہی پیدا نہ ہو کہ ان کے کام آ جائے، ان کا بھلا کرے، مساکین کو کھانا کھلا دے، یا دوسروں کو کھانا کھلانے کی ترغیب ہی دے دے، لہذا اگر مال اللہ تعالی کی تعلیمات کے سامنے ہیچ ہو تو یہ ایمان کی علامت ہے۔

محشر اور روزِ جزا پر ایمان زندہ ضمیر کی علامت ہے، یہ انسان کو اچھے کام کرنے پر ابھارتا ہے یہاں تک کہ اچھائی کی عادت پڑ جانے کی وجہ سے نیکی اس کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے اور وہ بھلائی کی جانب بے تکلفی سے بڑھتا چلا جاتا ہے۔

سنگ دلی بھی بسا اوقات انسان کو غفلت میں ڈال کر دین کو مسترد کرنے تک پہنچا دیتی ہے، اس کا علاج خیر البریہ اور انسانیت کے لیے بھیجنے جانے والے رسول ﷺ کی حدیث میں ہے کہ: "ایک آدمی نے آپ ﷺ کے پاس آ کر سنگ دلی کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے اس کے لیے علاج تجویز کرتے ہوئے فرمایا:"(یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو اور مساکین کو کھانا کھلاؤ) اس روایت کو البانی نے صحیح ترغیب و ترہیب میں روایت کیا ہے۔

اور اللہ تعالی کے فرمان: {وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ} وہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا [الماعون: 3] کی رو سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان سے یہ بھی مطلوب ہے کہ وہ رفاہی کاموں پر دیگر مسلمان بھائیوں کو ابھاریں، چنانچہ صرف اتنا کافی نہیں ہو گا کہ وہ خود رفاہی کام کرے لیکن دوسروں کو کمزوروں، یتیموں، مساکین اور غریبوں کی مدد پر ترغیب نہ دلائے، یہ بھی خیال رہے کہ ان کی مدد کرتے ہوئے ان کی عزت پر حرف بھی نہ آئے، اور ان کی دل آزاری نہ ہو۔ فرمانِ باری تعالی ہے: {قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى} اچھی بات کہنا اور معاف کر دینا بہتر ہے ایسی امداد سے جس کے بعد ایذا رسانی ہو۔[البقرة: 263]

اور کسی کے ساتھ نیکی کی افضل ترین شکل یہ ہے کہ انہیں بنیادی ضروریات زندگی مہیا کر دی جائیں، بے روزگاروں کے لیے روزگار مہیا کریں، ذریعہ معاش کے لیے انہیں خود کفیل بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بحث یا عقائد کی تصیح؟ - سطوت اویس

پھر اللہ تعالی نے فرمایا: {فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ} پس تباہی ہے ایسے نماز پڑھنے والوں کے لیے [الماعون: 4] اس آیت میں ان کی یہ بھی ایک علامت بیان کی گئی ہے کہ وہ ظاہری طور پر نماز تو پڑھتے ہیں، لیکن نماز کی روح اور حقیقت سے وہ آشنا نہیں ہوتے، یا نماز کے ارکان پورے نہیں کرتے، چنانچہ ایک بار " ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی، اس وقت رسول اللہ ﷺ مسجد کے کونے میں تشریف فرما تھے، تو وہ نماز سے فراغت کے بعد آیا اور آپ کو سلام عرض کیا، اسے آپ ﷺ نے فرمایا: (جاؤ جا کر دوبارہ نماز پڑھو، تم نے نماز پڑھی ہی نہیں) " بخاری

اگر غور و فکر کرنے والا شخص دیکھے کہ جو لوگ یتیموں پر شفقت نہیں کرتے، مساکین کو کھانا نہیں کھلاتے، ملاوٹ ، جھوٹ، وعدہ خلافی اور ظلم کے دلدادہ ہیں، یہ لوگ نمازوں کی ادائیگی میں بھی سستی کا شکار ہوتے ہیں، اور یہ بات واضح ہے کہ جو نمازیں ضائع کر دے تو دیگر معاملات بالاولی تباہ کرے گا۔

جب عبادت کی حقیقت اور روح مفقود ہو تو وہ محض بدن کی حرکت ہی رہ جاتی ہے پھر وہ ایمان مضبوط نہیں بناتی، نہ ہی رویّے میں کوئی مثبت تبدیلی لاتی ہے، ایسی عبادت کا زندگی پر اثر ناپید ہوتا ہے؛ حالانکہ کتاب و سنت کی نصوص نے عبادات کو شریعت میں شامل کرنے کی وجوہات واضح لفظوں میں بیان کیں ہیں، ان نصوص نے یہ تک بتلایا ہے کہ عبادات کا مقصد کیا ہے، ان کا انسانوں کی زندگی پر اثر کیا ہو گا، بلکہ ان عبادات کو تربیت گاہ قرار دیا ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ} اور نماز قائم کریں، بیشک نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے۔[العنكبوت: 45]

اسی طرح روزے کے بارے میں فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح لکھ دئیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر لکھ دئیے گئے تھے، تا کہ تم متقی بن جاؤ۔[البقرة: 183] نیز روزوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا: (جو شخص خلاف شریعت قول یا فعل سے باز نہ آئے تو اللہ تعالی کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں) بخاری

اسی طرح زکاۃ کے بارے میں فرمایا: {خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا } آپ ان کے اموال میں سے زکاۃ لے کر انہیں پاک کریں اور ان کا تزکیہ کریں۔[التوبہ: 103]

اللہ تعالی نے حج کے بارے میں فرمایا: {لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ } اللہ تعالی کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون بلکہ اسے تمہارے دل کی پرہیز گاری پہنچتی ہے۔ [الحج: 37]

نماز دینی شعائر میں سب سے آخر میں ناپید ہو گی، لہذا جب نماز ضائع ہو گئی تو سارا دین ناپید ہو گیا، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (اسلام کی کڑیاں ایک ایک کر کے ٹوٹتی چلی جائیں گی، جب ایک کڑی ٹوٹ گئی تو لوگ اگلی کو مضبوطی سے تھام لیں گے، تو سب سے پہلے نظام قضا کی کڑی ٹوٹے گی اور سب سے آخر میں نماز کی) یہ حدیث صحیح ہے اس کا ایک شاہد بھی ہے، اسے البانی نے صحیح الجامع اور صحیح ترغیب میں روایت کیا ہے۔

اور اگر انسان کو عبادت بھول جانے کی آفت سے نجات مل جائے تو اپنے دل کا علاج کرنے کیلیے سورت الماعون کی یہ آیت لازمی یاد رکھے: {الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ} جو ریاکاری کرتے ہیں [الماعون: 6]یعنی وہ اپنی نمازوں اور دیگر عبادات میں ریاکاری کرتے ہیں، اس کے لیے بناوٹی انداز اپناتے ہیں، عبادت رضائے الہی کے لیے نہیں کرتے بلکہ لوگوں کو خوش کرنے کیلیے کرتے ہیں، حالانکہ ریاکاری دل سے تعلق رکھنے والے کبیرہ ترین گناہوں میں سے ہے، تو اس سے عمل ضائع ہو جاتا ہے اور اللہ کے ہاں قبول نہیں کیا جاتا۔

آیت سے یہ بھی ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جس شخص کی نیت میں ریا کاری شامل ہو تو اس کی نیکی بھی گناہ میں بدل جاتی ہے اور ایسے شخص کو اس کی سزا بھی بھگتنی ہو گی، فرمانِ باری تعالی ہے: { فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ (4) الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (5) الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ} پس ہلاکت ہے ایسے نماز پڑھنے والوں کے لیے [4]جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں [5]جو ریاکاری کرتے ہیں۔ [الماعون: 5 - 7]

 اور ایسا ہی حال اخلاص سے عاری دل کا ہوتا ہے، اس کی کسی بات میں کوئی وزن نہیں ہوتا، عبادت اس کے طرزِ زندگی پر کچھ اثر نہیں کرتی، اس کا عمل قبول نہیں ہوتا، اور نہ ہی اس کا نفس پاک ہوتا ہے۔

کامیابی کی سب سے بڑی کنجی یہ ہے کہ: انسان کو ریاکاری کی چاہت جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی توفیق مل جائے، اپنا سب کچھ اللہ کے سپرد کر دے، اپنے اعمال اسی کے لیے خالص کر لے، اپنی نیت اسی کے لیے خاص کرنے کی غرض سے دل کو کسی بھی دنیاوی فائدے، شہوت، منصب، مال، شہرت، لوگوں کے ہاں مقام و مرتبے، شائقین کی جانب سے مدح سرائی پانے یا ان کی مذمت سے بچنے کا ارادہ یکسر نکال دے، اللہ تعالی کا حدیث قدسی میں فرمان ہے کہ: (میں تمام شریکوں سے بڑھ کر بے نیاز ہوں، جس شخص نے بھی کوئی عمل کیا اور اس نے میرے ساتھ کسی اور کو بھی شریک کیا تو میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ [کر اس کے عمل سے الگ ہو جاتا ہوں]) مسلم

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس کی حکمت بھرئی نصیحتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہ انتہائی بلند بالا اور بڑا ہے، میں اللہ سبحانہ و تعالی کی حمد بیان کرتا ہوں کہ وہ بہت فضل کرنے والا ہے، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ جاننے والا اور نہایت حلم والا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد اللہ کے بندے اور چنیدہ رسول ہیں، آپ اعلی اخلاق کے مالک تھے، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، تمام صحابہ کرام اور آپ کے پیروکاروں پر روزِ قیامت تک رحمتیں نازل فرمائے ۔

حمد و صلاۃ کے بعد: میں تمام سامعین اور اپنے کو آپ تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں۔

اس سورت کی آخری آیات معاشرتی اخلاقیات کی اہمیت واضح کر کے انہیں ٹھوس بنانے پر زور دیتی ہیں، اور دوسروں کی امداد کرنے میں بخل سے کام لینے پر خبردار کرتی ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ} اور وہ عام برتنے کی چیزیں دینے سے گریز کرتے ہیں۔ [الماعون: 7] یعنی کسی کو عاریتاً چیز بھی نہیں دیتے، اس سے مراد ایسی اشیا ہیں جو عام طور پر لوگ ایک دوسرے کو عاریتاً دے دیتے ہیں انکار نہیں کرتے۔

تو ان لوگوں نے نہ تو اپنے پروردگار کی عبادت اچھے طریقے سے کی اور نہ ہی مخلوق کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھا کہ ایسی چیزیں ہی انہیں عاریتاً دے دیں جائیں جو عام روزمرہ زندگی میں کام آتی ہیں اور استعمال کے بعد واپس کر دی جاتی ہیں، تو یہ لوگ زکاۃ جیسی دیگر امدادی نیکیوں سے تو بالاولی دور ہوتے ہیں۔

{أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ (1) فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ (2) وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ (3) فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ (4) الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (5) الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ (6) وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ} کیا آپ نے اسے دیکھا ہے جو دین کو جھٹلاتا ہے؟ [1] وہی ہے جو یتیم کو دھکے مارتا ہے [2] مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا [3] پس تباہی ہے ایسے نماز پڑھنے والوں کے لیے [4] جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں [5]جو ریاکاری کرتے ہیں [6] اور عام برتنے کی چیزیں دینے سے گریز کرتے ہیں۔[الماعون: 1 - 7]

یہ بھی پڑھیں:   بحث یا عقائد کی تصیح؟ - سطوت اویس

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجو۔ [الأحزاب: 56]

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا، انکے ساتھ ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، نیز اپنے رحم ، کرم، اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! کافروں کے ساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! تیرے اور دین دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔ یا رب العالمین!

یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں ، ہمارے ملک کے متعلق یا اسلام اور مسلمانوں کے متعلق برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء! یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں ، ہمارے ملک کے متعلق یا کسی بھی اسلامی ملک کے متعلق برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء!

یا اللہ! پوری دنیا میں اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے لڑنے والے مجاہدین کی مدد فرما، یا اللہ! ان کے نشانے درست فرما، یا اللہ! ان کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما، اور انہیں حق بات پر متحد فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! پوری دنیا میں کمزور مسلمانوں کی مدد فرما، یا اللہ! ان کی مدد، نصرت اور حمایت فرما، یا اللہ! کمزور مسلمان بھوکے ہیں ان کے کھانے پینے کا بندوبست فرما، ننگے پاؤں ہیں انہیں جوتے فراہم کر، یا اللہ! مسلمان کپڑوں سے برہنہ ہیں انہیں لباس مہیا فرما، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے، ان کا بدلہ چکا دے، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے، ان کا بدلہ چکا دے، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے، ان کا بدلہ چکا دے، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے ہر کام کی توفیق مانگتے ہیں ۔ یا اللہ! ہم جہنم اور جہنم کے قریب کرنے والے ہر عمل سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہم تجھ سے معلوم یا نامعلوم ہمہ قسم کی بھلائی مانگتے ہیں چاہے کوئی جلدی ملنے والی یا دیر سے، یا اللہ ! ہم تجھ سے معلوم یا نامعلوم ہمہ قسم کی برائی سے پناہ مانگتے ہیں چاہے چاہتے وہ جلد آنے والی ہے یا دیر سے ۔

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے۔ یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے شروع سے لیکر آخر تک، ابتدا سے انتہا تک ، اول تا آخر ظاہری اور باطنی ہر قسم کی جامع بھلائی مانگتے ہیں، نیز تجھ سے جنتوں میں بلند درجات کے سوالی ہیں۔

یا اللہ1 ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف نہ ہو، یا اللہ! ہماری رہنمائی فرمائی اور ہمارے لیے راہ ہدایت پر چلنا بھی آسان فرما، یا اللہ! ہم پر زیادتی کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ! ہمیں تیرا ذکر، شکر، تیرے لیے مر مٹنے والا، تیری طرف رجوع کرنے والا اور انابت کرنے والا بنا۔

یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہماری کوتاہیاں معاف فرما، ہماری حجت کو ٹھوس بنا، اور ہمارے سینوں کے میل کچیل نکال باہر فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے تمام معاملات سنوار دے، ہمیں ہمارے یا کسی مخلوق کے رحم و کرم پر ایک لمحہ کے لیے بھی مت چھوڑنا۔

یا اللہ! ہم تیری نعمتوں کے زوال، تیری طرف سے ملنے والی عافیت کے خاتمے، تیری اچانک پکڑ اور تیری ہمہ قسم کی ناراضی سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم پر اپنی برکتوں، رحمتوں ، فضل اور رزق کے دروازے کھول دے۔ یا رب العالمین!

یا اللہ! ہماری عمر، عمل، رفیق حیات، اولاد، املاک، دولت، اور رشتہ داروں میں برکتیں فرما، یا اللہ! ہم جہاں بھی ہوں ہمیں بابرکت بنا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہم سب کے والدین اور تمام مسلمان فوت شدگان کو بخش دے، یا اللہ! تمام فوت شدگان پر رحمت فرما، تمام مریضوں کو شفا یاب فرما، اور ہمارے معاملات سنوار دے، یا ارحم الراحمین! یا اللہ! ہمارے والدین اور تمام مسلمانوں کی بخشش فرما دے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، توں ہی ہمارا معبود ہے، توں غنی اور ہم فقیر ہیں ، ہمیں بارش عطا فرما، اور ہمیں مایوس مت فرما، یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما، یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما، یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما۔ یا اللہ! تیری رحمت کے صدقے یہ بارش غرق، منہدم، اور آزمائشوں میں ڈالنے والی نہ ہو، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ!ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ!ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کی تیری رضا اور رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کے ولی عہد کو ہر خیر کے کام کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین! یا اللہ! انہیں بہترین حاشیہ نشین عطا فرما جو ان کی ہر خیر کے کام کی رہنمائی کریں، اور ان کی معاونت کریں، یا اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت کے نفاذ کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!

{رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] {رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحشر: 10] اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے، اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10] {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 201] ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہے۔

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ / پرنٹ کرنے کے لیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی ایس حدیث کے بعد ایم ایس تفسیر مکمل کر چکے ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.