شیخ سدو (6) - خرم علی راؤ

پچھلی قسط

تھڑے پر چار یا پانچ افراد تومستقل بیٹھنے والے تھے،باقی آتے جاتے موسم تھے۔ میرا شمار تھڑا کونسل کے مستقل اراکین میں تو نہیں ہوتا تھا، پر مجھے پروٹوکول شیخ ومرزا صاحبان کی خصوصی شفقت کی بنا پر وہی دیا جاتا تھا۔ میرا روز نہیں تو ہفتے میں دو، تین دن ضرور وہاں کچھ وقت لگتا تھا۔ اب انٹر نیٹ کی بہتات،سیل فونز کے سیلاب اور امن و امان کی مخدوش صورت حال نے اس قسم کی بیٹھکوں کو بہت محدود کردیا ہے،وگرنہ یادش بخیر ہم نے دیکھا بھی ہے اور سنا بھی ہے کہ کس طرح ساری ساری رات محلے کے بڑے علاقوں اور گلیوں میں محفلیں جمایا کرتے تھے۔ تاش، کیرم بورڈ، ڈرافٹ اور گپیں،قہقہے ان مجالس کی جان ہوا کرتے تھے۔ پورا محلہ ایک گھر کی مانند ہوا کرتا تھا،چھوٹے بھی ایک مخصوص وقت تک اپنے ایج گروپ میں اس قسم کی محافل جماتے تھے مگر بڑوں کی نظر ان پر رہتی تھی۔ ان پر روک ٹوک اور کسی غلطی پرتنبیہ کرنا گویا ہر بڑے کا فرض عین ہوا کرتا تھا۔ شہروں میں تویہ رواج اب بہت کم ہوگیا ہے۔ لوگ ٹی وی، میڈیا اور انٹر نیٹ اور موبائل کی مجازی دنیا میں جیسے کھو سے گئے ہیں اور یہ محفلیں جیسے اب خواب و خیال بنتی جارہی ہیں۔ البتہ مضافاتی علاقوں اور دیہاتوں میں ان روایات کی جھلک اور رواج ابھی کچھ باقی ہے۔

تو جناب، کبھی کبھار کے آنے جانے والوں میں بسا اوقات بڑے دلچسپ کریکٹر بھی آیا کرتے تھے اور خوب مزہ رہتا تھا۔ ایک دفعہ ایک بڑے شہر سے کوئی صاحب مع اہل و عیال اپنے ایک عزیز کے یہاں کچھ روز کے لیے تشریف لائے۔ کوئی بھنڈار پورا آئے اور تھڑے پر حاضری نہ دے؟ یہ ممکن ہی نہیں تھا۔ یہ تھڑا در اصل ایک وسیع و عریض چبوترا تھا۔ پندرہ بیس افراد تو آرام سے بیٹھ ہی جایا کرتے تھے۔ تھڑے کی روزانہ باقاعدہ دھلائی ہوا کرتی تھی اور پھر عموماً شام کو رونق لگنا شروع ہوا کرتی اور رات گئے تک محفل جمی رہتی۔ تو وہ جو صاحب تشریف لائے وہ بھی بڑے زندہ دل اور ہنسوڑ تھے۔ پڑھے لکھے بھی تھے، ان کے آنے سے بڑی رونق لگی،وہ بھی دیگر حاضرینِ تھڑا کی طرح اپنے شیخ جی کے مرید ہو گئے۔ ان کی نفسیات کو سمجھ گئے اور موقع بموقع شیخ صاحب کی تعریف میں زمیں آسمان کے قلابے ملایا کرتے اور تفریح لیا کرتے مگر اس طرح سے وہ حضرت شیخ کی آنکھوں کا تارا بن گئے تھے گویا، چاچا فلسفی کو یہ کب گوارا تھا کہ وہ تو مرید خاص ٹھہرے۔ لہٰذا وہ ان صاحب جن کا نام ہم راشد فرض کر لیتے ہیں کی ہر بات میں ایسے مخالفت کرنے لگے جیسے ایک دل جلا اپوزیشن لیڈر حکومت کی کیا کرتا ہے۔ مگر سارے حاضرین سمجھ گئے تھے کہ اب وہ شیخ صاحب کے مرید خاص نہیں رہے ہیں بلکہ یہ منصب اب عارضی طور پر راشد صاحب لے اُڑے ہیں۔ سارے حاضرینِ تھڑا اس صورت حال سے بہت محظوظ ہوتے۔ پھر ایک موقع ایسا آیا کہ انہیں اپنا کھویا ہوا منصب دوبارہ مل گیا۔

تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ ایک مرتبہ محفل زوروں پر تھی۔ راشد صاحب نے ایک شعر سنایا

تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

اور تقریباً التجائی انداز اپناتے ہوئے شیخ صاحب سے بولے، حضرت، علامہ اقبال کے اس شعر کی ذرا کچھ تشریح تو عنایت ہو۔ شیخ صاحب اس قسم کی تعلیم و تشریح سے بہت گھبراتے تھے اور کنّی کاٹ جایا کرتے تھے۔ خصوصاً جب تعلیم یافتہ لوگ موجود ہوں۔ چنانچہ ذرا پہلے تو کھنگھار کر گلا صاف کیا، پھر بے چینی سے پہلو بدل کر پہلے میری جانب مدد طلب نظروں سے دیکھا،مگر میں ان کی مدد کر کے کیوں ایک متوقع تفریح سے محروم رہتا؟ چنانچہ میں تو آنکھیں پھیر گیا۔ پھر شیخ جی مرزا صاحب کی جانب متوجہ ہوئے، وہ بھی بجائے مدد کرنے کے مخصوص طنزیہ انداز میں یوں گویا ہوئے کہہ ہاں ہاں، تو بڑا شاعر اعظم بنتا ہے نا؟ چل ہوجائے تشریح ذرا اور زہریلی ہنسی ہنسے۔ میں بغور شیخ صاحب کو دیکھ رہا تھا کہ وہ اس مشکل صورتحال سے خود کو کیسے نکالتے ہیں، باقی حاضرین تھڑا بھی گویا ہمہ تن گوش تھے۔ شیخ صاحب نے دوبارہ گلا صاف کیا،اور پھر کڑک کر بولے ابے فلسفی! چاچا سر جھکائے بالکل میرے برابر میں خاموش بیٹھے تھے، چونک کر سر اٹھایا اور بولے، جی استاد۔ کہا،ابے! یہ راشد نے جو شعر بڑھا اس کا مطلب میں نے تجھے سمجھایا تھا نا ایک دفعہ؟ چاچا اشارہ سمجھ گئے کہ بندر کی بلا طویلے کے سر والا معاملہ ہے۔ مگر ایک سچے شاگرد اور مریدکی طرح فوراً بولے،ہاں استاد،بتائی تھی نا۔ شیخ جی نے راشد کی جانب متوجہ ہوگر شانِ بے نیازی سے فرمایا راشد میاں، پہلے میرے شاگرد کی سن لو،اگر تسلی نہ ہوئی تو میں بھی کچھ بک دوں گا،بتادوں گا۔ اسی اثنا میں میں نے چاچا کے کان میں سرگوشی کرکے انہیں مسئلے کا حل بتادیا تھا۔ راشد نے چاچا کی جانب دیکھا تو چاچا چمک کر بولے راشد صاحب! صرف ڈگریاں لینے سے کوئی پڑھا لکھا نہیں ہوجاتا،سمجھے، یہ شعر جو تم نے پڑھا ہے یہ تو علامہ کا ہے ہی نہیں سید صادق حسین ایڈوکیٹ کا ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہوتی ہے۔ سب حاضرین مع شیخ صاحب اور راشد دنگ رہ گئے اور شیخ جی نے لپک کر چاچا کو سینے سے لگا لیا اور بولے تو واقعی میرا باہو بلی ہے۔ چاچا نے میری جانب احسان مندانہ نظروں سے دیکھا اور ہولے سے مسکرا دیے۔