درس نظامی: چند مباحث (4) - محمد دین جوہر

پچھلی قسط

عزیزم، آپ نے اپنی تازہ ای میل میں کچھ تفصیل طلب جوابات کی طرف مراجعت کی ہے۔ میں حسبِ استطاعت ان کو واضح کرنے کی سعی کرتا ہوں۔ لیکن آغاز میں ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ درس نظامی پر ہماری گفتگو ایک فراموش شدہ امکان کی توضیحات و تفصیلات ہیں۔ لیکن درس نظامی ایک واقعیت بھی رکھتا ہے۔ اس کے جو پہلو ہمارے درمیان زیربحث ہیں، وہ تجربے میں ہیں نہ نظر (theory) میں۔ اور جو تجربے میں ہیں، وہ زیربحث نہیں ہیں۔ آپ کو مکالمے کے اس عدم توازن کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ درس نظامی تمام پہلوؤں سے زیربحث آ سکے۔

سوال نمبر ۱: آپ نے ایک جگہ تحریر کیا ہے کہ ”کسی بھی شعبے پر اس کے متعلقین اور ماہرین کا جواب مفید، ثقہ اور معتبر ہوتا ہے“۔ تو جس کسی نے بھی اس تعلیمی نظام پر اعتراضات کیے وہ تو اسی درس کے پڑھنے اور پڑھانے والے لوگ ہیں۔ آپ کی ماہرین یا متعلقین سے مراد کون سے لوگ ہیں؟

جواب: یہ تو بہت سادہ بات تھی۔ اس سے میری مراد وہ افراد ہیں جو آج کے زمانے میں تعلیم کے نظری تصور، اس کے عمل اور اس کی میکانیات سے واقف ہوں۔ مثلاً تعلیمی عمل کا ایک حصہ متون کی تدریس ہے۔ لیکن یہ بات کہ ”جو متون مقصود ہیں، وہ ذریعہ نہیں بن سکتے“ صرف اس شخص کا موضوع ہو سکتا ہے جو جدید تعلیم سے نظری اور عملی طور پر واقف ہو۔ صرف متون پڑھانے والا استاد زیادہ سے زیادہ یہ بتا سکتا ہے کہ متن مشکل ہے یا آسان، اور یہ کہ اس میں نمبر لینے کا بہتر طریقہ کیا ہے۔ پھر تعلیم پر اخلاقی مواعظ بھی تعلیمی عمل کو سمجھنے میں مدد نہیں دیتے، اور نہ اس کی تبدیلی میں کسی طور معاون ہیں۔ ”اسی درس کے پڑھنے اور پڑھانے والوں“ کا درس نظامی یا کسی تعلیمی نظام پر اعتراض کرنا ایسے ہی ہے جیسے ریل میں سفر کرنے سے آدمی کو ریلوے نظام کے تمام پہلوؤں کا ماہر بھی تسلیم کر لیا جائے، یا ہسپتال میں داخل مریض کو نظام صحت پر اتھارٹی مان لیا جائے۔ ریل کے سفر اور علاج کا تجربہ اپنی اپنی جگہ بہت اہم اور قیمتی ہے، لیکن نظام پر گفتگو صرف تجربی نہیں، نظری بھی ہے۔ اس کی استعداد بہم پہنچانے کی ضرورت ہے۔ یہ استعداد بہم کرنا کارے دارد بھی ہرگز نہیں ہے کیونکہ اس میں صرف حالتِ انکار سے باہر آنے کا فیصلہ ضروری ہوتا ہے۔ معمولی کوشش سے آدمی یہ استعداد پیدا کر کے گفتگو کا اہل اور اس میں شریک ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے، بس اپنے معاملات کو اخلاقی اور انسانی ذمہ داری سے سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ اس میں سادہ سا سوال یہ ہے کہ کسی بھی دی گئی صورت حال کو یا کسی نظام کو سمجھنے کے معروف علمی اور نظری ذرائع کیا ہیں؟ جواب کی استعداد نہ ہونے پر سوال کی ثقاہت سے انکار ہمارا بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ کسی بھی تبصرے سے قبل متعلقہ چیز کو جیسے وہ ہے ویسے ہی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے، اور اپنی رائے، خواہش، استعداد، تعصب یا مفاد کو اس پر محمول نہیں کرنا چاہیے۔ مثلاً کمپیوٹر کو عمرانیات یا اصول فقہ کی روشنی میں جانا اور سمجھا نہیں جا سکتا، لیکن ہمارا علمی طریقہ کار اس سے ملتا جلتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے علمی معاملات میں دیانت کا وہ معیار بھی باقی نہیں رہنے دیا جو ہماری روزمرہ زندگی میں ہے، اگرچہ وہ بھی ازحد پست ہے۔

سوال نمبر ۲: آپ نے تحریر کیا ”جدید سائنس nano precision کے بغیر ناقابل تصور ہے“۔ عرض ہے کہ سائنس ایک تجرباتی شے اور عملی چیز ہے، کیا درس نظامی بھی ایسی ہی کوئی چیز ہے کہ ہم درس نظامی کی افادیت کو اس کے تناظر سے سمجھیں؟ آپ نے درس نظامی کی تدریس میں ”بال کی کھال اکھیڑنے“ کو قیاس کیا یا تشبیہ دی جدید سائنسی طریقہ کار پر تو یہاں کیا مقیس اور مقیس علیہ میں کوئی علت مشترکہ ہے؟ یا اگر تشبیہ دی ہے تو مشبہ مشبہ بہ میں علاقہ مشابہت بھی ہے؟

جواب: مذکورہ حوالے میں صرف یہ کہنا مقصود تھا کہ علم اور تعلیم ہر formal سرگرمی کی طرح انتہائی حد تک مفصل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ ”بال کی کھال اکھیڑنے“ کو قابل مذمت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ علمی اور نظری سرگرمی اپنی ذراتی جزیات میں بھی تفصیل پاتی ہے۔ یہ ایک ایسا انسانی عمل ہے جو ہر شعبے میں ظاہر ہو کر رہتا ہے، اور وہ شعبہ بھلے سائنس ہو یا جدید تعلیم یا درس نظامی یا آرٹ وغیرہ۔ صرف یہ اشارہ کرنا مقصود تھا کہ کسی بھی formal نظری، علمی اور عملی سرگرمی کی حرکیات کیسے واقع ہوتی ہے۔ اس میں درس نظامی اور سائنس کو نہ ایک دوسرے پر قیاس کیا جا رہا ہے اور نہ تشبیہ دی جا رہی ہے۔

سوال نمبر ۳: سوال یہ ہے کہ قدیم نظام تعلیم میں عقلی علوم کی اس قدر بہتات کیوں ہے؟ جیسے سابق میں بات گزر چکی کہ عقلی علوم میں سے منطق کی آٹھ کتب، اور فلسفے کی تقریباً چار کتابیں جن میں شمس بازغہ جیسی حکمت کی انسائیکلوپیڈیائی کتاب بھی شامل ہے۔ اور ان کتب پر تشریحی اور تنقیدی حواشی اس کے سوا ہیں جن کو اوراق پر یکجا کیا جائے تو مکمل کتاب بن جائے۔ اور ریاضی کی تقریباً چھ کتب شامل ہیں۔ اور دیگر علوم و فنون جیسے نحو، صرف اور اصول فقہ کے انداز تدریس اور تعلیم میں عقلی علوم کے اثرات کا غلبہ ہے۔ اس کے بارے کیا توجیہ کی جا سکتی ہے؟

جواب: اس کا جواب بھی بہت سادہ ہے۔ اگر انسانی ذہن کی ساخت عقلیت پر تشکیل نہ دی جا سکے تو اس کو علوم سے کوئی نسبت پیدا نہیں ہو سکتی، بھلے وہ علوم سائنسی ہوں یا سماجی یا مذہبی وغیرہ۔ علم سے ذہنی نسبت ارادی طور پر استوار کی جاتی ہے، جو ظاہر ہے صلاحیت سے بھی مشروط ہے۔ ہدایت کی بہم کردہ اقدار و احکام کو مان کر ان پر کاربند ہو جانا بہت سادہ ہے۔ مذہبی شخصیت اپنے ذہن اور عمل میں عام طور پر بہت سادہ ہوتی ہے۔ دین کا مقصود تقویٰ ہے، علم نہیں ہے۔ ہدایت کو تسلیم کرنے کے بعد ذہن میں شبے اور نفس میں شر سے محفوظ رہنا ضروری ہے، ورنہ ان اقدار و احکام کا کوئی معنی نہیں ہے۔ شبہ اور شر کا منبع historical and social order ہے جو انسانوں کا مجموعہ ہے اور اس میں انسان سے تعامل کی سطح پر نیچر بھی شامل ہے۔ شبہ اور شر اس order میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ ان کو دفع کرنے کے ذرائع اور وسائل ہمیں تاریخی صورت حال کے مطابق خود پیدا کرنے پڑتے ہیں ورنہ ہدایتی اقدار کو باقی رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کلام کا مقصد انہی شبہات سے تعرض تھا، اور صوفیانہ مجاہدے کا مقصد شر سے بچنے کی قوت بہم پہچانا ہے۔ ضدِ ہدایت شبہات کا ازالہ عقلیت پر تربیت یافتہ ذہن کے بغیر ممکن نہیں۔ آپ منطق، کلام اور فلسفے وغیرہ کی جن کتابوں سے گھبراتے ہیں، وہ ایسے ہی فعال ذہن کی تشکیل اور تربیت کے لیے تھیں۔ اب چونکہ ان کی تدریس اور معیارِ تدریس پر بہت سے سوالات پیدا ہو گئے ہیں، اس لیے ان کی ”افادیت“ بھی موہوم ہو گئی ہے۔ ہماری جدید تعلیم میں عقلی content نہ ہونے کی وجہ سے اور مذہبی تعلیم میں اس کے معطل ہونے کی وجہ سے جعلی علوم کا غلبہ مکمل ہو گیا ہے، جس سے نکلنے کا کوئی راستہ فی الوقت دکھائی نہیں دیتا۔ ہمارے ہاں سائنس جنّوں سے توانائی حاصل کرنے کے جتن کرتی ہے تو مذہب آبِ وضو سے نیوران کی میکانیات کے اسرار منکشف کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔

ہمارے ہاں متداول ذہن نہ مذہبی ہے نہ سائنسی، بلکہ یہ ایک غیرانسانی سا ذہن ہے جو استعمار کی بھٹی میں آتشِ استشراق سے ڈھالا گیا تھا۔ اسے اپنی کچھ خبر ہے نہ دوسرے کا کچھ پتا ہے۔ اس ذہن کا فطری انسانی اوصاف کا محتمل ہونا بھی مشکوک ہے کیونکہ یہ انفس و آفاق میں معلومات کی درست ترتیب سے بھی واقف نہیں رہا۔ ایسے ذہن کا دین کے لیے مفید ہونا تو دور کی بات ہے، یہ انسانوں کے کام کا بھی نہیں ہوتا۔ لیکن اگر استعمار و استشراق ہمارے ذہن کے ساتھ یہ کھلواڑ کر سکتا تھا تو اس کی بازیافت کے امکان کو بھی زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔ ہمیں آج پرامید عزم کے ساتھ اسی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

سوال نمبر ۴: ایک بات یہ بھی دریافت کرنی ہے کہ علوم حدیث اور تفسیر سے اس درجے کا مس نہیں کیا گیا جس طرح کی توجہ عقلی علوم کی جانب کی گئی، اگرچہ ضرور حدیث اور تفسیر کی تدریس اسی روایتی و علمی انداز میں کی جاتی ہو گی جو ان علوم کا حق ہے؟

جواب: ہمارے ہاں درس نظامی میں رد و بدل اور دینی روایت میں adjustments کا مسئلہ اسی طرح کے مفروضوں پر مبنی ہے۔ مثلاً درس نظامی پر بہت بڑا اعتراض یہ رہا ہے کہ اس میں ”عقلی علوم“ پر زور زیادہ تھا، جبکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ ”دینی علوم“ پر زور دیا جاتا۔ پھر ہم نے زور دینا شروع کر دیا اور نتائج جو نکلے وہ ہمارے سامنے ہیں۔ مثلاً مفروضہ یہ تھا کہ ہماری توجہ عقلی علوم، کلام، تصوف و عرفان، اصولیات، فقہی خردہ گیری وغیرہ پر مرکوز رہی ہے اور دین کا اصل پیغام نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے۔ ”دین کی درست تفہیم“ کے لیے فوجوں کی فوجیں پہاڑ کھودنے نکل کھڑی ہوئیں اور مردہ اور متعفن نتائج سے ہماری جیبیں بھر گئی ہیں، اور ذہن خالی ہو گئے ہیں۔ مثلاً دورِ شکست میں دینی روایت پر استشراق کے حملے اور استعمار کے دباؤ میں دینی روایت کے تحول (transformation) کو سمجھنا اور اس کا جواب دینا زیادہ ضروری تھا یا روایت کے اندر شرک و بدعت کے نئے محاذات کھولنا زیادہ اہم تھا؟ مثلاً مسلمانوں کے علاوہ ساری دنیا نے مغربی تہذیب کو مکمل طور پر اختیار کر لیا ہے۔ اور ہر جگہ یہ کام قرآن و سنت سے مکمل بےخبری اور تاریخی مؤثرات کے تحت واقع ہوا ہے۔ مغرب کو اختیار کرنے اور اس کی جواز سازی کے لیے ہم تاریخی اور تہذیبی مؤثرات پر گفتگو کو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے آخر قرآن و سنت کے ساتھ کھلواڑ پر ہی ہر وقت کیوں آمادہ ہوتے ہیں؟

ہم بہت سادہ بات کو سمجھنے سے بھی انکاری ہیں کہ استعمار اور استشراق جس دینی اور تہذیبی روایت کو مٹا دینا چاہتے ہیں، ہم عملاً ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے عین اسی وقت، عین اسی روایت کی اصلاح پر کمربستہ کیوں ہو گئے؟ یعنی استشراقی، استعماری اور اصلاحی ایجنڈا بیک آن کیوں ہے؟ پھر استعماری، استشراقی اور جدید اسلام کی نام نہاد علمی منہج اور تعبیری مقاصد ایک کیوں ہے؟

میں صرف یہ کہنے کے جتن میں ہوں کہ درس نظامی کو discredit کرنے کے لیے جو اعتراضات اٹھائے گئے، وہ اپنی نوعیت میں بالکل وہی ہیں جو دینی روایت کو undermine کرنے کے لیے اٹھائے گئے۔ جن اعتراضات کی بنیاد پر ہم نے درس نظامی کا گلا گھونٹا اور اب اس کی لاش ٹھکانے لگانے کے چکر میں ہیں، وہی چیزیں اب دین کے خلاف بھی تو صف آرا ہیں۔ ہمیں اپنے آپ سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ اب کیا ارادے ہیں؟

درس نظامی کی پوری بحث میں ایک اہم حقیقت کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ تاریخی حالات میں تبدیلی سے معاشروں میں موجود بہت سی سماجی، ثقافتی اور تہذیبی ہیئتیں غیر متعلق اور غیر اہم ہو جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں تبدیلی کے ہم قدم ذہن اور تبدیلی کے علمبردار ذہن نے ان پر بجا طور سوال وارد کیے ہیں۔ لیکن بہت جلد مذہب کی ordained ہیئتیں اور ان سے جڑے ہوئے مذہبی احکام بھی ان سوالات کی لپیٹ میں آ گئے۔ اصلاح کا ایجنڈا عموماً عملی ہوتا ہے اور عام طور پر سماجی اور تہذیبی ساختوں تک محدود ہوتا ہے۔ لیکن اصلاح کے جواز کے لیے نئی تعبیرات کی ضرورت پڑتی ہے، اور ہوا یہ کہ خود دین کے مبادی بھی بتدریج ان تعبیرات کی زد میں آ گئے۔ اب تو اصلاح اور تعبیر کی دنیا ایک مچھلی بازار بن گئی ہے جس میں نہ یہ سجھائی دیتا ہے کہ دین کیا ہے اور نہ یہ پتہ چلتا ہے کہ دنیا کیا ہے۔ ہمارے دین کی اصلاح کی فکر اول اول استعمار و استشراق کو ہوئی تھی، اور اب تو یہ کام ہر کس و ناکس نے سنبھال لیا ہے، اور متجدد مجتہدین سے پالا پڑنا اب روز کا معمول بن گیا ہے۔

سوال نمبر ۵: آپ نے چند مقامات پر تعلیم اور علم کے فرق کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس فرق کرنے کی وجہ اور ہمیں یہ فرق کیوں ملحوظ رکھنا چاہیے؟ اگر اس فرق کو روا نہ رکھیں تو کیا نتائج برآمد ہوں گے؟ ( اگرچہ آپ نے اس کے بارے تھوڑا بہت بتلایا ہے) برائے مہربانی مزید ادراک کے لیے توضیح بالمثال فرمائیں۔

جواب: تعلیم بنیادی طور پر معاشرے میں قائم ایسی میکانزم ہے جس کے ذریعے سے ایسی معلومات، افعال اور رویے نئی نسلوں تک منتقل کیے جاتے ہیں جنہیں معاشرہ بلا دلیل ضروری سمجھتا ہے۔ لیکن ان کے ”ضروری“ ہونے کا شعور اور فیصلہ علم سے ہوتا ہے۔ تعلیم صرف معلومات وغیرہ کا مجموعہ ہے، لیکن علم معلومات میں نظری پہلو شامل کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ مختلف معاشروں میں قائم تعلیم کی میکانزم میں مماثلتیں ایک امر عام ہے، لیکن اس کے مشمولات بالکل ایک جیسے نہیں ہو سکتے۔ تعلیم ہر معاشرے کے ورلڈ ویو کے بنیادی اجزا کو آگے منتقل کرنے کی میکانزم ہے، اور علم اس ورلڈ ویو کے خدو خال کو مستحضر رکھتا ہے۔ سادہ لفظوں میں کسی بھی معاشرے کی بنیادی اقدار سے تعلیم کی نسبتیں معلوماتی ہوتی ہیں اور علم کی نظری اور فکری۔ میری دانست میں یہ موضوع بڑی اہمیت کا حامل ہے، اور اسے کسی وقت الگ سے زیر بحث لائیں گے۔ ابھی ہم گفتگو کو تعلیم تک محدود رکھتے ہیں۔

میں اپنی بات کو ایک مثال سے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک عام مسلمان کسی تجربے، مشاہدے، سوچ یا نصیحت وغیرہ سے پکا نمازی بننے کا فیصلہ کرتا ہے، اور کسی عالم کے پاس جاتا ہے تاکہ نماز کے بارے میں ضروری دینی احکام جان سکے۔ وہ اہل سنت و الجماعت میں سے کسی اہل حدیث، دیوبندی یا بریلوی عالم کے پاس حاضر ہوتا ہے۔ نہایت معمولی فرق کے ساتھ متعلقہ عالم اس کی یہ ضرورت پوری کرنے پر قادر ہے۔ اس آدمی کی ضرورت تعلیمی ہے، اور اللہ کا شکر ہے کہ دینی ہدایت اپنی جزیات میں بھی محفوظ اور قابل عمل ہے، اور ہمارے معاشرے میں اس کے مکمل ذرائع بھی موجود ہیں۔ اس طرح مولوی صاحب کی ”معلومیت“ سے اس آدمی کی یہ ضرورت ثقہ طریقے پر پوری ہو جاتی ہے۔ اب ایک اور آدمی ہے جو یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اہل حدیث اور بریلوی نماز میں جو معمولی فرق ہے وہ کیوں ہے؟ یہ سوال ہماری دینی روایت کی داخلی حرکیات سے متعلق ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ آدمی مولوی صاحبان کے ٹھیٹھ مذہبی دلائل اور رد دلائل سن کر کسی ایک طریقے سے نماز پڑھنے کا فیصلہ کرے اور اس پر مطمئن ہو جائے۔ ان دو سوالوں سے متعلق تعلیم اور ”علم“ کی ثقاہت و استناد میں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، اگرچہ داخلی فروعی اختلافات بہت ہیں۔ لیکن ہم اس داخلی مسئلے سے فی الوقت صرف نظر کر کے ایک اور اہم سوال کی طرف آتے ہیں۔

ایک اور مسلمان ہے جس کی تعلیم مغربی ہے، لیکن معمولی مذہبی تعلیمات سے بھی واقف ہے۔ جدید اثرات کی وجہ سے اس کا ذہن اور خودی دونوں بدل گئے ہیں۔ کسی مغربی یونی ورسٹی یا جدید قومی یونی ورسٹی میں اس کا سابقہ ایک سوال سے پڑتا ہے کہ آخر نماز پڑھنےکا کیا فائدہ ہے؟ کیا یہ وقت کا زیاں نہیں؟ تھوڑے تامل کے بعد اسے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سوال تو اس کے وجودی احوال کی بازگشت بھی ہے، اور فوراً یہ سوال اس کا بھی لے پالک بن جاتا ہے۔ اس صورت حال میں دینی روایت کے داخلی تعلیمی وسائل سے اس سوال کا جواب نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اس کی طلب تعلیم نہیں، تفہیم ہے۔ مزید یہ کہ روایت سے حاصل ہونے والے علمی وسائل بھی اس کا جواب دینے کے لیے ناکافی ہیں کیونکہ یہ سوال جدید عہد میں پیدا ہوا ہے۔ اس سوال کا جواب صرف علم سے دیا جا سکتا ہے، ایک ایسے علم سے جو نہ صرف دینی اقدار کا نطق ہو بلکہ جدید عہد میں علم کی validity کی شرائط سے بھی باخبر ہو۔ ایسے سوال بہت عرصے سے ہمارے درمیان گردش میں ہیں اور ہم ان کے جو بھی جواب لائے ہیں، وہ سب جعلی ہیں۔ یہ سوال ایک ڈنک کی طرح ہے، اور اس کے پیچھے جدید تہذیب کا اژدہا اپنی قوت اور مسمومیت کی پورائی میں حاضر ہے۔ چونکہ ہم علم میں رہتے ہوئے اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں، اس لیے ہمارے ردعمل بھی دلچسپ ہیں۔ ہم نے فرض کر لیا ہے کہ جدید دنیا اور اس کا علم ہماری جہالت کی شرائط پر قائم ہیں۔ اول، ہم اس سوال ہی سے انکار کر دیتے ہیں کیونکہ اس کے جواب کی استعداد نہیں پاتے۔ دوم، اگر اس کا جواب دینے کی واعظانہ یا جارحانہ کوشش بھی کرتے ہیں، تو غیرمتعلق تقدیری اور تکوینی دلائل کا انبار لگا دیتے ہیں جن کا مقصد جواب دینا نہیں ہوتا بلکہ خود کو جھوٹی تسلیاں دینا ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سائل کو اپنے سوال کا جواب ملا ہو یا نہ ملا ہو، مسئول کو اپنے ایمان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔

ذرا آپ بھی غور کریں کہ ایسی صورت حال میں آپ اس سوال کو کیسے ہینڈل کریں گے؟ اگر مصروفیت سے وقت نکال پایا تو آپ سے اس سوال کے مختلف پہلوؤں کو شیئر کروں گا، اور یہ عرض کرنے کی کوشش کروں گا کہ ایسے سوالوں کا سامنا کیسے کیا جاتا ہے۔

و اللہ اعلم بالصواب