تحریک انصاف کی خدمت میں - جمال عبداللہ عثمان

میڈیا کے ساتھ تعلق رکھنے والے کسی بھی دوست سے پوچھ لیں کہ بڑی سیاسی جماعتوں میں سب سے زیادہ متحمل مزاج کارکن اور رہنما کس کا ہے؟ یقیناً جواب میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کا نام لے گا۔ گزشتہ دور حکومت میں پی پی کے وزراء کو ٹاک شوز میں بلاکر انہیں جس طرح کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا۔ جس قدر توہین آمیز انداز میں سوال کیے جاتے، ان کا تقاضا تو یہی تھا کسی اینکر کا سر پھاڑا جاتا یا کم ازکم شو کے دوران میں اسے اس کا بھی داغدار ماضی یاد دلادیا جاتا۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ تذلیل اور توہین کرکے اٹھنے والا یہی پی پی رہنما اور وزیر اگلے دن پھر اسی شو اور چینل پر اپنی رائے کا اظہار کررہا ہوتا۔

پھر ہم نے پاکستان مسلم لیگ ن کا دور دیکھا۔ اس کے وزراء ٹاک شوز میں آتے تو ان کا رویّہ قدرے تلخ ہوتا۔ یہ کسی حد تک اینکر پرسنز اور سوال پوچھنے والے پر چڑھائی کردیتے۔ جنہیں ایسا کرنے کی ہمت نہ ہوتی وہ اینکر یا چینل کا بائیکاٹ کردیتے۔ تقریباً پانچ سالوں میں علانیہ طورپر ن لیگ نے اے آر وائی کا بائیکاٹ کیے رکھا۔ اے آر وائی اسے بہت حد تک برداشت کرگیا، لیکن بہت سے چینلز کے لیے یہ افورڈ کرنا ممکن نہیں تھا۔ ظاہر ہے کسی حکومتی نمائندے کا ٹی وی شو میں نہ جانا اسے پھیکا بنانے کا باعث ضرور بنتا ہے۔ چنانچہ یہاں بعض اینکرز اور چینلز کو کچھ نہ کچھ احتیاط برتنا پڑی اور وہ ن لیگ کی بلیک میلنگ کا شکار ہوکر بہت حد تک محتاط رہتے۔

انہی سالوں میں ہم نے پاکستان تحریک انصاف کو دیکھا۔ اس کے اکثر رہنماؤں کو خدا کے لہجے میں بات کرتے سنا۔ پاکستان تحریک انصاف کے پہلی بار منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی یوں نظر آئے جیسے سیاسی نظام ان کے دم خم سے قائم ہے۔ عزت نفس انہی کا ہے، ان سے وضو کیے بغیر سوال نہ کیا جائے۔ بہت سے اینکرز کے پاس خیبر پختونخوا حکومت کے کچھ اسکینڈلز بھی آئے، لیکن خوف کے باعث کسی کو ان پر شوز کرنے کی جرات نہ ہوسکی۔ چینلز کے لیے کام کرنے والے جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے لیے سوالنامہ بناتے وقت کن احتیاطوں اور نزاکتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے؟ ذرا سی لب کشائی پر وہ شجرے بھی نکال لائے جاتے ہیں جن سے آپ کے فرشتے بھی واقف نہ ہوں۔ اس کیفیت کو کسی حد تک وہ لوگ جان سکتے ہیں جنہوں نے کراچی میں 90ء اور اس کے بعد کی دہائی گزاری ہے۔ فرق یہ ہے کہ وہاں گولی اور یہاں گالی!

یہ بھی پڑھیں:   سلطانی جمہور کے دعوے اور تاریخ کی درست سائیڈ - شمس الدین امجد

پاکستان تحریک انصاف پراعتماد ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اگلی حکومت اس کی آئے۔ ہم 70 سالوں سے مختلف سیاسی جماعتوں کو آزماتے آرہے ہیں، ایک "آزمائش" اور سہی۔ لیکن گزارش بس اتنی ہے کہ کوئی میرے ان دوستوں کو اتنا بتائے کہ رائے کا اختلاف رکھنے والوں کو بھی برداشت کرنا سیکھیں۔ یہ کفر اور اسلام کی جنگ نہیں، یہ درست اور غلط کی جنگ بھی نہیں، اگر کوئی آپ سے اختلاف کرتا ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ کسی سے لفافہ لے کر ایسا کررہا ہے یا پھر وہ ظلم کا ساتھ دے رہا ہے۔ اپنے اندر تحمل پیدا کیجیے جب اپ کسی کو ڈاکو کہنے کی جرات کرسکتے ہیں تو چور سننے کی ہمت بھی پیدا کیجیے۔ جب آپ کسی کو ملک دشمن اور غدار قرار دے سکتے ہیں تو بدلے میں ہم وطنوں کے ساتھ بے وفائی کا طعنہ بھی آپ کو سہنا پڑے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کرپٹ لوگوں کا ٹولہ ہوگا۔ اس میں ہزار خرابیاں ہوں گی، لیکن اگر پاکستان تحریک انصاف اس سے یہ ایک خوبی مستعار لے لے تو اس کا کچھ نہیں بگڑے گا۔

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.