مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کے اسباب - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مقدمات میں تاخیر کا سب سے بڑا سبب وکلاء ہیں۔ وکیل کی روزی روٹی مقدمے کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ معاملہ سود خور جیسا ہے۔ سود خور کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کا قرضہ ادا ہو کیونکہ اگر قرضہ ادا ہوا تو اس کی آمدنی رک جائے گی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام وکیل ایسے نہیں ہوتے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر مقدمہ لٹکا رہے تو خود وکیل کی روزی روٹی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ آپ مقدمے کا فیصلہ نہیں کرا سکتے تو کلائنٹ آپ کے پاس کیوں آئے؟ ظاہر ہے کہ فیصلہ ہونے میں بھی اس کی بہتری ہوتی ہے لیکن بہرحال بہت سارے وکیل جس حد تک مقدمے کو کھینچ سکتے ہیں، ضرور کھینچتے ہیں۔

بالخصوص سنیئر وکیلوں کے ساتھ یہ بڑا سنگین مسئلہ بن جاتا ہے۔ لوئر کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہوتا ہے اور اس کا اسسٹنٹ وکیل کورٹ میں آ جاتا ہے کہ وکیل صاحب کسی اور مقدمے میں ہائی کورٹ میں ہیں۔ اگر وکیل قدآور ہو تو جج بے چارہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اگر وہ کچھ کرنے کی کوشش کرے تو بار کی سیاست نے انتہائی جارحانہ شکل اختیار کی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ججوں کے کمروں کو تالا لگا دیا جاتا ہے، جج پر حملے بھی ہوتے ہیں، جج کے ٹرانسفر کے مطالبے بھی شروع ہوجاتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ لوئر کورٹ میں ججوں کی بہت بری حالت ہوتی ہے۔ بار کی جانب سے ان پر بہت زیادہ پریشر ہوتا ہے، بار کے پولیٹیکل لیڈرز وکیل کم اور سیاسی راہ نما زیادہ ہوتے ہیں۔ افتخار چوہدری صاحب کے دور میں وکلاء کو جو طاقت ملی اس کے نتیجے میں یہ سب کچھ ہوا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ لوئر کورٹ کے ججز کی پوزیشن بہت زیادہ کم زور ہوگئی ہے، حتیٰ کہ اب تو ہائی کورٹ کے ججز کو اس قسم کے رویہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مقدمات کی تاخیر کا ایک اور بڑا سبب ہمارے پروسیجر لاز بھی ہیں جن پر الگ سے بحث کی ضرورت ہے۔

ایک سبب اور بھی ہے جسے عام طور پر لوگ نہیں دیکھتے۔ انگریزوں نے یہ تو کیا کہ صوبے کی سطح پر ہائی کورٹ، ڈسٹرکٹ کی سطح پر دیوانی مقدمات میں ڈسٹرکٹ جج اور فوجداری مقدمات میں سیشن جج اور پھر ان کے ماتحت فوجداری مقدمات میں مجسٹریٹ اور دیوانی مقدمات میں سول جج لگادیے۔ ستّر سال ہو گئے ہمیں آزاد ہوئے، ہم اسے گراس روٹ لیول پر نہیں لے جا سکے۔ عدالتی نظام کو یونین کونسل کی سطح تک لے جانا چاہیے جہاں چھوٹے مقدمات جن کا فیصلہ ایک یا دو سماعتوں میں ہوجانا چاہیے۔ وہ ایک لوکل مسئلہ ہوتا ہے، گواہ بھی وہیں ہوتے ہیں اور فریقین بھی وہیں ہوتے ہیں۔ اسی یونین کونسل میں آپ کسی وکیل کو فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیں، وکیل کرنے کی اجازت نہ دیں تو سول ججز پر جو بہت زیادہ بوجھ ہوتا ہے کم ہو جائے گا اور بہت سارے وکیل جو وکالت کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ کورٹس میں بیٹھے ہوتے ہیں، وہ یونین کونسل کے مقدمات کا فیصلہ کریں گے اور ان کی روزی روٹی کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔

مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے ضروری ہے کہ لیگل ایجوکیشن کو بہتر کیا جائے، بار پولیٹیکس کو کنٹرول میں کیا جائے، وکیل اپنے پروفیشن کی طرف توجہ کریں اور ججز بھی اپنا کام کریں۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس (جو اب سپریم کورٹ میں آچکے ہیں) نے اے ڈی آر (آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولیشن) پر توجہ کی، انہوں نے ججز کو بھی اے ڈی آر پر لگایا، حالانکہ اس کا مطلب ہی ’متبادل‘ ہے۔ بہ الفاظِ دیگر، آپ نے اعتراف کر لیا کہ آپ کا اصل عدالتی نظام کام نہیں کر پا رہا اور یہی وجہ ہے کہ آپ متبادل کی طرف جا رہے ہیں۔ پھر متبادل نظام میں بھی آپ انہی ججوں کو بٹھا رہے ہیں۔

بہرحال اے ڈی آر ہونے چاہیئیں۔ اس کے نتیجے میں آپ عدالتوں پر بوجھ کم کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں پنچایت اور جرگہ کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ کئی کئی سال مقدمہ لٹکنے کی بجائے جلدی فیصلہ ہو جاتا ہے۔ اس میں کچھ تیکنیکی مسائل بھی ہوتے ہیں جنہیں مناسب نگرانی کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ دنیا اس نتیجے پر پہنچ گئی ہے کہ عدالتوں میں آکر فیصلے کرانے کا معاملہ کم سے کم ہونا چاہیے۔ لوگوں نے جرگوں اور پنچایت کا ہوّا بنا لیا ہے لیکن اسی تصور کو آپ اے ڈی آر کے طور پر لے جائیں تو لوگ مان جاتے ہیں۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.