شادی کیسے کریں؟ - حافظ محمد زبیر

بہت سے دوست شادی کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں لگتا ہے کہ مالی حالات مناسب نہیں ہیں یا انہیں اپنے میچ کا رشتہ نہیں مل رہا۔ یہ شادی میں تاخیر کے دو بڑے عذر ہیں۔ رہے شادی میں تاخیر کے نقصانات، تو لڑکیوں میں نفسیاتی مسائل جیسا کہ ڈپریشن وغیرہ اور لڑکوں میں جنسی مسائل کہ اور کچھ نہ ہو تو مُشت زنی کی عادت میں مبتلا ہو جائے گا۔ ایسے میں کچھ اپنے واقعات شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ شاید کچھ نوجوان شادی کے لیے موٹیویٹ ہو جائیں۔

معاشرے میں بدکاری کے جس قدر وسائل اور مواقع میسر ہو چکے ہیں، ان حالات میں اگر آپ پاکیزہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو شادی میں تاخیر نہ کریں، چاہے کچھ بھی حالات ہوں۔ میری خود کی شادی بہت تاخیر سے ہوئی، 25 سال کی عمر میں، وہ بھی گھر والوں سے لڑ کر کروائی۔ گھر والوں کی بات تو سمجھ میں آتی تھی کہ ابھی کچھ نہیں کما رہے، شادی کیسے کر دیں؟ لیکن جب مذہبی اور تحریکی دوست بھی ایسی باتیں کرتے تھے کہ شادی کے لیے مالی طور پر مضبوط ہونا ضروری ہے، تو مجھے لگتا تھا کہ یہ بھی اندر سے پورے دنیادار ہی ہیں۔

2004ء کی بات ہے، مدرسہ میں پڑھاتا تھا، 2750 روپے ماہانہ تنخواہ تھی، اس کی کمیٹی ڈال لی۔ چالیس ہزار کی کمیٹی نکلی، اتنا ہی قرض لیا اور کچھ شادی شدہ بہن بھائیوں نے تعاون کیا اور شادی ہو گئی۔ شادی کے بعد قرآن اکیڈمی میں ملازمت شروع کر دی کہ جس میں 6200 تنخواہ مقرر ہوئی۔ مدرسے کی تنخواہ سے دو کمروں کا سادہ سا مکان کرایے پر لیا اور اکیڈمی کی تنخواہ سے گھر کا خرچہ چلایا۔

بہرحال، اس میں بیگم صاحبہ کا بہت تعاون شامل حال رہا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ شادی کے وقت نہ گھر تھا، نہ گھر کا سامان۔ بیگم صاحبہ کو ان کی والدہ نے پانچ ہزار دیے کہ جس سے وہ گھر کے برتن خرید لائیں۔ میرے پاس کل ملا کر آٹھ یا نو ہزار تھے۔ وہ بھی بیگم صاحبہ کو دیے۔ ان میں سے چھ ہزار کا وہ بیڈ خرید لائیں اور دو ہزار میں ایک سیکنڈ ہینڈ گدا لے لیا لیکن مجھے نہیں بتلایا۔ بعد میں بیگم صاحبہ نے بتلایا کہ گدّے سے بچوں کے پیشاب کی بدبو آ رہی تھی اور پورا دن لگا کر دھویا تو پھر کچھ بہتر ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت کی ازدواجی تعلق میں سرد مہری، وجوہات اور حل - حافظ محمد زبیر

ان حالات کے باوجود ولیمے والے دن بیگم صاحبہ نے اپنی سلامی کی ساری رقم مجھے پکڑا دی اور کہا کہ مدرسہ میں دے دو۔ مجھے یہ تھا کہ گھر میں استعمال ہو جائے لیکن ان کے اصرار پر مدرسہ میں دے دی کہ ان کے مطابق اس سے ہماری ازدواجی زندگی بہتر گزرے گی اور اس میں اللہ عزوجل برکت ڈالے گا۔ تو بھائی یہ کچھ باتیں اس لیے عرض کر دیں کہ شادی کے لیے مناسب حالات کے انتظار میں رہو گے تو اپنی عمر ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں کرو گے۔ صحیح بات ہے کہ عورت تمہارے ساتھ ہر حال میں چل سکتی ہے، بس شرط صرف یہ ہے کہ اگر سامنے پلیٹ میں ایک ہی بوٹی پڑی ہو تو تمہارے رویے سے یوں اظہار ہو کہ تمہیں بوٹی پسند نہیں ہے۔

ٹیگز

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت خوب. اللہ آپ کو جزا دے. آج جبکہ بے راہ روی عام ہے اور ٹیکنالوجی کی بدولت گناہ کے اسباب تک رسائی انتہائی آسان ہے تو میرے ذاتی خیال میں ہر نوجوان خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی، کی شادی نوجوانی میں قدم رکھتے ہی کر دینی چاھیے مگر تلخ حقیقت ہے کہ کہیں اکثر والدین اس خاص ذمہ داری سے غفلت برت رہے ہیں تو کہیں خود نوجوان ذمہ داریوں سے بچنے کے لیےشادی سے انکار کر کے اپنے آپ کو آزمائش میں ڈال دیتا ہے
    اولین ذمہ داری والدین کی ہے لیکن آج اولاد اور والدین کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہے ایک طرف اولاد کو والدین کا احترم کرنا چاہیے تو دوسری طرف والدین کو بھی اپنے بچوں کے جزبات کو سمجھنا چاہیے یہ تب تک ممکن نہیں ہے جب تک والدین اپنے بچوں کے ساتھ ایک بڑے کی بجاۓ ایک دوست جیسا رویہ نہ رکھیں ایسے میں ایک حساس دل رکھنے والا یہ سب چیزیں دیکھ کر کڑھتا رہتا ہے اور دعا کر سکتا ہے.