اسلامی انقلاب بس آیا ہی چاہتا ہے! تزئین حسن

میں نے ایسے ہی پوچھ لیا، "گزارا ہو جاتا ہے؟" کام کے دوران تھوڑی دیر بعد میں نے اسکرین پر نظر دوڑائی تو گنگ سی ہو گئی۔ "بہن! گزارا بہت مشکل سے ہوتا ہے۔ ایک بچی کو اسکول میں داخل کیا ہے، دوسری کو نہیں کرسکتا۔۔۔" میری یہ گفتگو کسی مزدور سے نہیں ہو رہی تھی، کسی چوکیدار یا ٹھیلے والے سے بھی نہیں، کسی جاہل، غیر پڑھے لکھے فرد سے بھی نہیں بلکہ ایک نامور نیوز گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک جریدے کے سب ایڈیٹر سے ہو رہی تھی جو دین، دنیا اور حالات حاضرہ کے علم کے ساتھ تحریری صلاحیت سے مالا مال اور برسوں سے صحافت کے شعبہ سے وابستہ تھا۔ اکثر عالمی سیاست کے موضوعات پراس کے تجزیاتی مضامین نظر سے گزرتے۔ اس کے کالم پاکستان اور امّت سے اس کی محبت کی گواہی دیتے تھے۔ یقیناً اس کا لفظ لفظ نوجوانوں کی ذہن سازی کرتا ہو گا کہ خود اس اپنا ذہن پاکستان اور امت کو در پیش چیلنجز کے حوالے سے بہت واضح تھا۔ مگر وہ خود کن حالات سے گزر رہا ہے؟

مزید استفسار پر اس نے بتایا، " تین بیٹیاں ہیں، فی الحال کراچی میں ہے۔ ابھی گاؤں بھیجنے کا ارادہ ہے۔ بہت مشکل ہوگیا یہاں رکھنا۔ کافی مقروض ہوگیا۔" میری کسی بھی پیشکش کا جواب نرا انکار تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اب تک بھی الله کر رہا ہے، آئندہ بھی وہی کرے گا۔ تنخواہ سن کر میرا دل کٹ کر رہ گیا۔ اتنا تو ایک چھابڑی والا بھی کما لیتا ہے یا تعمیراتی کام کرنے والا مزدور۔ اس سے تین چار گنا زیادہ تو ایک ٹیکسی ڈرائیور کماتا ہے آج کل یا کسی افسر کا پی اے۔"

میں سوچتی ہوں کہ یہ نوجوان اگر کوشر کھانے والی قوم میں پیدا ہوا ہوتا تو اس کی کیسی آؤ بھگت ہوتی کہ وہ قوم جانتی ہے کہ میڈیا آج کی دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اسے مہنگے اسکالرشپس دیکر دنیا کی بہترین یونیورسٹی میں تعلیم دی جاتی۔ تحقیق کے لیے دنیا کے بہترین ادارے اسے پیشگی دعوت نامے بھیجتے۔ ایڈونچر کا موڈ ہوتا تو پاکستان اور عراق جیسے جنگ زدہ علاقوں میں اسے فوجی ہیلی کاپٹر، قلعوں کی طرح مضبوط زرہ بکتر کی طرح آہنی لباس میں ملبوس ہموی گاڑیاں، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں رہائش، تیسری دنیا میں صحافیوں کو محفوظ سہولیات فراہم کرنے والے مشیروں کی خدمات حاصل ہوتیں۔ خود پاکستانی آرمی کے ہیلی کاپٹر انہیں لیکر ڈرون کا شکار ہونے والی سویلین آبادی کی بستیوں کے فضائی مناظر دکھاتے، اس کے مضامین کو زمانہ طالب علمی میں ہی معقول معاوضہ ملنے لگتا۔ اس کی پشت پر وہ ملین بلین ڈالر کا بجٹ رکھنے والی تنظیمیں ہوتیں جن پر مخیر حضرت اور ادارے لاکھوں لٹاتے ہیں۔

مگرکیا ہمارے ہاں ملین ڈالر کا بجٹ رکھنے والی تنظیمیں نہیں پائی جاتیں؟ یا پاکستانی اور مسلم قوم میں الله کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا ہاتھ تنگ ہے؟ نہیں بس میڈیا کے کام کو الله کا کام نہیں سمجھا جاتا۔ حق کی ترویج کے لیے مال خرچ کرنا گناہ نہیں تو ثواب بھی نہیں لگتا۔ نشرو اشاعت وہ بھی ذرائع ابلاغ یعنی ماس کمیونیکشن؟ نہیں بھئی یہ ہمارا کام نہیں۔ دینی تنظیمیں کوئی موم کی ناک ہیں کہ جہاں چاہیں موڑ لیں؟ باتیں کرنا آسان ہوتا ہے۔ ایک اچھے چینل میں ایک لائن کی خبر لگوانے پر بھی لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ایک کارٹون اینیمیشن فلم پر بھی کروڑوں لگ جاتے ہیں۔ بجا ارشاد، لیکن وہ بھی تو ہیں جو دھڑا دھڑ چینل قائم کر رہے ہیں۔ پڑوسی ممالک میں بھی سوشل میڈیا اور انٹرٹینمنٹ میڈیا میں اپنا اثر رسوخ پلاننگ کے ساتھ قائم کر رہے ہیں۔ وہ بھی تو بہت غریب ہیں؟ وہاں بھی تو لوگ بھوکے سوتے ہیں؟ مگر انہیں اپنے نظریات کی دعوت اور ذہن سازی کے لیے میڈیا کی اہمیت کا اندازہ ہے۔

ہمارے ہاں ایسی دینی تنظیمیں موجود ہیں جو کراچی سے طورخم تک اپنا فلاحی نیٹ ورک رکھتی ہیں اور نہ بھی مانگیں تو روزانہ مختلف شہروں سے لاکھوں صدقے اور زکٰوۃ کی شکل میں ملتے ہیں کہ لوگ ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے شہروں سے لاکھوں کیا کروڑوں کی زکٰوۃ، صدقات اور کھالیں جمع کر لیتی ہیں۔ عالم اسلام کے کسی کونے پر برا وقت آئے تو خواتین اپنی بچت ہی نہیں ان قابل اعتماد تنظیموں پر وارتیں، اپنی بیٹیوں کے جہیز کے لیے رکھے ہوئے زیورات تک ان کے حوالے کر دیتی ہیں کہ انہوں نے ستّر برس کام کر کے اپنا نام بنایا ہے، جس مقصد کے لیے جمع کرتی ہیں اس پر خرچ بھی کرتی ہیں۔ میری بات کا یقین نہ آئے تو بالاکوٹ سے کاغان کے راستے میں کسی پکوڑے والے سے پوچھ لیں کہ زلزلے کے بعد چھ ماہ تک تمہارے خاندان کو پاکستان میں کس تنظیم نے ہرماہ راشن فراہم کیا؟ جب تک تمہارا کام نہیں چل گیا کون تمہیں ہزار روپے جیب خرچ دیتا رہا؟ کبھی شوگران کی بلندیوں پر واقع کسی گھر کے مکینوں سے دریافت کریں یہ ٹین کی شیٹیں جس سے تمہارے خاندان نے زلزلے کے بعد سر ڈھانپا کس تنظیم نے تمہیں پہنچائیں؟ کبھی کشمیر میں بنجوسہ جھیل سے راولا کوٹ کے راستے ہائیکنگ کے دوران چھوٹا گلہ نامی قصبے کے کسی اسکول پر رک کر دیکھ لو کہ غریب دیہاتی بچوں کے لیے کس تنظیم کے اسکول کھولے ہوئے ہیں ؟ ان سب فلاحی کاموں سے ان کے بد ترین سیاسی دشمن بھی انکار نہیں کر سکتے مگر کیا یہ تنظیمیں جس مقصد کے لیے بنائی گئیں تھیں میڈیا سے منہ موڑ کر وہ مقاصد حاصل کرنے کاسوچ سکتی ہیں؟

میڈیا پاکستانی قوم کی جس نہج پر ذہن سازی کررہا ہے اس کی سب سے زیادہ مذمت یہی تنظیمیں کرتی ہیں۔ ہر سال متعدد مہمات صرف میڈیا کے غیر اخلاقی کارناموں کے خلاف چلائی جاتی ہیں، سینکڑوں نہیں ہزاروں بلکہ لاکھوں کارکنان ملک بھر میں عوام کو میڈیا کے مضمرات سے آگاہ کرتے ہیں اور عوام خود میڈیا کی ان غیر اخلاقی حرکتوں سے تنگ ہے۔ آپ جس سے چاہیں پوچھ لیں۔

کیا ہم انڈین اور سیکولر لابیز سے یہ توقعات رکھتے ہیں کہ مال خرچ کر کے اسلام کی تبلیغ کریں؟ ہماری قومی اقدار کا تحفظ کریں؟ صنم خانے اپنا مال خرچ کر کے بت شکن تیار کریں؟

میڈیا سے شکایات بجا سہی مگر کیا کبھی یہ سوچا کہ جو لوگ اور لابیز میڈیا پر مال لگا رہے ہیں وہ کیوں اپنے مخالف نظریات کی ترویج کریں گی؟ کیا ہم انڈین اور سیکولر لابیز سے یہ توقعات رکھتے ہیں کہ مال خرچ کر کے اسلام کی تبلیغ کریں؟ ہماری قومی اقدار کا تحفظ کریں؟ صنم خانے اپنا مال خرچ کر کے بت شکن تیار کریں؟ وہ تو کسی نہ کسی بہانے اپنے پسندیدہ نظریات کا ہی پر چار کریں گی اور ماشاء اللہ کر رہی ہیں۔ ان کی جدوجہد کی داستان بہت طویل ہے اور انہیں اس کا پھل بھی مل رہا ہے۔ ملنا بھی چاہیے، جو بوئیں گے وہ تو کاٹیں گے ہی۔ مگر ہم کیا بو رہے ہیں؟ مذمتیں؟ احتجاج؟ میڈیا کی مخالفت میں منہ سے کفیں اڑانے والے اگر تھوڑا سا غور کر لیں کہ مذمتوں سے کیا ہو گا؟ کیا ہمیشہ بیک سیٹ پر بیٹھ کر ہی سفر کرنا ہے؟

میڈیا کی مخالفت میں منہ سے کفیں اڑانے والے اگر تھوڑا سا غور کر لیں کہ مذمتوں سے کیا ہو گا؟

ایک رات میں ملین ڈالرز جمع کرنے والی دینی تنظیمیں میڈیا میں آواز کے لیے ایک ڈالر بھی خرچ کرنا نہیں چاہتیں۔ مال چھوڑیں وقت لگانے کو عملاً گناہ سمجھا جاتا ہے۔ اس سے آگے کوئی بات کی جائے تو جواب آتا ہے کہ ہم سب بہت مصروف ہیں۔

آج کی دنیا کا سب سے بڑا سرمایہ افرادی قوت ہے جو دینی قیادت کو کراچی سے طورخم تک ہی نہیں اب یورپ سے شمالی امریکا تک ہر جگہ لاکھوں کی تعداد میں دستیاب ہے۔

کاش دینی قیادت میں یہ وژن ہوتا کہ آج کی دنیا کی سب سے بڑی حقیقت میڈیا ہے۔ کاش کہ یہ بصیرت ہوتی کہ آج کی دنیا کا سب سے بڑا سرمایہ افرادی قوت ہے جو دینی قیادت کو کراچی سے طورخم تک ہی نہیں اب یورپ سے نارتھ امریکا تک لاکھوں کی تعداد میں دستیاب ہے۔ خدارا! اسے مذمتی جلسوں اور ریلیوں کے لیے ہجوم کے طور پر استعمال نہ کریں- اگر کچھ خرچ کر کے اور موثر پلاننگ سے ان میں سے لاکھ نہ سہی چند ہزار افراد کو ضروری ٹریننگ دی جائے تو آپ کے بانیوں کے خواب ان کے وژن کے مطابق پورے ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا، کم از کم ان کی تعبیر کا سفر تیز ہو سکتا ہے- مگر افسوس کے بصیرت کی کمی اس قیمتی افرادی قوت کو ریلیوں کے لیے ہجوم میں بدل دیتی ہے۔

افسوس اس بات کا بھی ہے کہ کوئی اگر اس افرادی قوت کو میڈیا کے حوالے سے کوئی مثبت رخ دینا چاہے تو تنظیمی رکاوٹیں اتنی ہیں کہ اندر والا خاموش ہو کر بیٹھ جاتا ہے اور باہر والے کو بھی زمین پر ناک رگڑنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے اس جرم کی پاداش میں۔ پاکستان کی محبت میں کینیڈا چھوڑ کر جانے والے ایک ڈاکیومنٹری فلم میکر کاکہنا تھا کہ میں نے ہر طرح کوشش کر کے دیکھ لی "اندرون خانہ" صورت حال کچھ ایسی ہے کہ "نہ ہم خود کھیلیں گے نہ ہی کھیلنے دیں گے۔ "

افسوس اس بات کا ہے کہ میرے جیسے ایسی باتیں کرنے والے صرف اپنوں کی دشمنیاں پالتے ہیں۔ میڈیا پر سب و شتم کا رخ اپنی طرف کروا لیتے ہیں۔ انہیں مغرب کی مرعوبیت کے الزامات بھی برداشت کرنے ہوتے ہیں اور وطن چھوڑ کر جانے کا طعنہ بھی۔ حد تو یہ ہے کہ سلجھے ہوئے دینی مزاج کے لوگ کانوں پر ہاتھ رکھ کر چلاتے ہیں کہ ہمیں اس سب لیکچر کی ضرورت نہیں ہمارے پاس پہلے ہی فنڈز اور افرادی قوت کی کمی ہے۔ ہمارے تو اپنے تربیتی اور تنظیمی کام پورے نہیں ہوتے۔ مگر جہاں بات میڈیا کی آتی ہے وہاں ان کا سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ لوگ رضاکارانہ اگر کچھ کر دیں تو بہت اچھا ہے۔ ہم تو بہت جدید انداز میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ ان شاء اللہ اس سال کی پلاننگ بہت شاندار ہے۔

اور افسوس اس بات کا ہے کہ یہ تنظیمیں جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں یہ ریلیاں بھی کرتی ہیں، درس قران بھی، ٹی پارٹیاں بھی، تربیت گاہیں بھی، کانفرنسیں بھی اور پاکستان اور مغربی ممالک میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کی فلاح کے لیے بھی کام کرتی ہیں اور ان سب سرگرمیوں میں بے پناہ وقت اور وسائل بھی استعمال کرتی ہیں مگر جہاں بات میڈیا کی آتی ہے وہاں انکا سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ لوگ رضاکارانہ اگر کچھ کر دیں تو بہت اچھا ہے۔ ہم تو بہت جدید انداز میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ ان شاء اللہ اس سال کی پلاننگ بہت شاندار ہے۔ ان سب کے ترجمان رسالے موجود ہیں جو ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوتے ہیں اور تنظیمی نیٹورک کے ذریعے گھر گھر پہنچتے بھی ہیں مگر شاذ ہی کوئی لکھاریوں کو معاوضہ دیتا ہو گا کہ یہ جنس سب سے زیادہ ارزاں ہے۔

پھر اگر تحریکی گھرانوں کی اکثریت بھی اپنے ذہین ترین بچوں کو ڈاکٹر اور انجنیئر بنا کر قوم کی خدمت کروانا چاہتی ہے تو اس میں حیران ہونے کا موقع نہیں۔ اس قوم کو تھنک ٹینکس کی ضرورت ہے نہ مسائل کا تجزیہ کر کے مستقبل کی پلاننگ کرنے والوں کی۔ ٹیکنالوجی تو ہم امپورٹ کر لیتے ہیں۔ بجا ارشاد ! مگر اس قوم کے مسائل کو سمجھ کر تجزیہ کرنے والے تو ہمیں اندر ہی مینو فیکچر کرنے پڑیں گے۔ ایسی کسی فیکٹری کو لگانے کا سوچا ہم نے؟ مگر ہم ان شعبوں میں مال کیوں خرچ کریں جہاں سے ڈالر ملنے کی امید نہ ہو۔ چل تو رہے ہیں اتنے اخبارات، آن لائن آؤٹ لیٹس، ٹی وی چینل اور بہت سے تو پڑوسی ملک کے خرچے پر چل رہے ہیں- ہم ان کی مذمت کر تو رہے ہیں- ان لوگوں کو یاد دلا دوں جو دعوت کے لیے شیر پالنے کی بات کرتے ہیں۔ یہ شیر اندر آ کر بکریوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جب بچوں کی فیس ادا کرنے کے پیسے نہیں ہوں گے؟ تو کونسا شیر شیر رہے گا۔ اپ تو خود اس شعبے سے ہیں آپ تو اچھی طرح جانتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ ان تمام شیروں کی خوش قسمتی پر خوش ہوا جائے یا رویا جائے جو اس قوم میں پیدا ہوۓ جہاں ایک لکھاری، صحافی یا میڈیا ورکر اپنے بچوں کی فیس ادا نہیں کر سکتا۔ اسے اپنے خاندان کو گاؤں بھجوانا پڑتا ہے کہ اسے ساتھ رکھ کر روزگار کے غم برداشت کرنا وہ افورڈ نہیں کر سکتا۔

جہاں بیرون ملک تک ہزاروں کی تعداد میں پہنچنے والے دینی رسالے اگر حق مارنا چاہتے ہیں تو بس لکھنے والے کا۔ کیوں کہ

یوسف تو بازار وفا میں ایک ٹکے کا بکتا ہے

ویسے کوئی ایک ٹکا بھی دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ لیکن ہر ایک اسلامی نظام ضرور لانا چاہتا ہے۔

اصل قصور اس نوجوان کا اپنا ہے کہ اس نے اپنا کیریئر ڈاکٹر یا انجنیئر کے طور پر بنانے کے بجائے ایک لکھاری اور صحافی کے طور پر بنایا۔

Comments

تزئین حسن

تزئین حسن

تزئین حسن ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ میں صحافت کی طالبہ ہیں، نارتھ امریکہ اور پاکستان کے علاوہ مشرق وسطی کے اخبارات و جزائد کےلیے لکھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • میڈیا کی اہمیت پر اچھا لکھا ہے، تاہم صرف صحافت ہی نہیں بلکہ وہ تمام شعبہ جات جن میں اطلاقی علوم اور اپلائیڈ سائنسز کارفرما نہیں ہے سب کا یہی حال ہے۔ سرکاری اداروں میں پھر بھی کچھ اچھی حالت ہے، لیکن پرائیویٹ اداروں کا اللہ ہی حافظ ہے۔

    • سو فیصد متفق ہوں آپکی رائے سے- ہمیں سوشل سائنسز کے حوالے سے جس بالغ نظری کی ضرورت ہے وہ مفقود ہے-