بشیر بلوچ سے چاچا بشیر تک - محمد ذوالقرنین

بلوچستان میں بنیادی ضروریات کی فراہمی پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے وہاں کی تحریکوں کو تقویت ملی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پنجاب بظاہر ایک ترقی یافتہ صوبہ لگتا ہے۔ یہ بات شاید کسی حد تک درست بھی ہو کیونکہ باقی تمام صوبوں کے حالات پنجاب سے کافی زیادہ خراب ہیں لیکن پنجاب کو دو حصوں میں دیکھا جائے، ایک جنوبی پنجاب اور دوسرا اپر پنجاب، تو ان دونوں حصوں میں حالات بالکل مختلف نظر آتے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں بلوچستان کا گمان ہوتا ہے۔ یہاں پر بھی ترقی بلوچستان کی طرح کی ہے، ہسپتال، سکول، پولیس غرض کوئی بھی ادارہ دیکھیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ پنجاب میں ترقی کس حد تک ہے۔

بشیر بلوچ، بلوچستان کی دھرتی کے نامور فنکار ہیں انہوں نے بہت سے گانے گائے اور اپنے گانوں کے ذریعے بلوچستان اور پاکستان سے محبت کا پیغام دیا۔ بشیر بلوچ نے دو صدارتی ایوارڈز کے ساتھ 132ایوارڈ حاصل کیے اور ان کو بلوچستان کی آواز کے نام سے جانا جاتا تھا۔ کچھ دن پہلے ایک چینل پر بشیر بلوچ کی زندگی پر ایک خبر چلی، یقین مانیے اس عظیم فنکار کی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ ایک کچے گھر میں زندگی گزارنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ ہر وقت بارش اور دوسری مشکلات کی وجہ سے حالات زندگی سنبھلنے کا نام نہیں لیتی۔ بشیر بلوچ جب اسٹیج پر آتے تھے تو تمام لوگ کھڑے ہوکر استقبال کرتے تھے مگر افسوس اب وہ ایک وقت کی روٹی کے لیے بھی ترس رہے ہیں۔ بشیر بلوچ کا کہنا ہے کہ پتہ نہیں لوگ 10 منٹ کے بعد کیسے بھول جاتے ہیں اُس آدمی کو، جس کے لیے کچھ دیر پہلے ہی وہ کھڑے ہوکر استقبال کر رہے تھے۔ یہ بشیر بلوچ کی سادگی ہے جو ابھی تک اس بات کو سمجھ نہیں پائے۔ مگر یہ تو دنیا کا دستور بنتا جا رہا ہے، جیسے ہی وقت بدلتا ہے لوگ بھی بدلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ بشیر بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ ایوارڈز مجھے ایک وقت کا آٹا نہیں دے سکتے تو یہ میرے کس کام کے؟ مگر پھر بھی مایوسی بشیر بلوچ کے پاس سے نہیں گزری۔ وہ کہتے ہیں اگر اچھے دن گزر گئے تو برے دن بھی گزر جائیں گے۔ ہمارے ملک میں فنکاروں کو کسمپرسی کی یہ پہلی مثال نہیں ہے۔ ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں کہ ’’عینک والے جن‘‘ کی بن بتوڑی نے اپنی زندگی کے آخری ایام کس حالت میں گزارے۔ یہ ہماری اجتماعی بے حسی ہے کہ ہم اپنے ہیروز کا خیال نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں:   معدے میں تیزابیت کا علاج آپ کے کچن میں

ایک اور واقعہ جو پنجاب کے ایک شہر ڈیرہ غازی خان کا ہے جو کہ جنوبی پنجاب میں ہے۔ کچھ دن پہلے ایک موٹر سائیکل نے ٹکر مار کر ایک بزرگ شہری چاچا بشیر کو زخمی کردیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ رُکتا اور اسے کسی نزدیکی ہسپتال پہنچاتا مگر وہ اس بزرگ شہری کو زخمی حالت میں چھوڑ کر بھاگ گیا۔ کچھ دیر بعد لوگوں نے اسے تونسہ شریف ہسپتال پہنچایا مگر وہاں پر ڈاکٹر نہیں تھا۔ موجود ڈسپنسر نے پٹی وغیرہ کی اور کہا کہ اس کو نشتر ہسپتال لے جاؤ حالانکہ ڈیرہ غازی خان صرف ایک گھنٹہ کے سفر پر تھا مگر انہوں نے ان کو ڈیرہ غازی خان جانے کا نہیں کہا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ڈیرہ غازی خان کے حالات بھی تونسہ شریف سے مختلف نہیں ہیں۔ دو گھنٹے بعد سرکاری ایمبولینس کو منگوایا گیا۔ اس ایمبولینس کی حالت یہ تھی کہ اس میں کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔ راستہ میں ٹائر پنکچر ہونے کی وجہ سے مزید دیر ہوگئی تقریباً 12بجے ملتان نشتر ہسپتال میں چاچا بشیر کو پہنچایا گیا مگر وہاں پر جگہ نہ ہونے کی وجہ سے باہر فرش پر ہی لٹانا پڑا۔ چاچا بشیر کے بیٹے غریب تھے اور پڑھے لکھنے نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز نے ان کی کسی بھی بات پر کوئی توجہ نہ دی۔ مجبوراً ایک آدمی کے کہنے پر وہ چاچا بشیر پرائیویٹ ہسپتال میں لے گئے اور وہاں سے سی ٹی اسکین کرایا مگر ڈاکٹر نے بتایا کہ چاچا بشیر کا آپریشن کرنا پڑے گا۔ ان کے بیٹوں کے پاس پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ دوبارہ نشتر ہسپتال آئے مگر وہاں پر حالات ویسے کے ویسے تھے۔ یہاں پر کسی نے چاچا بشیر کے زخموں پر رحم نہ کیا اور بالآخر چا چا بشیر شام پانچ بجے اپنے تمام زخموں سے آزادی حاصل کرکے خالق حقیقی سے جا ملے۔ یہ ہے پنجاب، جہاں پر ترقی کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں مگر ہر مریض کا انجام چاچا بشیر کی طرح ہوتا ہے۔ غریب تو صرف اپنا وقت پورا کرتا ہے اور ہسپتال جانے کا تو بس ایک بہانہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   معدے میں تیزابیت کا علاج آپ کے کچن میں

یہ دو واقعات ہمارے ملک کی مجموعی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہاں روزانہ کی بنیاد پر بشیر بلوچ اور چاچا بشیر کی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ اس قوم میں نہ تو کسی فنکار کی حالت بہتر ہوئی ہے اور نہ ہی کسی ہسپتال کی، پھر یہ ترقی ہو کہاں رہی ہے؟ یہاں پر بس ہر کسی یہ سمجھا ہوا ہے کہ ہمارے ہاں حالات ٹھیک نہیں مگر دوسرے صوبے یا ضلع میں حالات بہتر ہوں گے مگر حالات جوں کے توں ہیں۔