رمضان المبارک اور قرآن مجید (1) - یوسف ثانی

ہم سب جانتے ہیں کہ قرآن، رمضان المبارک میں نازل ہوا۔ چنانچہ ہم اس ماہ میں قرآن کی تلاوت کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ رمضان کی راتوں میں قیام الیل (نماز تراویح) کے دوران مکمل قرآن مجید سننے کی سعادت حاصل کرنے ساتھ ساتھ ہماری یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ پورے رمضان المبارک میں کم از کم ایک مرتبہ مکمل قرآن مجید کی تلاوت کا شرف حاصل کریں۔ لیکن بدقسمتی سے ہم میں سے بیشتر لوگ عربی زبان سے ناواقف ہونے کے سبب قرآن مجید کی تلاوت کے اس اہتمام کے باوجود قرآن میں موجود اللہ کے پیغام کو سمجھنے سے یکسر قاصر رہتے ہیں۔ چنانچہ ہمیں چاہیے کہ ہم رمضان المبارک میں کم ازکم روزانہ ایک پارہ ترجمہ کے ذریعہ سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں تاکہ رمضان المبارک کے دوران مکمل قرآن مجید کو سمجھ کر مکمل کرسکیں تاکہ قرآنی احکامات پر عمل کرنے میں آسانی ہو۔ ہم اس مضمون میں ان شاء اللہ قرآن مجید میں موجود جملہ بلا واسطہ یا بالواسطہ اوامر و نواہی (dos and don'ts) کے احکامات کی موضوعاتی درجہ بندی کو قسط وار بیان کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ہم رمضان المبارک سے قبل ہی قرآن مجید کے اہم موضوعات سے آگہی حاصل کرلیں اور دوران رمضان قرآن مجید کو تفصیل سے تراجم کے ساتھ پڑھنے کی طرف راغب ہوسکیں۔

1- ازدواجی زندگی

زوجین:

تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو (روم:۱۲) شرم والے ستر کو ڈھانکنے، جسم کی حفاظت اورزینت کے لئے لباس کو نازل کیا گیا (اعراف:۶۲)۔ شوہر اور بیوی ایک دوسرے لئے لباس کی مانند ہیں (البقرة:187)۔ جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں (النساء:34) ایسی بیویاں جو سچی مسلمان، باایمان، اطاعت گزار، توبہ گزار، عبادت گزار، اور روزہ دار ہو، خواہ شوہر دیدہ ہوں یا باکرہ(التحریم: 5)۔ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، جس طرح چاہو اپنی کھیتی میں جا ؤ (البقرة:223)۔ حیض ایک تکلیف دہ حالت ہے، اس میں عورتوں سے (مجامعت کرنے سے) الگ رہو (البقرة:222)۔

ایک سے زائد بیویاں:

اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ یتیموں کے ساتھ انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کر لو۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا اُن عورتوں کو زوجیت میں لا ؤ جو تمہارے قبضہ میں(بطور لونڈی) آئی ہیں (النساء:3)۔ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جُھک جا ؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو (النساء:129)

ازدواجی سرد مہری:

جو بیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں، ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے (البقرة:226)۔ تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں اُن پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو انہیں چھوڑ دو (النساء: 15-16)۔ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ، خواب گاہوں میں اُن سے علیٰحدہ رہو اور مارو، پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو (النساء:34)۔ اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حَکَم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو (النساء:35)۔ اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کہ میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کر لیں (النساء:128)۔ اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہو ہی جائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بے نیاز کر دے گا (النساء:130)۔

ظہار:

جو لوگ اپنی بیویوں سے ظِہار کرتے ہیں ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں (مجادلہ:2)۔ جواپنی بیوی سے ظِہار کرے اورپھر رجوع کرے تو پہلے انہیں ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ غلام نہ پائے تو دو مہینے کے پے درپے روزے رکھے اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے (مجادلہ: 3-4)

نکاح میں حلال و حرام:

تم مشرک عورتوں سے ہرگز نکاح نہ کرو(البقرة:221)۔ اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردوں سے کبھی نہ کرنا (البقرة:221)۔ جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں اُن سے ہرگز نکاح نہ کرو(النساء:22)۔ تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو، اور تمہاری دُودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے (النساء:23)۔ اور اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن و شَو ہو چکا ہو(النساء:23)۔ تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہارے صُلب سے ہوں۔ تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو (النساء:23)۔ اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں (النساء:24) محفوظ عورتیں بھی تمہارے لیے(نکاح کے لئے) حلال ہیں خواہ وہ اہلِ ایمان کے گروہ سے ہوں یا اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (المآئدة:5)۔ جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لیے حلال(سورة الممتحنہ:10)۔ ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم اُن کے مہر اُن کو ادا کر دو (الممتحنہ:10)۔ تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو (الممتحنہ:10) جو مہر تُم نے اپنی کافر بیویوں کو دیے تھے وہ تم واپس مانگ لو اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں(الممتحنہ:10)۔ خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے (النور:26)۔ پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوںکے لیے (النور:26)۔ جو نکاح کا موقع نہ پائیں انہیں چاہیں کہ عفت مآبی اختیار کریں(سورة النور:33)۔ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہیں جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں (الاحزاب:37)۔

مہر:

عورتوں کے مہر خوشدلی کے ساتھ ادا کرو (النساء:4)۔ تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کر کے اُس مَہر کا کچھ حصہ اُڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو(النساء:19)۔ جوازدواجی لطف تم ان سے اُٹھا ؤ اس کے بدلے اُن کے مَہر بطور فرض کے ادا کرو(النساء:24)۔ اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کر لو تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا (النساء:20)۔ ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دینے کی صورت میں نصف مہر دینا ہوگا (البقرة:237)

طلاق اور عدت:

جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھیں (بقرة:228)۔ اللہ نے مطلقہ عورتوں کے رحم میں جو کچھ خلق فرمایا ہو، اُسے چھپاناجائز نہیں ہے (البقرة:228) جو کچھ تم اپنی بیوی کو دے چکے تھے، طلاق کے بعد اُسے واپس لے ناجائز نہیں (البقرة:229) عورتوں کو طلاق دے چکو توبعد از عدت اُن کے نکاح کرنے میں رکاوٹ نہ ڈالو (البقرة:232) عدت پوری ہونے تک عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ نہ کرو(البقرة:235)بعد از نکاح عورت کو ہاتھ لگانے سے قبل طلاق دےنے میں کوئی گناہ نہیں(البقرة:236) جنہیں طلاق دی جائے انہیں مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے (البقرة:241) اے مومنو! اگر تم مومن عورتوں سے نکاح کے بعد انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دوتوان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے(الاحزاب:49)عورتوں کو طلاق دو تو اُنہیں اُن کی عدّت کے لیے طلاق دیا کرو اور عدت کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو(الطلاق: 1) عدت کے دوران نہ تم اُنہیں گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں (سورة الطلاق:1) عدت کی مدت کے خاتمہ پر یا انہیں بھلے طریقے سے اپنے نکاح میں روک رکھو، یا بھلے طریقے سے اُن سے جدا ہو جا ؤ۔ اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو جو تم میں سے صاحبِ عدل ہوں (الطلاق:2) عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اُن کی عدت تین مہینے ہے۔ اور یہی حکم اُن کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو(الطلاق:4) اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ اُن کا وضع حمل ہو جائے(الطلاق: 4) مطلقہ عورتوں کوعدت میں اُسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو، جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میسر ہو(الطلاق: 6) اور انہیں تنگ کرنے کے لیے ان کو نہ ستا ؤ(طلاق: 6) اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اُس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضع حمل نہ ہو جائے (الطلاق:6) پھر اگر وہ تمہارے بچے کو دُودھ پلائیں تو ان کی اُجرت انہیں دو(الطلاق: 6)۔

بیوہ کی عدت:

شوہر کے مرنے کے بعد بیوہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن تک روکے رکھے۔ (البقرة:234) بیوہ عورتوں کو ایک سال تک شوہر کے گھر سے نہ نکالا جائے (البقرة:240)

پردہ اور حجاب:

دوسروں کے گھروں میںداخل نہ ہو جب تک اُن سے اجازت نہ لے لو اوراُن پر سلام نہ بھیج لو (النور:27) جب تک اجازت نہ دیدی جائے، داخل نہ ہو۔واپس جانے کو کہا جائے تو واپس ہوجاؤ (النور:28) کوئی مضائقہ نہیں کہ ایسے گھروں میں داخل ہوجاﺅ جو کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہوں (النور:29) مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچاکر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں (النور:30) مومن عورتیں اپنی نظریں بچاکر رکھیں،اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اپنا بنا ؤ سنگھار نہ دکھائیں (النور:31) وہ اپنا بنا ؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں،ا پنے لونڈی غلام، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہو، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں(النور:31) وہ اپنے پا ؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلاکریں کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت کا لوگوں کو علم ہوجائے(النور:31) لونڈی غلام اور چھوٹے بے عقل بچے تمہارے پاس پردے کے ان تین اوقات میں اجازت لے کر آیا کریں۔ صبح کی نماز سے پہلے، دوپہر کو اور عشاءکی نماز کے بعد(النور:58) ان کے بعد وہ بلااجازت آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ ان پر۔تمہیں ایک دوسرے کے پاس بار بار آنا ہی ہوتا ہے (النور:58) جب تمہارے بچے عقل کی حد کو پہنچ جائیں تو بڑوں کی طرح اجازت لے کر آیا کریں(النور:59) جو عورتیں جوانی سے گزری بیٹھی ہوں، نکاح کی امیدوار نہ ہوں، وہ اگر اپنی چادریں اتار کر رکھ دیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں (النور:60) اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مُبتلاکوئی شخص لالچ میں پڑجائے، بلکہ صاف سیدھی بات کرو(احزاب:32) اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو اور سابق دورِ جاہلیت کی سی سَج دھج نہ دکھاتی پھرو(احزاب:33) مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں (احزاب:59)

(جاری ہے)

Comments

یوسف ثانی

یوسف ثانی

یوسف ثانی پیغام قرآن ڈاٹ کام کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ 2008ء سے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں قرآن و حدیث پر مبنی کتب کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں۔ ان کی کتب "پیغام قرآن، " "پیغام حدیث،" "قرآن جو پیغام،" "اسلامی ضابطہ حیات" اور "اسلامک لائف اسٹائل " کے تا حال پندرہ ایڈیشنز شائع ہوچکے ہیں۔ آپ ایم اے صحافت بھی ہیں اور بطور صحافی خبر رساں ادارے پاکستان پریس انٹرنیشنل اور جنگ لندن سے برسوں وابستہ رہنے کے علاوہ گزشتہ چار دہائیوں سے قومی اخبارات و جرائد میں بھی لکھ رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے کیمیکل ٹیکنا لوجسٹ ہیں۔ کیمیکل ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے بعد 1981ء سے قومی و کثیر القومی آئل اینڈ گیس فیلڈز سے وابستہ ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */