شیخ سدو (5) - خرم علی راؤ

پچھلی قسط

مرزا صاحب اور شیخ صاحب کا تعلق بڑا عجیب اور خوبصورت سا تھا۔ دونوں بہت پرانے دوست تھے، ویسے ہی دوست جنہیں بچپن کے دوست کہا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کی ذرا برداشت نہ تھی، ہر ملاقات کم و بیش جھگڑے پر ہی ختم ہوتی، مگر ملاقات پھر بھی روز ہوتی۔ ایک دوسرے کو سہہ بھی نہیں سکتے تھے اور ایک دوسرے کے بنا رہ بھی نہیں سکتے تھے۔ ان کے درمیان اکثر بات چیت بند رہتی، ایک دوسرے کی صورت دیکھنے کے بھی روادار نہ رہتے مگر اس دوران بے چین بھی بہت رہتے اور پھر چند ہی روز میں کسی نہ کسی بہانے دونوں میں بات ہو ہی جاتی۔ یعنی بالکل ہمارے ملک کی اپوزیشن اور حکومت جیسا تعلق تھا دونوں کا۔ مرزا صاحب مزاج کے تیز تھے، جلد غصے میں آجاتے تھے۔ شیخ صاحب کی گرفت کرنے میں انہیں ایسے ہی ید طولیٰ حاصل تھا جیسے ہمیں اپنے ہی ملک میں کیڑے نکالنے میں حاصل ہے۔ شیخ صاحب جہاں ذرا بے پر کی ہانکتے، مرزا صاحب فوراً گرفت کرتے۔ مرزا صاحب کوئی درفنطنی چھوڑتے تو شیخ صاحب وہ لتّے لیتے کہ اللہ دے اور بندہ لے۔ مگر ایک موقع ایسا بھی آیا کہ میں نے دونوں کو گفتگو کے میدان میں شیر و شکر دیکھا۔

وہ بھی عجیب دن تھا۔ ہوا یہ کہ محلے میں ایک صاحب کے صاحبزادے اسکالر شپ پر امریکا چلے گئے اور بلاشبہ اپنی قابلیت پر گئے تھے۔ تعلیم کے بعد نوکری وغیرہ مل گئی تو وہیں کے ہو رہے۔ دو تین سال میں چکر لگاتے۔ پہلے پہل تو جب آتے تو وطن کو امریکا میں خوب یاد کرنے کے قصے بتاتے، وہاں کے ماحول سے بیزاری کا اعلان کرتے اور کہتے تھے کہ یہاں کے لوگ، باتیں اور زمین بہت یاد آتی ہے۔ مگر پھر رفتہ رفتہ ان کی گفتگو میں وقت کے ساتھ ساتھ ہر چکر پر پاکستان بے زاری نمایاں ہونے لگی۔ بات بات پر امریکا اور پاکستان کا موازنہ بہ ایں حالت کہ پاکستان کی برائی اور وہاں کی بڑائی۔ جب پاکستان آئے ہوئے ہوتے تو اکثر تھڑے پر بھی کچھ دیر تشریف لاکر ہمیں غریبوں کو عزت بخشتے۔ ہم لوگ بھی ان کی گفتگو پر کبھی ہاں میں ہاں ملاکر ان کے ساتھ خوب سسٹم کو گالیاں دیتے اور کبھی بڑے اشتیاق سے ان سے امریکا کے قصے سنتے۔ شیخ صاحب جیسے بھی تھے، پر تھے سچے پاکستانی۔ وہ ان صاحب کی باتوں پر، جب وہ سسٹم کی آڑ میں پاکستان کی برائیاں کر رہے ہوتے، تو جز بز ہوا کرتے تھے۔ کبھی بات کا رخ موڑ دیا کرتے تھے تو کبھی اٹھ کر چلے جایا کرتے تھے۔

یہ بھی وہی دن تھے کہ جب باقر صاحب پاکستان کو رونق بخشے ہوئے تھے۔ وہ شاید ان کا برا دن تھا یا اچھا، کہ وہ ٹہلتے ہوئے تھڑے پر تشریف لائے، سب نے بڑے احترام سے انہیں جگہ دی اور انہیں یوں تکنے لگے جیسے وہ ابھی جیب سے امریکا کے ویزے نکال کر تقسیم کرنا شروع کر دیں گے۔ تھڑے کے مکینوں کی ان سے کچھ زیادہ اخلاق و مروت برتنے کی ایک وجہ یہ لالچ بھی تھا اور سچ تو یہ ہے کہ میں بھی اسی لالچ میں باقر صاحب سے کچھ زیادہ ہی محبت اور مروت برتتا تھا۔ خیر! وہ کچھ دیر تک تو گفتگو کا بہاؤ دیکھتے رہے اور ہھر کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے سب سے پہلا حملہ پاکستانی سیاست میں موجود کرپٹ لیڈروں پر کیا اور گفتگو کی روانی میں کہیں یہ کہہ گئے کہ یار اس ملک کو بننا ہی نہیں چاہیے تھا ہم آزادی کے قابل ہی نہیں تھے۔ بس یہ فقرہ ان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ مرزا صاحب نے تقریباً چلاتے ہوئے ان سے کہا کیا بک رہے ہو؟ ہوش میں تو ہو؟ ان کے لیے یہ فقرہ غیر متوقع اور حیران کن تھا، یکدم خاموش ہو گئے اور ناراض ہوکر جانے لگے تو ہمارے شیخ صاحب نے ان کا بازو پکڑ لیااور گرج کر بولے۔ ابے جاتا کہاں ہے اصغر کے لونڈے؟ نرے کالے انگریز! جواب غزل تو سنتا جا! میں تیرے باپ سے تعلق کی وجہ سے تیری باتوں کو نظر انداز کردیا کرتا تھا مگر آج تو نے سرخ لکیر عبور کرلی ہے۔

وہ گھبرا کر بیٹھ گئے اور بولے نہیں چچا میں نے تو یونہی!۔۔۔ مگر اب شیخ صاحب اب کہاں رکنے والے تھے؟ ڈپٹ کر بولے چپ کر اور سن! تیرا باپ سبزی کا ٹھیلا لگاتا تھا، محنتی تھا، آہستہ دکان بنالی، تجھے پڑھایا، لکھایا، تو بھی قابل نکلا، باہر چلا گیا اور پھر وہیں کا ہو کر رہ گیا… ہیں! دو تین سال میں دس بارہ روز کے لیے آتا ہے۔ تجھے پتہ ہی نہیں ہے کہ ان دس، بارہ دن کے لیے تیرے بوڑھے ماں باپ کس بے چینی سے انتظار کرتے ہیں؟ تو پیسے بھجوا کر سمجھتا ہے کہ بس تیرا فرض پورا ہوگیا؟ شیخ صاحب شدت جذبات سے ہانپنے لگے، ذرا رکے تو مرزا صاحب بولے اور تو اس ملک کو کہتا ہے کہ نہ بنتا؟ ارے یہ نہ بنتا تو تو آج بھی کسی سبزی کے ٹھیلے پر کھڑا سبزی بیچ رہا ہوتا، امریکا پلٹ نہ بنتا۔ شیخ صاحب نے کہا مرزا! رک ذرا، پھر خود بولے، اگر سسٹم خراب ہے جو کہ واقعی ہے تو یہ تم جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کا فرض ہے کہ اپنی قابلیت کو استعمال کرکے اس سسٹم سے لڑیں، اسے ٹھیک کریں، نہ کہ راہ فرار اختیار کریں۔ بیٹا! جب گھر میں کوڑا کرکٹ اور گند بلا زیادہ ہوجائے تو محنت کرکے صفائی کرتے ہیں یا اپنا گھر چھوڑ کر بھاگ کر کسی عالیشان محل کے سرونٹ کوارٹر میں ملازم بن کر رہنے لگتے ہیں؟ بولو باقر میاں! کیا بولتے ہو؟ اس دوہرے حملے نے تو ان کے اوسان ہی خطا کر دیے۔ چپ چاپ اٹھے اور سلام کرکے وہاں سے جھکائے چلے گئے، لیکن ہر بھاری قدم ظاہر کر رہا تھا کہ وہ کسی سوچ میں گم ہیں۔

ٹیگز