تب لوگ سچے تھے، جب مکان کچے تھے - شکیل احمد ملک

بیس سال پہلے اگر بچہ دو روپے مانگتا تھا تو دیہی زندگی گزارنے والے ماں باپ عموماً پاپڑ یا ٹافی کھانے کے پیسے دینے کے بجائے یہ کوشش کرتے تھے کہ بچہ دیسی انڈا یا دیسی گھی کی چُوری یا مکھن دودھ دہی کھا کر راضی ہو جائے، مگر دو روپے لے کر آزاد نہ ہو جائے۔ اب بچہ تھوڑا سا ناراض ہو یا کچھ ضد کرے تو ماں باپ سموسے، پکوڑے، پراٹھا یا دنیا جہاں کی الا بلا چیزیں کھلانے کی آفر کرتے ہیں۔ پہلے محلے کا یا اپنا کوئی بڑی عمر کا عزیز و رشتہ دار بچے کو ڈانٹتا تھا، یا کسی بد تہذیبی یا شرارت پر مار بھی دیتا تھا، تو ماں باپ کہتے تھے کہ "اچھا کیا ہے۔" اب ایک ہی چھت تلے رہنے والے گھر میں اپنے علاوہ کسی اور کے بچے کو گھور بھی لیں آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے۔ پہلے جب بچہ گھر میں پکا کوئی سالن نہیں کھاتا تھا تو ماں دوڑ کر ساتھ والے گھر سے سالن مانگ لاتی تھی، جیسے اپنے ہی گھر کی ہانڈی ہو۔ اب بچہ ایسے نخرے کرے تو اسے پیسے دے کر ہوٹل بھیج دیا جاتا ہے کہ جاؤ فلاں سالن لا کر روٹی سے کھالو، مجھ سے نہیں مانگا جاتا کسی دوسرے گھر سے۔ چاہے وہ "دوسرا گھر" رشتہ داروں کا ہی کیوں نہ ہو۔ دو عشرے قبل والدین کے کہنے پر بچے شرما شرما کر شادی کرتے تھے، آج والدین بچوں کے مطالبات سے تنگ آ کر شادیاں کرواتے ہیں۔ پہلے لوگ سادہ تھے، خاندانی معاملات میں مرد گھر پر رعب رکھتا تھا اور عورت اس کا احترام کرتی تھی۔ آج "ماڈرن اور پڑھے لکھے" زمانے میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، بقول شوہر کے "وہ میری سنتی ہی نہیں۔"

پہلے ان پڑھ بھی کسی نہ کسی جگہ صاحب روزگار ہوتے تھے، آج اچھلی بھلی تعلیم والے بھی بے روزگاری کا رونا روتے ہیں جس کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ ہڈ حرامی ہے۔ پہلے مہمان آ جاتا تھا تو اس سے کھانے کا پوچھا نہیں جاتا تھا بلکہ پیش کردیا جاتا تھا۔ آج اچھا بھلا مہمان بھوک سے نڈھال ہوکر آئے تو سوال داغ دیا جاتا ہے کہ "کھانا کھائيں گے؟"، وہ بیچارہ اپنی عزت نفس پر خودکش حملہ کرکے خالی پیٹ ہی چلا جاتا ہے۔ پہلے جب کوئی بیمار ہوتا تھا تو لوگ تیمارداری کے لیے اپنے گھر سے خود کھانا اور چائے بنا کر ہسپتال جاتے تھے۔ اب تو تیمارداری کو گئے بھی تو راستے سے کوئی بوتل یا جوس کا ڈبہ پکڑ لیا جاتا ہے یا پھر کوئی بڑا تیر مار لیا تو پھل لے لیے۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت کی تاریخ - صائمہ راحت

ایک زمانے میں جب کوئی مہمان شہر سے گاؤں آتا تھا تو سب گاؤں کے لوگ اس سے ملنے آتے تھے۔ اسی طرح گاؤں سے جب کوئی مہمان شہر آتا تھا تو پورا محلہ اس سے ایسے ملتا تھا جیسے وہ ان کا مہمان ہو۔ اب تو یہ حال ہے کہ یہ بھی معلوم نہیں کہ پڑوس میں کون رہتا ہے۔

تفصیل میں جائیں گے تو بہت کچھ کھلے گا لیکن اصل بات یہ ہے کہ تب لوگ سادہ تھے، ان پڑھ تھے لیکن حیا دار، سلوک والے، تصنّع سے خالی اور خلوص سے لبريز۔ آج ہم اپنی اقدار بھول گئے ہیں۔ ہمیں بزرگوں کا دست شفقت تو ملا جن کی باتیں، نصیحتیں اور کردار ہمارے لیے مشعل راہ ہے لیکن ہم نے "ترقی کی دوڑ" میں سب کچھ بھلا دیا۔ بہت سی باتیں محض یادیں بن گئیں۔

ٹیگز