" میکن ایک تاثر "- نورین تبسم

"یکم جون 2013 کوضلع گجرات کے ایک گاؤں کی سفرداستان"

میکن--- جی ٹی روڈ سے متصل لالہ موسیٰ اور گجرات کے سنگم پر واقع ایک گاؤں کا نام ہے۔ یہ تقریباً چوبیس گھنٹوں پر محیط میرے شب وروز کی کہانی ہے جو انجان زمینوں پرانجان چہروں کے درمیان میری زندگی کی کتاب میں شامل ہوئی۔اس اجنبی ماحول میں بھرپور اپنائیت ملی اوراُس سے بڑھ کر قلم نے جس رفتار سے میری سوچ کا ساتھ دیا وہ میرے لیے زندگی کا یادگار تجربہ تھا ۔ میں وہ ناتجربہ کار فوٹوگرافر تھی جو صحیح طور پر فوکس کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا لیکن پھر بھی سوچوں کی یلغارکے ہر ہر لمحے کو یوں چابکدستی سے کاغذ پر اتارتی کہ لکھنے کی لذت میں اپنا آپ بھول جاتی۔

چلے جاؤ ۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ جانا پڑجائے

دے دو ۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ لے لیا جائے

لے لو ۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ زبردستی لینا پڑجائے

جذب کر لو۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ پتھر بن جاؤ

بہت بار پڑھا کئی بار سُنا کہ

"جنےلہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں" لیکن آج اپنے پنجاب کے ضلع گجرات کے ایک گاؤں میں اُس کی تازہ ہوا اور قدرتی ماحول میں سانس لیتے بےساختہ نکلا "جنے میکن نئیں ویکھیا او کُج نئیں ویکھیا "

جانتی تو تھی پر آج یقین ِکامل ہو گیا کہ جنت واقعی دوقدم کے فاصلے پرہوتی ہے اور ہم پہلا قدم ہی نہیں اُٹھا پاتے اور اُس کو ایک داستان ِالف لٰیلی کی طرح سنتے اور اُس کی چاہ میں مر مر کر جیتے جاتے ہیں ۔

خوبصورتی واقعی ہمارے اندر کے حُسن کا نام ہے اور ہم اَسے دور دراز آئینوں میں کھوجتے اور پانے کی حسرت لیے دُنیا سے رُخصت ہو جاتے ہیں ۔

لفظ واقعی قوت ِاظہار کا طاقتور ذریعہ ہیں لیکن احساس کی گہرائی اورطمانیت کی لہر کو شاید ہی کوئی مکمل طور پر قلمبند کر سکے۔

ایک مکمل اور آرام دہ گھرجس کا ایک اِک گوشہ اپنے مکینوں کے ذوق ِنظراوردُوراندیشی کی خوشبو سے مہکتا دیدہ دل فرش ِراہ کیے ہوئے ہے۔سادگی سے چیزوں کی اصل کے بھید کھولتے مکین ہمیں ہماری خودساختہ معاملہ فہمی اور عقل مندی کی داد دیتے نظرآئے۔ ہم شہروں میں رہنے والے خیالوں ہی خیالوں میں نہ جانے کس گوشۂ عافیت کے خواب دیکھتے ہیں۔۔۔ اپنی پہنچ سے دُور۔ نہیں جانتے کہ آنکھ کھول لیں تو خواب کی تعبیر بھی مل سکتی ہے۔

کل ایسا ہی ہوا باتوں باتوں میں دوست نے اُداسی سےکہا"مجھے گاؤں جانا ہے تم سے مل نہ پاؤں گی" تو نہ جانے کیوں میں نے فوراً کہا مجھے بھی جانا ہے،میں نے کبھی پنجاب کا کوئی گاؤں قریب سے نہیں دیکھا،اُسے محسوس تو کیا ہے مگر اس کی خوشبو جذب نہیں کی۔ قبولیت کا کون سا لمحہ تھا کہ اگلے روزاُس کے ہمراہ اُس کے گاؤں کے گھر میں تھی ۔ وہاں سب ویسا ہی تھا جیسا میرے خواب میں تھا۔جدید طرز ِزندگی کے لوازمات سے آراستہ خالص اور قدرتی رنگوں کی تاثیر سے بھرپور۔

میں گھر سے صبح سویرے چائے کا کپ پی کرنکلی اور وہاں جا کر پہلی فرمائش صرف خالص دودھ کی تھی وہ بھی بغیر چینی کے۔۔۔ میں اُس میں سے اُس کی اصل کشید کرنا چاہتی تھی۔

گھرکے کُھلے کُھلے دالانوں میں جون کی گرم دوپہر منہ چھپائے پھرتی تھی اور پاپلرکے سایوں میں فراٹے بھرتی ہوا میرے گال چومتی خوش آمدید کی صدائیں لگاتی تھی ۔ آزادی ،تنہائی اور ملکیت کا امتزاج میری آنکھوں کو نم ہونے سے روکتا تھا - دُنیا میں خوشی اور سکون اتنی آسانی سے اور بےمول بھی مل جاتا ہے مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آتا تھا۔یہ کیسی قید تھی جس سے فرار کی خواہش دل بےچین کر دیتی تھی -ابھی میں پیچھے رہ جانے والے رشتوں اور تعلقات اورواپسی کے سفر کو سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ یہ وقت یہ لمحہ میرا تھا میرے لیے تھا۔ میں وہ شہزادی تھی جس نے جو چاہا پا لیا ،بھوک پیاس سے بے نیاز صرف اس منظر کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کی ہوس تھی اور لفظ میرے ہمسفر تھے۔ مجھے اکثر اپنا آپ اُس سیاست دان کی طرح لگتا تھا جو رہتے تو ائیرکنڈیشنڈ محلوں میں ہیں اور غریبوں کی ہمدردی میں تقریریں کرکے میلہ لُوٹ لیتے ہیں۔

پرآج بخت بھی میرے لیے اس دیہاتی ماحول میں ہرطرف آسائشوں کی مہمان داری کرتا تھا۔ چھوٹی الائچی کے پودے کے پتے میرے ہاتھوں کو چھوتے تھے۔۔۔تو کہیں کالی مرچ کے درخت کی پتیاں مجھے اُس کی کہانی سناتی تھیں اورمیں 'سکھ چین' کے سایوں میں قدرت کی کاری گری پر سجدۂ شکر ادا کرتی تھی ۔ پودوں سے باتیں کرتے ہوئے مجھے بتایا گیا کہ چند برس قبل یہاں ایک کیکر کا درخت ہوا کرتا تھا جس پرانگور کی بیل چڑھتی گئی ۔۔اپنی قسمت سے بےپروا یہاں تک کہ جب بارآور ہوئی تو پتہ چلا کہ کیکر پر انگور کبھی نہیں پنپ سکتا ۔ اس لمحے دیکھنے والوں نے دیکھا کہ کس طرح کیکر کے کانٹے انگور کے خوشوں کوزخمی کرتے تھے مجھے بے اختیار 'میاں محمد بخش 'کے لازوال اشعار یاد آگئے۔

نیچاں دی اشنائی کولوں تے فیض کسے نئیں پایا

ککر تے انگور چڑھایا ہر گُچھا زخمایا

سچ ہے کہ محبت پانا بھی ہر کسی کا نصیب نہیں اور ہر ایک اس کا اہل بھی نہیں ہوتا بلکہ نااہل محبت کی نرمی اور نازکی کو اپنے کُھردرے پن سے زخمی ہی کر دیتا ہے- محبت کی بیل بھی صرف اُن کاندھوں پر چڑھتی ہے جو اسے سنبھالنے کا قرینہ جانتے ہوں۔ جو محبت کا بوجھ سہار سکے محبت کی خوشبو اوراُس کا رس اُسی کا مقدر ہے۔

گیارہ بجے دن

صبح کے گیارہ بجے تھے اور ابھی ایک رات بھی میرے قبضۂ قدرت میں آنے کے لیے بےچین تھی۔جس کا تصور مجھے فرحت انگیز خوشی دیتا تھا۔کُھلےصحن میں پانی کے چھڑکاؤ کے بعد بچھی چارہائیوں پرمٹی کی سوندھی مہک کے حصار میں سونا میرے بچپن کی وہ یاد تھی جو خواب کی صورت اب بھی دل پر دستک دیتی تھی اور آج اُس یاد نے حقیقت بن کر پھر ایک خوبصورت یاد میں تبدیل ہونا تھا۔آج چاندنی رات تو یقیناً نہیں تھی لیکن مبارک ماہ ِرجب کی 22ویں رات ضرور تھی شاید اللہ کو یہی منظور تھا کہ ایک خاص رات کا عکس ہمیشہ میری سوچ کے آئینے پر ثبت رہے۔

زندگی کے سفر میں تازہ دم ہونے کے لیے پڑاؤ بہت ضروری ہےاور پڑاؤ کبھی ہماری مرضی اور منصوبہ بندی سے نہیں ملتا۔آج صبح بھی آتے ہوئے راستے میں بھائی نے کہا کہ گاؤں کی سیر کے لیے یہ موسم قطعاً مناسب نہیں۔ سرسوں پھول کر ختم ہو چکی اورگندم کی بالیاں خشک ہو کرکٹائی بھی ہو گئی ہے اب گاؤں میں مٹی اور گرمی کےسوا کچھ نہ ہو گا لیکن!!! میں خوابوں میں رہنے والی سب جانتے ہوئے اُسی گرمی اور بےفیض فضا پر ہرحال میں اپنی آنکھوں کا اعتبار چاہتی تھی۔۔۔کہتی تھی کہ وقت کبھی ہمارے ساتھ نہیں چلتا،ہمیں کبھی اپنی مرضی اور پسند کا ماحول نہیں ملتا اس لیے جو مل رہا ہے جیسے مل رہا ہے اُسے اپنا لیں اور اس میں اپنے خیال کے رنگ بھر لیں۔اور یہی آج ہوا،جب یہاں پہنچ کر خواب وخیال حقیقت بن کر نظروں کے سامنے تھا اور رنگوں کی برسات وجود کو شرابور کرتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کہانی… (13) - رؤف کلاسرا

آنے والی رات کی طرح کل صبح کا پیام بھی میرے دل کو گدگدا رہا تھا۔سورج کی اولین کرنوں سے بھی پہلے کی خنک ہوا میں صبح کا تصور ایک حسین خواب سے کم نہ تھا۔ برسوں پہلے کالام کی وادی میں اُترنے والی صبح کی یاد میرے دل پر اُسی طرح نقش تھی۔جب صبح کی سیر کے دوران کالام کی بلندی پر پوش آرام گاہوں کے سنگ حدِنظر تک پھیلے سبزیوں کے کھیتوں میں سے جھانکتے شلغم اور گاجر اپنی طرف توجہ مبذول کراتے تھے اور تھکے ماندے سیاح اپنی نیند کو ہی حاصل ِسفر جان کر محوِخرام تھے۔

چھ بجے شام

سورج ڈھلنے میں ابھی وقت تھا،شام کی سُنہری دھوپ میں سرسراتی نرم ہوا میرے لبوں کو چومتی میرے بالوں سے اٹکھیلیاں کرتی تھی اور میں دوپہر میں گاؤں کی گلیوں میں اپنے سفر اور اُن چہروں پر لکھتی تھی جو آج پڑھے۔

ہر گھر ایک کہانی تھا اور ہر چہرہ ایک مکمل تصویر۔چھوٹی مگر پکی گلیوں میں ایستادہ شاندار گھر جہاں اپنے مکینوں کے ذوق اور خوشحالی کے امین تھے وہیں ان سجے سجائے کمروں میں سناٹے کی گونج بھی سنائی دیتی تھی۔وضع دار میزبان گرم جوشی سے ملتے لیکن اُن کے اندر پھیلی تنہائی کی پکارنہ جانے کیوں مجھے اُداس کرتی تھی ،روزگار کی مشقت نے ان گھروں کو مادی طور پر تو مالامال کر دیا تھا لیکن ساتھی کی دُوری ایک ان کہے چُُپ میں بدل گئی تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں سب بہت مطمئن و مسرور دکھتے تھے شاید مجھے اپنی ذات کی تنہائی کا عکس ان میں نظر آیا ہو؟ انہی روشن کمروں کی بھول بھلیوں میں گھومتے پھرتے ایک ایسے گھر میں بھی میرے قدم پڑے جو برسوں سے بند تھا۔۔۔ دُھول مٹی اور ناقدری کی بو اُس کے گوشے گوشے میں سانس لیتی تھی اور وہ قبرستان کی سی چُپ لیے وقت کے رحم وکرم پر تھا-ایک پل کو زندگی کا یہ روپ دیکھ کرمیں ٹھٹک گئی کہ یہ بھی حقیقت ہے مکین چلے جاتے ہیں مکان رہ جاتے ہیں۔

کبھی گھر بسا کر بسنا بہت مشکل لگتا ہے تو کبھی نئی منزلوں کی چاہ میں گھر بسا کر خالی بھی کرنا پڑ جاتا ہے۔نئے سنگ ِمیل کی تلاش میں یہ پڑاؤ ہمیشہ ساتھ تو رہتا ہے لیکن صرف یاد کے جھروکے میں بیتے کل کی کہانی کی صورت۔

ان پُرآسائش خوبصورت سجے سجائے گھروں کے چہرے بھی حیرت انگیز طور پر دل ودماغ پر خوشگوار تاثر چھوڑتے تھے بناوٹ سے پاک عام بول چال میں دیسی بدیسی زبان میں قرینے سے گفنگو کرتے مُسکراتی آنکھوں سے خاطرمدارات کرتے میری بےتکلفانہ باتوں کو توجہ سے سنتے میرے قریب آتے تھے۔

ایک 2 سالہ بچے سے "لب پہ آتی ہے دعا" سُن کر عجیب سی راحت ملی تو ایک بچی نے مجھے اپنا لکھا مضمون "انسان اور آدمی "سنایا یہاں صرف میں تھی اور میرا نام۔۔۔کوئی اور تمغہ کوئی نام یا کوئی رشتہ میرے ساتھ نہ تھا یہ اجنبی چہرے عجب اپنائیت سے میرا نام پکارتے اور میرا وجود انہیں ان جانی بےغرض خوشی دیتا تھا-وہ میرا جسم کھوجتے اور میں اُن کی روح تک جھانکتی تھی میری عمر کے بیتے ماہ وسال وہ حقیقت تھے جو انہیں میرے لبوں سے سن کر بھی اپنی آنکھوں پر یقین نہ آتا تھا ۔ میری مٹی میں گندھی بےنیازی اور اپنائیت کا امتزاج انہیں مجھ سے دور بھی رکھتا اور قریب آنے پر مجبور بھی کرتا۔ میں سب جانتی تھی سب دیکھتی تھی مگر اپنے ازلی ہرجائی پن کے طفیل اس وقت صرف محبوب کی قربت چاہتی تھی -وہ محبوب جو ہمیشہ میرے خوابوں کا ہمسفررہا تھا آج یہاں اسوقت میرے سنگ تھا مکمل تنہائی کی یہ لذت جو ہمیشہ میرا خواب رہی تھی اب یہاں مجھے اپنی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیتی تھی سب سے بڑی بات آج میرے پاس ڈھیروں ڈھیر وقت تھا۔۔۔ میرا اپنا۔ اپنےساتھ گزارنے کے لیے۔۔۔۔ شاید میری زندگی سے بھی زیادہ۔

نفاست سے لگے کنوؤں ،مالٹے اور انار کے باغ کے قریب بیٹھی میں اس سرمئی شام کے اُجالے کو اپنے اندر جذب کرتی تھی اوراس گھڑی کو لفظوں میں سمیٹنے کی ناکام کوشش کرتی تھی جو ڈھلتی جا رہی تھی۔ پرندوں کے الوداعی نغمے ،کوئل کی مانوس کوک اور مغرب کی اذان کی آواز زندگی کا ایک خوبصورت اور نہ بھولنے والا دن ختم ہونے کی نوید سناتی تھی ۔ اللہ اکبر۔

یہ دن میری زندگی کے کینوس پر پھیلے دنوں میں سے ایک تھا جو زندگی کی خوشگوار حقیقتوں کے ساتھ بہت سے تلخ حقائق پر سے بھی پردہ اُٹھا گیا۔ اس خوش حال دیہات میں زندگی کے ایسے چُبھتے رنگ اور اُلجھے دھاگے بھی ملے جن کا حل سوائے سمجھوتے کے اور کچھ نہ تھا۔

نو بجے رات

رات ہولے ہولے اپنے پر پھیلانے لگی تھی۔۔۔ابھی ہوا میں وقت کا مقابلہ کرنے کی سکت باقی تھی لیکن پھر بھی ذرا دیر کو ہوا کی کٹی پتنگ کہیں سانس لینے رُکی تھی۔دن کی تپش نڈھال کرتی تھی اور میں اپنے آپ کو ہوا کے رحم وکرم پر چھوڑ کر کھلی چھت پر بےدم اُس کے لمس کی منتظر تھی جو مجھے دھیرے دھیرے تھپکتی تو تھی پر سیراب نہ کرتی تھی۔ چہارجانب پھیلا اندھیرا اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں رات کی آمد کا اشارہ دیتی تھیں ۔

دو بجے رات

گرمی اور مچھروں پر پہلی بار پیار آیا کہ اُنہوں نے میری آنکھیں کھول دیں اور تاروں بھرا آسمان نگاہوں کو سلامی دینے لگا۔ رات کا مکمل سناٹا اور میں،آسمان پر چمکتے تارے میرا انتظار کر رہے تھے۔ آخری تاریخوں کا چاند رات کے اس پہر اپنی ساری چاندنی میرے وجود پر نچھاور کرنے کے لیے بےچین تھا-اُس کے لمس کو میرے وجود کی چاہ تھی۔کتنی دیر تک اُسے دیکھ کر میں اپنی نظروں سے آرتی اُتارتی رہی یہاں تک کہ قریبی مسجد سے درود تاج پڑھنے کی پُراثر آوازآئی جس کا ایک اِک لفظ واضح اور مکمل سنائی دیتا تھا۔میں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کر رہی تھی کہ میری آنکھ کھل گئی جو مجھے یہ دولت سمیٹنے کا موقع ملا۔ پھر فجر کی پہلی اذان بھی میرے کانوں میں اُتری۔

یہ بھی پڑھیں:   علی امین گنڈا پور نے بھارت کے خلاف لائن آف کنٹرول پر جا کر لڑنے کا اعلان کر دیا

پانچ بجے صبح

صبح اتنی خوبصورت بھی ہو سکتی ہے یہ میں نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا۔میں جو اپنے خوابوں پر ایمان کی حد تک یقین رکھتی تھی ایسا حسین خواب میرے وہم وگمان میں بھی نہ آیا تھا۔ میں گھر کی پچھلی طرف بنے ٹیرس پر بیٹھی حدِنظر تک پھیلے کھیت ہی کھیت دیکھتی تھی یوں جیسے سمندر کنارے دُور تک دیکھتے رہیں پانی ہی پانی لیکن شاید سمندر کنارہ بھی اتنا مکمل اور پُرسکون نہ ہوتا ہو کہ اُس کے پاس سوائے آسمان اور نیلگوں پانی کی وُسعت ،ہوا کے رقص لہروں کے تلاطم اور خاموش پرندوں کی ڈاروں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔لیکن یہاں اس لمحے اس صبح تو میری اس کائنات میں موجود ہر ذرّہ رنگوں اور خوشبوؤں سے مہکتا مجھے اپنے اندر سمونا چاہتا تھا اور میں خاموشی سے اپنے آپ سے نکل کر اس کے مدار میں محو ِرقص تھی۔صبح کی پاک اور تازہ ہوا کے جھونکے مشام ِجاں کو معطر کرتے تھے،چڑیوں کی چہچہاہٹ کوئل کی کوک میرے دل کو اپنی طرف پکارتی تھی۔نئے سفر کی تیاری پر کمربستہ پرندے ابھی اپنے آپ کو تازہ دم کرتے تھے۔زمین کے وسیع وعریض کینوس پر بکھرے لکیروں اور رنگوں سے سجے مستطیل رنگ نظر کو تسکین پہنچاتے تھے۔ گندم کی فصل کٹ چکی تھی اس لیے خاکی اور سُنہرا رنگ نمایاں تھا کہیں کہیں چارے کے لیے تیارکیے گئے کھیت بھرپور تاثر دیتے تھے۔

چھ بجے صبح

خالص دودھ کا ایک لبالب گلاس پینے کے بعد میں اب پھر اپنی اُسی جگہ پر تھی ۔ سورج آہستہ آہستہ بلند ہو رہا تھا ۔ ہوا بدستور اُسی طرح شوخ تھی بلکہ اب کچھ زیادہ گستاخ ہو گئی تھی شاید اُسے میرا انداز پسند آیا تھا ۔ اس سے ذرا دیر پہلے میں نیچے بھینسوں کے باڑے میں تھی گھر کی مالکن خود سارا کام کر رہی تھیں، تازہ چارہ کھیت سے توڑ کر مشین کی مدد سے کاٹ کر بھینس کو کھلایا کہ دودھ دوہنے سے پہلے اُس کی خاطر کرنا فرض ہوتا ہے میرے سامنے دودھ دوہنا شروع کیا پھر میں نے جھاگ والے کچے دودھ کا ذائقہ چکھا لیکن کیا کیا جائے ہمارا اپنا شہری پن !!!کہ مجھے اُبلا ہوا دودھ ہی پینا تھا -اس ٹیرس پر ایک خاص اور عجیب چیز مجھے مسحور کرتی تھی وہ تھی میرے ساتھ مکمل تنہائی۔۔۔ دُور بہت دور کہیں کہیں کوئی انسان یا جانورچلتے پھرتے نظر آتے تھے۔

گھر والے بھی مجھے "پہچان" کر اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔یہ کیسا اتفاق اورعجیب حقیقت ہے کہ جو ہمارے قریب ہوتے ہیں وہ ہمیں جانتے نہیں اور اجنبی چہرے جو زندگی میں پہلی بار ملیں وہ ایک ہی نظر میں ہمارے اندر باہر سب دیکھ لیتے ہیں ، اور ہمیں جس وقت جس چیز کی ضرورت ہو ہم اِسی آسانی سے بلا جھجکے اُن سے کہہ بھی دیتے ہیں۔۔اپنا حق جانتے ہوئےاور وہ دھیمی مسکراہٹ سے ہمیں خرید بھی لیتے ہیں۔میری فرمائشیں ختم ہونے میں نہ آرہی تھیں اب مجھے ٹیوب ویل کے پانی کے مزے چاہیں تھے صرف بجلی کی عدم دستیابی راہ کی رکاوٹ تھی شاید یہ میری آخری خواہش تھی اور اب واپس جا کر احساس ہونا تھا کہ کیا رہ گیا،جو دسترس میں آسکتا تھا لیکن شاید میری اتنی ہی صلاحیت تھی جذب کرنے کی۔محبتوں کا یہ سفر فقط چند گھنٹوں کا مہمان تھا۔اب اپنے دیس واپس جانا تھا۔میں وہ شہزادی تھی جو راستہ بھٹک کر اس نگر آپہنچی تھی اور حیرانی سے ایک اور جہاں آراستہ دیکھتی تھی جو صرف میرے لیے تھا اورمیں اُس کے لیے۔

مجھے بھوک بھی لگ رہی تھی خالص آٹے کا پراٹھا مکھن اور لسی کے ساتھ میرا منتظر تھا۔ اللہ ان مخلص میزبانوں کو صحت سلامتی والی لمبی زندگی عطا فرمائے جنہوں نے میری زندگی کے رنگوں میں ایک بیش قیمت انمول رنگ کا اضافہ کیا اور اپنے محبتوں بھرے تحائف سے مالامال کر کے رُخصت کیا۔

آخری بات

یہ خواب لمحوں کا وہ سفر تھا جو حقیقت کی دُنیا میں میری آنکھ پر اُتراور یہ صرف نگاہ کا کمال ہے جو کسی منظرکسی کیفیت کو کس طور محسوس کرے۔ اور حق یہ ہے کہ یہ صرف پہلی نگاہ کا کمال ہے شاید میں بھی یہ منظر دوبارہ اس طور نہ محسوس کر سکوں۔جو لمحہ گزر گیا وہ دوبارہ لوٹ کر کبھی نہیں آتا۔ جو لمس چھو جائے وہ دوبارہ نہیں ملتا،بس اُس کو پاس رکھنے، اس کو پانے کی ہوس ہمیں اُس سے بچھڑنے نہیں دیتی۔ لیکن جو چلا گیا سو چلا گیا اب نئی منزلیں نئے راستے یہی زندگی کہانی ہے۔اگر بیتے پل ،پیچھے چھوڑ آنے والے چہروں سے دل لگا لیں تو آگے کے لیے کچھ باقی نہیں بچتا۔اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیں تو شاید آگے اس سے بھی بڑھ کر نئے منظر خوش آمدید کہہ رہے ہوں۔

یہاں کسی بڑے زمین دار کا ڈیرہ نہیں بلکہ ایک پڑھے لکھے خاندان کا گوشۂ عافیت ضرور تھا جو زندگی بھر کی جدوجہد کے بعد برگد کے درخت کی سی چھاؤں رکھتا تھا۔ایک اعتراف اپنے سامنے کہ اگر یہاں جدید دور کی سہولیات نہ ہوتیں تو مجھے یہ سفر پریوں کی داستان نہ لگتا ۔ ایک اعتراف پڑھنے والوں کے سامنے کہ میں مانتی ہوں دیہاتی زندگی کا یہ رُخ اُس کی اصل نہیں۔ اصل حقیقت تو بہت کڑوی اورکربناک ہے۔کچے گھروں میں رہنے والے تلخ مسائل سے نبردآزما لوگوں کے لیے زندگی خود ایک بہت بڑا روگ ہے۔ہردیہاتی علاقے کی زندگی اتنی حسین نہیں ہوتی بلکہ زندگی کی تلخیوں کو سمیٹنے میں زیادہ ہی بےصبری ہوتی ہے۔ یہ صرف شہری لوگوں کا رومانس ہے جو وہاں کچھ وقت گُزار کر محسوس کرتے ہیں۔ لیکن میں سمجھتی ہوں کہ خواب دیکھنے پر ہر کسی کا حق ہے۔ خواب کی کوئی قیمت نہیں اور نہ ہی حدود ہوتی ہیں اور جب خواب پورا ہو جائےتو اس پر بھی کوئی وضاحت نہیں دینا چاہیے۔

جو ملے رب کی رضا سے جھولی میں بھر لو۔ خوشی مل رہی ہے اُسے سمیٹو گے تو آگے جا کر خوشی ہی بانٹو گے اگر پھول کے ساتھ لگے کانٹوں پر ہی دل جلاتے رہے تو خار بن کر کسی کا دل ہی زخمی کرو گے۔

جھولی بھرتے جاؤ اور جھولی خالی بھی کرتے جاؤ تاکہ سفر جاری رہے۔

سفربخیر

"رہے نام اللہ کا "

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.