سر لامکاں سے طلب ہوئی - محمد اقبال دیوان

آنٹی عطیہ موجود کا تذکرہ آپ نے ممتاز مفتی کی کتاب الکھ نگری میں پڑھا ہوگا۔یہ تذکرہ ذرا سرسری سا ہے۔ وہ ہمارے سسرال کے پڑوس میں رہتی تھیں، ہماری ساس صاحبہ سے بہت دوستی بھی تھی۔

جنرل ضیا الحق نے پالپا کی پوری قیادت کو برطرف کیا تو ہماری ساس صاحبہ جن کے بھائی کپتان سلیم الحق پالپا کے صدر تھے اس وجہ سے ہماری بیگم کو ان سے ملنے جانا پڑا۔ آنٹی نے بتایا کہ کپتان صاحب کی واپسی ضیا الحق کی زندگی میں تو ناممکن ہے مگر وہ ایک ایسے ملک میں جہاز اڑائیں گے جہاں ہمارے استاد شیخ مطلوب الحسن کے بڑے بھائی اور دیوبند کے پہلے طالب علم شیخ محمود الحسن کو جلاوطن اور قید کیا گیا تھا۔ واپسی ہوگی اور بڑے عہدے پر ہوگی۔ ہماری بیگم سے ان کے تعارف اور بے حد احترام کے تعلق اور لگاؤ کی وجہ یہ دورہ بنا۔ یوں ہماری حاضری کا بھی سامان ہوگیا۔

ان کی خدمت عالیہ میں1989 سے2004 ان کی وفات کے آخری ایام تک ہفتے میں ا کم از کم یک دفعہ حاضر ہونے کی ہمیں یہ فیض اور سعادت میسر آئی۔

وہ فیز ٹو ڈیفنس کراچی کے ہزار گز کے ابتدائی ایام کے بنے ہوئے بنگلے میں رہتی تھیں۔ ملازم کوئی نہیں تھا۔ بنگلے کا دروازہ خود ہی کھولتی تھیں۔جب قدرت اللہ شہاب زندہ تھے ان کے پاس باقاعدگی سے آتے تھے۔ ان دنوں وہ دونوں مرکزی حکومت کے باتھ آئی لینڈ والے فلیٹوں میں رہا کرتے تھے۔ اللہ اللہ کیا دن تھے۔ شہاب صاحب جو گورنر جنرل غلام محمد کے دور سے صدر ایوب تک تمام سربراہان مملکت کے پرنسپل سیکرٹری تھے۔ ان کے پاس موٹر نہ تھی۔

قدرت اللہ شہاب(دائیں) گورنر جنرل غلام محمد (درمیان میں) کے ساتھ

ایک ہمارے ملازمت میں برسوں کے جونیئر وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد ہیں۔آج حکم کریں تو سیر الارض کے لیے روس کے صدر ولادیمر پوتن ان کی طاقت اور چمت کا ر سے مغلوب ہوکر MiG-25 Foxbat اس رقعۂ معذرت کے ساتھ بھجوادیں کہ اے امیر مقام، اے ملازمان بے اماں کے ظلّ سبحانی! دوہزار میل فی گھنٹہ سے کم پر سفر کرنا تیرے رتبے کی توہین ہے۔ تُو شاہیں ہے بسیرا کر جاتی امراء کی چٹانوں پر۔

قدرت اللہ شہاب صاحب فجر کی نماز کے بعد انڈے توس کا ناشتہ کرکے گھر سے شاداں و فرحاں نکل آتے۔ آج کل جہاں باتھ آئی لینڈ میں آئی جی ہاؤس کے سامنے مسجد طیبہ ہے، وہاں سے پیدل خراماں خراماں کلفٹن برج تک آتے تھے۔وہاں سے پھٹ پھٹی رکشہ پکڑ کر دفتر آتے تھے۔ پھٹ پھٹی کراچی میں پرانی موٹر سائیکل کو کہا جاتا تھا، اس کے پیچھے ایک بے پردہ پالکی لگی ہوتی تھی۔اس کا شور بہت ہوتا تھا۔یہ جب گورنر جنرل ہاؤس جو آج کل پولو گراؤنڈ کے ساتھ جڑا گورنر ہاؤس ہے وہاں آتے تو شور سے نازک مزاج بیگم نصرت بھٹو کی کزن ایرانی النسل بیگم ناہید مرزا کے مزاج نازک پر بہت گراں گزرتا تھا۔ پہلے ہی وہ پیڑوں پر کووں کے شور سے نالاں تھیں۔ انہیں صبح دیر سے اٹھنے کی عادت تھی۔ اس بی بی کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کو سیاست میں داخلے کا موقع ملا۔ بیگم صاحبہ کی وجہ سے وہ اپنی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو کو لے کر تقریباً ہر دوسرے دن گورنر جنرل ہاؤس پہنچ جاتے۔ وہاں سے وہ قدرت اللہ شہاب صاحب کے دفتر میں جا دھمکتے کہ کہیں سے سکندر مرزا کا دیدار ہوجائے، کوئی سن گن ملے۔ ہر چالباز اور عیار سیاست دان کی طرح بھٹو بھی ہاتھ کا کشکول بنائے سلپ کے فیلڈر کی طرح کیچ پکڑنے کو تیار رہتے تھے۔

گورنر جنرل ہاؤس، کراچی

قدرت اللہ شہاب ان کی انگریزی اور ذوق مطالعہ سے متاثر ہوگئے تھے۔ انہوں نے ہی پہلے پہل انہیں اقوام متحدہ جانے والے ایک وفد میں اسکندر مرزا کو قائل کرکے شامل کردیا۔ افسران عالی مقام کا سینہ گیزٹ بتاتا ہے کہ ان کی شمولیت میں پطرس بخاری کی بھی سفارش بھی شامل تھی جو ان دنوں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب تھے۔ بیگم ناہید مرزا کو قدرت اللہ شہاب صاحب کا پھٹ پھٹی رکشہ میں بیٹھ کر آنا بہت ناگوار گزرتا تھا اس وجہ سے انہیں کار پرچیز ایڈوانس دیا گیا اور کار خرید لی گئی۔

پھٹ پھٹی رکشہ، کراچی

صدر ایوب خان پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کی رپورٹ جب پہلے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو ایوان صدر میں پہلے پہل ملٹری انٹیلی جینس والوں سے موصول ہوئی تو صدر صاحب نے تصدیق اور مزید تفصیلات کے لیے شہاب صاحب کو آنٹی موجود کی جانب دوڑایا۔ وہ باتھ آئی لینڈ سیدھے رکشہ پر آنٹی موجود کے فلیٹ پر پہنچے۔ وجیہ اور پرتمکنت موجود صاحب مرکزی حکومت کے ادارے ویسٹ پاکستان انڈسٹریل ڈیولیپمنٹ کارپوریشن (WPIDC) میں ڈپٹی ڈائریکٹر تھے۔ یہ سرکاری فلیٹ انہیں ملا ہوا تھا۔

آنٹی موجود کے انکشافات پر جب مزید تحقیق ہوئیں تو سازش کے تانے بانے کھلے اور گرفتاریاں ہوئیں۔ صدر صاحب کی بہت مرضی تھی کہ آنٹی ان سے اور ان کی اہلیہ سے ملنے ایوان صدر آئیں۔ صدر صاحب کی عادتیں پیر صاحب مانکی شریف اور پیر صاحب دیول شریف نے بہت خراب کررکھی تھیں جو ہر وقت ایوان صدر کے دروازے پر لٹکے جھول رہے ہوتے تھے۔آنٹی ایسی ہلکی نہ تھیں۔ سیدنا نظام الدین اولیاؒ کی طرح کی تھیں۔ انہوں نے دہلی میں گیارہ بادشاہوں کا دور دیکھا۔ سب ہی بلاتے تھے، وہ کبھی نہ جاتے۔ تین بادشاہ تو آپ کے آستانے پر بیٹھے رہتے۔ آپ غیاث پور جو دہلی کا علاقہ تھا وہاں امامت فرماتے تھے۔ بادشاہ مبارک شاہ کی مرضی تھی کہ وہ نماز کی امامت اس کی تعمیر شدہ ’’مسجد میری‘‘ میں انجام دیا کریں۔ آپ نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ’’لے دے کہ ہمارے پاس ایک نماز بچی ہے وہ بھی بادشاہ چھیننا چاہتا ہے‘‘۔ ہر وہ بزرگ پیر یا صاحب رسائی جو بزرگی اور کرامات کے دعوے دار ہوں اور آپ انہیں صاحبان مال و منال اور طاقتور لوگوں کی صحبت میں ان کے محلات میں روٹیاں توڑتے اور ککڑ پاڑتے دیکھیں یا ان کی بلٹ پروف جیپ کے گرد چلے کاٹ کر عمل کرتے دیکھیں تو ان کے دعویٰ بزرگی پر لاحول پڑھ کر ایک طرف ہوجائیں کیوں کہ ان میں ابھی بوئے گدائی باقی ہے۔آنٹی عطیہ نے ایک دفعہ تو ملاقات میں کچھ نامعقول ردعمل پر بیگم نصرت بھٹو اور کچھ بلوچ سرداروں کی خواتین کی طبیعت صاف کردی تھی۔

آنٹی عطیہ سے بڑی صاحب کشف ہستی ہم نے آج تک کوئی نہیں دیکھی۔ اکثر بزرگوں کے ہاں یہ کشف کچھ دقت اور دیر سے کھلتا ہے۔ وہ رات کے کسی پہر مراقبہ کرتے ہیں تو راز دروں عیاں ہوتے ہیں، مستقبل دکھائی پڑتا ہے۔ آنٹی عطیہ موجود کے ہاں یہ سب کچھ عند الطلب تھا Instant and on Demand۔ سائل سے اس کا اور والدہ کا نام پوچھتیں، آنکھیں بند کرکے’’اللہ صمد‘‘ کا ورد کرتیں اور فی الفور جو کچھ پیغام یا منظر کی صورت میں موصول ہوا ہوتا یا دکھائی دیتا، وہ بیان کرنا شروع کردیتی تھیں۔

ہمارے استاد سندھ یونی ورسٹی کے صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر غلام مصطفٰے خان کو کشف القبور میں بہت ملکہ تھا۔ وہ اسے بہت سینت سینت کر رکھتے تھے۔ان کے ہاں اخفائے کرامات و اسرار کا یہ اہتمام بزرگوں کی عین طریقت کے مطابق تھا۔ اظہار کرامات کو بزرگوں کے ہاں بہت اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ راہ کی رکاوٹ اور تکبر کا راتب (وہ برتن جس میں کتے کھانا کھاتے ہیں) سمجھا جاتا ہے۔ بعض بزرگ تو اسے حیض الرجال کہتے ہیں۔ اسے چھپانے کا حکم ہے تصوف انکار ذات اور تقوے کے علاوہ اور کچھ نہیں اور اگر یہ شریعت کے دائرے سے باہر ہے تو جان لیں کہ یہ سب کچھ ہے دین داروں کا چلن نہیں۔

آنٹی سے ملنے امیر غریب سبھی آتے تھے۔ سوال جواب کرتے تھے۔ بیگم بھٹو بھی ان کے پاس نومبر 1978 میں آئیں۔ یاد رکھیے کہ بھٹو صاحب کو پھانسی چھ ماہ بعد یعنی چار اپریل 1979 کو ہوئی تھی۔

بیگم بھٹو کو فوری مراقبے میں جو کچھ بتایا گیا تو وہ ان کی طبیعت پر بہت گراں گزرا تھا اور وہ وہاں سے بہت رنجور رخصت ہوئی تھیں۔آنٹی نے انہیں مراقبہ کرکے بتایا تھا کہ سخت اندھیرا ہے۔ وہ بھٹو صاحب کو ایک کرسی کی جانب بڑھتا دیکھتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے یہ وزیر اعظم کی کرسی ہے مگر کرسی اور بھٹو صاحب دونوں ہی اندھیرے میں معدوم یعنی فلم کی زبان میں Fade-Out ہوتے جاتے ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو اس پر کچھ ناخوش ہو کر کہنے لگیں کہ یاسر عرفات، حافظ الاسد، معمر قدافی، چین کے صدر ڈینگ ژیوا وپینگ اور روسی وزیر اعظم برزینف نے یقین دلایا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ جس پر آنٹی نے بہت آہستہ سے کہا "I tell what I see for the moment."

آنٹی عطیہ سے اس نے ایک دن اپنی روحانی تربیت کی درخواست کی تو فرمانے لگیں کہ وہ ایک خاتون ہونے کے ناطے اس سے نہ صرف معذور ہیں بلکہ ان کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ ایک خواب میں انہیں بتادیا گیا ہے کہ ان کا سلسلہ ان کے بعد پاکستان سے کہیں اور افغانستان کے راستے آگے منتقل ہو جائے گا۔ یہ البتہ ممکن ہے کہ اسے وارثی سلسلے کے کوئی بزرگ اپنالیں۔ گو اس بارے میں ابھی وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ابھی تصویر بہت دھندلی ہے۔

یہ وارثی سلسلہ، چشتی سلسلے کا ایک ذیلی سلسلہ ہے۔ حضرت وارث علی شاہ ؒ جن کا وصال ۱۹۰۵ء میں ہوا۔ ہمیشہ ایک زعفرانی رنگ کا احرام بطور لباس پہنے رہتے تھے، جب عزیزوں نے جائیداد کا جھگڑا کھڑا کیا تو اپنی سند ایک حوض پھینک دی اور دنیا کی سیر کو نکل کھڑے ہوئے۔ جب اپنے مرشد اعلیٰ حضرت معین الدین چشتیؒ کے مزار مبارک پہنچے تو پاؤں میں پڑی لکڑی کی کھڑاؤں سمیت مزار کے اندر داخل ہوگئے۔ خدام نے بہت شور مچایا تو پوچھنے لگے کہ "انہیں اس پر اعتراض ہے کہ صاحبِ مزار کو؟"، خدام نے عرض کی کہ" صاحب مزار کو بھی یہ بات بھلی نہ لگی ہوگی"، اس پر آپ نے فرمایا کہ "جس بات سے دوست ناخوش ہو اس کو ترک کرنا ہی بہتر ہے" یہ کہہ کر کھڑاویں باہر پھینک دیں اور عمر بھر پیر میں جوتی نہیں ڈالی۔ سننے میں آیا ہے کہ مشہور بوہری فرقے سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی پینٹر مقبول فدا حسین المعروف بہ ایم۔ایف۔حسین انہی کی اس روایت کی تقلید میں ننگے پیر گھوما کرتے تھے۔

آنٹی کی اس پیش گوئی کہ بارے میں وہ کچھ سرگرداں تھا کہ ایک دن ایک بڑے سے دفتر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھا تھا جہاں کبھی کراچی کے میئر بیٹھا کرتے تھے۔ فون بجا تو ایک دفتری ساتھی نے اطلاع دی کہ مشہور زمانہ قوالی "سرِ لامکاں سے طلب ہوئی، سوئے منتہا وہ چلے نبیؐ، کوئی حد ہے ان کے عروج کی" کے خالق حضرت عنبر شاہ وارثی تشریف لائے ہیں۔ مشہور قوال برادران غلام فرید مقبول صابری نے اسے گا کر امر کردیا ہے۔ دفتری ساتھی انہیں ہمارے دفتر میں لے آیا۔ اس وقت ان کی عمر اسّی برس کے لگ بھگ تھی۔صحت اب بھی اچھی تھی۔ آنکھوں میں مسحور کردینے والی چمک اور شخصیت میں ایک جکڑ لینے والی گرفت تھی۔

ہم نے ان سے اس لاجواب نعت جو تب تک ایک قوالی کا روپ دھار کر بہت شہرت اختیار کرچکی تھی اس کے سرزد ہونے کی واردات قلبی کا پوچھا۔ ارشاد فرمایا وہ ایک دن مسجد نبوی کے صحن میں عشا پڑھ کر بیٹھے تھے۔ دل پر یہ بوجھ تھا کہ ایک عمر گزری شاعری کرتے پر رسول اکرم ﷺ کی ذاتِ طیّبہ پر کچھ ایسا کلام نہ کہہ سکے کہ زبان زدِعام ہو جائے۔

دل میں بہت سا حسد حضرت امیر خسرو سے بھی تھا کہ دوہے اور گیت، راگ اور ساز ہی ان کی شہرت کے لیے کیا کم تھے کہ وہ دلوں کو برمانے والی نعت بھی ان سے لکھوادی۔ حسد اور یاس کا یہ معاملہ ہمارے مہمان عنبر شاہ صاحب تک محدود نہ تھا۔ خود امیر خسروؔ بھی ایک دن اپنے مرشد حضرت نظام الدین اولیا کے سامنے باب شکوہ کھول کر بیٹھ گئے کہ ایرانی فارسی گو ابو مسلم عبداللہ الشیرازی المعروف بہ حضرت شیخ سعدی نے حیرت ناک طور پربغداد کے مدرسۂ نظامیہ کی سیکھی ہوئی عربی میں (جس میں ان کا کوئی اور کلام دستیاب نہیں) چار مصرعوں کی ایک رباعی (بطرز نعت) لکھی جو ہمہ وقت لوگوں کے گھروں اور محافل میں پڑھی جاتی ہے۔ محبوب الٰہی ؓ یہ سن کر متبسم ہوئے اور آپ نے دعا دی کہ تم بھی کچھ ایسی ہی نعت لکھو گے کہ بعد کے آنے والے رشک کریں گے۔ گو سعدی کی اس نعت کا مقام تو بہت بلند ہے۔ حضرت شیخ سعدیؒ نے جو نعت لکھی ہے وہ تو فرشتوں کی محافل میں بھی پڑھی جاتی ہے۔

بلغ العلٰی بکمالہ

آپ کے کمالات بھی بہت اعلیٰ مرتبت تھے

کشف الدجیٰ بجمالہ

آپ کے کردار کے جمال سے ظلمت دور ہوگئی

حسنت جمیع خصالہ

اعلی ترین انسانی خصائل آپ کا وصف تھے

صلو علیہ و آلہٖ

آپ پر اہل پر سلامتی اور رحمت ہو

اس تذکرے اور دعا کے بعد روایت ہے کہ امیر خسرو پر ایک ایسا عالم کسی شب طاری ہوا کہ انہوں نے وہ مشہور نعت لکھی کہ

نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم

نہ جانے کیا مقام تھا، جہاں کل شب میں تھا

بہ ہرسو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم

ہر سو زخمی اہل دل،مانند پروانوں کے تڑپتے تھے

پری پیکر، نگارے، سروقدے، لالہ رخسارے

پری پیکر،خوش جمال،سرو قد،شھابی گالوں والے

سراپا آفت دل بود، شب جائے کہ من بودم

دل تھا کہ ایک مبتلائے آفت تھا، جہاں کل شب میں تھا

خدا خود میر مجلس بود، اندر لامکاں، خسروؔ

خسروؔ، اس مجلس لامکاں کا میر خدا،خود ہی تھا

محمد،شمع محفل بود، شب جائے کہ من بودم

اور محمد محفل میں مانند ایک چراغ کے، کہ جہاں کل شب میں تھا

حضرت عنبر شاہ وارثی فرمانے لگے کہ یکایک ان کی نگاہ آسمان پر اٹھی، جہاں انہیں یہ الفاظ لکھے دکھائی دیے اور انہوں نے جیب سے ڈائری نکال کر قلمبند کرلیا۔ اگر آپ غور فرمائیں تو امیر خسروؔ کا یاد آنا اور اس حوالے سے حضرت عنبر شاہ وارثی کی یہ فر مائش اور پھر یہ نعت کا وجود میں آنا کہ جس کا ماحول اور جذب وہ شب معراج والاہی ہے جوامیر خسرو کی نعت کا ہے کہ

سہانی رات تھی، اور پُراثر زمانہ تھا

اثر میں ڈوبا ہوا، جذبِ عاشقانہ تھا

انہیں تو عرش پر محبوب کو بلانا تھا

ہوس تھی دید کی، معراج کا بہانہ تھا

سرِ لامکاں سے طلب ہوئی

سوئے منتہا وہ چلے نبی

کوئی حد ہے، ان کے عروج کی

رخصت کے وقت کو جب انہوں نے خاکسار کو گلے لگانا چاہا تو طبیعت پر ایک حرص غالب آگیا اور اس نے ایک عجیب سی فرمائش کی کہ ایک تو اس کا قلب جاری ہوجائے (اہل سلوک کے ہاں قلب کا ہمہ وقت ذکر الٰہی میں مصروف ہونا قلب کا جاری ہونا کہلاتا ہے) اور دوسرا اس کی طبعیت موزوں ہوجائے (یعنی وہ شاعری کرنے لگ جائے)۔ ایسا لگا کہ انہیں اس فرمائش پر ایک کرنٹ لگا اور انہوں نے اسے یک لخت اسے اپنے سے جدا کردیا اور خاموشی سے چل دیے۔ بعد کو خاکسار کو قلندری طریقے پر قائم ایک عجب بزرگ نے اپنا لیا مگر اشارہ ملا تو نقشبندی سلسلے کے ایک ایسے بزرگ کے حوالے کردیا جن سے بہت قلیل مدت کا ساتھ رہا۔ وہ بزرگ کون تھے؟ کیا تھے؟ ان کا احوال جاننا ہو تو نینا وربنر کی کتاب Pilgrims of Love: The Anthropology of a Global Sufi Cult میں پڑھ لیجیے گا۔ہم نے کتاب کے سرورق کا عکس یہاں دے دیا ہے۔

Comments

اقبال دیوان

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان صوبائی سیکریٹری کے طور پر ریٹائر ہوئے اور سندھ سول سروسز اکیڈمی کے بانی ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔ آپ پانچ کتابوں کے مصنف ہیں اور آپ کے افسانے ادبی جرائد میں بھی شائع ہوتے ہیں۔ مطالعہ، مصوری اور سفر کے شوقین ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.