وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے نام پیغام - احسن سرفراز

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے رابطہ کر کے جماعت اسلامی سے خیبر پختونخواہ کی حکومت نہ چھوڑنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند دن رہ گئے ہیں چاہتے ہیں وہ مل کر گذاریں، لہذا جماعت حکومت نہ چھوڑے۔ جواباً سراج الحق نے کہا کہ ہم متحدہ مجلس عمل کا حصہ ہیں اور حکومت چھوڑنے کا فیصلہ MMA کا ہے، مجلس عمل کے قائدین کے سامنے حکومت چھوڑنے کا معاملہ رکھوں گا اور انکے جواب کے تناظر میں ہی جماعت کوئی فیصلہ کرے گی۔

پرویز خٹک صاحب سے کہنا ہے کہ جناب من اب اتنی اداسی کیوں کہ چند دن بھی جماعت کے وزراء کے بغیر حکومت چلانی مشکل ہو گئی، جب آپ کے نعیم الحق، شوکت یوسفزئی، فواد چوہدری اور سوشل میڈیائی کوڈے گز گز لمبی زبانیں نکال کر جماعت اسلامی کو حکومت سے چمٹے رہنے کے طعنے دیتے تھے اس وقت یہ بھائی چارہ کیوں یاد نہ آیا؟ آپ نے اس وقت ان جغادریوں کو کیوں نہ بتایا کہ جماعت کے ساتھ حکومتی شراکت انکی نہیں ہماری مجبوری ہے اور ہماری گورننس میں وزیر خزانہ مظفر سید، وزیر بلدیات عنائت اللہ خان اور وزیر زکوٰۃ و عشر حاجی حبیب الرحمٰن کا اہم کردار ہے۔

جناب 2013 الیکشن میں آپکے لیڈر عمران خان اپنے متعدد انٹرویوز میں کہتے رہے کہ ہمارے اور جماعت اسلامی کے پروگرام میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے اور ہم الیکشن مل کر لڑ سکتے ہیں ، آپکی اسی خواہش کا احترام کرتے ہوئے جماعت کے اس وقت کے امیر سید منور حسن نے ان سے ملاقات بھی کی اور انتخابی ایڈجسٹمنٹ کیلیے ایک کمیٹی بھی قائم ہوئی جسکے اجلاس میں طے شدہ وقت کے مطابق آپکا وفد نہ پہنچا اور باوجود رابطے کے کوئی جواب نہ دیا اور آخر میں ایڈجسٹمنٹ سے انکار کر دیا۔

خیبر پختونخواہ میں آپکے نمبر حکومت سازی بنانے کیلیے کم تھے، جماعت نے آپکے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے آپکی درخواست پر صحت، تعلیم اور عوام کی فلاح و بہبود کے تحریری ایجنڈے پر آپ سے مل کر حکومت بنائی تو آپکے فیسبکی مجاہدین نے اسے جماعت پر احسان سمجھتے ہوئے اس دن سے سمجھنا شروع کر دیا کہ اب جماعت اسلامی انکی زر خرید غلام بن چکی ہے اور انکے ہر اچھے برے فیصلے کی تائید کرنا جماعت کا فرض منصبی ہے۔ حالانکہ جماعت کےدئیے گئے ووٹوں سے ہی تحریک انصاف کا وزیر اعلیٰ اور حکومت بنی۔

تحریک انصاف نے "ایمپائر" کی ایماء پر دھرنا دیا، پارلیمنٹ میں استعفے جمع کروائے، قبریں کھودیں، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی بلڈنگ پر شلواریں لٹکائیں، پی ٹی وی پر حملہ کیا اور اس تخریب کاری کے نتیجے میں کئی کارکنان جانبحق اور زخمی ہوئے۔ جماعت اسلامی نے اس تمام صورتحال سے خود کو الگ رکھتے ہوئے حکومت اور PTI دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ الیکشن دھاندھلی کے معاملے کو سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور معاملات کو سڑکوں کی بجائے پارلیمنٹ میں نپٹایا جائے۔ سراج الحق جب ملکی سیاسی جماعتوں کا جرگہ لے کر تحریک انصاف اور حکومت دونوں کے پاس ایک شٹل کاک کی طرح گھومتے رہے تو آپ کے قائد نے برسر عام امیر جماعت کو وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کا طعنہ دے ڈالا، آپکے سوشل میڈیائی کوڈوں نے زبردست طوفان بد تمیزی برپا کرتے ہوئے امیر جماعت کے خلاف غلیظ زبان کے ریکارڈ توڑ ڈالے لیکن جماعت نے برداشت کیا اور آپکے استعفے باعزت طور واپس دلوائے۔

آپ نے دیر کے ضمنی الیکشن میں جماعت سے وعدے کے باوجود اسکی پیٹھ میں چھرا گھونپا اور آپکی مقامی تنظیم نے سرعام پیپلز پارٹی کے امیدوار کو سپورٹ کیا اور جماعت اسلامی کے امیدوار کو ہروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔

آپ سے ہم نے کشمیر کے الیکشن میں سب سے پہلے ایڈجسٹمنٹ کیلیے ہاتھ بڑھایا لیکن آپکی کشمیر کی قیادت نے جماعت اسلامی کی پیشکش کو حقارت سے ٹھکراتے ہوئے کشمیر کی بربادی میں بنیادی کردار ادا کرنے والی مسلم کانفرنس کو ترجیح دی ، مجبوراً جب جماعت اسلامی نے ن لیگ کی ایڈجسٹمنٹ کی آفر کو قبول کیا تو آپ نے منافقت کی دہائی دی۔

سینٹ الیکشن میں آپ نے خاتون ، ٹیکنو کریٹ اور اقلیت کیلیے جماعت کے ووٹ لینے کے بدلے امیر جماعت کو واحد ووٹ دیا لیکن آج تک بددیانتی سے امیر جماعت کو منتخب کروانے کے طعنے دے کر احسان جتلا رہے ہیں اور جو سینیٹرز آپ نے جماعت کے ووٹوں سے منتخب کروائے اسے بھول جاتے ہیں۔

آپ کے چہیتے ایم ڈی خیبر بنک نے جماعت اسلامی کی ساکھ خراب کرنے کیلیے دنیا کی تاریخ میں پہلی بار اپنے ہی وزیر خزانہ کے خلاف سرکاری پیسے سے اخبارات میں اشتہار دئیے اور ان پر گھٹیا اور من گھڑت الزامات عائد کئے، پارلیمانی کمیٹی اور آزاد ذرائع نے جب معاملے کی تحقیقات کر کے وزیر خزانہ کو بے قصور قرار دیتے ہوئے خود ایم ڈی کو قصور وار ٹھرایا تو آپ اپنے اتحادی کے سخت احتجاج کے باوجود ایم ڈی کو ہٹانے میں مسلسل لیت و لعل سے کام لیتے رہے۔

موجودہ سینٹ الیکشن میں جب آپکے اتحادی نے آپ کی جماعت سے رابطہ کیا اور اس بار بھی سینٹ الیکشن مل کر لڑنے کی بات کی تو آپ کی جماعت نے بڑی حقارت سے اس پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے جواباً کہا کہ جماعت اس بار سرے سے ہی اپنا امیدوار کھڑا نہ کرے اور بلامشروط تمام ووٹ آپکی جھولی میں ڈال دے۔ جماعت نے اسکے جواب میں عوامی نیشنل پارٹی سے معاملات طے کر کے آپکی مدد کے بغیر اپنا سینیٹر جتوا کر دکھایا جبکہ PTI پچھلی بار سے کم سینیٹر منتخب کروا پائی اور اسکے اپنے ارکان اسمبلی سربازار بک گئے۔

پانامہ میں تحریک انصاف کا ٹارگٹ محض نواز شریف تھا کیونکہ وہی اسکے اقتدار میں واحد روکاوٹ ہے تو جماعت کا ٹارگٹ فرد واحد نہیں بلکہ ہر کرپٹ اور قرض معاف کروانے والا تھا، چاہے اسکا تعلق کسی بھی جماعت یا گروہ سے کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد آپ کی جماعت اپنے کرپشن کے خلاف دعوؤں کو بھول کر چن چن کر کرپٹ پانامہ و نیب زدہ، قرض معاف کروانے والے الیکٹیبکز کو چننے میں مصروف تو دوسری طرف جماعت آج بھی پانامہ کےباقی چار سو پچاس کرداروں کے خلاف عدالت میں کھڑی ہے۔

سینٹ چئرمین الیکشن میں "اوپر والوں" کے حکم پر آپ کی جماعت نے ایک بے نامی شخص جو مشکوک طور پر آزاد حیثیت سے سینیٹر بنا اسے چئرمین کا امیدوار بنا کر زرداری صاحب سے اتحاد کر لیا اور انکے ڈپٹی چئرمین کو ووٹ دیا، جبکہ جماعت نے غیبی طاقتوں کے مقابلے میں جمہوریت کی مضبوطی کو اولیت دی اور خالصتاً میرٹ پر ایک تحریری معاہدے کے بعد راجہ ظفر الحق کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا تو ایک دفعہ پھر آپکے کوڈوں نے جماعت اور امیر جماعت کے خلاف بد زبانی کی تمام حدیں پھلانگیں۔ کچھ ہی دنوں بعد جب آپکی جماعت کو اسی سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کیلیے ووٹوں کی ضرورت پڑی تو دوبارہ سجدہ سہو کرتے ہوئے منصورہ کے در پر ووٹوں کی بھیک مانگنے جا پہنچے اور جماعت نے وسیع الظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپکے امیدوار کو ووٹ دیا۔

پرویزخٹک صاحب، جماعت اسلامی اس سے پہلے 2002 الیکشن دینی جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم سے لڑ کر تاریخی کامیابی سمیٹ چکی ہے۔ اس اتحاد میں قومی، صوبائی اور سینٹ کے ممبران کے طور پر جماعت اسلامی کے سو کے قریب لوگ اسمبلیوں میں پہنچے۔ MMA کے فارمولے کے مطابق جسطرح ذمہ داریوں کی تقسیم ہوئی اسمیں صوبائی سطح پر اگر جمعیت کا وزیر اعلیٰ تھا تو جماعت کا اسپیکر اور پارلیمانی لیڈر تھا، دونوں بڑی جماعتوں کے پاس برابر برابر نو وزارتیں تھیں۔ قومی اسمبلی میں اگر جمعیت کا اپوزیشن لیڈر تھا تو جماعت کا پارلیمانی لیڈر تھا۔ یعنی پاور شئرنگ کے معاملے میں جماعت ایک سینئر پارٹنر کے طور پر برابر کی حصہ دار تھی، اس اتحاد کی کم از کم سرحد حکومت کی سطح پر مکمل ہم آہنگی تھی، ہاں فوجی حکومت میں ایل ایف او کے معاملات پر اتحادی جماعتوں میں ضرور اختلافات رہے اور پھر بالآخر مشرف آمریت کے زیر اہتمام الیکشن میں حصہ لینے یا نہ لینے کے معاملے پر یہ اتحاد قائم نہ رہ سکا۔

آج جب جماعت کے پاس PTI اور متحدہ مجلس عمل دونوں سے اتحاد کا تجربہ ہے اور وہ دونوں ادوار کی شاہد ہے تو جماعت کی منتخب شوریٰ نے تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ملکی و بین القوامی صورتحال کے تناظر میں جو جماعت کیلیے بہتر سمجھا وہ فیصلہ کیا ہے اور تحریک انصاف کی بجائے متحدہ مجلس عمل کا حصہ بننے کو چنا ہے۔

آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ صوبے کی حکمرانی کیلیے اصل جوڑ تحریک انصاف اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان ہی پڑنے والا ہے اور ایک ایسے موقع پر جب الیکشن میں محض چند ماہ باقی ہیں متحدہ مجلس عمل کی ایک اہم جماعت کا اپنی مستقبل قریب کی اصل حریف جماعت سے اتحاد اب بے معنی ہو چکا ہے۔ اب تو بگل بج چکا ہے اور وقت ہے میدان میں اتر کر گھمسان کا سیاسی معرکہ لڑنے کا۔

اب آپ ذرا ہمت کر کے جی کڑا کریں اور چند دن جماعت کی بیساکھی کے بغیر حکومت چلا ہی لیں۔ جب وقت تھا تو آپکی جماعت نے ہمیشہ رعونت دکھائی اور جماعت کو مستقبل کے حلیف کے طور پر کبھی اعتماد نہیں دیا اور آپکے کوڈوں نے ہمیشہ جماعت کو دشنام اور گالیوں سے نوازا۔ اب جب جماعت مخالف کیمپ میں جا چکی ہے تو آپکو جماعت کی یاد ستانے لگی ہے، اسی وقت کیلیے کسی سیانے نےکہا تھا کہ " اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔"

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.