آزادی صحافت - رانا اعجاز حسین چوہان

صحافت ریاست کا ایسا چوتھا ستون ہے جو باقی تینوں ستونوں، انتظامیہ، مقنّنہ اور عدلیہ کو بھی طاقت مہیا کرتا ہے، جس سے ریاست کی امارت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ صحافی نہ صرف عوامی مسائل اور انتظامی اداروں کے بارے میں اطلاعات فراہم کرتے اور سچ کی کھوج لگا کر اسے عوام تک پہنچاتے ہیں بلکہ حکومت اور رعایا کے مابین پل کا کردار بھی ادا کرتے ہیں اور اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران بعض اوقات لقمہ اجل بھی بن جاتے ہیں۔

صحافتی اداروں اور شخصیات کو ہر دور میں مختلف نوعیت کی پابندیوں کا سامنا بھی رہا ہے۔ بہت سے ظالموں نے شعبہ صحافت سے وابستہ کارکنوں پربدترین تشدد اور ظلم وجبر کرکے ان کی جانیں تک لینے سے گریز نہیں کیا۔ ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں صحافت سے وابستہ ایسی تمام شخصیات کو جنہوں نے اپنی ثابت قدمی سے جابر حکمرانوں کے تمام مکروہ عزائم کو ناکام بنایا۔

بلاشبہ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا وہ آئینہ ہے جس میں کرپٹ عناصر اپنا اصل چہرہ دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور پھر اپنا عمل اور کردار درست کرنے کی بجائے آئینہ توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان میں صحافی نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں بلکہ قبائلی سرداروں اور جاگیرداروں، مذہبی گروہوں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے ہاتھوں بھی حبس بے جا میں رکھے گئے، زدوکوب کیے گئے اور مارے پیٹے گئے ہیں۔ آمریت ہو یا جمہوریت ہر دور کے حاکموں نے صحافت کی آزادی کے حق کو دبانے کی ناکام کوششیں کی ہیں۔ بلاشبہ آزادی صحافت پر قفل لگانا یوں ہے کہ جیسے انسانی ذہن کی آزاد سوچ کے کھلے دریچوں کو بند کرنا۔

اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں پسماندہ یا غریب ممالک کے لوگ جب ایک عرصے تک اپنی بدحالی میں مست رہے اور وہ اپنی غربت، جہالت، بیماریوں یا دیگر مسائل زندگی کو برداشت کرتے رہے تو وہاں خاص طور پر میڈیا ہی نے آ کر ان لوگوں کو فرسودہ خیالات سے آزاد کروانے میں اہم کردار ادا کیا اور ان ممالک کی عوام میں ایسا شعور بیدار کیا کہ وہ بھی دوسرے ممالک کی طرح جدید سائنسی ترقی سے فائدہ اٹھا کر اپنے معیار زندگی کو بہتر بناسکیں۔ مارٹن لوتھر نے کہا تھا کہ’’ اگر آپ دنیا کو بدلنا چاہتے ہیں تو اپنا قلم اٹھائیں اور لکھنا شروع کردیں اس وقت صحافت ہی ایک ایسا پیشہ ہے جس کے ذریعے سے آپ عوام کے مسائل اور اپنے نظریات دونوں کا پرچارکرسکتے ہیں، مگر یہ سفر اتنا آسان نہیں ہے جتنا لوگ اسے آسان سمجھتے ہیں اور خاص کر اس عہد میں جہاں ہر شے کا مقصد مال بنانا یا بٹورنا ہو۔‘‘

تین مئی کے دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں آزادی صحافت کے عالمی دن ’’ورلڈ پریس فریڈم ڈے‘‘ کے منانے کا مقصد بھی پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی میں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کو درپیش مشکلات، مسائل اور صحافیوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات سے متعلق دنیا کو آگاہ کرنا، آزادی صحافت پر حملوں سے بچاؤ کے لیے حکمت عملی مرتب کرنا اور فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل، زخمی یا متاثر ہونے والے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہے۔

دنیا بھر میں ’’ پریس فریڈم ڈے‘‘منانے کا آغاز 1993ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فیصلے کے بعد سے عمل میں آیا۔ ہرسال اس دن کے موقع پر اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسکو ایک بڑی تقریب منعقد کرتا ہے۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے موقع پر صحافتی تنظیموں کے زیر اہتمام سیمینارز، ریلیوں اور مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

بلاشبہ صحافت ایک مشکل ترین شعبہ ہے، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ تمام لوگ خراج تحسین کے مستحق ہیں جن کی بدولت عوام کو زندگی کے تمام شعبہ ہائے سے متعلق آگاہی حاصل ہو تی ہے۔ بلاشبہ نیوز ایڈیٹنگ، کمپوزنگ، پروف ریڈنگ، پیسٹنگ، کاپی میکنگ اور پرنٹنگ سمیت ہر ایک کام انتہائی محنت طلب ہوتا ہے، جب ساری دنیا سوتی ہے تب صحافی جاگ کر اپنی قلم چلاتے ہیں اور جب ایک صحافی عوام کو آگاہی دینے کے لیے، پاکستان کی سلامتی کے لیے، معاشرے کے ناسوروں کو ان کے انجام تک پہنچانے کے لیے حقائق کو سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے تو انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اس طرح انہیں جان کا خطرہ لاحق رہتا ہے مگر اس کے باوجود آج بھی نظریاتی صحافتی ادارے، سنجیدہ فکر صحافی آزادی اظہار اور حرمت قلم کے لیے سر بکف ہیں۔ پاکستان کی صحافی برادری نے ہمیشہ جمہوریت کی ترویج اور استحکام کے لیے جدوجہد کی ہے، مگر خود صحافیوں کے تحفظ کے لیے کوئی موثر قانون نہیں بنایاجاسکا۔ پاکستان میں صحافی جتنی مشکلات میں کام کر رہے ہیں اس کا اندازہ پوری دنیا میں ہونے والے سروے کی رپورٹس سے لگایا جاسکتا ہے۔ لمحہ فکریہ ہے کہ صحافیوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کے باوجود آخر ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیوں نہیں اٹھائے جاتے؟