شیخ سدو (4) - خرم علی راؤ

پچھلی قسط

صبح سویرے شیخ صاحب کو اپنے دروازے پر دیکھ کر مجھے خاصا اچنبھا ہوا، کیونکہ میرے طرح وہ بھی اس انگریزی کہاوت کے سخت خلاف تھے جس میں بتا گیا ہے کہ جلدی سونا اور جلدی اٹھنا انسان کو صحتمند، دولتمند اور عقلمند بناتا ہے۔ آپ فرماتے تھے کہ یہ سب ان انگریزوں کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں جن کے لیے صبح دیر تک سونے کی لذت کو قربان کبھی نہیں کرنا چاہیے۔ باقی، عقل،دولت اور صحت کاملنا نہ ملنا، سب مقدر کا کھیل ہے۔ چنانچہ میں علی الصبح شیخ سدو کو اپنے دروازے پر دیکھ کر حیران بھی ہوا اور پریشان بھی کہ خدا جانے کیا آفت آ گئی جو شیخ صاحب کو یوں اپنی قیمتی نیند قربان کرنا پڑی؟

گھر والوں کے بار بار اٹھانے پر میں جھنجھلایا ہوا سا جب دروازے پر گیا تو خاصا غصے میں تھا اور یہ سوچ کر گیا تھا کہ شیخ صاحب کو کھری کھری سنا دوں گا کہ شیخ جی! یہ بھی کوئی وقت ہے کسی شریف آدمی کو نیند سے جگانے کا؟ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی تھی۔ مگر دروازے پر جاتے ہی شیخ صاحب کو جوں ہی دیکھا تو وہ لپک کر مجھ سے یوں گلے ملے جیسے ہم صدیوں کے بچھڑے ملے ہوں اور زار زار رونے لگے۔ اب میرا غریب خانہ تو چھوٹا ہی سا ہے، وہاں تو انہیں کیا بٹھاتا؟ اس لیے میں شیخ صاحب کو تسلیاں دیتا ہوا تھڑے کی جانب لے گیا اور بار بار گھبرا کر یہ پوچھتا رہا کہ قبلہ کیا ہوا؟ کیا مشکل آگئی؟ پروا نہ کریں، میں ہوں نا! وغیرہ وغیرہ۔ جب شیخ صاحب ذرا تسلی میں آئے تو بولے علی میاں! میں نے بہت ڈراؤنا خواب دیکھا ہے۔ پھر جو خواب انہوں نے سنایا وہ سن کر تو مجھ جیسا اپنے تئیں آہنی اعصاب کا مالک بھی تھرا گیا، کپکپا گیا۔ شیخ صاحب بار بار مجھ سے ملتجیانہ لحجے میں کہہ رہے تھے کہ میاں بتاؤ، یہ خواب کیا ہے؟ تعبیر کیا ہے؟ اور میں گم سم یہ سوچ رہا تھا کہ کیا ایسے خواب تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں؟ آپ بھی سنیے شیخ صاحب نے کیا دیکھا؟

شیخ صاحب نے بتایا کہ میں حسب معمول رات گئے سونے لیٹا تو نیند خلاف معمول فوراً ہی آگئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میں اٹھ گیا ہوں اور دروازے سے باہرجاتا ہوں۔ میں گھر سے باہر نکلا تو دیکھا کہ ہمارے محلے کی ساری ابلتی ہوئی گٹر لائنیں بالکل ٹھیک ہو چکی ہیں۔ کوڑے دان جن میں زیادہ کچرا اندر ہونے کی بجائے باہر پڑا ہوتا تھا نہ صرف بالکل صاف ہیں بلکہ ان میں سے فینائل کی مہک آ رہی ہے۔ میں حیران ہوکر آگے گیا تو دیکھا ساری ٹوٹی پھوٹی سڑکیں موٹر وے کا منظر پیش کر رہی ہیں، چمک رہی ہیں اور ٹریفک بالکل قائدے سے چل رہا ہے۔ میں بازار کی طرف آ نکلا ہوں، کیا دیکھتا ہوں کہ مارکیٹ جو غلاظت کا بدتریں منظر پیش کرتی تھی، کسی جدید ترین یورپی شاپنگ مال کی طرح چمک رہی ہے، دکاندار اور گاہک بہت محبت سے ایک دوسرے سے پیش آ رہے ہیں۔ ذرا آگے بڑھا تو چوک پر بڑا سا ٹی وی لگا دیکھا جس میں اپوزیشن لیڈر اور حکومتی ارکان کسی ٹاک شو یوں میں محو گفتگو تھے گویا منہ سے پھول جھڑ رہے ہوں اور ایک دوسرے کے قائدین کی تعریف میں داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے تھے۔ کچھ مزید آگے بڑھا تو ایک پنڈال سا لگا دیکھا اندر جھانکا تو تمام فرقوں کے علما ایک لمبے دسترخوان پر بیٹھے ساتھ کھانا کھا رہے اور آپس میں ہلکا پھلکا ہنسی مذاق کر رہے تھے۔

شیخ صاحب ذرا سانس لینے کو رکے۔ میں گم سم یہ ساری طلسم ہوشربا سن رہا تھا۔ پھر گویا ہوئے اور آگے بڑھا تو سامنے سرکاری اسکول تھا، جہاں بڑی بڑی عالیشان گاڑیوں سے بچے اتر کر عام غریب بچوں کے ساتھ اسکول میں داخل ہورہے تھے۔ میں نے پاس کسی سے یہ معاملہ دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ تمام ملک میں یکساں نصاب تعلیم اردو زبان میں نافذ کر دیا گیا ہے اور اب امیر غریب، وزیر، مشیر، صدر وزریر اعظم سب کے بچے سرکاری اسکولوں میں ہی پڑھتے ہیں۔ میں حیران پریشان آگے بڑھا تو دیکھا کہ ملک کے صدر سرکاری اسپتال سے بنا کسی پروٹوکول باہر آ رہے ہیں اور چہرے پر تکلیف و بیماری عیاں ہے۔ میں ہمت کرکے ان کے پاس گیا، مجھے کسی نے نہ روکا۔ میں نے مزاج پرسی کی اور طبعیت دریافت ک تو کمال شفقت سے فرمایا کہ الحمداللہ! اب تین دن یہاں سے دوا لینے کے بعد طبعیت بہت بہتر ہے، بس کمزوری ہے۔ میں حیرت میں ڈوبا وہاں سے آگے بڑھتا ہوں تو ایک دم چاروں طرف اندھیرا چھا جاتا ہے۔ تیز ہوائیں سنسنانے لگتی ہیں، گہرے بادل چھا جاتے ہیں اور ایک کڑک دار ندائے سروش (غیبی آواز) آتی ہے۔ دیکھو! سوچو! سمجھو! تمہیں تو ایسا ہونا تھا اور تم کیا بن گئے؟۔ بس علی میاں! پھر میری آنکھ کھل گئی اور جانے کیا بات ہے کہ جاگنے کے بعد میرا رونا نہیں رک رہا۔ تم ہی بتاؤ نا ایسا کیوں؟ انہوں نے گلوگیر آواز میں مجھ سے سوال کیا۔ میں گم سم کچھ دیر تک ان کا چہرہ تکتا رہا اور پھر ان کے کندھے پر سر رکھ کر زور زور سے رونے لگا۔

ٹیگز