صدقہ خیرات - عظمیٰ ظفر

رمضان کی آمد آمد تھی۔ گلزار بوا کے کاموں کا بوجھ ان کی ناتواں ہڈیوں سے زیادہ تھا مگر وہ اپنی تمام تر ہمتیں سمیٹ کر کمر بستہ تھیں۔ سرمد صاحب کا بنگلہ رنگ و نور سے چمک رہا تھا۔ ام الخبائث کی بو ان کے ڈرائنگ روم میں بسی ہوئی تھی۔ قہقہے پر قہقہے لگ رہے تھے۔ امیروں کی باتیں گلزار بوا کی سمجھ میں کم ہی آتی تھیں۔ سگار کے دھویں اور مرغولے میں ہی اڑ جایا کرتیں۔ ان کی عمر پیسوں کے عوض گروی رکھی گئی تھی۔ انگریز خانساماں کا طمانچہ مسمانوں کے منہ پر مار گئے تھے لہٰذا گلزار بوا کے باپ دادا خانساماں تھے۔ ان کے انتقال کے بعد شوہر اور شوہر کے بعد گلزار بوا چاکری کا کام سر انجام دے رہی تھیں۔ اپنے مطلب کے لیے ہر شخص مستعد ہوجاتا ہے یوں وہ بھی اپنی بوڑھی ہڈیوں میں نئی روح پھونک کر کام کر رہی تھیں۔ سرمد صاحب نے کہا تھا اس مرتبہ زکوٰۃ کے پیسے جلد دیں گے۔

اپنے حرام مال کی کمائی کو حلال کیسے کرنا ہے، وہ سرمد صاحب بخوبی جانتے تھے۔ اس مرتبہ فارن ٹور میں کمایا گیا دو نمبر پیسہ بینک بیلنس کو بہت بڑھا چکا تھا۔ تجوریوں کے منہ کھلنے کے دن اب آ گئے تھے۔ مگر جتنی ہتک کے ساتھ گلزار بوا کو یہ پیسے ملنے تھے وہ اس بے عزتی کو اچھی طرح جانتی تھیں مگر تن کو روح سے جوڑنا بھی ضروری تھا۔

غریب کی بھوک پیاس بھی غریب ہی ہوتی ہے، چند پیسوں سے ہی مٹ جایا کرتی ہے مگر امیر کی بھوک، اشتہا انگیز اور پیاس؟ پیاس بجھانے کی نہیں پیاس تو بھڑکانے کی ہوتی ہے۔ آج یہاں بلاوجہ کی رونق تھی۔ مہمانوں کو جمع کر کے بس وہ فانوس دکھانا تھا جو بیگم سرمد حال ہی میں فرانس سے لے کر آئیں تھیں، جس کی آب و تاب دوسرے فانوسوں کو شرما رہی تھی۔ قیمت لاکھوں میں تھی اور یہ نمود و نمائش کی واہ واہ سمیٹ کر بیگم سرمد کو قیمت وصول کرنی تھی۔ جس کی وجہ سے گلزار بوا صبح سے کاموں میں لگی ہوئیں تھیں کہ کب مہمان جائیں اور وہ یاد دلا سکیں کہ پیسوں کا وعدہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹھنڈی مرغی یا گرم مرغی- راحیلہ چوہدری

اِدھر کھانا کُھلا اُدھر سارے نوکر چابک دست ہو گئے۔ کھانے کی میز طرح طرح کے پکوان سے بھر گئی۔ دولت کو گن گن کر رکھنے والے سرمد صاحب نے پہلے شوگر کی گولی کھائی، پھر معمولی سا سادہ کھانا کھایا جبکہ بیگم سرمد کے لیے اُبلی ہوئی سبزیوں کا سوپ تیار کیا تھا گلزار بوا نے۔ جسے انہوں نے اپنے دوستوں کے سامنے ڈائٹنگ کے لیے فل آف نیوٹریشنس سوپ کا نام دے کر سب کے سامنے پیا۔

یا اللہ! بڑے لوگوں کی بھی کیسی کیسی مجبوریاں ہیں؟ اتنے مزے کے کھانے ہیں مگر وہ کھا نہیں سکتے تھے۔ گلزار بوا کو ہمدردی ہوئی۔ مہمانوں کے جانے کے بعد بوا نے ہمت جمع کی اور سرمد صاحب کو پیسوں کا یاد دلایا۔

صاحب! تنخواہ میں تو ابھی دیر ہے، آپ نے زکوٰۃ کا کہا تھا۔ گلزار بوا نے ڈرتے ڈرتے کہا ۔ ہوں۔ کہا تو تھا۔ میں ایک دو دن میں دیتا ہوں آپ کو، فی الحال تو ایک کپ قہوہ بنا دیں۔ سرمد صاحب کی جیسے تیزابیت بڑھ گئی یہ بات سن کر۔

جی ابھی بناتی ہوں۔ مرے مرے قدموں سے وہ وہاں سے چلی آئیں۔

آپ تو حد کرتے ہیں، صاف منع کردیتے۔ سر پہ چڑھا رکھا ہے ان نوکروں کو۔ کیا ضرورت تھی ابھی سے دینے کی۔ ان کے پیٹ کون سے بھرنے ہیں؟ سدا کے منگتے ہیں ہمارے ٹکڑوں پہ پلنے والے بھوکے ننگے! بیگم سرمد کی زبان سے زہر اگل رہا تھا، لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ کچھ دیر قبل والی مہذب شائستہ سی بیگم سرمد ہیں۔

کیا ہوگیا ہے تمہیں؟ ہمیشہ کب دی ہے، اس مرتبہ کچھ سیونگ ہوئی ہے، چلو دے دیتا ہوں، ہمارا مال پاک ہو جائے گا صدقہ خیرات دے کر۔ بری نظروں سے تو بچ جائیں گے اور تم یہ کس طرح کی لینگویج استعمال کر رہی ہو ڈئیر؟ وہ سن لیں گی۔ میں رقم لاتا ہوں۔ سرمد صاحب یہ سوچ کر اٹھے اور پچاس ہزار کی رقم لفافے میں ڈالی، اپنے دو نمبر حرام مال کے لاکھوں ڈالر کی بچت کا بہت معمولی حصہ انہوں یہ سمجھ کر صدقہ اور زکوٰۃ کے طور پر نکالا کہ بس اب ان کا مال پاک ہوگیا ہے۔ کچھ رقم انکم ٹیکس والے کی جیب میں جانی تھی باقی سب اپنا تھا۔ اپنے تئیں وہ بہت خوش تھے ۔ اگرچہ خباثت ان کے چہرے سے عیاں تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹھنڈی مرغی یا گرم مرغی- راحیلہ چوہدری

سرمد صاحب کی تھوڑی رقم سے کون سی ان کی غریبی دور ہو جائے گی، مگر اس مرتبہ انہیں گھر کا کرایہ تین ماہ کا بقایا لازمی ادا کرنا تھا جسے وہ اپنے مالک مکان کو دینے کا وعدہ کر چکی تھیں۔ بیگم سرمد کی باتیں سن کر بھی وہ قہوہ لیے آکھڑی ہوئیں.

یہ لیں بوا اس لیے دے رہا ہوں کہ دو دن بعد مجھے امریکہ جانا ہے۔ اکڑی ہوئی گردن کے ساتھ لفافہ ان کی طرف بڑھایا۔ بہت شکریہ جی آپ دونوں کا اللہ اور نوازے۔ دو آنسو ذلت اور تشکر کے مل جل کہ آنکھوں سے نکلے وہ جلدی سے وہاں سے باہر نکل آئیں۔ ۔

بیچاری غریب! افسوس چند پیسوں کے لیے رو پڑیں۔ سرمد صاحب کو ہنسی آگئی۔

اتنا اچھا ہینڈ بیگ دیکھا تھا میں نے دبئی میں، وہ لے لیتی، اتنی بڑی رقم دے دی آپ نے بلا وجہ، بیگم سرمد کو دکھ ہو رہا تھا۔ چلو جانے دے سمجھو تمہارا اور بچوں کا صدقہ گیا۔ تھک گیا ہوں میں اب آرام کروں گا۔

ان کا یوں دکھاوے، ہتک اور تکبر سے دیے جانے والے صرقے سے بلائیں اتر جانے کا اطمینان بودا اور کمزور ثابت ہوگیا اور رات بے چینی اور سینے کی گھٹن نے ان کی جان لے لی۔ وہ بھول گئے تھے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے حرام کا مال جمع کیا (کمایا) پھر اس سے صدقہ کردیا تو اُس کو صدقہ کا کوئی اجر نہیں ملے گا بلکہ اُس پر اس(حرام مال کمانے) کا وبال ہوگا۔ (صحیح ابن ِحبان)

واقعی ان کا یہ مال گلے کا طوق بن گیا جس کی گھٹن نے خود ان کی جان لے لی۔

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.