جمہوریت مضبوط کیسے؟ - حافظ یوسف سراج

تجربات کے بعد انسان جس بہترین طرزِ حکومت تک پہنچ سکے ہیں، وہ آج کے مروج زمانے میں جمہوریت کہلاتا ہے۔

اس ایک طرزِ حکومت نے سرِدست سلطانی کے تمام پرانے طور طریقے یا تو مٹا دیے ہیں یا پھر ماند کر دیے ہیں۔جیسا کہ اقبال نے کہا

سلطانیٔ جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

اگرچہ روایت سے جڑے مسلمانوں میں خلافت ایک خاص اہمیت کی حامل ہے اور روایتی طرزِ فکر رکھنے والے مسلمانوں میں خلافت سے ایک خاص طرح کا رومانس موجود ہے۔ خلافت دراصل مسلمانوں کو ان کے اس زرّیں دور کی یاد دلاتی ہے۔ جب دنیا میں یہ سپر پاور کے طور پر حکمرانی کر رہے تھے۔ علم و فضل کی برتری اور فکرو نظر میں وسعت کے بھی یہی ان کے شاندار اور یادگار دور گنے جاتے ہیں۔ خلافت کا آخری دور 1922ء میں سلطنتِ عثمانیہ تک باقی رہا۔ پھر ترک ناداں نے خلافت کی قبا خود ہی چاک کر ڈالی

چاک کر دی ترک ناداں نے خلافت کی قبا

سادگی مسلم کی دیکھ، اوروں کی عیاری دیکھ

رسولِ رحمتؐ کے ایک فرمان میں طرزِ حکومت کے متعلق جو پیشین گوئی موجود ہے، اس میں اور پھر چاروں خلفا کے انتخاب میں جو طریقے بروئے کار لائے گئے، ان سب میں تنوع ہے۔ فرمانِ عالی جناب تو یوں ہے جب تک خدا چاہے گا، نبوت موجود رہے گی، پھر منہاجِ نبوت پر خلافت آئے گی، یہ خلافت بھی جب تک اللہ کو منظور ہوا، باقی رہے گی۔ خلافت کے بعد پھر کاٹ کھانے والی بادشاہت ہوگی اور اس کے بعد جبر و سختی والی بادشاہت کا دور دورہ ہوگا، اور اس کے بعد پھر ایک دور آئے گا کہ جب منہاجِ نبوت پر از سر نو خلافت آ جائے گی۔ ایک فرمانِ اقدس میں یوں ہے کہ خلافت تیس سال تک رہے گی۔ اس فرمان میں بیان کردہ تیس سال خلافتِ راشدہ کے اختتام تک مکمل ہوتے ہیں۔ چاروں خلفا کے انتخاب کا طریقہ بھی ہر بار قدرے مختلف رہا۔ رسول گرامی نے اپنی زندگی میں بے شمار ایسے اشارے دے دیے تھے، جن سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت کی بخوبی وضاحت ہو جاتی تھی۔ ان میں سے سب زیادہ اہم یہ کہ اپنی زندگی میں ہی آپ ؐ نے اپنے مصلے پر سیدنا ابو بکر صدیق کو کھڑا فرما کے واضح اشارہ دے دیا تھا۔ رحلتِ رسول گرامیؐ کے بعد بنو ساعدہ قبیلے کے چھپر تلے جب آئندہ خلیفہ کی بات چھڑی تو سیدنا عمرؓ نے فی الفور اپنا ہاتھ سیدنا ابوبکرؓ کے ہاتھ پر رکھ کے بطور خلیفہ آنجناب کی بیعت کر لی۔ ان کے پیچھے پیچھے سب اہلِ مدینہ نے ایسا ہی کیا۔ باقی سب علاقوں نے بھی اہلِ مدینہ کی پیروی کی اور تب ہوتا یہ تھا کہ جو مدینہ ٹھان لیتا تھا، وہی سب کا عمل ہو جاتا تھا۔ سیدنا ابوبکرؓ پر آخری وقت آیا تو انھوں نے سیدنا عمرؓ کا انتخاب فرمایا۔ گو کچھ صحابہ کو آنجناب کی جلالی طبیعت کی طرف سے کچھ تحفظات تھے، البتہ سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا، میں اللہ سے یہ کہوں گا کہ زمیں پر جس شخص کو میں سب سے زیادہ بہتر سمجھتا تھا، تیرے بندوں کو اس کے حوالے کر آیا ہوں۔ سیدنا عمرؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور بچنے کی امید نہ رہی تو انھوں نے ایک کمیٹی بنا دی، جس میں سے آئندہ خلیفہ کا انتخاب ہونا تھا۔ اپنے بیٹے کو آپ نے اس کمیٹی سے الگ کر دیا۔ اس کمیٹی نے سیدنا عثمانؓ کا انتخاب کیا۔ سیدنا عثمان ؓ کو شہید کر دیا گیا تو سیدنا علیؓ خلیفہ منتخب ہوئے۔ یعنی ہر دفعہ طریقۂ انتخاب مختلف رہا۔

اسی سے بعض لوگوں نے نتیجہ نکالا کہ اسلام کا کوئی خاص طرزِ حکومت نہیں۔ البتہ اس کی روح شوریٰ اور مشاورت پر مبنی ہے۔
جمہوریت کو بھی اسی لیے مسلمانوں نے قبول کر لیا کہ اس میں بادشاہت کی خامیوں گنجائش نہیں۔ جمہوریت مغربی تجربات اور دانش کا نچوڑ ہے۔ آج یہ یورپ اور امریکہ وغیرہ میں بہترین نتائج دے رہی ہے۔

مسلمانوں میں فی زمانہ دو طرزِ حکومت کام کر رہے ہیں۔ عرب ریاستوں میں زیادہ تر بادشاہت ہے تو غیر عربی مسلمان ریاستوں
میں جمہوریت کار فرما ہے۔ جموریت ابھی زیادہ تر مسلمان ممالک کو صحیح طرح راس نہیں آ سکی۔ اس کے باوجود لیکن جن ممالک میں جمہوریت ہے وہ مزید جمہوریت کو اور جہاں بادشاہت ہے، وہ جمہوریت کو دسترس میں لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ جمہوریت میں اچھی بات یہ ہے کہ اس میں تخت سے اترنے اور اتارنے کا کشت و خون کے علاوہ بھی ایک طریقہ موجود ہے۔ پھر اس طرزِ حکومت میں تخت سے اترنے کے لیے بادشاہ کا قبر میں اترنا بھی ضروری نہیں ہوتا۔ اس میں ایک خوبی اقتدار کا اداروں میں بٹ کے متوازن ہو جانا بھی ہے۔

بات یہ ہے کہ طاقت جب کسی ایک ہی ادارے میں یا ایک ہی شخص میں مرتکز ہوتی ہے تو یہ کئی خرابیاں پیدا کر دیتی ہے۔ پاکستان جمہوریت کی بنیاد پر بنا اور اس میں جمہوری طرزِ حکومت ہی جاری و ساری ہے۔ بد قسمتی سے جمہوریت لیکن ابھی تک یہاں مضبوط نہیں ہو سکی۔ سیاستدانوں کا اگرچہ شکوہ یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے جمہوریت کو قوی نہیں ہونے دیا، یہ لیکن پورا سچ نہیں۔ پورا سچ یہ ہے کہ کوئی کسی کو باہر سے نقصان نہیں پہنچا سکتا اور کمزور نہیں کر سکتا، جب تک کوئی اندر سے خود کمزور نہ ہو جائے اور شکست قبول نہ کر لے۔

دراصل بات یہ ہے کہ جس چیز پر کسی معاملے کی بنیاد ہو، اسے اگر توانا نہیں کیا جاتا تو کمزوری جا نہیں سکتی۔ جمہوریت کی بنیاد اگر جمہور کے حقوق پر ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ چند خاندانوں اور ان کے وفاداروں کے مفاد کے تحفظ سے جمہوریت مضبوط ہو جائے۔ جمہور کے مفاد میں اصول اور آئین کی مضبوطی ہی دراصل جمہوریت کی مضبوطی ہے۔ اگر سیاستدان خود آئین پر عمل نہیں کریں گے تو پھر جن میں ان سے زیادہ طاقت ہوگی، وہ کہیں زیادہ قوت سے آئین توڑ ڈالیں گے۔ آئین شکنی کی جہاں روایت اور ریت پڑ جائے پھر اس میں کمتر پر اکتفا نہیں ہو سکتا۔ جو قوم اشارہ توڑنا سیکھ جائے وہ سپریم لاء بھی توڑ ڈالتی ہے۔ سیاستدانوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ نعروں اور کہنے سے اگر کوئی کام ہو سکتا تو آج دنیا میں سب سے زیادہ کامیاب موٹیویشنل سپیکر ہوتے، بات لیکن عمل کی ہے۔جس دن ہمارے سیاستدان ملکی آئین پر اتنا عمل کرنے لگے، جتنا یہ غیر ملکی آئین پر لندن وغیرہ میں عمل کرتے ہیں، تو وہ جمہوریت کے تحفظ اور مضبوطی کے لیے اٹھایا گیا ان کا پہلا قدم شمار ہو گا۔ قوم اگر سیاستدانوں سے اور سیاستدان اگر ملک سے مخلص ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنے آپ پر آئین لاگو کرنا ہوگا۔ یہ بات پلّے باندھ لینے کی ہے کہ جمہوریت اور ملک سوائے آئین پر عادلانہ عمل کے کسی چیز سے محفوظ نہیں ہوتے۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.