لبرل ازم اور Paternalism - محمد زاہد صدیق مغل

لبرل (انفرادیت پسندانہ) فلاسفی کو اعلیٰ ترین سطح پر علم معاشیات کے مختلف نظریات میں تھیورائز کیا گیا ہے جن میں سے اب تک سب سے کامیاب ترین نظریہ یوٹیلیٹیرین ازم (Utilitarianism) ہے (اس کے سواء دیگر نظریات بھی ہیں مگر فی الوقت تفصیل مقصود نہیں)۔ لبرل فلاسفی سے ماخوذ پالیسی سازی اس مفروضے پر مبنی ہے کہ "ہر فرد فطرتاً یہ جانتا ہے کہ اس کے لیے کیا بہتر ہے (every individual is the best judge of his own welfare) نیز، وہ اسی کے حصول کی جدوجہد کرتا ہے، لہٰذا فرد کو "نیک بنانا"، یہ ریاستی عمل (پالیسی و قانون سازی) کے دائرہ کار سے باہر ہے (ہمارے یہاں کے کچھ "جدید" مذہبی حلقے بھی اس قسم کا استدلال کرتے ہیں)۔ معاشیات دان every individual is the best judge of his own welfare کے اصول کو Pareto principle کہتے ہیں جو Paternalism کی ضرورت و امکان کی نفی کرتا ہے۔ ظاہر ہے جب فرد خود جانتا ہے کہ کیا بہتر ہے اور کیا نہیں، تو پھر اسے یہ بتانے و سکھانے کا کیا مطلب؟

یہ دعویٰ متعدد نوعیت کی اغلاط پر مبنی ہے، سر دست ایک کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ علم معاشیات کی ایک ذیلی شاخ Behavioral Economics کے ماہرین متعدد تجربات کی روشنی میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ:

- فرد لبرل فلاسفی کے مفروضے کے مطابق خود غرض نہیں ہوتا

- وہ ہمیشہ یہ بھی نہیں پہچانتا کہ اس کے لیے کیا بہتر ہے بلکہ لوگوں کی بڑی اکثریت متعدد انفرادی و معاشرتی عناصر سے متاثر ہونے کی بنا پر بالعموم غلط فیصلے کرتی ہے

- اتنا ہی نہیں بلکہ فرد جسے بہتر سمجھتا ہے بسا اوقات اسے جاننے کے باوجود بھی اسے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا

اس کا حل کیا ہے؟ 2017 میں Behavioral Economics میں نمایاں تحقیقی کام کرنے کی بنا پر نوبل پرائز جیتنے والے Richard Thelar کے مطابق اس کا حل ہے Libertarian Paternalism، یعنی یہ کہ متعدد قسم کے دعوتی و اصلاحی طرق سے فرد کی "درست تربیت" نیز ایسی پالیسی سازی کرنا جس کے نتیجے میں فرد کے لیے "درست فیصلہ" (تھیلر چونکہ سرمایہ دارانہ عدل کی جستجو کرتا ہے لہٰذا اس کے یہاں "درست" سے مراد وہ فیصلہ ہے جو فرد کے "سیلف انٹرسٹ کے مطابق" ہو) کرنا ممکن ہو۔ اپنی کتاب Nudge: Improving Decision about Health, Wealth and Happiness میں وہ بتاتا ہے کہ ایسا کرنا کیونکر لازم و ناگزیر ہے نیز جو لوگ Paternalism کو رد کرتے ہیں وہ ایک غیر منطقی و غیر حقیقی دعویٰ کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ لبرل سٹیٹ ہمیشہ سے Paternalistic کردار ادا کرتی رہی ہے (جس کی واضح ترین مثال سٹیٹ سپانسرڈ اور لازمی ایجوکیشن ہے)، اگرچہ اس سٹیٹ کو تھیورائز کرنے والے یہ جھوٹ بولتے رہے ہیں کہ لبرل سٹیٹ ایسا نہیں کرتی اور نہ ہی اسے یہ کرنا چاہیے۔ یہ واضح کرنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ ہمارے یہاں اگر مذہب کی بنیاد پر کسی پالیسی سازی کی بات کی جائے تو لبرل طبقہ جھٹ سے یہ اعتراض جڑ دیتا ہے: "یہ فرد کی انفرادیت کی نفی ہے"۔ اور شومئی قسمت کہ اس طبقے کے مذہبی ہمنوا انکی ہاں میں ہاں ملا کر کہتے دکھائی دیتے ہیں: "فرد کو نیک بنانا، اس مقصد کے لیے ریاستی عمل استعمال کرنے کی قرآن میں کوئی دلیل موجود نہیں"۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.