خواب زندہ رہتے ہیں - رومانہ گوندل

خواب انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں کیونکہ دنیا میں ہر انسان ہی نیند میں خواب دیکھتا ہے سوائے پیدائشی اندھے لوگوں کے، چونکہ انہوں نے کبھی دنیا، اس کے رنگ، چیزیں، لوگ دیکھے نہیں ہوتے۔ اس لیے وہ خواب بھی نہیں دیکھتے۔ خواب کیا ہیں، یہ کیوں دیکھے جاتے ہیں؟ ان کے بارے میں مختلف آ راء پائی جاتی ہیں۔ ایک نظریہ ہے کہ انسان جب سوتے ہوئے گہری سے ہلکی نیند میں آ تا ہے تو دماغ کا کچھ حصہ جاگتا ہے تو انسان خواب دیکھتا ہے کیونکہ بہت گہری نیند میں خواب نہیں آ تے۔ ایک خیال یہ ہے کہ نیند میں انسان کی ایک روح نکل جاتی ہے اور وہ گھومتی پھرتی رہتی ہے، وہ جو کچھ دیکھتی ہے وہ انسان کو خواب میں نظر آتا ہے اور کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ مستقبل میں ہونے والے واقعات انسان کو خواب کی صورت میں پہلے ہی نظر آ جاتے ہیں۔ اس لیے بعض لوگ یہ دعویٰ بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ سچے خواب دیکھتے ہیں اور بعض اوقات خواب محض انسان کی اپنی سوچ ہوتی ہے جو کچھ وہ سوچتا ہے، جس چیز پہ زیادہ فوکس کرتا ہے، وہی اس کو نیند میں نظر آ تا ہے۔ یہ تو نیند میں دیکھے جانے والے خواب ہوتے ہیں جن پہ انسان کا اختیار نہیں ہوتا۔

لیکن خوابوں کی ایک قسم اور بھی ہوتی ہے او ر وہ ہو تے ہیں، جاگتی آ نکھوں کے خواب اور یہی انسان کی زندگی ہوتے ہیں کیونکہ انسان ان کو شعوری طور پہ دیکھتا ہے، وہ خواہشات اور منزلیں جو انسان پا لینا چاہتا ہے۔ دراصل یہی خواب انسان کی شخصیت بناتے ہیں۔ جینے کا، مشکلات کو برداشت کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر خواہش، ہر خواب پورا ہو جائے۔ انسان ان خوابوں کو پا سکے یا نہ پا سکے، یہ بات الگ ہے لیکن ا گر انسان خواب دیکھنا اور ان کو پانے کی کوشش کرنا چھوڑ دے تو زندگی بے مقصد ہو جاتی ہے۔ کیونکہ آ گے بڑھنے کا خواب ہی زندگی کو بناتا ہے۔ یہی خواب انسان کی پہچان بنتے ہیں۔ بڑے لوگوں کی زندگی میں ہمیشہ بڑے بڑے خواب ہوتے ہیں اور وہ ان کو پانے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ ایک وقت تک وہ ان خوابوں کو اپنے اندر زندہ رکھتے ہیں اور پھر وہ ان خوابوں کی تعبیر کی صورت ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

خواب انسانوں کو زندہ رکھتے ہیں۔ اس دنیا میں آنے والا ہر انسان دیکھتا ہے، بلکہ اکثر لوگ تو دن رات فارغ بیٹھ کے خواب ہی دیکھتے رہتے ہیں لیکن بہت کم لوگوں کے نام زندہ رہتے ہیں کیونکہ اپنے خوابوں کے لیے قربانیاں کرنے کا حوصلہ اور ان کو پورا کرنے کی کوشش ہر کوئی نہیں کرتا، بلکہ زیادہ تر لوگ یہ ہمت نہیں کرتے اور اپنی کم ہمتی کو حالات سے سمجھوتے کا نام دے دیتے ہیں۔ لیکن زندہ وہی لوگ رہتے ہیں جو صرف خواب نہیں دیکھتے اور نہ سمجھوتے کرتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ ان کے خواب چھوٹے ہوتے ہیں اور وہ ان کو آ سانی سے حاصل کر لیتے ہیں بلکہ اس لیے کہ ان کی حوصلے بڑے ہوتے ہیں، وہ ہمت کرتے ہیں اور اپنے خوابوں کو حقیقت بنا لیتے ہیں۔ خوابوں کا حقیقت بننا ضروری نہیں ہوتا کیونکہ خواب منزل کا نام نہیں ہوتا بلکہ ایک وژن ہوتا ہے، حالات کے اندھیروں میں روشنی ہوتا ہے، ایک راستہ ہوتا ہے، جس پہ چلنا ضروری ہوتا ہے، ان خوابوں کو کو پورا کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہوتا ہے اور اصل چیز یہی راستہ اور کوشش ہوتی ہے جس پہ چلنے کی ہمت کرنی ہوتی ہے۔

اقبال اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کا تعارف ہیں۔ پاکستان کا نام لیتے ہی جن شخصیات کے نام ذہن میں آتے ہیں ان میں سے علامہ اقبال سر فہرست ہیں۔ علامہ اقبال جن کو شاعر ِ مشرق اور مصورّ پاکستان کہا جاتا ہے۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ ملک کا خواب دیکھا تھا۔ اس خواب کی تعبیر کے لیے مسلمانوں کو جگایا اور قائد اعظم جیسے لیڈر کو تیار کیا اور ایک انتھک کوشش کے بعد پاکستان معرض وجود میں آ گیا لیکن جب یہ خواب حقیقت بنا اور یہ ملک جب دنیا کے نقشے پہ آ یا تو علامہ اقبال اس دنیا میں نہیں تھے۔ وہ قیام ِ پاکستان سے بہت پہلے ۱۹۳۸ ء میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ انہوں نے اس ملک کو بنتے نہیں دیکھا لیکن ان کا نام زندہ ہے کیونکہ ان کا خواب آج بھی پاکستان کی صورت زندہ ہے اور ان شاء اللہ ہمیشہ زندہ رہے گا اور جب تک یہ ملک قائم ہے اقبال کا نام پاکستان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ قائد اعظم نے جب یہ ملک حاصل کرنے کی سوچ لیا تو پھر وہ ہندوؤں اور انگریزوں کے ساتھ ساتھ اپنی بیماری سے بھی لڑتے رہے اور اپنے خواب کو اپنی ذات پہ ترجیح دی اور آج ان کی عزت ان کا نام وہ خواب ہے جس کو پورا کرنے کے لیے وہ کوشش کرتے رہے۔ مسلمانوں کے پاس تب کچھ نہیں تھا جب انہوں نے یہ ملک حاصل کیا لیکن آ ج ہم سب ایک خوبصورت، پر امن، عدل و انصاف والے ملک کی بات کرتے ہیں، اس قوم کے پاس آج بہت کچھ ہے بھی۔ لیکن یہ سب صرف زبانی بات ہی ثابت ہوتی ہے کیونکہ حقیقت میں یہ کسی کا خواب نہیں اور نہ کوئی ا س کے لیے کوشش کرتا ہے۔ ہم سب اپنے اپنے خواب پورے کرنے میں مصروف ہیں۔

ہمارے ہاں ایک نصیحت کی جاتی ہے کہ خواب اوقات میں رہ کے دیکھنے چاہیے لیکن خوابوں کی اوقات نہیں ہوتی، بلکہ خواب تو پہچان ہوتے ہیں ا س لیے اونچے خواب دیکھنا غلط نہیں ہوتا، بلکہ بلندیوں کا ہر سفر ایک خواب سے شروع ہوتا ہے۔ لیکن اکثر لوگوں کے خواب ان کے لیے اذیت بن جاتے ہیں اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ہم خواب خود دیکھتے ہیں اور پورا کرنے کی امید دوسروں سے رکھتے ہیں۔ انسان خوابوں کو تو اپنی زندگی میں شامل کر لیتے لیکن عملی طور پہ کوئی کوشش نہیں کرتے۔ اور پھر جب وہ پورے نہیں ہوتے تو وہ خواب جو ایک عمر لگا کے دیکھتے ہیں، باقی کی عمر ان سے فرار حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ وہ خواب نہیں ہوتے، محض خیالی پلاؤ ہوتے ہیں۔ خواب وہ ہوتا ہے جو انسان کو کچھ کرنے پہ مجبور کر دے، اسے باہمت بنا دے اور آخر کار اس کی پہچان بن جائے۔

ٹیگز