"می ٹو" کی لہر پاکستان میں - ڈاکٹر سارہ ضیاء

"می ٹو" (Me too)کی ہوا مغرب سے چلی اور اس کے اثرات پاکستان میں بھی محسوس ہونے لگےہیں۔ اداکارہ میشا شفیع بارش کا پہلا قطرہ بنیں اور گلوکار علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر "می ٹو" کا ٹرینڈ چلنے لگا اور جتنے منہ اتنی باتیں۔ کوئی میشا کی جرات کو سلام پیش کررہا ہے تو کوئی علی ظفر کی حمایت کر رہا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا سوشل میڈیا ایسے نازک او رحساس مسائل کو رپورٹ کرنے کا مناسب پلیٹ فارم ہے؟ اور کیا "می ٹو" جیسی تحاریک ان مسائل کو حل کرسکتی ہیں؟

مغربی اداکارائیں جن کی تقلید میں یہ مہم چلی، ان کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں۔ سب سے مشہور کیس ہالی وڈ کے پروڈیوسر ہاروے وینسٹین کا ہے،جو می ٹو تحریک کی وجہ تسمیہ بنے اور جن پر اسّی سے زائد خواتین نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ برسہا برس تک یہ عورتیں استحصال کا شکار ہوتی رہیں اور خاموش رہیں۔ ملزم کو اب تک جو سزا ملی وہ یہ ہے کہ وہ اپنے عہدہ سے برطرف ہوچکا ہے اور اس کی بیوی اسے چھوڑ چکی ہے۔ اس کو قوی امید ہے کہ ہالی وڈ اس کو معاف کردے گا۔ ایک اور ہالی وڈ کے ڈائریکٹر ہیں جیمز ٹوبیک کے نام سے، اس پر 300 سے زائد عورتوں نے الزام لگایا۔ فی الحال لاس اینجلس کے پراسیکیوٹر نے اعلان کر دیا ہے کہ ٹوبیک الزامات کا سامنا نہیں کرے گا۔ متاثرہ خواتین کی کہانیاں پڑھنے سے ان شکاریوں کا جو طریقہ کار سمجھ میں آتا ہے، وہ یہ ہے عورتوں سے ملازمت یا میٹنگ کے بہانے تنہائی میں ملنا اور ان سے نازیبا مطالبات کرنا۔ انکار کی صورت میں زبردستی کرنا اور کیریئر تباہ کرنے کی دھمکی دینا۔ می ٹو کے بعد ہالی وڈ اداکاراؤں نے ٹائمز اپ تحریک کی بنیاد رکھی۔ فنڈ مختص ہوئے اور وکلاء کی خدمات حاصل کی گئیں۔۔ الزامات لگانے کا سلسلہ چل پڑا ہے اور مزید نام سامنے آرہے ہیں۔

اب ہمارے ملک میں میشا شفیع اپنے معاشرے کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں کہ یہاں ہم آواز اٹھانے سے ہچکچاتے ہیں اور خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، جس کی وجہ سے جنسی ہراسانی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اس لیے وہ خاموشی توڑ کر اپنے ملک کی خواتین کے لیے مثال قائم کر رہی ہیں، لیکن موصوفہ بھول گئیں کہ ہالی وڈ کی اداکارائیں،جو بزعم خود بہت با اختیار ہیں، دہائیوں تک درندوں کے خلاف اُف نہ کرسکیں۔ اس لیے یہ صرف ہمارا مسئلہ نہیں، بلکہ ہم سے بڑھ کر ان کا مسئلہ ہے اور ان کی پوزیشن ہم سے کئی گنا کمزور ہے۔ میشا اپنی ہم وطن خواتین کو مزید مشورہ دیتی ہیں کہ اپنی کہانیاں شیئر کرکےخاموشی کا کلچر توڑیں تاکہ جوان خواتین زیادہ محفوظ رہ سکیں۔ گویا ہماری خواتین ویسے ہی غیر محفوظ ہیں جیسے ہالی وڈ کی اداکارائیں، اللہ ہماری عورتوں کو کبھی وہ دن نہ دکھائے، جو ان کو دیکھنے پڑے۔ جو کچھ ان پر گزرا، مثال کے لیے ملاحظہ ہو اداکارہ سلمیٰ ہائیک کا نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والا خط۔ الحمد للہ ہارے ہاں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ میرا یہ دعویٰ ہرگز نہیں کہ ہمارے ہاں اس قسم کے جرائم نہیں ہوتے، مگر تناسب اور شدت کم ہے۔

معلوم نہیں کہ ہمیں یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی کہ سوشل میڈیا میں می ٹو یا ٹائمزاپ ٹرینڈ چلا کر اور اپنے ساتھ ہونے والے نازیبا رویے کو بیچ چوراہے میں بیان کرنے سے عورتیں محفوظ نہیں ہو جائیں گی۔ بلکہ خدشہ ہے کہ لوگ اس طرح کی کہانیاں سن سن کر بے حس ہو جائیں گے۔ اپنی خواتین کو محفوظ بنانے کے لیے ہم مغرب کی طرف کیوں دیکھتے ہیں؟ جب وہ می ٹو می ٹو کرنے لگے تو ہم بھی شامل ہو گئے۔ حالانکہ امریکہ میں صدارت کےعہدے پر ایسا شخص براجمان ہے جس پر کئی خواتین الزام لگا چکی ہیں۔

ہمارے پاس تو ایسا دین ہے جس نے خواتین کی حفاظت کے لیے سو قدم کے فاصلے پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ جب یہ دین نافذ ہوا تو چشم فلک نے دیکھا کہ ایک زیورات میں لدی پھندی عورت نے حیرہ سے حرم تک سفر کیا اور کسی نے اسے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔ اسلام نے عورت کے قریبی رشتہ داروں (محرم) کو اس کا محافظ بنایا اور اس کی کفالت کی ذمہ داری مرد پر ڈالی۔ مگر تہذیب نو نے عورت کو درس دیا کہ تم کیریئر بناؤ، مردوں کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہو جاؤ تاکہ عورت مرد برابر ہو جائیں۔ جب اپنے مردوں نے عورت کی ولایت اور کفالت سے ہاتھ اٹھا لیا، تو پرائے مردوں نے ملازمت کے جھانسے دے کر اپنے جال میں پھانسنا شروع کردیا اور عورت مجبور ہوگئی ان کے ناجائز مطالبات پورے کرنے پر، کیونکہ اگر وہ نہ کرے تو کوئی اس کی سرپرستی کرنے والا نہیں۔ گھر جو اس کا اصل دائرہ کار ہے وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو (قرآن مجید 33:33)، مردوں کی ریس میں اس کو خیرباد کہہ دیا، اب اس کے لیے لوٹنے کی کوئی جگہ نہ رہی۔ جدید تہذیب نے اس کو کلبوں، دفتروں، بازاروں اور اشتہاروں کی زینت بنا دیا۔ سابق دَورِ جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو (قرآن مجید 33:33)۔ مرد اور عورت کا تنہائی میں ملنا، چھونا، مخلوط محفلیں یہاں تک کہ عورت کو گھورنا سب ممنوع قرار دے دیا۔ نظر جو پہلا قدم ہے، جب اس کو روک دیا گیا تو آگے بات بڑھنا بہت دور کی بات ہے۔ شراب، موسیقی، رقص، جسم کی نمائش، تصویر کشی کا فروغ اسلامی معاشرے میں ممکن نہیں۔ پھر نکاح کی ترغیب اور زنا کی ممانعت، یہ سب اقدامات عورت کی حفاظت کے لیے ہی تو ہیں۔ ہمارے پاس الہامی ہدایات کا روشن چراغ ہے مگر ہم می ٹو اور ٹائمز اپ کو روشنی کی کرن سمجھ رہے ہیں۔