میشا شفیع کے الزامات، حقیقت کیا؟ - صابر بخاری

صحافتی کیریئر کا آغاز تھا۔ چینل کی لاہور سٹیشن کی ہیڈ میڈم خالدہ یوسف شوبز رپورٹر سے کچھ نالاں تھیں، اور اس پر شوبز کی رپورٹنگ پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ ایک دن میڈم نیوز روم میں آئیں اور مخصوص انداز میں کہا بخاری! آج سے آپ شوبز رپورٹنگ بھی کرو گے۔ میں پہلے ہی کچھ شرمیلی طبیعت کا مالک تھا، شوبز رپورٹنگ کا سن کر تو پیروں تلے سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔

خیر باس کا آرڈر تو پھر آرڈر ہی ہوتا ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی سر تسلیم خم کرنا ہی پڑتا ہے۔ شوبز رپورٹنگ میں طبع آزمائی کا فیصلہ کر لیا۔ اپنے کلاس فیلو محمد قربان جو ایک نجی چینل میں کچھ عرصہ سے شوبز کی بیٹ کر رہے تھے، سے رابطہ کیا اور اس بیٹ کے حوالے سے کچھ معلومات اور ٹپس لیں۔ ایک روزپنجابی کے معروف فلمی شاعر خواجہ پرویز کی وفات پر لکشمی چوک واقع ان کی رہائش گاہ پر کوریج کے لیے پہنچا۔ یہ شوبز رپورٹنگ میں میری پہلی باقاعدہ کوریج تھی۔ یہ ایک افسوس ناک خبر تھی۔

شوبز کی شخصیات تعزیت کے لیے خواجہ پرویز کے گھر آرہی تھیں۔ مگر مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اس میں مرد، عورت کی کوئی تمیز نہیں تھی، مرد آتا یا شوبز انڈسٹری کی کوئی خاتون بلاتفریق ایک دوسرے سے گلے لگ کر تعزیت کرتے، بعض کی آنکھوں سے آنسو بھی رواں تھے۔ بہر حال مجھے اس سوگوار موقع پر روایتی ماحول سے ہٹ کرایک تصنع زدہ ماحول دیکھنے کو ملا۔ میں سوچنے لگا کہ اگر یہ لوگ تعزیت کے موقع پر اس قدر بلا روک ٹوک گلے لگ رہے ہیں، عام حالات میں ان کا Living Style کیسا ہوگا؟

یہی چیز مجھے شوبز رپورٹنگ سے کوسوں دور رہنے پر مجبور کرتی۔ چونکہ کوئی بھی رپورٹر اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک وہ متعلقہ بیٹ میں خود کو وابستہ نہیں کردیتا لیکن میرے لیے شوبز رپورٹنگ میں وابستگی کرنانا ممکن تھا۔ کچھ مزید دن شوبز کی بیٹ کرنے کے بعد میڈم کو کہا کہ میری شوبز رپورٹنگ میں قطعی دلچسپی نہیں ہے، براہ مہربانی مجھے کوئی اور بیٹ دے دیں۔

میڈم میری مجبوری سمجھ گئیں اور مجھے جنرل رپورٹنگ کی اجازت دے دی۔ یہ سب کچھ اس لیے بیان کرنا پڑا چونکہ کچھ دن پہلے شوبز کی ایک شخصیت میشا شفیع نے اپنے ساتھی اداکار، گلوکار علی ظفر پر ہراسگی کا الزام لگایا ہے۔ جب سے اس الزام کی بازگشت میری سماعتوں سے ٹکرائی ہے میں تو تب سے لوٹ پوٹ ہی ہوئے جا رہا ہوں، ابھی ورطہ حیرت میں ہی تھا کہ اداکارہ میرا نے بیان داغ دیا کہ انہیں بھی جنسی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا۔ محترمہ کیسی خاتون ہیں؟ اس حوالے سے ان کی ”عفت و پاکیزگی“ پر مبنی ویڈیو نے ایک زمانے میں کہرام مچا دیا تھا۔ وہ لوگ جو غم کے موقع پر بھی ایک دوسرے کو گلے لگانے اور بوس وکنار کو نہیں بھولتے وہ عام زندگی میں کتنا کھل کر کھیلتے ہوں گے، یہ قیاس کرنا مشکل نہیں ہے۔ حیران کن امر تو یہ ہے کہ علی ظفر اور میشا شفیع کی انٹرنیٹ پر تصویریں بھی موجود ہیں، یہ دل کے سب معاملات عیاں کر رہی ہیں۔ شوبز انڈسٹری چکا چوند کی دنیا ہے جس میں داخل ہوتے ہی آپ اس کیٹیگری میں چلے جاتے ہیں جس پر کوئی معاشرتی، سماجی روک ٹوک یا حدود کا اطلاق نہیں ہوتا اوریہ صنعت ان حدود سے خود کو مبرا سمجھتی ہے، اسکے اپنے ضابطے ہیں اور اپنے قاعدے قانون۔ شہرت اس دنیا کا طرہ امتیاز ہے۔ اس کے لیے سب پاپڑ بیلے جاتے ہیں۔ بدنامی کیا ہوتی ہے یہ لفظ یہاں نہیں چلتا بلکہ یہاں تو یہ چلتا ہے کہ

بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

شوبز انڈسٹری روح سے زیادہ جسم کے تال میل کا نام ہے، عیش و عشرت کی دلدل ہے جس میں بہت سے خود گرتے ہیں، کچھ کو گرادیا جاتا ہے۔ جنسی ہراسگی تو یہاں تقویت کا باعث بنتی ہے، فنکارہ کو فنکارہ بناتی ہے۔ یہاں کسی کو جنسی ہراسگی کا ملزم ٹھہرانا یا جنسی ہراسگی کے طعنے دینا بے معنی بات ہے، یہ یہاں کی اخلاقیات ہے۔ جو اس پر پورا نہیں اترتا وہ پھر اس عشق کدے سے نکل جاتا ہے۔ یہاںجنسی ہراسگی اپنے معنی بدل لیتی ہے اور نہ صنف نازک کو اس پر اعتراض ہوتا ہے۔ یہ جو اب ”می ٹو “ والا معاملہ ہے یہ معاملہ کوئی اور ہے۔ عورت ہو خواہ مرد، دونوں ہی جنسی مخلوق ہیں، دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے کو جنسی طور پر ہراساں کر سکتا ہے۔ پھر عورت ہی کیوں؟کیا عورت مردوں کو جنسی طور پر ہراساں نہیں کرتی؟ ایسے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ جنسی ہراسگی کو جنسی انتشار کہنا چاہیے۔ یہ صرف عورت یا صرف مرد پر موقوف نہیں دونوں میں کوئی ایک اور بیک وقت دونوں اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا صرف مردوں کا استحصال نہ کیا جائے۔

کچھ عرصہ قبل تک کوئی بھی خاتون شوبز انڈسٹری میں جاتے ڈرتی تھی اور جب تک اس شعبہ کی ڈان کا درجہ رکھنے والی شخصیت اوکے نہیں کرتی تب تک صنف نازک کے لیے شوبز کے دروازے نہیں کھلتے تھے۔ مبینہ طور پر درجنوں خواتین ایک صاحب کی بدولت شوبز کی دنیا میں داخل ہوئیں، جن میں سے کچھ آج بام عروج کوپہنچ چکی ہیں مگر ”دوستی“ آج بھی جاری ہے۔ یہ صاحب آج بھی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم اب ویسی رونق ڈیرے پر نہیں رہی۔

سوال یہ ہے کہ لڑکیاں اپنی عزت دا پر لگا کر اس فیلڈ میں کیوں آنا چاہتی ہیں؟وجہ صاف ظاہر ہے کچھ پل کی شہرت، پیسے اور چکا چوند کے لیے اپنی اخلاقیات معاشرت کلچر یہاں تک کہ بعض اوقات مذہب تک کو بھی داو پر لگا دیتی ہیںکیا انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ یہاں تو قدم قدم پر جنسی ہراسگی کے مظاہر بکھرے پڑے ہیں۔ کیا انہیں اپنے سے پہلے آنے والیوں کے انجام کی خبر نہیں ہوتی؟ ہوتی ہے مگر وہ یہ سب جانتے ہوئے اس دریا ئے ہوس میں غوطے لگانے سے پھر بھی باز نہیں آتیں اور الزام دیتی ہیں کہ مرد جنسی استحصال کر رہے ہیں، شوبز کی دنیا تو ہے ہی عیش و نشاط اور شباب و کباب کی دنیا تو پھر طعنے، شکوے، شکایتیں چہ معنی دارد؟

اور پھر جب آپ کا مقصد پورا ہوگیا۔ شہرت پیسہ اور رنگین زندگی مل گئی تو الزام کیسا؟ اس راستے کا انتخاب آپ نے خود کیا ہے۔ ان الزمات سے صرف ایک بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ جنسی ہراسگی کو یہ خواتین اپنی شہرت اور ناموری کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اس کے لیے اپنی عزت تک اچھال دیتی ہیں، مزید شہرت کا حرص ان کو تمام اخلاقی حدود عبور کرنے پر آمادہ کردیتا ہے۔ میشا شفیع اگر واقعی جنسی ہراسگی کا شکار ہوئی ہیں تو یہ تڑپ ان کے اندر اچانک کیسے پیدا ہوگئی؟ پہلے یہ سب کچھ کیوں نہ کیا گیا؟ صاف ظاہر ہے کہ جب تک من مرضی سے تعلقات قائم رہے تو کوئی ایشو نہیں جب کوئی وجہ بنی یا کوئی نہ مانا تو شور کردیا۔ یہ جنسی ہراسگی نہیں، جنسی ہراسگی پر آمادہ نہ ہونے کا شور ہے؟ مغربی کلچر کی اندھا دھند تقلید کرنے والی ہماری شوبز اور ایلیٹ کلاس کب تک اس ملک کے کلچر اور اخلاقیات کے ساتھ کھلواڑ کرتی رہے گی؟ اور ہم بے ہودگیوں کاتماشا دیکھتے رہیں گے؟ ایک سوال ہے جو آپ پر چھوڑتے ہیں، ہے کوئی جو سنے، دیکھے، آنکھیں کھو ل کر دیکھے، یہ عورتوں کی خاندانی عورتوں کی سرعام رسوائی ہے۔